سید سبط حسن: قوم نے اس عظیم مفکر کو کیوں بھلا دیا!


بعض لوگ زندگی سے بڑے ہوتے ہیں اور بہت کچھ کر جاتے ہیں۔

ایک ایسا شخص جو ادیب بھی تھا، صحافی بھی اور سیاسی میدان میں عملی طور پہ شامل بھی، مظلوموں اور مفلسوں کا ہمدرد، ظلم اور تشدد کے خلاف آواز بلند کرنے والا انسان دوست، استحصالی نظام کا تجزیہ کرنے والا مفکر، متبادل نظام پہ روشنی ڈالنے والا ریفارمر، ایک سادہ زندگی گزارنے والا درویش؛ کہنے کو وہ صرف ایک ذات تھی لیکن وہ اپنے اندر ان سب صفحات کو سمیٹے ہوئے ایک مضطرب بحر تھا۔ مگر زمانے کی ستم ظریفی ایسی کہ ایسے روشن ستارے کو کسی بلیک ہول میں گم کر دیا جائے کیونکہ جو کچھ انہوں نے کہا یا لکھا وہ اہل مسند کے بیانئے سے مختلف ہے اور عوام الناس کو گمراہ کر سکتا ہے۔

نام تو میں نے ان کا کب سے سن رکھا تھا اور تھوڑی بہت معلومات بھی تھیں لیکن ان کی کسی کتاب کو پڑھنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ کچھ عرصہ پہلے ایک تقریب میں شریک ہوا جو چند سر پھروں نے ان کی یاد میں منعقد کی تھی اور اس ہال کے باہر کچھ کتابیں بھی رکھی ہوئی تھیں۔ میں نے وہاں سے دو کتابیں خریدیں۔ پہلی کتاب جو میں نے پڑھی اس کا عنوان تھا ادب اور سماجی عمل۔ یہ کتاب اس مفکر کے چند مضامین پہ مشتمل ہے جس کی ترتیب اور تدوین ڈاکٹر سید جعفر احمد نے کی۔

اس سے متاثر ہوا تو اس مفکر کی اپنی کتاب نوید فکر کا مطالعہ شروع کیا اور اس ہستی کی فکر، علمیت اور حکمت سے مزید متاثر ہوا۔ اس تصنیف میں ہندوستان کے مسلمانوں اور سلطنت عثمانیہ کے زوال کی تاریخ اور اسباب کو قلمبند کیا گیا ہے۔ اور اس کے علاوہ تھیرو کریسی اور سیکولرزم کے بارے میں ٹھوس بحث بھی شامل ہے۔ مجھے یہ تخلیق اتنی پسند آئی کہ کچھ عزیزوں کو پڑھنے کے لیے دی اور پھر میں نے اس کا دوبارہ مطالعہ کیا۔

اسی دوران ایک اور کتاب میرے ہاتھ لگی جس کا عنوان ہے، Progressive Ideas and Ideals in Urdu Literature

اس کتاب کے تین ابواب انہی ذہین لکھاری کے بارے میں ہیں جن کے مطالعہ کے بعد پیاس اور بڑھی تو ان کا ایک اور شاہکار موسی سے مارکس تک منگوائی اور پہلی ہی فرصت میں صفحے پلٹنا شروع کر دیے۔ اس کتاب کے پڑھنے سے پتا چلا کہ مارکس کا پیش کردہ اشتراکی نظام کوئی نیا نظام نہیں تھا البتہ کارل مارکس نے اسے پہلی بار اسے اتنی تفصیل اور سائنسی طریقے سے بیان کیا اور اس کا موازنہ سرمایہ دارانہ اور جاگیر دارانہ نظام سے کیا۔

قدیم معاشروں میں بھی ذاتی ملکیت کا تصور نہیں تھا، ہر شے قبیلے کی ملکیت ہوتی تھی اور سب اس کو مشترکہ طور پہ استعمال کرتے تھے۔ لیکن جب انسان نے فصلوں کو اگانا شروع کر دیا اور ارض اللہ کو ذاتی ملکیت بنا لیا تو وہ نظام جو ہزاروں بلکہ لاکھوں سالوں سے قائم تھے، درہم برہم ہو گئے۔ میرے خیال میں اس کتاب کا سنجیدہ مطالعہ ہر اس نفس پہ واجب ہے جو معاشرتی علوم میں دلچسپی رکھتا ہے۔

یہ مصنف اور مفکر جب لکھتا ہے تو بہت تفصیل سے لکھے چلا جاتا ہے، کہیں بھی اختصار کی کوشش نہیں کرتا۔ قلم کی روانی ایسی جیسے پانی بہہ رہا ہو۔ ان کے قلم کے جادو نے کئی کتابیں تحریر کیں، ترتیب و تدوین کیں، نشر کیں، ترجمہ کیا ان کی فہرست درج ذیل ہے :

ماضی کے مزار
نوید فکر
موسیٰ سے مارکس تک
پاکستان میں تہذیب کا ارتقا
پاکستان کے تہذیبی و سیاسی مسائل
انقلاب ایران
ادب اور روشن خیالی
مارکس اور مشرق
افکار تازہ
بھگت سنگھ اور اس کے ساتھی
سخن در سخن
شہر نگاراں
اثبات عزاداری
سیکولر ازم
The Battle of Ideas in Pakistan
ترتیب شدہ کتب
نیا ادب (چار کتابیں )
پاکستانی ادب
آزادی کی نظمیں
ابن الوقت
آرائش محفل
ترجمہ کردہ کتب
سوشلزم
نیا روس
بطور ناشر کتب
نیا ادب، شمارہ نمبر 2
قلم فکر
چند مشہور مضامین
تہذیب کی تعریف
فورٹ ولیم کالج
ایک عورت، ہزار افسانے
انسان جو خدا بن گئے
ن م راشد اور ترقی پسندی
تہذیب سے تمدن تک
ماضی کے مزار
اردو رسم الخط کی اصلاح
مسئلہ زبان اور قومی تقاضے
سجاد ظہیر
زندگی کی نقش گری
لوح و قلم کا معجزہ
پیارے انشاء جی


اس شخصیت کے قلم کی روشنائی نے اقوال کے ہیرے جواہرات جڑ دیے مثلاً

۔ زبانیں مردہ ہو جاتی ہیں، لیکن ان کے الفاظ اور محاورے، علامات اور استعارات نئی زبانوں میں داخل ہو کر ان کا جز بن جاتے ہیں۔

۔ سحر ابتدائی انسان کی نفسیاتی تدبیروں کا دوسرا نام ہے۔

۔ ریاست فقط ایک جغرافیائی یا سیاسی حقیقت ہوتی ہے۔ چنانچہ یہ ضروری نہیں ہے کہ ریاست اور قوم کی سرحدیں ایک ہوں۔

۔ ریاست کے حدود اربع گھٹتے بڑھتے رہتے ہیں، مگر قوموں اور قومی تہذیبوں کے حدود بہت مشکل سے بدلتے ہیں۔

۔ رسم الخط کی اصلاح کی بحث کو مذہبی رنگ نہ دیں کیونکہ رسم خط کا تعلق مذہب سے نہیں ہے۔

آج کل کے دور میں جب دوسرے ممالک کی دشمنی اور مذہب کے استعمال سے عوامی جذبات بھڑکائے جاتے ہیں ان عظیم لکھاری اور دانشور کا کوئی ذکر نہیں کرتا اور نہ ہی میڈیا ان اصول پرست صحافی کا نام لیتا ہے۔ اس زمانے میں جبکہ کتابوں کی دکانوں کی جگہ فرائیڈ چکن بیچنے والوں نے لے لی ہے، چیدہ چیدہ ایسے لوگ موجود ہیں جو ان کی کتابوں کی قدر جانتے ہیں اور ان کی کئی تصنیفات پاکستان اور بھارت میں بار بار شائع ہوتی رہتی ہیں۔

سید سبط حسن کا تعلق اعظم گڑھ سے تھا جہاں وہ 31 جولائی 1912ء کو پیدا ہوئے تھے۔ وہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے فارغ التحصیل تھے جہاں ان کے ساتھیوں میں علی سردار جعفری، اسرار الحق مجاز، خواجہ احمد عباس، اختر الایمان اور اختر حسین رائے پوری جیسے افراد شامل تھے۔ کم و بیش اسی زمانے میں ان افراد نے سید سجاد ظہیر کی قیادت میں اردو کی ترقی پسند تحریک کا آغاز کیا جو دیکھتے ہی دیکھتے اردو کی سب سے مقبول اور ہمہ گیر تحریک بن گئی۔

سید سبط حسن نے اپنی عملی زندگی کا آغاز صحافت سے کیا اور وہ پیام، نیا ادب اور نیشنل ہیرالڈ جیسے رسالوں اور اخبار سے وابستہ رہے۔ قیام پاکستان کے دنوں میں وہ کولمبیا یونیورسٹی امریکہ میں مزید تعلیم کے لئے گئے ہوئے تھے جہاں سے وہ بھارت واپس جانے کے بجائے پاکستان آ گئے اور لاہور میں اقامت پذیر ہوئے۔ مارچ 1951ء میں جب پاکستان نے امریکہ کے ساتھ تعلقات بڑھانا شروع کیے تو کئی ترقی پسند ادیبوں کے ساتھ ان کو بھی گرفتار کر لیا گیا اور 1955ء میں ان کو رہا کیا گیا۔

رہائی کے بعد انہوں نے روزنامہ امروز اور انگریزی روزنامہ پاکستان ٹائمز کے لئے میاں افتخار الدین کے ساتھ کام کیا۔ بعد میں انہوں نے 1957ء میں میاں افتخار الدین کے اہتمام میں ہفت روزہ لیل و نہار جاری کیا۔ جب اس ادارے کو صدر ایوب خان کی حکومت نے جبری طور پر قومی تحویل میں لیا تو سبط حسن لیل و نہار کی ادارت سے مستعفی ہو گئے۔ ان کو ایک بار پھر جیل میں ڈال دیا گیا۔ رہائی کے بعد وہ 1965ء میں کراچی منتقل ہو گئے۔

کراچی میں سید سبط حسن نے اپنا زیادہ تر وقت تصنیف و تالیف میں بسر کیا اور اس دوران ماضی کے مزار، موسیٰ سے مارکس تک، پاکستان میں تہذیب کا ارتقا، انقلاب ایران، کارل مارکس اور نوید فکر جیسی خالص علمی اور فکری تصانیف پیش کیں۔ 1975ء میں انہوں نے کراچی سے پاکستانی ادب کے نام سے ایک ادبی جریدہ بھی جاری کیا۔

اگست 1985ء میں لندن میں، مارچ 1986ء میں کراچی میں اور اپریل 1986ء میں لکھنو میں ترقی پسند تحریک کی گولڈن جوبلی منائی گئی تو سید سبط حسن نے ان تینوں تقریبات میں فعال کردار ادا کیا۔ وہ بھارت میں منعقد ہونے والی تقریب میں شرکت کے لئے گئے ہوئے تھے کہ 20 اپریل 1986ء کو دہلی میں ان کا انتقال ہو گیا۔ وہ کراچی میں سخی حسن کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔

سید سبط حسن ان چند مفکروں میں سے تھے جن کے نزدیک پاکستان میں کئی قومیتوں کے لوگ بستے ہیں اور ان سب کو اپنی زبان اور ثقافت کی پذیرائی کے مساوی حقوق کو آئینی تحفظ ملنا چاہیے تھا۔ اس کے بجائے ارباب اختیار نے ایک ملک، ایک زبان، ایک ثقافت کی پالیسی کو مسلط کیا جس کے نتیجے میں ایک صوبہ ملک سے الگ ہو گیا اور کچھ اور صوبوں میں بھی علیحدگی کے رجحانات پائے جاتے ہیں۔

بلاشبہ سید سبط حسن کی تخلیقات اردو زبان کا ایک قیمتی سرمایہ ہیں اور تاریخ اور سیاسی نظریات کا جامع ذخیرہ ہیں۔ آج کل کے حالات اور فکر پہ کڑے پہروں کے پس منظر میں یہ ضروری ہے کہ نئی نسل کو اس سرمائے اور ذخیرے سے متعارف کروایا جائے تاکہ اس صحافی، ادیب اور مفکر کی انتہائی فکر، محنت اور لگاؤ سے لکھے گئے ہزاروں اوراق کہیں تاریخ کی تہوں تلے دفن نہ ہو جائیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments