سول سروس کی اونچی دکان کے دو پھیکے پکوان

میں سول سروس میں بغلی دروازے ( پی سی ایس) سے داخل ہوا۔ طوعاً کرہاً بلند دروازے (سی ایس ایس) سے داخل ہونے والوں نے اپنے دَل میں جگہ دے دی۔ اس دَل میں میری حیثیت افرو امریکنوں کی امریکہ میں حیثیت سے کچھ ایسی مختلف نہ تھی۔ مزے کی بات یہ تھی کہ چمکتی چمڑی والے بھی اپنے درمیان برہمن تا شودر کی تقسیم کچھ یوں رکھتے تھے کہ زبان سے نہ سہی ان کی ہر ادا سے اس

Read more

پاک سرزمین شاد باد۔ آخری قسط

اگر ان پیشن گوئیوں کی صحت پر شک نہ بھی کیا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس طرح کا کوئی مواد ان کی اپنی مشہور کتاب India wins freedom میں کیوں نہیں پایا جاتا، نہ اولین متن میں اور نہ ان کی وصیت کے تحت تیس سال بعد شاملِ کتاب ہونے والے اضافی صفحات میں۔ اس کے برعکس انہوں نے لکھا ”دس سال بعد میں پیچھے مڑ کے دیکھتا ہوں تو تسلیم کرتا ہوں کہ مسٹر جناح نے

Read more

پاک سرزمین شاد باد

17 مارچ 2025 کو بی بی سی نے ایک تفصیلی تحریری و تصویری رپورٹ عام کی جس میں بتایا گیا کہ ”انڈیا میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت میں بڑھتا ہوا متعصبانہ رجحان مسلم کاروباری افراد کو غربت کی جانب دھکیل رہا ہے“ ۔ ہندوستان میں نریندر مودی کے راج سنگھاسن پر براجمان ہونے کے بعد سے مسلمانوں کے ساتھ ایسا سلوک عام ہے جو کبھی شودروں کے ساتھ روا رکھنا برہمنوں اور برہمن مزاجوں کا طرزِ زندگی تھا۔ مساجد

Read more

جیل بیتی۔ اختتام

ہر چیز پہ بہار تھی ہر شے پہ حسن تھا دنیا جوان تھی میرے عہدِ شباب میں جوانی کے حوالے سے امجد اسلام امجد کا ”وارث“ میں لکھا گیا ایک مکالمہ بھی یاد میں تازہ ہے۔ ”جوانی تو کیکر پر بھی آتی ہے تو اس پہ پھول کھلتے ہیں“ ۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں زیرِ تعلیم نوجوانوں کے درمیان جس کتاب نے خوب دھوم مچائی وہ راجہ انور کی کتاب ”جھوٹے روپ کے درشن“ تھی۔ اس کتاب کے بارے میں

Read more

جیل بیتی۔4

میرے کچھ صاحبِ ذوق دوستوں نے ان مضامین کے سلسلے کی پہلی قسط میں راجہ انور کی کتابوں پر کچھ ایسے تبصرے کیے کہ مجھے ایک بار پھر پیچھے لوٹ کر انہی دو کتابوں کا مزید ذکر کرنا پڑ رہا ہے۔ ”بڑی جیل سے چھوٹی جیل تک“ میں راجہ انور نے کتاب کے آخری حصے میں ان بنیادی اراکین پی پی پی کا ذکر کیا ہے جن میں سے کچھ کو بدلتی رتوں نے پارٹی سے جدا کر دیا اور

Read more

جیل بیتی۔ 3

”غبارِ خاطر“ اور ”محاسنِ کلامِ غالب“ پہ کیے گئے کچھ شوخ تبصروں کے حوالے سے یاد آیا کہ ڈگر سے ہٹ کے کہی گئی بات کتنی بھی دل کو لبھانے والی کیوں نہ ہو، کم ہی سراہی جاتی ہے۔ جیسے عبدالحمید عدم کا یہ کہنا کہ غالب وہ شاعر ہیں جن کے دیوان کا پہلا ہی شعر مہمل ہے۔ اس کی جو تشریح انہوں نے خود کر رکھی ہے وہ بھی تحقیق سے کھری ثابت نہیں ہوتی۔ ایران کی تاریخ

Read more

جیل بیتی۔ 2

زندانی ادب کی دو مثالیں اسی راولپنڈی جیل سے نسبت رکھتی ہیں جس کا بڑا ذکر راجہ انور کی کتاب ”بڑی جیل سے چھوٹی جیل تک“ میں ملتا ہے۔ ان دو کتابوں میں سے ایک قیدی کی لکھی ہوئی کتاب ہے اور دوسری اس جیلر کی جو اس مشہور قیدی کی قید کے دوران یہاں کا سیکیورٹی چیف تھا۔ قیدی کا نام ذوالفقار علی بھٹو تھا اور جیلر کا نام کرنل رفیع الدین۔ ”اگر مجھے قتل کیا گیا“ بھٹو صاحب

Read more

جیل بیتی

  بصری فنون کی کائنات میں Natflix کی مثال ایک ایسے باغِ دلکشا کی سی ہے جو غالب کی یاد تازہ کرتا ہے میں چمن میں کیا گیا گویا دبستاں کھل گیا ہم جسے عرفِ عام میں فلم کہتے ہیں اس کی کون سی صورت ہے جو یہاں موجود نہیں۔ حال ہی میں سات قسطوں پر مشتمل ایک کہانی دیکھی جس کا نام بلیک وارنٹ ہے۔ دلی کی مشہور تہاڑ جیل کو بنیاد بنا کر یہ کہانی بنی گئی ہے

Read more

سفرِ کوسوو: آخری قسط

پے آ میں آمد کے تقریباً تین دن بعد رکی سے رابطہ ہوا تو وہ اگلے دن ہی مجھے ملنے آ گیا۔ اپنی گاڑی میں بٹھایا اور یہ کہتے ہوئے رگووا پہاڑ کی طرف چل پڑا کہ میں تمہیں سرپرائز دوں گا۔ وہ مجھے ایک پہاڑی پہ واقع ایک نہایت وسیع و عریض ریستوران میں لے گیا۔ تھوڑی دیر بعد سلیمان، اس کی بیگم، بیٹا اور بہو نمودار ہوئے۔ سلیمان رکی کا بہنوئی تھا اور میرے اس وقت کے قیام

Read more

سفرِ کوسوو (3)

رگووا کے سرسبز پہاڑ جن کی پرلی طرف سنہری چمکیلی ریت سے بھرے ساحلوں پہ ڈھیروں سیاح گرمیوں میں یوں ڈیرے ڈالتے ہیں جیسے سائبیریا کے پرندے گرم موسم میں منچھر جھیل کے کناروں کو آباد کر دیتے ہیں۔ اس کے دامن میں تیرہویں صدی میں بنائی گئی وسیع و عریض آرتھوڈکس خانقاہ اپنے اصل گنبدوں، محرابوں اور میناروں کے ساتھ ایک شان سے کھڑی ہے اور واماندگیِ شوق کی آج بھی بڑی پناہ گاہ ہے۔ ہمسائے سے گزرتا دریا

Read more

سفرِ کوسوو (2)

باشکیم کے مقابلے میں رفعت بریشا جو عرفِ عام میں رکی کہلاتا تھا بالکل ہی مختلف بندہ تھا۔ اشرف صاحب کہتے تھے بڑا مشکل آدمی ہے۔ وہ ایک ہندکو محاورے۔ او کہیڑی گلی جتھے پہاگو نہی کھلی۔ کی مکمل تصویر تھا۔ ہر الٹے کام میں اس کی دلچسپی ہوا کرتی تھی جس وجہ سے اشرف صاحب نے اس کا نام دو نمبر رکھا تھا۔ پے آ کے پاکستانی افسران سہیل، بہار اور غیاث کو ہم نے اس بارے میں سمجھا

Read more

سفرِ کوسوو۔ 1

بوسنیا اور کوسوو میں سربوں سے آزادی حاصل کرنے کی تحریکیں اپنی اپنی جگہ بڑی یکتا تھیں۔ بوسنیا کے مسلمان نسلی طور پر سربوں سے مختلف نہ تھے۔ زبان بھی ایک تھی لیکن مذاہب مختلف تھے۔ سرب آرتھوڈکس عیسائی تھے اور بوسنین مسلمان۔ دوسری طرف کسووار ( کوسوو کے باشندے ) نسلاً البانین تھے اور 97 % مسلمان۔ البانوی زبان بولتے تھے اور سربوں سے ان کا کچھ بھی مشترک نہ تھا۔ لہذا سربوں سے ان کی نفرت بوسنین مسلمانوں

Read more

جو بچا ہے مقتلِ شہر میں

صبح نو بجے کا وقت ہے۔ یو این کے سٹولک سٹیشن میں پہلی شفٹ کا آغاز ہوئے ایک گھنٹہ گزر چکا ہے۔ ڈیوٹی افسر کی طرف سے دی گئی ضروری بریفنگ میں شرکت کے بعد پولیس افسران دو سفید ڈبل کیب گاڑیوں میں سٹیشن سے باہر نکلے ہیں۔ ان میں دو دو پولیس افسران اور ایک خاتون ترجمان سوار ہے۔ ایک گاڑی لوبینیا کی سمت روانہ ہوتی ہے اور دوسری بیرکووچی کی طرف۔ ان گاڑیوں میں مستقل طور پر آٹھ

Read more

مژگاں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا

1981، 83، 85 میں سی ایس ایس کے تین ناکام امتحانوں کا ریکارڈ قائم کرنے کے باوجود اپنا یہی ماننا تھا کہ مجھ جیسے لائق امیدوار کا، کے پی میں پایا جانا تو ممکن ہی نہیں جبکہ پاکستان میں اپنے جیسے بس خال خال ہی ہوں گے۔ لہذا ہو نہ ہو نظام میں کچھ گڑ بڑ ضرور ہے۔ اس کی تصدیق بھی خود بخود ہی ہو گئی جب میرا وہ دوست بھی اس امتحان میں کامیاب ہو گیا جو اس

Read more

تیری دو ٹکیاں دی نوکری

آج میں نے چھوٹتے ہی راجہ رجب سے چھیڑ خانی کی۔ کچھ افسردہ سے لگ رہے ہیں۔ لگتا ہے غالب کی طرح تہیہِ طوفاں کیے بیٹھے ہیں۔ یقیناً اس کا کوئی سبب بھی ہو گا۔ چچا کے الفاظ میں۔ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے، والا معاملہ نہ ہو تو شیئر کرنے میں کیا حرج ہے جی۔ بولے حکومت نے ججوں کی تنخواہوں میں حاتم طائیانہ اضافہ کر کے یہ سوچنے پہ مجبور کر دیا ہے کہ ہمارے

Read more

2سفر امریکہ۔

نیو یارک میں میرا قیام میری بڑی بہو کے نوجوان کزن چوہدری نواب کے ہاں رہا۔ امریکہ جہاں میری عمر کے بڈھوں کے لیے موزوں ترین مقام اولڈ ہاؤس سمجھ جاتا ہے وہاں تقریباً تین ہفتے تک سینئر سٹیزن کی میزبانی اور وہ بھی پرتکلف انداز میں، چھوٹی بات نہیں۔ یقینی طور پر ایسا کرنے کو چوہدری اور نواب ہونا ضروری ہے۔ بس نام کا ہی نہیں دل کا بھی۔ نیویارک کے بعد میری اگلی منزل یوٹا سٹیٹ کا صدر

Read more

یا بندہِ خدا بن یا بندہِ زمانہ

میرا گاؤں ہری پور شہر سے تیس کلو میٹر دور ہے۔ میرے بچپن اور لڑکپن کے زمانے میں یہ ایک کچی سڑک پہ واقع تھا۔ اس پہ چلنے والی بسیں اگرچہ راکٹ کہلاتی تھیں لیکن ان میں کوئی بھی ایسی نہ تھی جسے کھٹارہ کہنا زیادہ موزوں نہ ہو۔ ان کے اندر ڈرائیور سیٹ کے سامنے چھت سے نیچے بیل بوٹوں میں گھرے شیشے کے اوپر یہ فقرہ لکھا ہوتا تھا ”چلنے سے پہلے اپنے گناہوں کی معافی مانگ لو،

Read more

سفرِ امریکہ

” مجروح سلطان پوری کا ایک مصرعہ ہے۔ اڑتا ہی پھروں ان ہواؤں میں کہیں۔ میں ہواؤں میں کئی گھنٹے اڑنے کے بعد ایک ایسے شہر میں ہوں کہ جہاں لوگ عمر کے کسی بھی حصے میں جینے کے لیے درد نہیں سنبھالتے پھرتے“ 10 جون 2024 کو نیو یارک میں 19 سال بعد آمد کے بعد اگلی صبح جب میں 5 th ایونیو پہ واقع برائنٹ پارک کی خاموش مگر زندگی اور زندہ دلی سے لدی لہکتی فضا میں

Read more

جنگ ستمبر: تم نے کیا مزا پایا

ماہِ ستمبر کو وداع ہوئے ابھی زیادہ دن نہیں گزرے۔ اس بار 6 ستمبر ہماری ریاستی ٹکسال سے ایک نئے یادگاری سکے کے نام سے ہمارے درمیان آیا۔ اب اسے یومِ دفاع کی بجائے یومِ شہداء کا نام دیا گیا۔ میں نے، جس کی عمر ارضِ پاکستان سے بس نو سال کم ہے، اس سرزمین میں گردشِ مہ و سال کے دوران آسمان تو آسمان، زمین کو بھی کئی رنگ بدلتے دیکھا ہے۔ ہم 65 ء کی جنگ کے کچھ

Read more

پنڈی جو اک شہر ہے۔.۔۔۔۔۔۔اختتام

میرے لڑکپن تک کا زمانہ پرانے پنڈی شہر کی شاہراہوں، گلیوں اور بازاروں میں گزرا۔ اس لیے ذرا دور کی آبادیوں کا ذکر اس کہانی میں نہیں ملتا۔ پرانے پنڈی میں اور بھی کئی مشہور آبادیاں تھیں جیسے صدر، ٹنچ بھاٹہ، چوہڑ، لالکرتی، ، جھنڈا چیچی اور اسلام آباد کی سمت سیٹلائٹ ٹاؤن، صادق آباد، شمس آباد پنڈوڑہ اور فیض آباد وغیرہ۔ 1970 کے بعد اور بہت سی آبادیاں وجود میں آئیں۔ نوکری کے زمانے میں صدر آنا جانا بڑھ

Read more

پنڈی جو اک شہر ہے (5)

قصائی گلی میں ایک چوبارے کی گلوکاراؤں کا پسندیدہ گیت، جلتے ہیں ارمان میرا دل روتا ہے، تھا جو میں نے اس گلی سے چوری چھپے گزرتے ہوئے کئی بار سنا۔ میڈم نور جہاں نے یہ گیت فلم انار کلی کے لیے گایا تھا۔ کہتے ہیں انور کمال پاشا اور ان کے والد حکیم احمد شجاع جب میڈم کے پاس انہیں اس فلم میں ہیروئن کے طور پر سائن کرنے گئے تو انہوں نے بات اس طرح شروع کی۔ میڈم

Read more

پنڈی جو اک شہر ہے۔ 4۔

انور مسعود کی پنجابی شاعری کا معیار اکبر کے فتح پور سیکری کے بلند دروازے سا ہے۔ زبان و بیاں کی بات ہو تو ”جہلم دے پل تے“ جیسی نظم کا مقابل نہیں لایا جا سکتا۔ میری رائے میں اردو کے مقابلے میں پنجابی میں انہوں نے سنجیدہ موضوعات کو بھی خوب خوب برتا۔ ذرا یہ مصرعے ملاحظہ ہوں۔ ع۔ الہڑ شیں مٹیاراں ورگی چڑتل کہیڑا چہلے۔ ع۔ نی کاہدا چامل چڑھیا جے کیوں ہاسے ڈھل ڈھل پیندے جے اس

Read more

3: پنڈی جو اک شہر ہے

راجہ رجب جب بات کر رہے ہوں تو ایسے رواں ہوتے ہیں کہ شاعر کی طرح انہیں یہ مسئلہ درپیش نہیں ہوتا۔ ٹوٹ ٹوٹ جاتا ہے سلسلہ تکلم کا بہرحال میں نے ان کی روانی کو توڑنے کی جسارت کرتے ہوئے سوال کیا، لگتا ہے آپ کے شب و روز کی مصروفیات صرف پرانے پنڈی کی حدود میں ہی مقید تھیں۔ بولے نہیں ایسا نہیں تھا۔ سکول کے زمانے میں ہر سال گرمیوں کے آغاز سے کچھ پہلے اسلام آباد

Read more

پنڈی جو اک شہر ہےـ 2-

راجہ رجب عمرِ رفتہ کا ذکر جاری رکھے ہوئے تھے۔ میرے بچپن اور لڑکپن کے زمانے میں شہر میں بھکاری ڈھونڈنے پہ بھی نہیں ملتے تھے۔ ہمارے محلے میں مہینے دو مہینے بعد باری باری دو فقیر آیا کرتے تھے۔ ایک تو بڑے کرو فر سے گھوڑے پہ سوار آتے تھے۔ داڑھی مونچھ ندارد۔ بس اپنی دھن میں گلی گلی چکر لگاتے۔ کوئی علیک سلیک کرے تو جواب دیتے مگر مزید بات چیت نہیں کرتے تھے۔ دوسرے سفید ریش تھے۔

Read more

پنڈی جو اک شہر ہے

اپنے پنڈی وال دوستوں میں راجہ رجب کی ایک نمایاں حیثیت ہے۔ ہم تمام دوست دوسری جگہوں سے آ کر راولپنڈی میں مقیم ہوئے۔ لیکن ہم سب میں بڑے پنڈی وال راجہ رجب ہی ہیں کیونکہ آپ کا آبائی تعلق بھی ضلع راولپنڈی سے ہے۔ والد راجہ لہرا سب 1965 کی جنگ کے تقریباً چھ ماہ بعد تحصیل کہوٹہ سے ہجرت کر کے یہاں آئے اور ایک رشتہ دار کی مدد سے بوہڑ بازار میں پرانی کتابوں کی ایک دکان

Read more

عجیب داستاں ہے یہ۔۔۔

کافی دن ہو چکے تھے چنانچہ کل سہ پہر ملاقات کی غرض سے میں پھر اپنے دوست راجہ رجب کے ہاں پہنچ گیا۔ ڈھلتی دھوپ میں چھوٹے سے صحن میں کرسی بچھائے ایک رسالہ پڑھ رہے تھے۔ مجھے دیکھ کر خوش ہوئے لیکن میں نے محسوس کیا کہ چہرے پہ بشاشت بس برائے نام تھی۔ میں نے چٹکی لی۔ نارمل نظر آنے کی اداکاری کے باوجود آپ کا موڈ کچھ اچھا نہیں لگ رہا۔ کچھ تو ہے جس کی پردہ

Read more

کوٹھے سے وابستہ ایک غلط العام روایت

روایت اور درائیت کی اصطلاحات علمی سطح پر حدیث کو جانچنے کے حوالے سے استعمال ہوتی ہیں۔ تشریح کچھ یوں ہے کہ ایسی روایت جو پرکھ کے پیمانے پہ درست ثابت ہوتی ہو، مستند سمجھی جاتی ہے۔ میں نے اگرچہ اپنے مضمون کے لیے ایسے ہی معیارِ پرکھ کی طرف رجوع کرنا ہے لیکن میرا موضوع بالکل مختلف ہے۔ میں یہاں ایک ایسی سماجی روایت کو درائیت کی بنیاد پر رد کروں گا جو نہ معلوم کب سے ایک درست

Read more

پھولن دیوی۔ اگلے جنم موہے بٹیا نہ کیجیو

انڈیا کے فلم نگر کو چار وانگ عالم میں نامور کرنے میں جن فلمی اداروں اور ان سے وابستہ فنکاروں نے اسے اپنے ہنر سے نکھارا ان میں Navketan نامی ادارے کا نام بھی شامل ہے۔ اس ادارے کے روح رواں تین بھائی تھے، چیتن آنند، وجے آنند اور دلیپ کمار اور راجکپور جیسے سرو قد کے ہوتے ہوئے کامیاب ہیرو بننے والے دیو آنند۔ شیکھر کپور نامی جوان انہی کا بھانجا تھا جسے ہیرو بنانے کے لیے انہوں نے

Read more

سچ گپ

واٹس ایپ پہ موصولہ لمبے دورانیے کے کلپ میں زیادہ تر واہ کینٹ سے راولپنڈی یا اسلام آباد جاتے ہوئے دیکھتا ہوں جبکہ گاڑی ڈرائیور چلا رہا ہوتا ہے۔ اس دن بھی میں نے ایسا ہی کیا۔ کلپ کسی شاہی یا نیم شاہی تقریب کے بارے میں تھا۔ مقرر نے اصرار کے ساتھ یہ موقف اختیار کیا کہ ہمارے مسائل کی اصل ہمارے ہاں کی تعلیم کی کمی ہے۔ پہلی صف میں براجمان کوٹ پتلون میں ملبوس ایک صاحب نے

Read more

ایک شہر کی کتھا کا قصہ خواں

یہ ستمبر 2010 کا ذکر ہے۔ نیشنل سکول آف پبلک پالیسی لاہور میں آٹھویں سینئر مینجمنٹ کورس ( ایس۔ ایم۔ سی) کا آغاز ہوا۔ اس بار شرکاء کی تعداد سب سے بڑھ کے تھی یعنی 131۔ وفاقی سول سروس، صوبائی سول سروسز اور دوسرے اداروں کے وہ افسران جو گریڈ انیس میں ایک بڑے عرصے تک ملک و قوم کی خدمت کرتے کرتے نڈھال ہو چکے گریڈ بیس کے تازہ چمن میں حیاتِ نو کا سرور پانے کو بے چین

Read more

گبر اور شبر

اپنے یار راجہ رجب سے ہر ملاقات پر لطف ہوتی ہے۔ ایک تو ہر بار وہ کسی نئی بات کو موضوع بنا کر دلچسپ باتیں کرتے ہیں اور دوسرے اپنی معلومات اور ذوق کے تڑکے کے ساتھ اپنے بیان کو ایسا رنگ دیتے ہیں کہ۔ وہ کہیں اور سنا کرے کوئی۔ کل کی ملاقات میں بولے۔ یار کسی نے شبر زیدی کا ایک کلپ بھیجا ہے جس میں انہوں نے بڑی قابلِ غور باتیں کی ہیں۔ حضرت ہمارے وزیرِ خزانہ

Read more

شاہکار فلم "گرم ہوا ” سے وابستہ قصے.

اس کا نام بدر بیگم تھا۔ وہ بستی جس کا آگرہ کے نام سے زیر آسماں چرچا ہے اس کے ایک کوچے میں اس کا گھر تھا۔ زندگی ایسی مشکل کہ اسی شہر کے ایک باسی جو بعد میں دلی میں بلی ماراں کی گلی قاسم جان میں جا بسا، کی دنیا سے مختلف دم نکلنے کا باعث بننے والی ہزاروں خواہشیں تو کیا چند عمومی خواہشیں بھی پوری کرنے کی استطاعت نہ تھی۔ چنانچہ سولہ برس کی عمر میں

Read more

بوسنیا کی چشم دید کہانی۔ آخری قسط

جب ہم لوبینیا پہنچے تو شام ڈھلنے کو تھی۔ ہم برامدے میں لگی میز کے گرد بیٹھ گئے۔ ہم اکثر یہیں بیٹھا کرتے تھے۔ میرا کافی بنانے اندر چلی گئی اور سیکا اور لیپا ہمارے پاس بیٹھ گئیں۔ تھوڑی دیر بعد لیپا بھی اندر چلی گئی۔ وہ جب واپس آئی تو اس نے گہرے نیلے رنگ کی شلوار قمیض پہن رکھی تھی اور کانوں میں قصہ خوانی کے نوادرات فروشوں کے ہاں ملنے والے وہ لمبے لمبے جھمکے جن میں

Read more

بوسنیا کی چشم دید کہانی (59)

مرزا اور میمن کے ہمراہ ہم رات دیر تک تاش کھیلتے رہے۔ صبح نو بجے ہم نے اپنے نیپالی ساتھیوں کو ان کے دوستوں کے ہاں سے ساتھ لیا اور ہیڈ کوارٹر پہنچے۔ ایک ایک کر کے تمام شعبہ جات سے کلیرنس ہوتی چلی گئی۔ پھر آخری شعبے پر سانل کی باری آئی۔ اس شعبے کے سربراہ ایک سردار جی تھے۔ ہم نے ان کے پاس پہنچ کر اپنے کاغذات ان کی میز پر رکھ دیے۔ انھوں نے نگاہ اوپر

Read more

بوسنیا کی چشم دید کہانی-58

اسی شام روقے نکولس اور اس کی بیگم سلاجہ کے ہاں آئے ہوئے تھے واپسی پر ہمیں انھیں بھی ساتھ لے کر جانا تھا۔ سلاجہ کا گھر لوبینا سے کوئی تین کوس باہر ایک چھوٹے سے گاؤں میں واقع تھا۔ اس کا گھر بالکل ویسا ہی تھا جیسا ہمارے ہاں ایک متوسط دیہاتی گھر ہوتا ہے۔ سلاجہ یہاں اپنے والدین، اپنی بہن اور اس کے کمسن بچے کے ساتھ رہتی تھی۔ اس کا خاوند مسلمان تھا اور جنگ دونوں کے

Read more

بوسنیا کی چشم دید کہانی-57-

سٹولک میں اب ایک بار پھر وہی موسم لوٹ آیا تھا جو ایک سال قبل ہماری آمد کے موقع پر تھا۔ بیرکووچی کے پہاڑوں سے پگھلنے والی برف کی وجہ سے دریائے بریگاوا کے بہاؤ میں اب وہ سست روی نہ تھی جو موسم سرما کے دوران پائی جاتی تھی۔ گھنے درختوں کی پھیلی ہوئی شاخیں ایک بار پھر سبز پتوں سے ڈھک چکی تھیں۔ سٹولک کے مرکز میں واقع سب سے بڑے قہوہ خانے، کیفے اوڈین کے صحن میں

Read more

جنت کا ٹکٹ

یہ تب کی بات ہے جب میں مسلم ہائی سکول نمبر1 راولپنڈی میں ساتویں جماعت کا طالب علم تھا۔ جیسا کہ آپ جان چکے سکول، نام کی حد تک سراپا اسلامی تھا اور اس سے بھی بڑھ کر اسلامی سابقے یا لاحقے رکھنے والے سکولوں میں نمبر 1 بھی۔ ایسے سکولوں کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ ان کے اساتذہ ہماری اور اپنی دنیا کی نسبت آخرت کے بارے میں زیادہ فکرمند پائے جاتے ہیں، چنانچہ ہمارے اساتذہ کا

Read more

بوسنیا کی چشم دید کہانی-56

لوئی مجھے دوبارہ کار پر شہر چھوڑنے جانا چاہتا تھا۔ لیکن میں نے اسے شکریے کے ساتھ منع کر دیا۔ شہر جانے والی میٹرو کا اسٹیشن اس کے گھر سے کچھ زیادہ دور نہ تھا۔ میں نے سوچا وہ مجھے اپنے ہاں آنے کے لیے بذریعہ میٹرو سفر اختیار کرنے کا مشورہ دے سکتا تھا اور میرا یہاں انتظار کر سکتا تھا، لیکن اس نے اس معاملے میں بھی وہ وضع داری نبھائی جس پہ ہم اپنی سوچ کے تحت

Read more

آدھے مسلمان

راجہ رجب سے اپنی پرانی یاد اللہ ہے۔ اب کافی عمر رسیدہ ہیں۔ گھر سے کم کم نکلتے ہیں۔ میں ہفتے دس دن میں ان سے ملنے ان کے گھر چلا جاتا ہوں۔ دو دن قبل گیا تو بڑے رنجیدہ دکھ رہے تھے۔ وجہ پوچھی تو اپنا موبائل فون میری طرف بڑھاتے ہوئے بولے، یہ تصویر دیکھیں۔ اداکار عامر خان کی بیٹی ایک ہندو لڑکے سے بیاہی جا رہی ہے۔ یہاں یہ بھی لکھا ہے کہ عامر خان مولانا ابوالکلام

Read more

بوسنیا کی چشم دید کہانی-55

میں نے پیرس پہنچ کر ایک بار پھر سہ بطخی ہاسٹل کی راہ لی۔ جب استقبالیہ میں داخل ہوا تو کاؤنٹر پر موجود مائیکل نے مجھے ”ہیلو واحید“ کی پکار سے خوش آمدید کہا۔ ہاسٹل کے کیفے بار اور صحن کی رونق کا آج بھی وہی عالم تھا۔ میری فرمائش پر مائیکل نے مجھے پہلی منزل پہ ایک ایسے کمرے میں جگہ دی جہاں صرف تین بستر تھے۔ دو بستر یہاں ایک کینیڈین جوڑے نے سنبھال رکھے تھے۔ یہ طالب

Read more

کراچی اور دلی کے دو اہلِ ہمت

غالب نے کہا۔ رہا آباد عالم اہل ہمت کے نہ ہونے سے بھرے ہیں جس قدر جام و سبو مے خانہ خالی ہے یہ ایک ایسی آفاقی سچائی ہے جو ہر وطن، شہر اور کوچہ پہ یکساں صادق آتی ہے۔ بر صغیر کی تہذیبی روایت میں ادب و فن کی ایک شناخت اور مقام ہے۔ مداحین کے شوق کی جلا کی خاطر بدلتے زمانوں کے ہم قدم ہو کر مختلف تقریبات وجود میں آتی رہیں اور پھر آنے والے ادوار

Read more

افسانچہ: ایک سوال ہے جی

حسب معمول آج بھی میں جمعہ کی نماز کے لیے عین خطبہ شروع ہونے کے وقت ہی مسجد پہنچا تھا۔ یہ میرا عرصے کا معمول ہے کیونکہ مولوی کی تقریر سننا کچھ ایسا کار آسان نہیں۔ خطبے کا معاملہ بھی میری سمجھ سے بالا ہے۔ وہی عربی فقرے ہر بار دہرائے جاتے ہیں جن کو دسیوں مرتبہ سننے کے بعد میں ان کا مفہوم بھی کافی حد تک سمجھنے لگا ہوں۔ مولوی بیچارے نے جو کچھ اپنے بڑے مولویوں سے

Read more

بوسنیا کی چشم دید کہانی۔ 54

زاہدہ کا گھر، بہت پیارا گھر اسٹیشن سے کچھ زیادہ فاصلے پر نہ تھا۔ اس کے نیچے کی منزل میں ایک ڈرائنگ روم، ایک کمرہ اور کمرے کی بغل میں باورچی خانہ تھا۔ آخر میں ایک برآمدہ بھی تھا جسے شیشے کی دیوار سے بند کر کے لاؤنج مع ڈرائنگ روم میں بدل دیا گیا تھا۔ اس کے باہر ایک وسیع مستطیل لان تھا۔ دو کمرے اوپر کی منزل پر تھے۔ اس گھر کا ہر گوشہ اس بات کی گواہی

Read more

بوسنیا کی چشم دید کہانی۔ 53۔

شام کے کھانے کے لیے میں نے میکڈونلڈ کی راہ لی۔ کاؤنٹر پر سروس والی لڑکیوں کے سامنے گاہکوں کی قطاریں لگی تھیں۔ حالانکہ ہر کاؤنٹر پر ہر طرح کی سروس دستیاب تھی لیکن ایک کاؤنٹر پر دوسروں کے مقابلے میں کچھ زیادہ ہی لمبی قطار تھی۔ ذرا آگے بڑھا تو اس قطار کی لمبائی کا راز بھی کھل گیا۔ ایک شمشاد قد، بیگانہ احساس جمال یہاں خدمت پر مامور تھی۔ میں نے سوچا سیانے تو کہتے ہیں کہ پیٹ

Read more

بوسنیا کی چشم دید کہانی-52

ہاسٹل کا بڑا گیٹ بند تھا۔ میں کیفے بار سے متصل استقبالیہ کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تو اب یہاں کا منظر کچھ اور ہی رنگ لیے ہوئے تھا۔ کیفے بار لڑکے لڑکیوں سے کچھا کھچ بھرا ہوا تھا۔ کاؤنٹر کے سامنے لڑکے لڑکیاں کندھے سے کندھا ملائے کچھ اس طرح بیٹھے تھے کہ ٹانڈا لڑکی کو دیکھنے کے لیے کہیں کہیں رہ جانے والے دریچے میں سے جھانکنا پڑا۔ میں بڑی مشکل سے اس کی توجہ حاصل

Read more

بوسنیا کی چشم دید کہانی-51

26 اپریل کی شام کو ہم سٹولک واپس پہنچے۔ 30 اپریل سے میری آخری ماہانہ رخصت کا آغاز ہو رہا تھا۔ اس دوران چھ سالانہ چھٹیاں بھی جمع ہو چکی تھیں جن کو ساتھ ملانے سے بارہ دن کی چھٹیاں بن گئیں۔ اس چھٹی کے دوران مسافر کی منزل یورپ کے وہ دو شہر تھے جن میں رواں زندگی کی ہلچل زندہ دلوں کو دور دور تک محسوس ہوتی رہتی ہے یہ دو شہر پیرس اور لندن ہیں۔ میں نے

Read more

بوسنیا کی چشم دید کہانی

یو این کے دستور کے مطابق مشن میں چھ ماہ کا عرصہ مکمل ہونے پر ہر افسر ایک میڈل اور ایک سند کا حق دار ٹھہرتا تھا۔ اس مقصد کے لیے جو تقریب منعقد ہوتی تھی اسے سرکاری طور پر میڈل پریڈ کا نام دیا جا تا تھا۔ جب کہ یار لوگ اسے ”میڈل پہ ریڈ“ کہتے تھے۔ پاکستانی دستے کی میڈل پریڈ 25 اپریل 1997 کو سرائیوو میں ہونا طے پائی تھی۔ اس تقریب کے انتظام میں ہمارے پرانے

Read more

بوسنیا کی چشم دید کہانی-49

میرو بغیر رکے کافی دیر تک بولتا رہا اور آخر میں سنجیدہ ہوتے ہوئے بولا۔ پیشے کے اعتبار سے وہ ایک لکڑہارا ہے۔ جنگ کے بعد بدلتے ہوئے حالات کی وجہ سے وہ اپنے پیشے کو اس طرح جاری نہ رکھ سکا لیکن اس کی محنت سے عبارت زندگی کی نشانی کے طور پر آٹھ قسم کے آرے آج بھی اس کے پاس محفوظ ہیں۔ ٹیٹو سے اس کا وہی رشتہ تھا جو ایک مزدور کا مزدور لیڈر سے ہوتا

Read more

بوسنیا کی چشم دید کہانی

اسی دوران پاکستان سے نیا دستہ بھی بوسنیا پہنچ گیا جس میں سے تین ASI صاحبان کا سٹولک کے لیے انتخاب ہوا۔ عظیم اور ندیم کا تعلق پنجاب پولیس سے تھا جب کہ فاروق کا بلوچستان پولیس سے۔ عظیم ایک مکمل مسخرا تھا۔ ساتھیوں کی نقّالی اس کا پسندیدہ شغل تھا۔ ایک دفعہ وہ پیگی اور ایشور سنگھ کے ہمراہ راونو کے علاقے میں گشت پر تھا۔ اچانک انھیں ایک بندر نظر آیا۔ بندر کو دیکھتے ہی پیگی نے اس

Read more

بوسنیا کی چشم دید کہانی (47)

مقامی خواتین کی اکثریت کی طرح سیکا بھی بلا کی سگریٹ نوش تھی۔ ایشور سگریٹ نہیں پیتا تھا۔ ایک دن سیکا کے پوچھنے پر اس نے یہ انکشاف کر کے کہ کبھی وہ سیکا سے بھی بڑا سگریٹ نوش رہا ہے، اسے تو حیران و پریشان کر دیا۔ سیکا نے بڑے اشتیاق سے یہ جاننا چاہا کہ منہ سے لگی یہ کافر آخر چھٹی کیسے؟ ایشور نے بتایا کہ گرمیوں میں جب بھی میں گاؤں جاتا ہوں تو دوپہر کو

