یہ میرا خوفناک خواب ہے یا خدا خبردار کر رہا ہے؟


عجیب سا خواب تھا۔ پہلے کبھی ایسا خواب نہیں دیکھا، اب یاد کرتا ہوں تو جھرجھری سی آجاتی ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ خوابوں کی تعبیر الٹ ہوتی ہے مگر یہ تو پورا خواب ہی الٹ تھا، بھلا اس کی کیا تعبیر ہو سکتی ہے! کیا دیکھتا ہوں کہ ایک پہاڑی علاقہ ہے، پر پیچ سڑک ہے، سڑک کے دونوں اطراف میں کھائی ہے، کسی بھی جگہ حفاظتی جنگلے نہیں ہیں۔ میں گاڑی میں جا رہا ہوں، آگے پیچھے اکا دکا گاڑیاں اور بھی ہیں، اچانک کسی نا معلوم وجہ سے میری گاڑی پیچھے کی طرف سرکنے لگتی ہے، میں گھبرا کر بریک لگانے کی کوشش کرتا ہوں مگر گاڑی نہیں رکتی اور تیزی سے پیچھے کی جانب لڑھکتی چلی جاتی ہے، میں سٹیرنگ گھما کر اسے قابو میں کرنے کوشش کرتا ہوں اور کھائی میں گرنے سے بال بال بچتا ہوں۔ گاڑی مگر اب بھی تیزی سے پیچھے کی جانب چلتی جا رہی ہے، بریک بدستور کام نہیں کر رہی اور میں اسی طرح گاڑی کو کھائی سے بچانے کی کوشش کرتا رہتا ہوں مگر ایک جگہ اترائی میں گاڑی قابو سے باہر ہوجاتی ہے اور سڑک سے نیچے لڑھک جاتی ہے، نیچے سینکڑوں فٹ گہرائی ہے، میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا جاتا ہے اور پھر اچانک میری آنکھ کھل جاتی ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ میرا سانس تیز تیز چل رہا ہے اور میں پسینے میں شرابور ہوں، تھوڑی دیر بعد جب میرے حواس بحال ہوتے ہیں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ میں نے تو ایک خواب دیکھا تھا۔

کئی دن تک یہ خواب میرے دل و دماغ پر چھایا رہا، مجھ سے کوئی کام نہیں ہوا، گھر میں جب کوئی مجھ سے بات کرتا تو میں بس ہوں ہاں میں جواب دیتا، دفتر میں بھی کام میں دل نہ لگتا، مجھے رہ رہ کر خیال آتا کہ اس خواب کی تعبیر کیا ہے، کس سے پوچھوں، کسی نے کہا کہ ’خواب نامہ‘ میں اس کا مطلب تلاش کرو، بڑی مشکل سے میں نے وہ کتاب کہیں سے حاصل کی، اس میں دیکھا تو اس قسم کے خواب کا ذکر نہیں تھا، شاید جس زمانے میں یہ کتاب لکھی گئی تھی اس زمانے میں گاڑیاں عام نہیں تھیں، مگر اس میں ان خوابوں کا ذکر ضرور تھا جن میں تباہی، بربادی اور موت دکھائی دے۔ ان خوابوں کی جو تعبیر کتاب میں لکھی تھی وہ مجھے کچھ عجیب سی لگی، میں نے وہ کتاب بند کر کے رکھ دی۔

اس کے بعد وہی ہوا جو کسی خوفناک واقعے کے بعد ہوتا ہے، آپ روزانہ اس واقعے کے زیر اثر بیدار ہو کر اٹھتے ہیں، اس واقعے کی تفصیلات آپ کے ذہن میں گردش کرتی رہتی ہیں اور آپ کو یوں لگتا ہے جیسے یہ واقعہ زندگی بھر آپ کی جان نہیں چھوڑے گا مگر ایک دن ایسا ہوتا ہے کہ آپ صبح نیند سے بیدار ہوتے ہیں، اپنے کام پر جانے کے لیے تیار ہوتے ہیں اور پھر سارا دن کام کے دوران آپ کو وہ واقعہ یاد نہیں آتا اور پھر رات کو اچانک خیال آتا ہے کہ آج آپ کو وہ ناخوشگوار واقعہ یاد نہیں آیا، یہ سوچ کر دل کو سکون سا ملتا ہے اور یوں وہ واقعہ آپ کی یاد سے غائب ہوجاتا ہے یا یوں کہہ لیں کہیں لا شعور میں چلا جاتا ہے۔ اس خواب کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہوا، کچھ دنوں بعد مجھے یہ خواب بھول گیا اور میں اپنے روز مرہ کاموں میں مصروف ہو گیا۔

لیکن ایک رات دوبارہ میں نے وہی خواب دیکھا۔ اس مرتبہ بھی سارا خواب ویسا ہی خوفناک تھا، اسی طرح میری گاڑی چڑھائی پر جاتے ہوئے اچانک پیچھے کی جانب سرکنا شروع ہو گئی اور بالآخر بے قابو ہو کر کھائی میں جا گری، میں چیخ مار کر بستر سے اٹھ بیٹھا۔ چند سیکنڈ بعد مجھے جب احساس ہوا کہ یہ خواب تھا تو میں نے خدا کا شکر ادا کیا۔ مگر اس مرتبہ میں نے فیصلہ کیا کہ اپنے اس خواب کا ذکر کسی ماہر نفسیات سے کروں گا، آخر دوسری مرتبہ ایسا خواب کیوں آیا!

میں نے شہر کے سب سے قابل ماہر نفسیات سے وقت لیا اور اسے اپنے خواب کے متعلق بتایا، اس نے مجھ سے دوچار سوالات کیے اور پھر اس نتیجے پر پہنچا کہ شاید آج کل میں کسی ذہنی تناؤ کا شکار ہوں جس کی وجہ سے میری نیند متاثر ہوئی ہے اور یہ خواب اسی کا نتیجہ ہیں۔ اس نے مجھے اینٹی ڈپریسنٹ کی گولی اور نیند کی دوا دی اور مشورہ دیا کہ میں جلد سونے کی کوشش کیا کروں۔ میں اس کی تشخیص سے مطمئن تو نہیں ہوا مگر پھر بھی میں نے پوری نیک نیتی کے ساتھ اس کے مشورے پر عمل کیا۔

میری نیند میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی تو نہیں آئی البتہ یہ ضرور ہوا کہ کچھ دنوں تک وہ خواب مجھے دوبارہ نہیں آیا۔ لیکن پھر ایک رات وہی ہوا، میں وہ خواب دوبارہ دیکھا، اس مرتبہ میری گاڑی قدرے تیز رفتار سے پیچھے کی طرف لڑھکتی دکھائی دی، میں نے اسے بچانے کی حتی المقدور کوشش کی مگر کامیاب نہیں ہوسکا، گاڑی اسی طرح تیزی سے کھائی میں گر گئی۔ لیکن ایک عجیب بات ہوئی۔ اس خواب کے بعد جب میں بیدار ہوا تو سکھ کا سانس لیا، اسی طرح جیسے ہر بندہ برے خواب کے بعد شکر ادا کرتا ہے کہ یہ محض خواب تھا، میں کچھ دیر دم سادھے یونہی پڑا رہا، اس کے بعد بستر سے اٹھ کر باہر آ گیا، سوچا کھلی فضا میں سانس لوں، میں نے کمرے کا دروازہ کھولا اور باغیچے میں آ گیا، پورچ میں وہی گاڑی کھڑی تھی جو خواب میں دکھائی دیتی ہے، نہ جانے کیا سوچ کر میں اندر گیا اور گاڑی کی چابی لے واپس باہر آ گیا۔ گاڑی سٹارٹ کی اور اسے سڑک پر لے آیا، گاڑی میں کوئی خرابی نہیں تھی، میں نے اسے اچھی طرح دائیں بائیں موڑ کر دیکھا، ایک دو جگہ بریک لگا کر چیک کیا، گاڑی کو ریورس بھی کیا مگر گاڑی میں کوئی نقص نظر نہیں آیا۔

چند روز پہلے گھر کے پاس ایک نیا فلائی اوور تعمیر ہوا تھا، میں نے سنا تھا کہ وہاں قدرے چڑھائی ہے، میں گاڑی اس پر لے گیا، گاڑی فلائی اوور پر چڑھنے لگی اور پھر اچانک اسی طرح پیچھے کی طرف گھسٹنے لگی جیسے خواب میں ہوتا ہے، میرے پسینے چھوٹ گئے، میں نے بریک لگانے کی کوشش کی مگر گاڑی نہ رکی، رات کا وقت تھا اس وقت وہاں کوئی اور گاڑی نہیں تھی مگر میری گاڑی بدستور پیچھے کی جانب چلتی جا رہی تھی، یک دم اس کی رفتار تیز ہو گئی، اتنے میں نہ جانے کہاں سے ایک ٹرک آ گیا، مجھے لگا جیسے میں اس سے ٹکرا جاؤں گا، میں نے گھبراہٹ میں ہاتھ پاؤں مارنے شروع کیے، مدد کے لیے پکارنے لگا، وہاں کوئی بھی نہیں، اس سے پہلے کہ میری گاڑی ٹرک سے ٹکرا جاتی، میں چیخ مار کر اٹھ بیٹھا۔ کچھ دیر تک تو مجھے سمجھ ہی نہیں آیا کہ کیا ہوا ہے، کیا میں حادثے کے بعد اسپتال میں ہوں؟ کچھ دیر بعد اندھیرے میں آنکھیں دیکھنے کے قابل ہوئیں تو مجھے پتا چلا کہ میں اپنے بستر میں ہوں اور یہ بھی ایک خواب تھا۔

اس دن کے بعد سے میری عجیب حالت ہے، میں چلتے چلتے اپنے بازو میں چٹکی بھر کے دیکھتا ہوں کہ کہیں میں خواب تو نہیں دیکھ رہا۔ میں روزانہ صبح اٹھتا ہوں، دفتر جاتا ہوں، گھر واپس آتا ہوں، گاڑی چلاتا ہوں، دوستوں کے ساتھ گپیں لگاتا ہوں، کسی ریستوران میں کھانا کھاتا ہوں، دنیا کے سب کام کرتا ہوں، مگر نہ جانے کیوں مجھے یہ وہم ہو گیا ہے کہ یہ سب ایک خواب ہے، ایک دن میں اس خواب سے بیدار ہوں گا اور اس دن حقیقت مجھ پر آشکار ہوگی۔ لیکن مجھے کیا پتا کہ وہ بھی کوئی خواب ہو گا یا حقیقت؟


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

یاسر پیرزادہ

Yasir Pirzada's columns are published at Daily Jang and HumSub Twitter: @YasirPirzada

yasir-pirzada has 377 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments