شاہد آفریدی کے پلان پر ’ویل ڈن لالا‘ کی گونج مگر دور اندیشی پر حیرت


پاکستانی کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر شاہد آفریدی نے کہا ہے کہ میرٹ پر فیصلے نہ ہونے کی وجہ ملک میں ٹیلنٹ یعنی ہنر مند نوجوان ضائع ہوجاتے ہیں مگر ان کی قیادت میں سلیکشن کمیٹی ’ٹیلنٹ ضائع ہونے نہیں دے گی۔‘

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے جاری کردہ ایک ویڈیو بیان میں شاہد آفریدی کہتے ہیں کہ ’جس کرسی پر سلیکشن کمیٹی بیٹھی ہے، ہم یہاں آئے ہی اس لیے ہیں کیونکہ ہمارے ملک میں بہت زیادہ ٹیلنٹ ہونے کے باوجود یہ ضائع ہوجاتا ہے۔ اس کی سب سے وجہ میرٹ پر فیصلہ نہ ہونا ہے۔‘

’میری سلیکشن کمیٹی کی ٹیم مضبوط اور تجربہ کار ہے۔ ہم مل کر اس ٹیلنٹ کو ضائع ہونے نہیں دیں گے۔‘

انڈر 19 کے تین کھلاڑیوں عرفات منہاس (ملتان)، باسط علی (ڈیرہ مراد جمالی) اور محمد ذیشان (فیصل آباد) کو پاکستانی ٹیسٹ سکواڈ میں شامل کرنے کا فیصلہ سناتے ہوئے انھوں نے کہا ہے کہ ’سارے بچوں کو پیغام ہے کہ کرکٹ پر توجہ دیں اور آپ کو مواقع ملیں گے۔۔۔ پوری سلیکشن کمیٹی آپ کو سپورٹ کرے گی۔ خوابوں کو حقیقت بنانے کے لیے آپ کو دن رات محنت کرنا ہوگی۔‘

https://twitter.com/captainmisbahpk/status/1607753458114871297

بعد ازاں ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں بھی شاہد آفریدی نے کہا کہ ’ہم بہترین کارکردگی دینے والے کھلاڑیوں کی مدد کریں گے تاکہ وہ پاکستان کی نمائندگی کر سکیں۔‘

’اس حوالے سے پہلا قدم یہ ہوگا کہ وہ سٹارز کے ساتھ وقت گزاریں گے اور ان سے سیکھیں گے کہ کیسے انٹرنیشنل میچوں کے لیے خود کو تیار کرنا ہے۔‘

پاکستان کے متعدد سابق کرکٹرز، جیسے سابق کپتان مصباح الحق، نے شاہد آفریدی کے اس فیصلے کی حمایت کی ہے۔

https://twitter.com/Mushy_online/status/1607754217976123392

سابق ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق کہتے ہیں کہ ٹی ٹوئنٹی اور ٹی ٹین کے اس دور میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ میں دلچسپی لیں۔ ’اس سے نوجوان ریڈ بال کرکٹ کھیلنے کی طرف متوجہ ہوں گے جو ان کی بہتری کے لیے سب سے اہم فارمیٹ ہے۔‘

ساتھ ہی ساتھ سابق آل راؤنڈر محمد حفیظ بھی ذاتی طور پر اس اقدام سے خوش ہیں۔ ’ویل ڈن لالا‘ کے ساتھ وہ کہتے ہیں کہ ’اس اقدام سے نوجوانوں میں ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کا رجحان پیدا کیا جاسکے گا۔‘

اسی طرح سابق بولنگ کوچ مشتاق احمد کے مطابق یہ شاہد آفریدی کا ’آؤٹ آف دی بوکس‘ فیصلہ ہے جس میں انڈر 19 کے بچے ڈریسنگ روم سے ٹیسٹ میچ کا ہر سیشن دیکھیں گے اور اپنی گیم کو تبدیل کر سکیں گے۔ ’اس سے ہمارے انڈر 19 کے لڑکوں کو بہت فائدہ ہوگا۔‘

https://twitter.com/realshoaibmalik/status/1607417275287732224

اس سے قبل آل راونڈر شعیب ملک بھی وکٹ کیپر بلے باز سرفراز احمد کو نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ میں موقع دینے پر آفریدی کی حمایت کر چکے ہیں۔

ان کا مشورہ ہے کہ اسی طرح سرفراز کو ون ڈے میچوں میں بھی موقع دیا جانا چاہیے۔

مگر تمام سابق کرکٹرز شاہد آفریدی سے اس قدر پُرامید نہیں۔

جیسے ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے لیگ سپنر دانش کنیریا نے شاہد آفریدی کی آسٹریلیا کے خلاف میچ کی وہ تصویر شیئر کر دی جس میں وہ گیند کو چبا رہے تھے اور ساتھ میں لکھا ’چیف سلیکٹر‘۔

https://twitter.com/fahadmustafa26/status/1607078898063507456

https://twitter.com/talesofem/status/1607709776225468422

اس کے جواب میں اداکار فہد مصطفیٰ نے لکھا ’آپ کی طرح وہ فکسر نہیں۔‘

ٹیسٹ کرکٹ کا تجربہ دینے کے لیے انڈر 19 کے نوجوانوں کی ٹیم میں سلیکشن پر شائقین ملا جلا ردعمل دے رہے ہیں۔

بعض صارفین نے جہاں اس فیصلے کو سراہا تو وہیں کچھ کا خیال ہے کہ ٹیم میں غیر تجربہ کار کرکٹرز کی شمولیت سے کچھ زیادہ فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔

اسریٰ نامی صارف نے 22 رکنی سکواڈ کو ’80 رکنی کابینہ‘ سے تشبیہ دی تو مہرین صرف اسی بات پر حیران ہیں کہ اپنے بوم بوم سٹائل کے لیے مشہور شاہد آفریدی ’طویل مدتی منصوبے کی بات کر رہے ہیں۔‘

https://twitter.com/mitesh0410/status/1607752340173643783

https://twitter.com/rim_raees/status/1607759447790682112

ایک انڈین صارف نے تصبرہ کیا کہ پاکستانی کرکٹ 90 کے دہائی کے سٹار پلس ٹی وی سوپ کی طرح دلچسپ ہوتی جا رہی ہے۔ ’یہ وہی کہانی ہے جو نسلوں سے چل رہی ہے۔‘

ادھر رمشا پاکستانی چیف سلیکٹر کے دفاع میں کہتی ہیں کہ جب نوجوانوں کو مواقع نہیں ملتے تب بھی یہ لوگ بُرا بھلا کہتے ہیں مگر اب تو انھیں سٹارز کے ساتھ ڈریسنگ روم شیئر کرنے کا موقع دیا جا رہا ہے۔

مگر کلیم خان کہتے ہیں کہ پاکستانی ڈریسنگ روم تک رسائی اس قدر آسان نہیں ہونی چاہیے، خاص کر کے ٹیسٹ کرکٹ میں۔

https://twitter.com/Kallerz37/status/1607705915213447168

کرکٹ تجزیہ کار عالیہ رشید کہتی ہیں کہ سابق کرکٹرز ٹوئٹر پر شور مچا کر سلیکٹرز کے لیے پریشر گروپ بن جاتے ہیں۔ ’درست فیصلوں کے بجائے مقبول فیصلے نتائج نہیں دیتے۔‘

https://twitter.com/aaliaaaliya/status/1607793896658198528

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp