تین منزلہ مکان میں سبزیوں کی کاشتکاری سے لاکھوں کی آمدن: ’لوگ دور دور سے میرا گھر دیکھنے آتے ہیں‘


ہائیڈرو پونک
گوبھی، بینگن، ہری مرچیں، میتھی، ہرا دھنیا، یہ سبھی سبزیاں اگر آپ کو کسی بھی کھیت میں لگی نظر آئیں گی تو یہ حیران کُن منظر بالکل نہیں ہو گا۔ اور یہ بھی نارمل سی بات ہے کہ آپ انھیں تھوڑی بہت مقدار میں اپنے گھر کے باغیچے، کیاری یا گملے میں اُگائیں۔

لیکن اتر پردیش کے بریلی شہر میں رام ویر سنگھ نے اپنے تین منزلہ مکان کے اندر سبزیوں اور پھلوں کی انوکھی کاشتکاری شروع کی ہے اور اس سے وہ لاکھوں روپے کما رہے ہیں۔ یہ شاید آپ کے لیے تھوڑا حیران کُن ضرور ہو گا!

سبزیوں کی یہ کاشتکاری انوکھی صرف اس لیے نہیں ہے کہ یہ گھر کے اندر کی جا رہی ہے بلکہ اس لیے بھی کہ یہ کاشتکاری پانی میں کی جا رہی ہے اور اس کے لیے مٹی کی ضرورت نہیں ہے۔

’ہائیڈرو پونک‘ نام کی یہ کاشکاری انڈیا میں نئی ہے۔ بریلی شہر میں رام ویر سنگھ کا تین منزلہ مکان دور سے ہی اس علاقے کے باقی مکانوں سے مختلف نظر آتا ہے کیونکہ یہ پورا مکان ہریالی سے گِھرا ہوا ہے۔

ہائیڈرو پونک

مکان کی ہر منزل پر طرح طرح کی سبزیوں کی بیلیں پلاسٹک کے پائپوں میں اُگی نظر آتی ہیں۔ گھر کی ہر منزل کی چھت اور اس کے چاروں طرف باہر کی طرف پلاسٹک کے موٹےموٹے پائپ بچھے ہوئے ہیں۔ باہری چھجوں کی جانب یہ پائپ کھڑی حالت میں فکس کیے گئے ہیں اور ان پائپوں میں ہر وقت پانی بھرا رہتا ہے۔

پائپوں میں تین سے چار انچ تک کے سوراخ ہیں۔

ہائیڈرو پونک

سبزیوں کے بیج پلاسٹک کی ایک بالٹی جیسی چھوٹی سی باسکٹ میں ناریل کی تھوڑی سی چھال اور پہاڑوں پر جمی ہوئی کائی کے برادے میں رکھ کر اس بالٹی کو پائپ کے سوراخ میں رکھ دیا جاتا ہے جہاں پانی میں ڈوبنے کے بعد یہ بیچ پھوٹنے لگتے ہیں اور تین سے چار ہفتے کے اندر ان میں سبزیاں آ جاتی ہیں۔

ہائیڈرو پونک

بریلی کے رام ویر سنگھ پیشے سے صحافی ہیں لیکن وہ کچھ نیا کرنا چاہتے تھے۔ انھوں نے دبئی میں ایک زرعی میلے میں شرکت کی تھی جہاں انھیں ہائیڈروپونک کاشتکاری کے بارے میں علم ہوا۔

وہ بتاتے ہیں کہ اس سلسلے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے وہ تھائی لینڈ بھی گئے۔ اس طرح کی کاشتکاری انڈیا میں نہیں ہوتی تاہم یورپ کے بعض ملکوں میں ہائیڈروپونک کاشتکاری کی جاتی ہے۔

ہائیڈرو پونک

وہ بتاتے ہیں کہ انھوں نے اس کے بارے میں انٹرنیٹ اور دوسری جگہوں سے بھی معلومات حاصل کرنے کے بعد تجربے کے طور پر اپنے گھر کے ایک حصے میں کاشتکاری شروع کی۔ جب انھیں ابتدائی کامیابی مل گئی تو انھوں نے اپنے پورے مکان کو ہی کھیت میں بدلنے کا فیصلہ کیا۔

رام ویر کے گھر میں بینگن، گوبھی، لیٹوس، مرچ ، دھنیا، میتھی، بروکلی اور کئی دیگر سبزیاں اُگی ہوئی ہیں۔

رام ویر نے بتایا کہ ’یہ پائپ کے اندر جمع پانی میں اُگتی ہیں۔ اس میں مٹی کی ضرورت بالکل نہیں ہوتی۔ مٹی میں زرخیزی کے لیے جو اجزا ہوتے ہیں وہ پانی میں ملا دیے جاتے ہیں جس سے مٹی کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اس کاشکاری میں پانی بھی معمول کی کاشتکاری سے بہت کم استعمال ہوتا ہے۔‘

ہائیڈرو پونک

ہائیڈرو پونک

رام ویر نے بتایا کہ ’اس کاشتکاری میں پانی کے پائپ اور ڈھانچہ وغیرہ بنانے پر ابتدا میں کچھ لاگت آتی ہے۔ لیکن بعد میں اس کے اخراجات کم ہو جاتے ہیں۔‘

انھوں نے چھت کے اوپر پولیتھین کی چادر پھیلا رکھی ہے۔ اس سے کیڑے مکوڑے نہیں آ پاتے۔ گلہریوں اور بندروں سے پھل اور سبزیوں کو بچانے کے لیے انھوں نے مکان کے چاروں طرف جال لگا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پھل اور سبزیاں چھلکوں سمیت کیوں کھانی چاہییں؟

غذائیت کا پاور ہاؤس جڑ والی سبزیاں

کچھ لوگوں کو سبزیوں سے نفرت کیوں ہوتی ہے؟

ہائیڈرو پونک

یہ سبزیاں عام سبزیوں سے بہت مہنگی ہوتی ہیں۔

رام ویر سنگھ کہتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی بہت دیکھ بھال کرنی پڑتی ہے۔ ’ساتھ ہی جراثیم سے پاک ہوتی ہیں۔ یہ صاف پانی میں ریگیولیٹیڈ درجہ حرارت پر اگتی ہیں اور بالکل تازہ ہوتی ہیں۔ ان کا میعار عام سبزیوں سےبہت بہتر ہوتا ہے۔‘

بریلی میں ان سبزیوں کی فروخت کے لیے انھوں نے ممبر شپ بنا رکھی ہے اور گاہک مقررہ دن پر ان کے گھر آ کر یہ سبزیاں خریدتے ہیں۔ بڑے بڑے ہوٹلوں کو بھی کبھی کبھی سبزیوں کی سپلائی کی جاتی ہے۔

ہائیڈرو پونک

رام ویر کے مطابق وہ مکان کے اندر کی جانے والی اس انوکھی کاشکاری سے سال میں لاکھوں روپے کما رہے ہیں اور اب وہ ہائڈرو پونک کاشتکاری کا دائرہ بڑھائیں گے اور کھیتوں میں اسی طریقہ کار سے بڑے پیمانے پر سبزیاں اگائیں گے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ہائیڈرو پونک کاشتکاری میں لوگوں میں دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ ’میرے گھر سال بھر زرعی سائنس کے طلبا اور کسان اس انوکھی کاشکاری کا طریقہ جاننے کے لیے آتے رہتے ہیں۔ میں نے حال میں اپنے ایک فارم میں اس کی تربیت کا مرکز کھول دیا ہے۔‘

ہائیڈرو پونک

ان کی اس انوکھی فارمنگ کی شہرت اب دور دور تک پھیلنے لگی ہے۔ شہر میں واقع سبزیوں کی بیلوں میں گھرے ہوئے ان کے مکان کو بھی لوگ دور دور سے دیکھنے آتے ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 27681 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments