ننھے پروفیسر حماد صافی کی ”ہجرت“


حماد صافی کی ”ہجرت“ کو آج پورا ایک ہفتہ گزر گیا۔

ننھے پروفیسر ”اسلام کے قلعے“ کو چھوڑ کر اعلٰی تعلیم کے لئے انگلستان پدھار گئے اور جاتے جاتے یہ نرالی دعا مانگ گئے کہ اللہ اس ہجرت کو پاکستان سمیت پوری مسلم امہ کے لئے باعث خیر کرے۔

پاکستان کو اللہ تعالٰی کے رازوں میں سے ایک راز کہنے والے ننھے پروفیسر اس راز کو سمجھنے کے لئے سات سمندر پار جا چلے۔ بعض بدخواہ اسے دوغلا پن اور موقع پرستی قرار دے رہے ہیں حالانکہ یہ ننھے پروفیسر کی عاقبت اندیشی بھی ہو سکتی ہے جسے ہم جیسے کوتاہ بین فی الوقت سمجھنے سے قاصر ہیں۔ اسلام کی خدمت کے لئے ایک غیر اسلامی سرزمین ہی بہترین میدان ہے۔

تاہم چند خود ساختہ فلسفی یہاں بھی نکتہ چینی سے باز نہیں آتے۔ ان کا استدلال ہے کہ فریڈرک نطشے کے مطابق برائی سے لڑنے والا ہر وقت خود برائی کی دلدل میں پھنسنے کے خطرے سے دوچار رہتا ہے۔

لیکن گزشتہ چند سالوں میں حماد صافی پوری طرح بدل چکے ہیں۔ اب وہ نظریں جھکائے رکھتے ہیں، ان کے پاس سمارٹ فون تک نہیں ہے، وہ داڑھی کا اہتمام بھی کرچکے ہیں، اور غیر محرم عورتوں سے بات بھی نہیں کرتے، سر پر عمامہ شریف یا ٹوپی مبارک ہمہ وقت موجود رہتی ہے۔ نیز راہ راست سے نکلنے کے تمام دروازے مقفل ہیں اور اب تبلیغ اسلام ہی وہ واحد ”ایجنڈا“ ہو سکتا ہے جو ننھے پروفیسر کی ہجرت کا سبب بنا۔

حماد صافی کا باہر چلے جانا اگرچہ کسی صورت بھی غلط ثابت نہیں کیا جاسکتا (اگرچہ وہ دوسروں کو اس کام سے روکتے رہے ہیں ) لیکن سوال یہ ہے کہ پاکستان جسے ننھے پروفیسر حضرت صالح کی اونٹنی سمجھتے تھے اس کا خیال اب کون رکھے گا؟

ننھے پروفیسر اس وطن پرست گروہ سے وابستہ تھے جو مغرب کی طرف پرواز کرنے کو سخت معیوب سمجھتے ہیں اور وہ انتہائی پراثر انداز میں کہتے تھے ”مغرب کی طرف جاؤ گے تو ڈوب جاؤ گے“ ۔ وہ یہ کہتے سنے اور دیکھے گئے ہیں کہ اس پاک سرزمین سے کوچ کر جانا حب الوطنی بالکل بھی نہیں۔ ابھی ایک ہفتہ پہلے تک وہ اسی ملک میں کریئر بنانے اور یہی اعلٰی تعلیم حاصل کرنے کے حق میں تھے۔ نا جانے اس ایک ہفتے میں ایسا کیا ہو گیا کہ وہ اسلامی دنیا کے پانچ درجن ممالک کو چھوڑ کر اس انگلستان میں جا بسے جس نے مسلسل دو صدیوں تک حضرت صالح کی اس دوسری اونٹنی کے ساتھ وہ سلوک کیا جو حضرت صالح کی پہلی اونٹنی کے ساتھ اس کی نامراد قوم نے روا رکھا تھا۔

شاید ننھے پروفیسر نے یہ تاریخی فیصلہ تب کیا جب طالبان نے افغانستان میں عورتوں کی اعلٰی تعلیم پر پابندی عائد کردی۔ شاید یہ ننھے پروفیسر کے احتجاج کا ایک انوکھا ڈھنگ ہے۔ لیکن یہ بھی وثوق سے نہیں کہا جاسکتا کہ اس معاملے میں ننھے پروفیسر کی رائے کیا ہے کیونکہ وہ کبھی افغانستان میں عورتوں پر ہو رہے مظالم پر نہیں بولے۔

ویسے افغانستان کے ذکر سے یاد آیا، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پروفیسر صاحب اعلٰی تعلیم کے لئے کابل تشریف لے جاتے کیونکہ انگلستان میں بد نظری کے امکانات وسیع ہیں۔ کابل میں ناصرف شریعت کا بول بالا ہے بلکہ ننھے پروفیسر خود بھی شریعت کے علم برداروں میں سے ہیں۔ جب آس پڑوس میں ایران اور افغانستان جیسے اسلامی ممالک ”آباد“ ہوں۔ اور بندہ جو خالص اسلامی ماحول کا شیدائی ہو۔ وہ تعلیم کے لئے انگلستان چلا جائے ایسا بہت کم ہوتا ہو گا۔

انگلستان میں تو کوئی مدرسہ حقانیہ بھی نہیں اور نا ہی اشرفیہ اور بنوریہ جیسے استوار ادارے ہیں۔ ننھے پروفیسر وہاں جاکر کس مدرسے میں پڑھیں گے؟

یونیورسٹی میں جائیں گے تو بد نظری سے پناہ کیسے ملے گی؟ ہم جنس پرستوں کو کیا کہ کر ٹوکیں گے؟ مخلوط نظام تعلیم کی مخالفت کیسے کریں گے؟

ہمارے ننھے پروفیسر کفر سے تن تنہا جنگ کا اعلان کرچکے ہیں۔ خدا انھیں اقبال کی راہ پر چلنے کا حوصلہ دے اور وہاں سے واپسی پر ننھے پروفیسر بھی اقبال کی طرح مسلمانوں کو خواب غفلت سے جگائیں۔ آمین

ویسے جاتے جاتے ایک اور بات ہے جسے نہ لکھ سکا تو تسلی نہ ہوگی۔ ننھے پروفیسر نے جاتے جاتے اپنے فیس بک پر لکھا کہ ابو جی کی خواہش پر اعلٰی تعلیم کے لئے انگلستان جا رہا ہوں تو کسی منچلے نے نیچے لکھا ”

ماشاءاللہ آپ کے ابا جان آپ کی ذہنی صحت کو لے کر بہت سنجیدہ ہیں، انشاء اللہ افاقہ ہو گا ”۔
تشریح آپ اپنے مطابق کر لیجیے، یہ آپ کا پیدائشی حق ہے جسے میں حذف کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

ایک جرمن کہاوت ہے کہ ایک شرابی دوسرے شرابی کو اپنا دوست تو بنا سکتا ہے لیکن داماد نہیں۔ حماد صافی سے یہ سوال پوچھنے والے کہ وہ اعلٰی تعلیم کے لئے کسی اسلامی ملک میں کیوں نہ گئے اس کہاوت میں اپنا جواب ڈھونڈ سکتے ہیں۔

سدھاریں شیخ کعبہ کو، ہم انگلستان دیکھیں گے
وہ دیکھیں گھر خدا کا، ہم خدا کی شان دیکھیں گے
۔ اکبر الہ آبادی

Facebook Comments HS