کھیل اور ہمارا قومی مزاج!

ہائیں، یہ کیا ہو گیا؟ یہ اپنی ہی ٹیم ہے نا؟ ”تم ہارو یا جیتو، ہمیں تم سے پیار ہے“ کے نعرے سے لعن طعن کرنے تک ہم ایک الگ جداگانہ مزاج رکھتے ہیں۔ جیسے ہم ہیں، ویسی ہی ہماری کھیلوں کی ٹیمیں ہیں، غیر متوقع نتائج دینے والی، ہارتے ہیں تو ہارتے ہی چلے جاتے ہیں، کون سی ٹیم سے ہارتے ہیں بلا تمیز و ترتیب، بس ہار کا سہرا ہے کہ باندھے چلے آتے ہیں سرکار۔ اور پھر

Read more

گجراتی مسلمان بیوہ اور محمود غزنوی

”رومیلا تھاپر (انڈین تاریخ دان) نے لکھا کہ بعض روایات کے مطابق محمود غزنوی کو اس حملے کی دعوت ایک صوفی بزرگ مسعود غازی نے دی تھی کیونکہ سومناتھ میں مسلمانوں پر بہت ظلم ہوتا تھا۔ روزانہ ایک مسلمان کو اس مندر کی بھینٹ چڑھایا جاتا تھا۔ ایک گجراتی مسلمان بیوہ کے اکلوتے بیٹے کو ہندو راجہ نے گرفتار کر لیا تھا اور یہی بیوہ اپنی فریاد اور مسعود غازی کا خط لے کر محمود غزنوی کے پاس غزنی پہنچی

Read more

پِٹ سیاپا!

رونا دھونا، خود ترسی و خود رحمی، خود کو برا بھلا کہنا، اپنی تحقیر کرنا آج کل ہمارے قومی رویے ہیں۔ ہر بندہ جو کہ خود اسی قوم کا حصہ ہے، وہ درج بالا کام زوروشور سے کرتا ہے اور اس بات کا احساس تک نہیں ہوتا کہ وہ بھی اس میں شامل ہے۔ جیسا کہ ہمارے پسندیدہ جملے ہیں : یہ قوم نہیں، ہجوم ہے، (بھائی آپ بھی اسی کا حصہ ہیں ) ۔ یہ قوم نہیں، بھیڑ بکریاں

Read more

جمہوری اور آمرانہ ترامیم کا جھانسا!

محترمی و مکرمی وجاہت مسعود صاحب نے آمرانہ ترامیم کا کچھ یوں تذکرہ فرمایا: ” پاکستان کا سیاست دان 1973 ء کا دستور مرتب کرتا ہے تو ہم 1985 ء کی آٹھویں ترمیم کا جال بچھاتے ہیں۔ چودہ برس کی محنت سے گاڑی سیدھے راستے پر مڑتی ہے تو 2003 ء کی سترہویں آئینی ترمیم مسلط کی جاتی ہے۔ فروری 1999 ء میں بھارتی وزیراعظم لاہور میں کھڑے ہو کر پاکستان تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہیں تو کارگل ہو

Read more

میڈل اور چالیس سال کا قحط

جیسے ہی 2024 کے اولمپک میں سونے کا تمغہ جیتا گیا، اس شاد خبر نے 1984 میں پہنچا دیا۔ صد افسوس، 3 سونے، 3 چاندی اور 2 کانسی (ٹوٹل 8 ) تمغے جیتنے والی قومی کھیل کی ٹیم پچھلے تین اولمپکس ( 2016، 2020، 2024 ) کے لئے کوالیفائی نہ کر سکی۔ نمناک آنکھوں سے ارشد ندیم کی جیت والی خبر سنی اور پڑھی، خراجِ تحسین کا سلسلہ جاری ہے۔ چالیس سال بعد اولمپکس کے مہان سٹیج پر پاکستان کا

Read more

بغضِ گولڈ میڈل!

احباب شکوہ کناں ہیں، کہ جی فلاں نے تمغہ جیتا، اسے تو کوئی شہرت نہیں ملی، نہ کسی نے پوسٹ شیئر کی، نہ میڈیا میں شور مچا۔ سوال: یہ سب ہمیں ارشد ندیم کے تمغے کے بعد ہی کیوں یاد آ رہا ہے؟ ذرا دل و دماغ کو ٹٹول کر جواب تو تلاش کریں۔ یہ سوالات اٹھانے والے پہلے کہاں غائب تھے؟ ایک جگہ کسی نے پاور لفٹنگ کے 15 گول میڈلز کا ذکر کیا، بہت اعلی، مگر کیا آپ

Read more

انگریزی ادب پڑھانے والا ایک استاد

اس زبان سے ایک خاص چِڑ سی رہی ہے، بقولِ انور مسعود صاحب؎ دوستو انگلش ضروری ہے ہمارے واسطے فیل ہونے کو بھی اک مضمون ہونا چاہیے لیکن کیا کیجئے اس نامراد میں بقولِ بابا جی فیل ہو جائیں تو آپ ڈگری (اصلی والی) نہیں حاصل کر سکتے چاہے آپ نے بقیہ تمام مضامین میں ٹاپ و ٹاپ کیا ہو۔ ہم ٹھہرے ٹاٹ و گورنمنٹ سکول والے، اس لئے پڑھنے کی طرف جو تھوڑی سی رغبت ہے وہ اردو ہی

Read more

سرزنش نامہ!

پوچھا گیا! بخشوا آئے ہو پچھلے گناہ؟ کہا! حاضری لگوانے گیا تھا، نہ بخشش کی چاہ، نہ دیدار کی خواہش، نہ آنے کا پتا، نہ جانے کا غم۔ اسکے گھر کے سامنے ڈیرہ ڈال کر بیٹھ رہیے، آپ کی اندرونی کشمکش حال احوال خود ہی بیان کرتی رہے گی، بس خاموش رہیے اور اس گھر کو دیکھتے جائیے۔ کچھ مت مانگیں، مسکرائیں، غمگین کیوں ہوتے ہیں؟ خوشی و شادمانی کا مقام ہے۔ آپ ان چند گنے چنے لوگوں میں شمار

Read more

ان کو کس سے خطرہ ہے؟

جو رکھوالے ہیں وہی غیر محفوظ ہیں، ان کے اہلِ خانہ غیر محفوظ ہیں، ان کی سیکورٹی کے لئے ملازمین ہمہ وقت ہوشیار باش رہتے ہیں۔ کل ایک منظر دیکھا، میزان بینک کے باہر ایک بلیک کلر کی لینڈ کروزر آ کر رکتی ہیں، جس کی نمبر پلیٹ سبز ہے۔ ایک مستعد پولیس اہلکار اگلا دروازہ کھول کر اترتا ہے، بھاگتا ہوا سیڑھیاں چڑھتا ہے، اے ٹی ایم مشین والا کمرہ چیک کرتا ہے، پھر بھاگتا ہوا نیچے اترتا ہے،

Read more

پہنچی وہیں پہ خاک

2013 میں 4 حلقوں کا ایسا شور ہوا کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دے۔ مینڈیٹ چوری کا بیانیہ بنا۔ حلقے تھے : 125، 122، 110، 154 154 میں اُس وقت کے اہم ”ترین“ امیدوار تھے۔ ان چاروں حلقوں سے امیدواران تھے : سعد رفیق / حامد خان، ایاز صادق / عمران خان، خواجہ آصف / عثمان ڈار، صدیق بلوچ (آزاد) /جہانگیر ترین/رفیع بخاری تمام اول الذکر کامیاب قرار پائے، مگر 2018 تک یہ 4 حلقے نون لیگ کے حلق

Read more

عدلیہ کا چھکا!

ماضی قریب سے شروع کر لیتے ہیں، حنیف عباسی کیس کی مثال لے لیجیے۔ تاریخ سماعت انتخابات سے قبل مقرر تھی لیکن اسے الیکشن سے تین روز آگے کر دیا گیا تاکہ وہ الیکشن نہ لڑ سکے۔ صبح فیصلہ سنایا جانا تھا اور بات رات گیارہ بجے تک چلی گئی کیونکہ درون خانہ کچھ ہو رہا تھا۔ اب ذرا فاسٹ فارورڈ کر کے زمانہ حال میں آ جائیں، خان صاحب کو الیکشن سے پہلے پہلے انتہائی عجلت میں 3 کیسز

Read more

ہیبت نامہ!

