فرمایا: سیاست چھوڑ دی ہم نے، بھلا وہ کیسے؟


ہمارے ہاں یہ طریقہ برسوں سے رائج ہے کہ ہر جانے والا برا اور آنے والا اچھا ہوتا ہے۔ لیکن کبھی کسی نے یہ بھی سوچا کہ یہ جانے والے ریٹائرمنٹ سے کچھ پہلے یا فوری بعد بزعم خود انقلابی انقلابی سے نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ قوم کو بتائیں گے کہ دیانت و امانت کیا ہے؟ اس ملک کے حالات کیسے ٹھیک ہو سکتے ہیں؟ غریب عوام کی قسمت کا ستارا کیسے چمک سکتا ہے؟ اس کے علاوہ ڈھیروں تعبیرات ان خوابوں کی جنہیں دیکھتے دیکھتے ایک نسل موت کے دہانے پر کھڑی ہے، دوسری نسل اس منزل سے کچھ دور رہ گئی ہے اور تیسری نسل اس پر خواب سفر پر رواں دواں ہے۔

چلیں، آج اس بندے کی مثال دے لیتے ہیں جس نے سب کے سینے پر مونگ دلی ہے، ہر کوئی اس سے شاکی ہے۔ جن لوگوں نے اسے چنا تھا اس نے ان کو دیوار میں چن دیا اور ہر طرف سے واہ واہ کی داد وصول کی۔ پھر واہ واہ والوں کی باری آئی تو وہ ایک تاریخی صفحہ ایسا تار تار ہوا کہ اس کے پرزے بلکہ کل پرزے ایسے اڑتے پھرتے ہیں جیسے میرؔ نے کہا تھا ؎

پھرتے ہیں میرؔ خوار کوئی پوچھتا نہیں

فرمایا: سیاست چھوڑ دی ہم نے، بھلا وہ کیسے؟ ایکسٹو والا کیس چلا، تاریخی صفحہ پھٹنا شروع ہوا پھر اس پر گوند لگا دی گئی لیکن صفحہ داغدار ہو گیا۔ اس کے بعد جب آپ کو پتا چلا کہ واہ واہ والی پارٹی اپنا بندہ لا رہی ہے اور آپ کا پتا آٹھ ماہ پہلے ہی کٹنے والا ہے تو نیوٹرل والا کھیل شروع ہو گیا، یہ کیسی غیرجانبداری تھی کہ سالہاسال اختیار اور پاور کے مزے لوٹنے کے بعد آپ یک دم غیرجانبدار ہو گئے۔ بچوں کے شاعر اسماعیل میرٹھیؔ یاد آ گئے ؎

پل بھر میں کیا ماجرا ہو گیا
جنگل کا جنگل ہرا ہو گیا

جی بالکل، اس غیرجانبداری نے سب کچھ ”ہرا ہرا“ کر دیا۔ شکایت صرف آپ سے نہیں، ان سب سے ہیں جنہوں نے اس عوام کو ”سر سبز“ خواب دکھلائے، اس جمہوری پارلیمنٹ پر تف ہے تف جو ایک منتخب وزیر اعظم کو تو 176 ووٹ دیتی ہے اور گریڈ 22 کے ایک افسر کی ایکسٹینشن کو 326۔

جنہوں نے چنا تھا وہ مدح سرا تھے، پھر وہ شکوہ کناں ہو گئے۔ پھر وہ آئے جنہوں نے آپ کے اختیار و اقتدار کو بڑھاوا دیا، وہ مدح سرا تھے، پھر وہ شکوہ کناں ہو گئے۔ پھر چننے والے واپس آ گئے، آج کل وہ مدح سرا اور دوسرے شکوہ کناں ہیں۔

یہ کیسا کھیل ہے اور کیوں کھیلا جا رہا ہے؟ عوام محو تماشا ہے کہ کس پر یقین کرے؟
یہاں کوئی غدار نہیں ہے لیکن اپنے اپنے ذاتی مفادات کے اسیر ہیں۔ شہرت کی ہوس ہے اقتدار کی حرص ہے۔

پچھتر سالوں میں ہم نے ہمسائے کے ساتھ چار جنگیں لڑیں، کیا کبھی کسی نے سوچا ہے کہ ان چاروں کی یاد میں ہم کون سا ”یوم فتح“ مناتے ہیں؟ البتہ ”یوم دفاع“ ضرور دھوم دھڑکے سے مناتے ہیں۔ اس کا ایک جواب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہم جارح نہیں یعنی جارحیت نہیں کرتے، لیکن تاریخ کے اوراق تو کچھ اور ہی کہانی سناتے ہیں۔ معاشرتی علوم اور مطالعہ پاکستان والی تاریخ سے ہٹ کر اگر غیرجانبدارانہ کتب کا مطالعہ کیا جائے تو لگ پتا جائے۔ ایسا کیوں ہے؟ اس لئے کہ فرمان قائد کے الٹ چل رہے ہیں : فرمایا،

”یہ نہ بھولیے کہ آپ لوگ جو مسلح افواج میں ہیں، عوام کے خادم ہیں۔ قومی پالیسی آپ لوگ نہیں بناتے۔ یہ ہم شہری لوگ ہیں جو ان معاملات کا فیصلہ کرتے ہیں اور آپ کا فرض ہے کہ جو ذمہ داری آپ کو سونپی جائے، اسے پورا کریں۔“

اختیارات اور پاور کا ایسا چسکا پڑا ہے کہ اقتدار کی غلام گردشوں میں گھومنے والے چاہے وہ سویلین ہوں، فوج ہو یا پھر بیوروکریسی ہر کوئی تھانیداری چاہتا ہے۔ یہ سب تھانیدار کی سطح کے بندے ہیں جن سے ہم ملک و قوم کی ترقی اور انقلاب کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ یہ ملک کو ایک ایس ایچ او کی طرح چلانا جانتے ہیں۔ سیاسی و ملی بصارت، نشان منزل یا پھر کوئی ایسا راستہ ان کے پاس ہے ہی نہیں جس سے یہ اس ملک کی تقدیر بدل سکیں۔

ملک پاکستان کیے عوام کو ہر کوئی بلکہ ہم عوام خود کو ہی کوستے رہتے ہیں کہ ہم ہی نا اہل اور ناکارہ ہیں جس کی وجہ سے ایسے حکمران نصیب ہوتے ہیں، لیکن کوئی اس نکتے پر بھی تو غور کرے کہ ماضی قریب میں ہم کون سی ایسی انٹلیکچوئل قوم تھے جن کو جناح، اقبال، جوہر جیسے رہنما ملے۔ لیڈرشپ میں قحط الرجال ہوتا ہے عوام میں نہیں۔ اس وقت بھی کھوٹے سکوں کا شوروغوغا تھا مگر آج کل تو ہر طرف ان کا راج ہے۔ پبلک بیچاری ہر دفعہ ووٹ کی چھاننی سے ان کو گزارتی ہے کہ ان میں سے شاید کوئی ایک آدھ کھرا نکل آئے جو اس ملک و قوم کو ترقی و کامرانی کی راہ پر گامزن کر سکے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments