تیری بے ڈھنگ سی سوچ نے میرے گلشن کو تباہ کیا


ایک عرصہ بیت گیا میں ہمیشہ یہ ہی بات سنتا آ رہا ہوں ہم اشرف المخلوقات ہیں۔ میں مانتا ہوں۔ مگر کس محاذ پر ہم اشرف المخلوقات ہیں یہ بتانا ہے۔ میں زیادہ دور نہیں جاتا بس اسی ملک پاکستان میں رہتے ہوئے چند سالوں کی بات کرنے کی جسارت کرنا چاہتا ہوں۔ ہم سب لوگ جانتے ہیں کہ زیر زمین اور زمین پر موجود اللہ تعالیٰ نے جو سہولیات انسان کو عطاء کی ہیں ہم ان کا کیسے استعمال کرتے ہیں سب کے سامنے ہے۔ ہم اس سیارے پر رہتے یہ ہی ہماری دنیا ہے جہاں تقریباً ساڑھے آٹھ عرب لوگ بستے ہیں۔

ہم ہر روز آ خر اس مٹی کے لیے کیا کرتے ہیں۔ ہم جیسے اپنے بچوں کی پرورش کرتے ہیں کیا اس سر زمین کی پرورش بھی کرتے ہیں۔ سائنس دانوں کی تحقیق کے مطابق اگر اس دنیا پر اب تک لوگوں کی آ بادی دو ارب سے تین ارب کے درمیان ہوتی تو شاید ہم ایک اچھی اور متوازن زندگی گزار سکتے تھے۔ اب جو حال ہماری آ بادی کا ہے۔ اس حال میں تو دو وقت کی روٹی بھی ممکن نہیں دکھائی دیتی۔ ہم بظاہر پارسا متقی پرہیز گار تو نظر آتے ہیں مگر شاید اندر بھیانک اور درندوں کی طرح اپنا مو کھولے شکار کی تلاش میں پھر رہیں ہوتے ہیں ہم نے یہ نہیں سوچنا کہ شکار حرام ہے یا حلال پر بھوک مٹانے کی ضرورت ہے۔

تب ہی ہم شاید اس سب سے اچھی مخلوق کی گنتی سے باہر کر دیتے جاتے ہیں۔ دنیا میں ترقی کی دوڑ نے کسی بھی قدرتی اجزاء کو اپنی اصلی حالت میں رہنے ہی نہیں دیا۔ خوراک سے لے کر ہر وہ چیز جس کا تعلق انسانی زندگی سے ہے۔ ہمارے معاشرے نے اسے کھوکھلا کر دیا ہے۔ ہم نے سردیوں میں اپنے گھروں کو گرم رکھنے اور کھانا پکانے کے واسطے درختوں کر کاٹ کاٹ کر سر سبز دنیا کو ویران اور بنجر ریگستان بنا دیا ہے۔ اسی لیے ہمارے اندر قوت

مدافعت ختم ہوتی جا رہی ہے۔ یہاں ہر انسان فقط اپنی ضروریات پورا کرتا ہے اور قبر کی طرف نکل جاتا ہے۔ بس اس کو اس معاشرے میں ہونے والے معاملات سے کوئی غرض نہیں۔ اگر بات کرے گرمیوں کی تو اہل زر لوگ اپنے لیے ٹھنڈک پیدا کرنے کے لیے اے سی لگاتے ہیں جس سے ایک بارہ چودہ کا کمرہ تو ٹھنڈا ہو سکتا ہے مگر پوری دنیا میں اس سے نکلنے والے مضر صحت اثرات اور گرمی میں پیدا ہونے اسباب جو کوئی روک نہیں سکتا ہے۔ وہ ہمیشہ اوزون کا بیڑا غرق کرتے ہیں۔

ہم ذرا یہ تو سوچ سکتے ہیں آ خر اس دنیا کو ہم روز کیا دیتے ہیں کوئی تو ایسی چیز بتا دیں جس کا تعلق ہم سے ہو اور وہ ہم اس زمین کے لیے کر رہیں ہیں اگر کسی کے پاس جواب ہو تو ضرور بتا نا۔ ہم اغلاط میں گرفتار ہیں۔ کوئی اچھا کام کرنے کی کوشش بھی کرے تو سارے لوگ فتویٰ دینے کے واسطے آ جاتے ہیں۔ جناب عمران احمد خان نیازی صاحب کی حکومت نے بلین ٹری کا آغاز کیا تو عوام پھر سامنے یہ ہماری سوچوں کو مفلوج کرنے والے عناصر ایسے ہیں جو ملکی ترقی میں بار بار رکاوٹ پیدا کرنے میں نیکی سمجھتے ہیں۔

اگر دیکھا جائے جو گزشتہ حکومت کی وجہ سے چھوٹے چھوٹے پودے لگائے گے وہ تناور درخت بنتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے یہ منصوبہ مہنگا ترین تھا۔ مگر جس کو شق ہے وہ ہمارے علاقے کی سیر کر سکتا ہے وہ لگائے گے درخت بھی دیکھ سکتا ہے جن کی وجہ سے آنکھوں کو ٹھنڈک ملتی ہے۔ سیاسی جماعتوں کے درمیان چپل کش ہمیشہ رہتی ہے۔ ہمیں انسان سے نفرت نہیں بلکہ اس کے کارناموں سے نفرت چاہیے تاکہ معاشرے میں انسانیت سے لوگوں کا اعتماد نہ اٹھ جائے اسی لیے میں تو رو رو عرض کرتا ہو خداوند عالم کے واسطے ایک ہو جائے۔

آپ کے سامنے اسرائیل یہودیوں کا ایک ملک ہے اس کی آبادی و رقبہ اور وسائل سے آپ خوب واقف ہیں ہمارے لاہور شہر جتنا ملک پوری دنیا پر حکومت کرتا ہے کیسے ذرا سوچے جس ملک کے جس کونے پر چاہیے وہ قابض ہو جاتا ہے۔ اسی کے برعکس ہم تو اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک ایٹمی ملک ہیں ہم ایسا کیو نہیں کر پاتے ہیں وہ اس لیے کیو کہ ہم آپس میں ایک نہیں ہم آواز نہیں ہیں۔ ہمیشہ ہمیں ایک مٹھی بن کر چلنا ہو گا تب ہی ہم دوبارہ سے دنیا پر مسلم حکومت تشکیل دے پائے گے۔ پاکستان زندہ باد

Facebook Comments HS