Read more

بوسنیا کی چشم دید کہانی -46

زغرب میں ”شب باشی“ کے اخراجات سے بچنے کے لیے ہم نے اگلا سفر ایک بار پھر رات کو کرنے کا فیصلہ کیا۔ کبھی اونگھتے، کبھی سوتے علی الصبح وسوکو پہنچ گئے۔ رشید اور گل افضل جنھیں ہماری آمد کی پہلے سے اطلاع تھی، پر تکلف ناشتے پر ہمارے منتظر تھے۔ رات بھر کے سفر اور بھرپور ناشتے کے بعد اب نیند سے پنجہ لڑانا مشکل تھا، چنانچہ ہم سو گئے۔ جب اٹھے تو سہ پہر ہو چکی تھی۔ تیار

Read more

بوسنیا کی چشم دید کہانی (45)

مسلمانوں کی سٹولک میں آباد کاری کے منصوبے کی ناکامی کے نتیجے میں انہوں نے تعمیرِ نو کے کام کا بائیکاٹ کر دیا۔ اس صورت حال کی وجہ سے ہمارے مانیٹرز بے حد پریشان تھے۔ اس پریشانی کی وجہ مسلمانوں سے کسی طرح کی ہمدردی نہ تھی بلکہ اصل وجہ یہ تھی کہ اب ان کے پاس گشت نامہ مرتب کرنے کےلیے کوئی مواد نہ بچا تھا۔ ابھی تک ہر گشت نامے میں تعمیر نو کے لیے آنے والے مسلمانوں

Read more

بوسنیا کی چشم دید کہانی (44)

عید کے دوسرے دن موسطار میں ایک ایسا ناخوشگوار واقعہ پیش آیا جس نے پرانے زخموں کو تازہ اور نفرتوں کو اور گہرا کر دیا۔ مغربی موسطار میں جہاں اب کروایٹوں کی اکثریت تھی، مسلمانوں کا ایک بڑا قبرستان واقع تھا۔ مشرقی موسطار کے مسلمانوں نے جنگ کے خاتمے کے بعد آج پہلی مرتبہ دریائے نرٹوا عبور کر کے اپنے اجداد کی قبروں پر فاتحہ خوانی کے لیے جانا تھا۔ اس دورے کا اہتمام یو این انتظامیہ کی کوششوں سے

Read more

پولیس کا یوم سپاس اور دو عزیز دوستوں کی یاد

احمد فراز نے کہا۔ تیرے بیٹے تیری آبرو کے لیے یوں جلائیں گے اپنے لہو کے دیے مسکرائے گی تاریکیوں میں کرن اے وطن تاریکیوں کو اپنے لہو کی لو سے اجالے میں بدلنے والے پولیس افسران و جوانوں کے اعزاز میں ہر سال کی طرح اس سال بھی 4 اگست کو یوم سپاس منایا گیا۔ میں سارا دن ان ساتھیوں کے بارے میں سوچتا رہا جن کے ہمراہ نوکری کا کچھ یا بڑا حصہ گزرا تھا۔ بے شمار انمول

Read more

بوسنیا کی چشم دید کہانی (43)

فروری کے آغاز میں شیوا اور پریم کا تبادلہ موسطار ہو گیا۔ وہ سٹولک اسٹیشن کے ان آٹھ معماروں میں سے تھے جن میں ان کے علاوہ پاکستان، ڈنمارک اور پولینڈ کے مانیٹرز شامل تھے۔ سیکا کے بقول سٹولک اسٹیشن میں وہ بہار پھر کبھی نہ لوٹی جو ابتدائی دنوں میں اس کا حصہ بنی تھی۔ ان دنوں کو یاد کر کے وہ اکثر کہتی تھی Once there was a station, once there was a family. شیوا اور پریم کے

Read more

بوسنیا کی چشم دید کہانی -42

میں شام چار بجے روم ائرپورٹ پر اترا۔ مجھے اگلی رات 9 بجے تک انکونا پہنچنا تھا جہاں سے ایک بار پھر سمندری سفر کے ذریعے مجھے اپنی منزل کی طرف بڑھنا تھا۔ ائرپورٹ سے ریلوے اسٹیشن پہنچ کر میں نے اگلے سہ پہر کو انکونا روانہ ہونے والی گاڑی پر اپنی نشست بک کروائی۔ اب شام ڈھلنے کو تھی چنانچہ میں نے اپنے پرانے میزبان کے گھر کی راہ لی۔ 13 جنوری کی رات کو انکونا کے ساحل پر

Read more

بوسنیا کی چشم دید کہانی (41)

اگلی صبح میں ساڑھے نو بجے والی ریل گاڑی سے روم کے لیے  روانہ ہوا۔ جب دن ایک بجے ریلوے اسٹیشن پہ اُترا تو اس کی ایک  ہنگامے پر موقوف رونق، خانہ غالب کا نقشہ پیش کر رہی تھی۔ وسیع و عریض اسٹیشن کا چپہ چپہ سیاحوں سے آباد تھا۔ یورپ بھر میں کرسمس کی تعطیلات تھیں چنانچہ  اس موقع پر روم اور ویٹی کن سے بہتر انتخاب بھلا کیا ہو سکتا تھا۔ میں نے اپنے ٹریول ایجنٹ ناصر سے

Read more

بوسنیا کی چشم دید کہانی -40

اسد اللہ خاں غالب نے آمد بہار کی جو منظر کشی حرف آخر کے طور پر کچھ یوں کی تھی آمد بہار کی ہے جو بلبل ہے نغمہ سنج اڑتی سی اک خبر ہے زبانی طیور کی کچھ ایسا ہی منظر کرسمس کی آمد سے کوئی ایک ماہ قبل اپنے گرد و پیش میں پایا جانے لگا۔ بل اور ڈورنگ نے کرسمس کا تہوار اپنے اہل خانہ کے ساتھ منانے کی خاطر نومبر کے دوران چھٹی حاصل نہیں کی تھی

Read more

بوسنیا کی چشم دید کہانی (39)

15 دسمبر کو ہمارا الحاق موسطار کے ساتھ ہو گیا۔ اسی روز میں اتفاق سے کسی سرکاری کام کے سلسلے میں ہیڈ کوارٹر گیا۔ اب موسطار میں بین الاقوامی پولیس کے تمام دفاتر اس کے مشرقی حصہ میں واقع ایک بڑی عمارت میں منتقل ہو چکے تھے۔ اس عمارت کی مکمل طور پر تزئین نو کی گئی تھی۔ اس کی سج دھج یو این کے ریجنل ہیڈ کوارٹر کے شایان شان تھی۔ اس عمارت میں ایک چھوٹا مگر خوب صورت

Read more

بوسنیا کی چشم دید کہانی (38)

ابھی تک ہمارا اسٹیشن ضلع ٹرے بینیا کا حصہ تھا۔ 15 دسمبر سے اسے ضلع موسطار میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس ضمن میں سرائیوو ہیڈ کوارٹر سے احکامات جاری ہو گئے۔ 15 دسمبر ہی سے موسطار کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر کے ساتھ ساتھ ریجنل ہیڈ کوارٹر کا درجہ بھی دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ ڈسٹرکٹ کمانڈر ٹرے بینیا، فرینک سرور کو موسطار کے پہلے ریجنل کمانڈر کے طور پر منتخب کیا گیا۔ ابھی تک بوسنیا میں

Read more

بوسنیا کی چشم دید کہانی(37)

ایمسٹرڈیم میں دو عجائب گھر، جن کی نسبت یورپ کے دو بڑے مصوروں سے ہے، آپ کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔ ان میں سے ایک وان گو اور دوسرا ریمبراں کا عجائب گھر ہے۔ آج جو عمارت میوزیم کے طور پر جانی جاتی ہے، یہ ایک تین منزلہ عمارت ہے جو دوسری بہت سی عمارتوں کی طرح سترہویں صدی میں تعمیر ہوئی۔ یہ 1639 ء تا 1657 ء ریمبرانت کا مسکن رہی۔ اسی گھر میں اس کا بیٹا Titus

Read more

سول سروس کا چھپا رستم

یہ ستمبر 2010 کا ذکر ہے۔ لاہور میں 131 شرکا کی بڑی تعداد کے ساتھ آٹھویں ایس ایم سی کا آغاز ہوا۔ کورس میں بڑی تعداد سی ایس ایس افسران کی تھی جن میں تمام سروسز کے گریڈ 19 کے افسران شامل تھے۔ میرے سمیت تقریباً دس فی صد افسران کا تعلق چاروں صوبائی سروسز سے تھا۔ سہالہ کالج میں ایک بار مختلف صوبوں سے ہم سات ڈی ایس پی ایک مختصر کورس میں شامل تھے۔ ہمارے لیے وقفے میں

Read more

بوسنیا کی چشم دید کہانی (36)

فرینکفرٹ سے ایمسٹرڈیم کے لیے میری منتخب کردہ ریل گاڑی کا وقتِ روانگی رات دس بجے تھا ۔اس نے صبح 8 بجے ایمسٹرڈیم پہنچنا تھا۔ رات کے سفر کی وجہ سے گاڑی کے زیادہ تر ڈبے خواب گاہوں پر مشتمل تھے۔ یہ خواب گاہیں کچھ ایسی آرام دہ تھیں کہ نیندوں میں کسی رت جگے کے گھلنے کی کیا مجال۔ فرینکفرٹ سے ایمسٹرڈیم تک کے سفر کے دوران نہ تو پاسپورٹ کا معائنہ ہوا اور نہ ہی سامان کی پڑتال۔

