بوسنیا کی چشم دید کہانی۔ 24


سٹولک میں ہمارے اسٹیشن کی منتقلی کے بعد ہماری سب سے اہم ڈیوٹی اب تقریباً دو ہفتے دور رہ گئی تھی۔ OSCE کی زیر نگرانی بوسنیا میں عام انتخابات 15 ستمبر کو ہونا طے پائے تھے۔ ان انتخابات میں مرکزی اور Cantonal Assemblies کے ارکان کا انتخاب ہونے کے ساتھ ساتھ وفاق کے صدر، دو نائب صدور اور جمہوریہ سربسکا کے صدر کا انتخاب بھی ہونا تھا۔ اس موقع پر ہماری ذمہ داری یہ تھی کہ آزادی ٔنقل و حرکت کو اس انداز سے یقینی بنایا جائے کہ ہر رائے دہندہ اپنے آبائی پولنگ اسٹیشن پر اپنے حق رائے دہی کا استعمال بلا روک ٹوک کر سکے۔ IPTF کے ہر اسٹیشن کا اولین فریضہ اپنے اپنے اسٹیشن کی حدود میں واقع پولنگ اسٹیشنوں کی فہرست OSCE سے حاصل کرنا اور پھر الیکشن پلان تیار کرنا تھا۔

کرس نے الیکشن پلان کی تیاری کی ذمہ داری بولک کو سونپ دی۔ بولک اپنی صلاحیتوں کا لوہا تفتیش کے میدان میں پہلے ہی منوا چکا تھا اور وہ اب ایک نئی آزمائش سے دو چار تھا۔ وہ ایک بار پھر ہر صبح اپنے بیگ میں سے ایک بھاری بھر کم فائل نکال کر کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ جاتا اور سارا دن اس پلان پر نہایت انہماک سے کام کرتا رہتا۔ وہ ان دنوں اس قدر مصروف ہوتا تھا کہ مانیٹروں کے بقول ساشکا تک سے بات کرنے کی اسے فرصت نہ تھی۔

بولک کا تیار کردہ پلان ایک نہیں بلکہ دو مرتبہ فرینک سرور نے مسترد کیا اور اسے ازسر نو مرتب کرنے کی ہدایت دی۔ بولک تو پہلے ہی پلان کی تیاری میں اپنی ساری صلاحیتیں بروئے کار لا چکا تھا، اب مزید بہتری کہاں سے پیدا کرتا لیکن بظاہر دیوانے بولک نے اب کی بار عجیب چالاکی کا مظاہرہ کیا۔ تیسری مرتبہ اس نے پلان 14 ستمبر کی شام کو برائے ملاحظہ پیش کیا۔ چونکہ اگلی صبح انتخابات کا انعقاد تھا لہٰذا اب کی بار فرینک سرور کے پاس اس پلان کو منظور کیے بغیر چارہ نہ تھا۔ لگتا تھا کہ الیکشن پلان کی تیاری کی ذمہ داری کرس نے بولک کی خواہش ہی پر اسے سونپی تھی جو ان دنوں فرینک سرور کو متاثر کرنے کے لیے بڑی بے چینی سے کسی موقع کی تلاش میں تھا۔ بھولا بولک یہ بھول گیا تھا کہ فرینک سرور کا شمار

ع۔ ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو

قبیل کے افسران میں ہوتا تھا اور اسے متاثر کرنا کچھ ایسا آسان نہ تھا۔ فرینک سرور نے دوسری مرتبہ جب اس کے پلان کو غیر معیاری قرار دیتے ہوئے مسترد کیا تھا تو بولک کی حالت دیکھ کر اقبال نے کہا تھا کہ پنجابی میں ایسے ہی مواقع پہ کہا جاتا ہے

ہنڑ آرام ای۔ ( اب آرام ہے کیا )

انتخابات کے سلسلے میں ہماری ڈیوٹی دو طرح کی تھی۔ ایک تو ان سڑکوں پر گشت کہ جہاں ووٹروں کی آمد و رفت ہونا تھی اور دوسرے پولنگ اسٹیشنوں پر۔ 15 ستمبر کے ڈیوٹی روسٹر میں میرا نام ان چار ٹیموں میں سے ایک میں شامل تھا جو پٹرولنگ کے لیے ترتیب دی گئی تھیں۔ اس ٹیم میں میرے علاوہ دو فرانسیسی مانیٹر رولانڈ، سرج اور ترجمان ساشکا شامل تھے۔ ہمیں سٹولک اسٹیشن کی حدود دومانووچی تا سٹولک گشت کرنا تھی۔ پولنگ کے اوقات صبح 8 تا شام 5 بجے تک تھے۔

صبح 8 بجے تا دس بجے کے دوران کچھ بسیں چپلینا اور موسطار کی جانب سے آئیں اور پھر اس کے بعد کسی ایسی بس کو دیکھنے کے لیے سارا دن آنکھیں ترستی رہیں۔ چنانچہ دن کا بقیہ حصہ ہم نے اس طرح گزارا جیسے وہلے لوگ گزارتے ہیں۔ شام 5 بجے پٹرولنگ ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد ہم اسٹیشن پر آ گئے۔ پھر اس وقت تک وہیں ٹھہرے رہے جب تک اسٹیشن کمانڈر کی طرف سے چھٹی کرنے کی اجازت نہ ملی۔

اگلے دن میری اور اقبال کی اکٹھی ڈیوٹی لگی۔ یہ ڈیوٹی دوسری شفٹ میں شام چار بجے تا رات بارہ بجے راونو نامی قصبے کے پولنگ اسٹیشن پر سر انجام دی جانا تھی۔ راونو، سٹولک سے جنوب مغرب کی سمت کوئی دو گھنٹے کی مسافت پر کروایشیا اور جمہوریہ سربسکا (Srbska) کی سرحد پر واقع ایک چھوٹا سا پہاڑی قصبہ تھا۔ اسے جانے والا راستہ ٹرے بینیا جانے والی سڑک سے علیحدہ ہو کر ان کھیتوں میں سے گزرتا تھا جہاں بارودی سرنگوں کی بھر مار تھی۔ اقبال اس سے قبل بھی ایک آدھ مرتبہ وہاں جا چکا تھا لیکن میں آج وہاں پہلی مرتبہ جا رہا تھا۔ ہمارے ساتھ ترجمان کے طور پر لیپا کی ڈیوٹی لگائی گئی تھی۔

ہمارے علاقے میں راونو واحد قصبہ تھا جہاں ووٹوں کی گنتی ابھی تک شروع نہیں ہوئی تھی۔ اس کی وجہ غیر ممالک میں مقیم بوسنیا کے مہاجرین کے ووٹوں کا یہاں بروقت نہ پہنچ پانا تھا۔ آخری اطلاع کے مطابق ابھی بھی کچھ ممالک سے ووٹ آنے باقی تھے لہٰذا اس بات کا کم ہی امکان تھا کہ گنتی کا عمل شام تک شروع ہو سکے۔ اقبال کے لیے یہ اطلاع بڑی مایوس کن تھی۔ اسے اب یہ فکر لاحق تھی کہ راونو جیسی بور جگہ پر کہ جہاں مکمل طور پر دیہاتی ماحول ہے اور کوئی کیفے بار تک نہیں ہے، آٹھ گھنٹے بھلا کس طرح گزارے جائیں گے۔

ہم سٹولک سے کوئی دو بجے کے قریب روانہ ہوئے ٹرے بینیا جانے والی سڑک پر لوبینا کے قصبے سے گزرنے کے کوئی دس بارہ کلومیٹر بعد دائیں طرف دو پہاڑوں کے درمیان کھیتوں کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع ہوجاتا تھا جو سڑک کے ساتھ ساتھ ٹرے بینیا تک پھیلا ہوا تھا۔ یہیں سے مرکزی سڑک کو چھوڑتے ہوئے کھیتوں میں اترنا پڑتا تھا اور کچھ دیر کچی سڑک پر چلنے کے بعد مخالف سمت میں واقع پہاڑ پر جانا ہوتا تھا۔ آہستہ آہستہ چڑھائی کی جانب بڑھتی ہوئی سڑک اس پہاڑ کے عقب میں واقع راونو گاؤں تک چلی جاتی تھی۔

پکی سڑک پر واقع جب ہم اس مقام پر پہنچے کہ جہاں سے کھیتوں میں اترنا تھا تو ہم نے یہاں ایک چھوٹا سا ٹریکٹر بمعہ ٹرالی خراب کھڑا پایا۔ اس کے پاس ایک جوان، ایک بوڑھا مرد اور دو بوڑھی عورتیں بے بسی کے عالم میں کھڑی تھیں۔ ٹریکٹر ڈھلوان پر اس طرح خراب ہوا تھا کہ کسی اور گاڑی کے گزرنے کے لیے راستہ بالکل نہ بچا تھا۔ ہم نے گاڑی ایک طرف کھڑی کی اور لیپا کی مدد سے صورت حال جاننا چاہی۔ معلوم ہوا کہ یہ تمام لوگ ایک ہی خاندان کے فرد ہیں، پاس ہی ایک گاؤں کے باسی ہیں۔ ٹریکٹر کے خراب ہو جانے کے باعث یہاں بے بس کھڑے ہیں۔ اقبال اور میں نے ان لوگوں کی مدد کی خاطر ٹریکٹر کو اپنی ڈبل کیب کے ساتھ باندھا اور اسے گھسیٹنے میں کام یاب ہو گئے۔ ان لوگوں کا گاؤں قریب ہی پہاڑ کے دامن میں واقع تھا چناں چہ وہاں تک پہنچنے میں کوئی ایسی مشکل پیش نہ آئی۔

یہ ایک چھوٹا سا سرب گاؤں تھا جس میں گھروں کی تعداد پندرہ بیس سے زیادہ نہ تھی۔ ہمیں یقین تھا کہ یہ اگرچہ غریب لوگ ہیں لیکن سربوں کی روایتی مہمان نوازی کا بھرم ضرور رکھیں گے اور ہمیں یوں واپس لوٹنے نہیں دیں گے۔ وہ ہمیں اپنے گھر میں لے گئے۔ یہ بھی اپنے ہاں کے پہاڑی دیہاتی گھروں کی طرح ایک آڑا ترچھا سا گھر تھا جس کے دروازے کے بعد ایک تکونا سا صحن تھا، اس کے اختتام پر ایک لمبا برآمدہ، اس کے پیچھے ایک سیدھ میں بنے ہوئے دو کمرے۔

برآمدے کا بایاں کونا باورچی خانے کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ اس سے ذرا ہٹ کے بیٹھنے کے لیے ایک پرانا سا بنچ، ایک میز اور لکڑی کے کچھ سٹول پڑے تھے۔ بوڑھا شخص اور بڑھیا میاں بیوی تھے جب کہ جوان مرد ان کا بیٹا تھا۔ دوسری بڑھیا ان کی رشتہ دار تھی اور پڑوس میں رہتی تھی۔ ہمیں برآمدے میں بٹھا دیا گیا۔ جلدی جلدی میز پر راکیہ اور شربت کے ساتھ پنیر اور خشک میوہ چن دیا گیا۔ تھوڑی دیر بعد ہمسائے سے بڑھیا کا خاوند اور ایک جوان شخص جو اس گھر کا داماد تھا، آ گئے۔ لیپا کی وساطت سے گفت گو کا آغاز ہوا۔ گھر کی مالکن بڑھیا نے پوچھا کہ ہمارا تعلق کس ملک سے ہے

پاکستان سے۔ ہم نے بتایا
انڈیا پاکستان۔ وہ بولی
ایسا ہی سمجھ لیں۔ ہم نے کہا

میں اس ملک سے بہت اچھی طرح واقف ہوں کیوں کہ یہی وہ دیس ہے جس کی سمت میرے ملک کے پرندے موسم سرما میں کوچ کرتے ہیں اور پھر بہار آنے پر لوٹ آتے ہیں۔ وہ بولی

تھوڑے توقف کے بعد وہ پھر بولی

لیکن تمہیں کیا معلوم کہ پچھلے برس موسم بہار میں یہ پرندے جب واپس اپنے وطن لوٹے تو انھوں نے میرے جوان بیٹے کو اس صحن میں موجود نہ پایا کیوں کہ وہ جنگ میں مارا گیا تھا۔

یہ کہہ کر وہ اس شدت سے پھوٹ پھوٹ کر روئی کہ اس کی آنکھوں میں نرٹوا ابل آیا۔ اس کی اس بات نے سب کو اداس اور خاموش کر دیا۔ لیپا نے اسے دلاسا دیا اور بڑی مشکل سے چپ کروایا۔ اس کی آنکھوں میں اب بھی گہری سرخی پھیلی ہوئی تھی۔ بعد میں ہم ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے لیکن وہ بڑھیا کچھ ایسی خاموش ہوئی کہ مکمل طور پر گنگ برآمدے میں کچن والے کونے میں گم سم بیٹھی رہی اور مجھے اہل کوہستان کا ایک محاورہ یاد دلاتی رہی کہ وہ یوں خاموش ہے جیسے کومیلا کے پل کے نیچے دریائے سندھ کا پانی۔

Facebook Comments HS