Read more

بوسنیا کی چشم دید کہانی (35)

میونخ کے سینٹر ہی میں اُس مشعل کو بھی دیکھا جو اولمپک کھیلوں کے دوران شعلہ فشاں رہی تھی۔ میں نے لوگوں کو اپنے درمیان اس کی موجودگی کو اس طرح محسوس کرتا ہوا نہیں پایا جتنی مجھے امید تھی۔ یہ شاید اس لیے تھا کہ زندہ قومیں اپنی پہچان کو ماضی تک کبھی بھی محدود نہیں رکھتیں ۔ سہ پہر ڈھلنے پر میں واپس ریلوے اسٹیشن پہنچا۔ میں نے میونخ سے براستہ  فرینکفرٹ ایمسٹر ڈیم کا واپسی ٹکٹ پہلے

Read more

بوسنیا کی چشم دید کہانی۔ 34۔

ان دوروں پر نوجوانوں کے مقابلے میں بزرگ مرد و زن زیادہ تعداد میں آتے تھے۔ بس سے اترتے ہی وہ بستی میں بکھر جاتے اور پھر ان نیم تباہ شدہ مکانوں کا رخ کرتے جو کبھی گھر تھے، ان کے اپنے گھر۔ اس کے بعد وہ سب مل کر قبرستان جاتے، وہاں قبروں پر اگی ہوئی گھاس کو ہاتھوں سے اکھیڑ کر مٹی کو آراستہ کرتے اور قبروں کے سرہانے پھولوں کے دستے سجاتے۔ ایسے ہی ایک دورے کے

Read more

بوسنیا کی چشم دید کہانی (33)

ان دنوں ہماری گفتگو کا موضوع زیادہ تر توسیع مشن کے سلسلے میں حکومت پاکستان کا انکار تھا۔ اقبال کا دعویٰ تھا کہ اس سلسلے میں جتنی بھی آراء ہیں وہ سب غلط ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ اس انکار کی وجہ وزارت داخلہ کے متعلقہ سیکشن افسر کا وہ نوٹ ہے جو اس نے اس کی مخالفت میں لکھا ہو گا۔ اقبال پولیس میں آنے سے قبل صوبائی سیکریٹریٹ میں سیکشن افسر رہا تھا۔ اس کے بقول سیکریٹریٹ

Read more

بوسنیا کی چشم دید کہانی

اب سٹولک میں اردو بولنے والوں کی تعداد چھ ہو گئی تھی۔ ادھر ایشور اپنے اندر کے کٹر ہندو پن کو چھپانے کی پوری کوشش کے باوجود کبھی کبھی ایسی بات ضرور کر جاتا تھا جو یا تو میرے لیے ناگوار ہوتی تھی یا پھر پریم کے لیے۔ اس کی اس طرح کی باتوں کا اقبال اور شیوا کوئی خاص نوٹس نہ لیتے تھے جب کہ مجھے اور پریم کو ایسی باتیں چبھتی تھیں۔ صاحب بھارتیوں کو پورب میں ہم

Read more

بوسنیا کی چشم دید کہانی (31).

سٹولک کی دنیا میں ایک شخصیت ایسی بھی تھی جو ہر طرح کی تفریق سے بے نیاز ہر ایک کے لیے سراپا پیار اور خدمت تھی۔ یہ ہماری خادمہ فینا سپچ Fina Spich تھی۔ عمر زیادہ نہ تھی لیکن چونکہ اپنی عمر کو اپنی عمر کی طرح بسر کرنا اس کے نصیب میں نہ تھا، لہٰذا زندگی اپنی مشکلات کے نقوش اس کے چہرے پر رقم کر گئی تھی۔ وہ اپنی عمر سے کہیں زیادہ بوڑھی دکھائی دیتی تھی۔ وہ

Read more

یاسر پیرذادہ کے کالم پہ اختلافی نوٹ

میں یاسر پیرزادہ کے کالم ”پاکستان سے نقل مکانی کرنے کی کیا قیمت ہے“ کے مندرجات سے اختلاف کر رہا ہوں۔ میں نے اپنے مضمون کا عنوان، اختلافی نوٹ، جان بوجھ کر رکھا ہے۔ وجہ تسمیہ کا پس منظر وہ طلسماتی اختلافی نوٹ ہے جس کا ان دنوں خوب چرچا ہے۔ پوتروں کی اس سرزمین کے کسی ایوان عدل میں ایسا تماشا پہلی دفعہ رچا ہے کہ اختلاف کرنے والوں کی تعداد پہ ہی اتفاق نہیں کہ یہ دو ہیں

Read more

جاوید اختر شاعر تو وہ اچھا ہے پر۔ ۔ ۔

ان دنوں واہگہ کے دونوں اطراف سوشل میڈیا کے تھیٹروں میں ایک خبر باعث گرمی بزم بنی ہوئی ہے۔ یہ خبر الحمرا لاہور کے ایک ایوان سے اس وقت اٹھی جب اہل دل کے لیے سرمایہ جاں، فیض فیسٹول، میں جانے مانے شاعر اور نغمہ نگار جاوید اختر نے ایک سوال کے جواب میں کچھ ایسا کہہ دیا کہ سر حد کے اس پار واہ اور ادھر آہ کا غلغلہ بلند ہوا۔ میرے خیال میں اس شور پند ناصح کا

Read more

بوسنیا کی چشم دید کیانی (30)

سٹولک میں زندگی اسی ڈگر پر رواں تھی۔ اس برائے نام آبادی والے قصبے میں زندگی کے آثار یا تو ہفتے کی شام کو کیفے باروں میں ملتے تھے یا پھر اس اتوار کی صبح کو جب گرجا گھر میں شادی کی کوئی رسم ادا ہونا ہوتی تھی اور شرکا اس میں شرکت کے بعد قصبے کے مرکز میں واقع کیفے باروں کا رخ کرتے تھے۔ UNHCR کی طرف سے محلہ اذونووچی میں مسلمانوں کے گھروں کی تعمیر نو کا

Read more

بوسنیا کی چشم دید کیانی 29

میں گاڑی کی روانگی سے کوئی آدھا گھنٹہ قبل اسٹیشن پر پہنچا۔ گاڑی پلیٹ فارم پر تیار کھڑی تھی۔ یہ زغرب تا بڈاپسٹ چلنے والی ریل گاڑی کی تقریباً ہم شکل و ہم ساخت تھی۔ مجھے جس کیبن میں جگہ ملی وہاں پہلے سے ایک مسافر موجود تھا۔ اُس کا نام زاہد تھا۔ پیشے کے اعتبار سے انجینئر اور تعلق ایران سے تھا۔ پراگ میں آباد تھا۔ تعلیم بھی وہیں حاصل کی تھی، شادی بھی وہیں رچائی تھی۔ اس کے

Read more

بوسنیا کی چشم دید کیانی (28)

بڈاپسٹ کے بارے میں بلدیہ کی جانب سے جاری کردہ جو تعارفی کتابچہ ٹورسٹ آفس سے ملا تھا وہ ایک شبینہ کلب کی طرف سے Sponsor کیا گیا تھا۔ اور اس میں شہر کے حوالے سے جتنی معلومات بہم پہنچائی گئی تھیں ان میں شہر کی شبینہ دلچسپیوں کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ جہاں یہ محسوس کیا گیا تھا کہ ان دلچسپیوں کے کماحقہ بیان کے لیے الفاظ ناکافی ہیں وہاں تصویروں کی مدد حاصل کی گئی تھی۔ علاوہ ازیں

Read more

بوسنیا کی چشم دید کیانی (27)

چار اکتوبر کی رات کو مٹکووچ سے زغرب جانے والی بس پکڑی اور علی الصبح زغرب آمد ہوئی۔ بس اسٹیشن پر ناشتہ کرنے کے بعد قریب ہی کوئی ایک کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ریلوے اسٹیشن پہنچ کر محافظ خانے میں اپنا سفری بیگ جمع کروایا۔ پھر ہنگری کے سفارت خانے کی راہ لی۔ سفارت خانہ ابھی کھلا ہی تھا کہ میں وہاں پہنچ گیا۔ استقبالیہ پر موجود ایک ماٹھی سی کروایشین لڑکی سے رو برو یترو (صبح بخیر)

Read more

بوسنیا کی چشم دید کہانی 26

ہمارے فرائض کا ایک تقاضا یہ بھی تھا کہ ہر شفٹ میں ایک گشتی ٹیم ڈیوٹی کے آغاز اور اختتام کے وقت مقامی پولیس اسٹیشن کا دورہ کرے اور ڈیٹن سمجھوتے کے تحت دیے گئے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے حوالات کا معائنہ کر کے یہ دیکھے کہ وہاں کسی ایسے شخص کو تو بند نہیں رکھا گیا ہے، جس کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہ ہو، یوں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی جا رہی ہو۔ مقامی پولیس اس

Read more

بوسنیا کی چشم دید کہانی۔25

یہاں سے رخصت ہونے کے بعد ہم نے راونو کی جانب اپنے سفر کا ایک بار پھر آغاز کیا اور کوئی پون گھنٹہ بعد وہاں پہنچ گئے۔ یہ پرانے گھروں پر مشتمل ایک چھوٹا سا گاؤں تھا۔ جس میں موجود واحد گرجا کے سامنے صرف دو نئی تعمیر شدہ عمارتیں تھیں۔ ان میں سے ایک عمارت تھانہ کی اور دوسری بلدیہ کی تھی۔ ہم نے وہاں پہنچتے ہی OSCE کے نمائندوں سے ملاقات کی۔ یہ دو خواتین تھیں جن کا

Read more

بوسنیا کی چشم دید کہانی۔ 24

سٹولک میں ہمارے اسٹیشن کی منتقلی کے بعد ہماری سب سے اہم ڈیوٹی اب تقریباً دو ہفتے دور رہ گئی تھی۔ OSCE کی زیر نگرانی بوسنیا میں عام انتخابات 15 ستمبر کو ہونا طے پائے تھے۔ ان انتخابات میں مرکزی اور Cantonal Assemblies کے ارکان کا انتخاب ہونے کے ساتھ ساتھ وفاق کے صدر، دو نائب صدور اور جمہوریہ سربسکا کے صدر کا انتخاب بھی ہونا تھا۔ اس موقع پر ہماری ذمہ داری یہ تھی کہ آزادی ٔنقل و حرکت

Read more

بوسنیا کی چشم دید کہانی۔ 23

جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا ہمارا اسٹیشن ابھی تک اپنے اصل مقام سٹولک کے بجائے میجی گوریا نامی قصبے میں واقع تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی سٹولک جنگ سے بری طرح متاثر ہوا تھا۔ یہاں مسلمانوں اور سربوں کی عمارتوں کو کچھ اس طرح تباہ کیا گیا تھا کہ وہ اب قابل رہائش نہیں رہی تھیں۔ ایسی عمارتیں جو تباہی کا نشانہ بننے کے باوجود قابل رہائش بنائی جا سکتی تھیں وہ ان کروایٹ مہاجرین کے نام کر

Read more

بوسنیا کی چشم دید کیانی۔ 22

سٹولک اسٹیشن میں زندگی اپنے معمول کے مطابق رواں تھی۔ ایک دوپہر تقریباً تمام مانیٹر اسٹیشن پر موجود اپنے اپنے دفتری کاموں میں مشغول تھے کہ اسٹیشن کی عمارت کے باہر ایک لینڈ کروزر آ کر رکی اور اس میں سے سیاہ وردی میں ملبوس ایک درمیانے قد اور گٹھے ہوئے جسم کا ایک گنجا پولیس افسر برآمد ہوا۔ وہ دانتوں میں سگریٹ دبائے ٹہلتا ہوا دفتر میں داخل ہوا اور بلند آواز میں ہم سے مخاطب ہوا۔ Hello guys,

Read more

بوسنیا کی چشم دید کیانی۔ 21۔

جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا ابھی تک ہمارے ساتھ چار خواتین ترجمان کے طور پر کام کرتی تھیں، سیکا، لیپا، لیجا اور سلاجہ۔ اگست کے آخر میں ترجمانوں کے اس ٹولے میں چار خواتین کا مزید اضافہ ہوا۔ یہ چار نئی ترجمان لوینیا، میرا، ویسنا اور ساشا تھیں۔ لوینیا کو چھوڑ کر باقی تینوں خواتین سرب تھیں اور اس طرح اب سرب ترجمانوں کی کل تعداد 7 ہو گئی تھی جبکہ لوینیا اکلوتی کروایٹ ترجمان تھی۔ وہ ایک نوجوان

Read more

بوسنیا کی چشم دید کیانی (20)

واپسی کے چند ہی دنوں بعد اپنے معمولات میں ایک بڑی تبدیلی بھابھی بانو کی آمد کے ساتھ ہوئی۔ اقبال پچھلے دو ماہ سے اس کوشش میں لگا ہوا تھا کہ وہ کسی طور کچھ عرصے کے لیے  بوسنیا آ جائیں۔ اُس وقت تک سرائیوو کا ہوائی اڈہ بین الاقوامی پروازوں کے لیے  کھولا نہیں گیا تھا۔ لہٰذا بوسنیا آنے کی خواہش مند بیگمات کو براستہ  کروایشیا آنا پڑتا تھا۔ اِدھر اسلام آباد میں کروایشیا کے سفارت خانے نے اپنی

Read more

بوسنیا کی چشم دید کہانی۔ 19

محلوں کی دنیا میں اتنا وقت گزارنے کے بعد اب طبیعت کسی اور محل کو دیکھنے پر مائل نہ تھی۔ چنانچہ فیصلہ ہوا کہ ایک ایسے گھر کا رخ کیا جائے جس کا باسی میدان علم کا ایک ایسا شاہ ہے جس کی سلطنت کبھی زوال پذیر ہونے والی نہیں۔ یہ گھر نفسیات کے بابا آدم سگمنڈ فرائیڈ کا تھا۔ مسلم ہائی سکول نمبر 1 راول پنڈی سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد جب اس درس گاہ کے طلباء کی

Read more

بوسنیا کی چشم دید کہانی (18)۔

ویانا کو کسی من چلے نے کعبۂ موسیقی کہا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پچھلے کئی قرنوں سے یہ شہر موسیقی کے دل دادوں کے لیے حرز جاں رہا ہے۔ مورخین کے خیال میں اس کی بڑی وجہ یہ رہی کہ ڈینیوب کے ساحلوں تک پہنچنے والے نگر نگر کے رنگ برنگے مسافروں کی بدولت مختلف النوع لوک گیت یہاں پہنچے جنھوں نے اہل ویانا کے طرز زندگی میں موسیقی سے لگاؤ کو ایک بنیاد کی حیثیت دی۔ بارہویں

Read more

بوسنیا کی چشم دید کہانی (17)۔

زغرب میں قیام کے دوسرے دن ہم نے بذریعہ ریل گاڑی ویانا کا رخ کیا۔ یہ کوئی چار گھنٹے کا سفر تھا۔ ہماری گاڑی شام پانچ بجے روانہ ہوئی۔ ریل براستہ سلوینیا، ویانا کی طرف رواں تھی۔ راستے میں جا بہ جا قدرتی مناظر اپنے حیران کن تناسب اور خوب صورتی کے ساتھ توجہ کا مسلسل مرکز بنے رہے۔ ذرا اندھیرا پھیلا تو ساتھیوں نے تاش نکال لی۔ مرزا اور میمن کو تاش سے ٹھرک کی حد تک لگاؤ تھا۔

Read more

بوسنیا کی چشم دید کہانی(16)

اب اگست کا آغاز ہو چکا تھا۔ یوم آزادی مشترکہ طور پر منانے کے لیے ناظم دستہ جناب زبیر صاحب کی طرف سے انتظامات کا آغاز پہلے ہی سے جاری تھا۔ ابھی تک جگہ کا فیصلہ نہ ہو پایا تھا۔ اگست کے شروع میں اطلاع موصول ہوئی کہ یوم آزادی منانے کے لیے سرائیوو کے ہوٹل ہالیڈے ان کا انتخاب کیا گیا ہے۔ اس سے قبل میں نے اپنی ماہانہ چھٹی 15 تا 20 اگست منظور کروا لی تھی۔ بڑی

Read more

بوسنیا کی چشم دید کہانی (15)

فرانسیسی افسران کے سٹیشن میں اس شان سے داخلے کی دو وجوہات تھیں۔ اول یہ کہ پہلے سے موجود تمام مانیٹروں کا تعلق تھرڈ ورلڈ سے تھا۔ دوئم ان کی ریجنل کمانڈر کرنل کارنوں سے ہم پیشہ ہونے کی نسبت تھی، جو جنڈر میری کا پیرس میں یونٹ کمانڈر بھی تھا۔ فرانسیسی مانیٹر اپنے ہمراہ سٹیشن کے لیے دو گاڑیاں بھی لائے تھے جن پر انہوں نے سٹیشن کمانڈر کو کوئی اہمیت دیے بغیر خود ہی پہلے دن سے قبضہ

Read more

بوسنیا کی چشم دید کہانی (14)۔

جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا ابھی تک ہمارے ساتھ چار خواتین ترجمان کے طور پر کام کر رہی تھیں۔ یہ چاروں سرب تھیں اور جمہوریہ سربسکا کے قصبوں ٹریبینیا اور لوبینیا میں مقیم تھیں۔ سیکا کا پورا نام Adzovic Stanislva تھا۔ وہ انتہائی ذہین اور حاضر جواب عورت تھی۔ عمر ڈھل چکی تھی اور اب بھدے پن کی حد تک موٹی تھی۔ اس کا والد ضلعی کمیونسٹ پارٹی کا ایک اہم عہدیدار رہا تھا۔ اس کے گھرانے کی مذہب

Read more

بوسنیا کی چشم دید کہانی( 13)۔

بات سٹولک سٹیشن میں بلغارین کی آمد سے چلی تھی اور کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔ لہٰذا میں بات کو وہیں سے آگے بڑھاتا ہوں۔ ٹونی اپنے تین ساتھیوں کے ہمراہ ہمارے سٹاف میں شامل ہوا تھا۔ باقی تین ساتھی پلامین، وینیو اور وکی تھے۔ مشرقی یورپ سے تعلق کی بناء پر پہلے ہی دن سے کرس کا ان کے ساتھ سلوک سٹیشن کمانڈر والا کم اور کلی وال ( پشتو لفظ جس کا مطلب ہے ایک گاؤں سے تعلق

Read more

بوسنیا کی چشم دید کہانی (12

جولائی کے تیسرے ہفتے میں ٹامس اور ہنرک کا مشن میں عرصہ تعیناتی اپنے اختتام کو پہنچا۔ ان کی روانگی سے قبل ہماری اور ترجمانوں کی طرف سے ان کے اعزاز میں ایک مشترکہ پارٹی کا اہتمام کیا گیا۔ یہ پارٹی لوبینیا میں ترجمان خواتین کے وسیع گھر کے برآمدے میں منعقد ہوئی اور مغرب کے بعد سے لے کر علی الصبح تک جاری رہی۔ قیام مشن کے دوران اس کے بعد بھی کئی پارٹیاں گاہے گاہے منعقد ہوتی رہیں

Read more

بوسنیا کی چشم دید کہانی (11)

اب تک ہماری رہائش اسٹیشن سے ملحق مالک مکان کے گھر کی پہلی منزل پر واقعے مہمان خانہ میں بحیثیت کرایہ دار تھی۔ کرس، بولک، شیوا اور پریم نے اپنی رہائش سٹولک کے راستے میں واقع ایک بڑے قصبے چپلینا کے نواح میں رکھی ہوئی تھی۔ ٹامس اور ہنرک بھی اسی مہمان خانے میں مقیم تھے۔ یہاں کمرے کا کرایہ بیس مارک یومیہ تھا۔ کمرے کی کشادگی کا عالم بقدر شوق تو کیا بقدر ضرورت بھی کم تھا۔ یہ کمرہ

Read more

بوسنیا کی چشم دید کہانی (10)

بوسنیا میں یو این مشن کے ساتھ منسلک ہونے کے بعد جو پہلا سب سے اہم واقعہ درپیش ہوا وہ موسطار کے بلدیاتی انتخابات تھے۔ موسطار شہر کا انتظامی حوالے سے ابھی تک ہم سے کچھ واسطہ نہ تھا۔ یہ ہم سے تقریباً تیس کلو میٹر دور واقع تھا۔ کروایٹ رائے دہندگان جو ماضی میں موسطار کے باسی رہے تھے اور جنگ کے نتیجے میں اب کروایشیا میں مختلف مقامات پر بطور مہاجر آباد تھے انہوں نے ہمارے علاقے سے

Read more

بوسنیا کی چشم دید کہانی ( 9)۔

سٹولک سٹیشن کے سٹاف میں اگر کوئی شخص غالب کے اس مصر ع کی تصویر تھا، دیوانہ گر نہیں ہے تو ہشیار بھی نہیں۔ تو وہ بولک ہی تھا۔ اسکی عمر چالیس اور پینتالیس کے درمیان ہو گی۔ قد مناسب، جسم بھرا بھرا اور چھوٹی چھوٹی داڑھی۔ وہ نظر کی موٹے شیشوں والی عینک استعمال کرتا تھا اور سر پر بال اس قدر کم تھے کہ اس کے درمیانی حصے کا شفاف پن دیکھ کر یہ گمان ہوتا تھا کہ

Read more

بوسنیا کی چشم دید کہانی (8)۔

اب میں ہوں اور سامنے شہر مر مر بلغراد۔ جالب یاد آ گئے، آج اس شہر میں کل نئے شہر میں بس اسی لہر میں اڑتے پتوں کے پیچھے اڑاتا رہا شوق آوارگی بس سٹاپ سے کچھ ہی فاصلے پر شہر کی سب سے خوبصورت گلی کنیز مھیلاوا سٹریٹ واقع تھی۔ اس کی راہ لی اور پھر اسے ایک سرے سے دوسرے سرے تک ناپنے کے بعد کلے میگدان پارک کا رخ کیا۔ یہ پارک کنیز مھیلاوا سٹریٹ کے ختم

Read more

جو چلے تو جاں سے گزر گئے

احمد فراز نے کہا۔ تیرے بیٹے تیری آبرو کے لیے یوں جلائیں گے اپنے لہو کے دیے مسکرائے گی تاریکیوں میں کرن اے وطن تاریکیوں کو اپنے لہو کی لو سے اجالے میں بدلنے والے پولیس افسران و جوانوں کے اعزاز میں ہر سال کی طرح اس سال بھی 4 اگست کو یوم سپاس منایا گیا۔ میں سارا دن ان ساتھیوں کے بارے میں سوچتا رہا جن کے ہمراہ نوکری کا کچھ یا بڑا حصہ گزرا تھا۔ بے شمار انمول

Read more

بوسنیا کی چشم دید کہانی ۔ ( 7 )

یو این کے قواعد و ضوابط کے مطابق ہم ہفتہ وار چھٹی کے حقدار نہ تھے۔ ہمیں تیس دن مسلسل کام کرنے کے بعد چھ دن کی چھٹی ملتی تھی اور غیر سرکاری طور پر دو دن راہداری کے طور پر اضافی ملنے کے ساتھ ساتھ سرائیوو تک سرکاری گاڑی میں مفت پک ڈراپ کی سہولت بھی دی جاتی تھی۔ یہ ماورائے قانون رعایت تھی جس کی موج بلا خوف و خطر ہر کوئی اڑاتا تھا اور اس باب میں

Read more

کیا ہم ایک ہیں؟

اقسام ازل نے اپنا نصیبہ بھی کیا بنایا ہے کہ بقول میر جن بلاؤں کو میر سنتے تھے ان کو اس روزگار میں دیکھا سوشل میڈیا پر کچھ عجیب مناظر دیکھے۔ بھگاؤ سندھ بچاؤ، کے نعروں کے شور میں اپنی دنیا آپ پیدا کر کے زندہ رہنے کا سامان پیدا کرنے والے پاکستانیوں میں سے ایک لسانی شناخت رکھنے والوں کو، تقریباً انہی کے طبقے سے تعلق رکھنے والے دوسری لسانی شناخت والوں نے جس طرح نشانے پہ رکھا ہوا

Read more

خلقت شہر تو کہنے کو فسانے مانگے

وقت رواں میں ایک واقعے کا بڑا چرچا ہے جس کی ابتدا ایک رومانوی گفتگو کی ایک ٹیپ سامنے آنے پہ ہوئی۔ یہ گفتگو تب کے چئیر مین نیب اور ایک خاتون کے درمیان ہے جو ایک سائلہ کے طور پر ان کے دفتر گئی تھیں۔ بعد میں معاملہ کچھ ایسی شکل اختیار کر گیا کہ صورت کچھ یوں ہوئی میں اسے شہرت کہوں یا اپنی رسوائی کہوں مجھ سے پہلے اس گلی میں میرے افسانے گئے اس معاملے میں

Read more

بوسنیا کی چشم دید کہانی (6)۔

تعمیر نو کے کام کا یہ معمول تھا کہ ہر صبح تقریباً نو بجے کے قریب سٹولک کے پچاس مہاجرین مسلمانوں کو جو اب مشرقی موسطار میں پناہ گزیں تھے ایک بس کے زریعے سٹولک لایا جاتا۔ یو۔ این۔ ایچ۔ سی۔ آر کی طرف سے انہیں ضروری اوزار، اینٹیں، سیمنٹ، بجری اور کھڑکیوں میں شیشوں کی جگہ لگانے کو پلاسٹک کی شیٹیں دی جاتیں۔ تعمیر نو کا کام یہ لوگ از خود مل جل کر کرتے اور بعد دوپہر تک

Read more

بوسنیا کی چشم دید کہانی (5)

بیسویں صدی کی دنیا میں کسی ملک کے عروج و زوال کی داستان کو کسی ایک شخص کی زندگی اور موت سے شاید ہی اتنی گہری نسبت ہو جتنی کہ یوگوسلاویہ کی مارشل ٹیٹو سے۔ دوسرے لام کے ملبے سے ابھر کر اس ملک نے نہایت قلیل عرصہ میں ناقابل یقین ترقی کی اور اقوام عالم کے درمیان اپنی ایک حیثیت بنائی۔ لیکن مارشل ٹیٹو کی آنکھیں بند ہوتے جو دھند چھائی، جب چھٹی تو ایسی ویرانی سامنے تھی کہ

Read more

بوسنیا کی چشم دید کہانی۔۔۔ چوتھی قسط

سٹولک کی سمت رواں ہماری گاڑی چھوٹے چھوٹے قصبوں کو پیچھے چھوڑتی ہوئی تقریباً ایک گھنٹے کے سفر کے بعد ایک بڑے قصبے کونئیک پہنچی۔ یہاں سے ہرزیگووینا کا ریجن شروع ہوتا تھا۔ جیکوبا کے پہاڑی سلسلے سے پھوٹنے والے ان گنت چشمے جب اس قصبے میں پہنچتے ہیں تو لذت وصل سے آشنا ہو کر دریائے نرٹوا کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ دریا دو سو بیس کوس کی مسافت طے کرتے ہوئے یبلانیسہ، موسطار، چپلینا اور مٹکووچ

Read more