کہا گیا: حرم میں داخل ہونا تو مطاف کے احاطہ تک نگاہیں نیچی رکھنا تا کہ پہلی نظر کعبہ پر پڑے تو سنا ہے جو مانگو عطا ہوتا ہے، ہوتا ہو گا۔ مگر ان آنکھوں کو دیکھنے کی عادت ہے، اس وسیع و عریض مسجد میں کعبہ کو تانکتے جھانکتے حرم سے مطاف پہنچ گئے۔ پوچھا گیا: کعبۃ اللہ پر نظر پڑی تو کیا دعا مانگی؟ دعا؟ کون سی دعا؟ کیسی دعا؟ مانگنا کیا تھا؟ پتا نہیں۔ اس عمارت کو

Read more

دفاع کس کا؟

23 مارچ ہو یا 14 اگست ہر قومی دن پر ہم قوم کو خود احتسابی کا درس دیتے رہتے ہیں، کیا 6 ستمبر ”یومِ دفاع“ پر اداروں کو خود احتسابی کا کہا جا سکتا ہے۔ ہم یومِ دفاع ہی مناتے ہیں یومِ فتح کیوں نہیں؟ شہداء کو قربانیوں کو ہمارا سلام، کیپٹن سرور سے لالک جان تک سب ہمارے سروں کا تاج ہیں۔ دفاع وطن کے لئے قربان ہونے والے بہت محترم و مکرم ہیں۔ لیکن کیا یہ قربانیاں عوامی استحصال کا

Read more

چڑھتے سورج کے پجاری!

محترم عرفان صدیقی صاحب کی نثر بلاشبہ اوج کمال پر ہوتی ہے مگر اس اعلٰی و عرفٰی نثر اور لفاظی کو اس طرح برباد ہوتے ہوئے دیکھ کر سوچتا ہوں کہ ایسا لکھاری اور ایسی گراوٹ، اللہ اللہ۔ خود ہی فرمایا کہ باجوہ صاحب کی پوسٹنگ میں میرا بھی ہاتھ تھا تو ظاہر ہے اس وقت وہ بھی وقت کے ایوبی و غزنوی قرار دیے گئے ہوں گے ان کے لئے بھی ایسی لفاظی کے دریا بہائے گئے ہوں گے،

Read more

آزادی کے ہیروز اور نئی تاریخ کے شوشے

اقلیتوں نے آزادی کے لئے کام کیا اور قائد نے بھی اپنی کابینہ میں وزیر خارجہ (ظفراللہ خان) اور وزیر قانون (جوگندر ناتھ منڈل) اقلیتی ممبران سے لئے۔ لیکن آج کل ہمارے ہاں تحقیق کا رواج کم ہے جو پڑھا اسی پہ تکیہ ہے۔ اور پھر آج کل کے نام نہاد نئی تاریخ لکھنے والے مورخین نے بھی کافی ”انی“ ڈالی ہوئی ہے کچھ ایسا ہی ایک کالم روزنامہ ایکسپریس کے ایک کالم نگار (جو کہ ایکس بیوروکریٹ ہیں )

Read more

کام ریکروٹمنٹ ایجنٹ کا

پچھلے سال کے اواخر میں کام سے دوسری مرتبہ فراغت نصیب ہوئی اور ابھی تک یعنی 6 ماہ سے ویلے مصروف ہیں۔ انہی فراغت بھرے لمحات میں بیٹھا ماضی کے اوراق پلٹ رہا تھا تو اندازہ ہوا کہ کتنے ہی واقعات و حادثات سے زندگی عبارت رہی۔ پہلی فراغت ایک کمپنی میں لگاتار 12 سال کام کرنے کے بعد برخاستگی کی صورت میں ملی۔ ابھی تازہ بہ تازہ دوسری مرتبہ بھی فراغت برخاستگی کی شکل میں عطا ہوئی، لگاتار 14

Read more

سماجی انحطاط اور نیا شعور!

کبھی معاشرتی اخلاقیات کی تربیت گھر سے شروع ہوتی تھی، تھی اس لئے لکھا کہ یہ ماضی بعید کا قصہ پارینہ ہو چکا ہے۔ کیونکہ پڑھائی میں نالائقی دکھانے پر والدین ہمارے کان کھینچا کرتے تھے لیکن آج کل اساتذہ کے کھینچے جاتے ہیں، والدین تو ایک طرف اسکول کے پرنسپلز اور مالکان بھی اس میں حصہ بقدر جثہ ڈالتے ہیں۔ بچے اب والدین سے کچھ نہیں سیکھتے کیونکہ تعلیم اداروں اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے تو دین کی

Read more

فرمایا: سیاست چھوڑ دی ہم نے، بھلا وہ کیسے؟

ہمارے ہاں یہ طریقہ برسوں سے رائج ہے کہ ہر جانے والا برا اور آنے والا اچھا ہوتا ہے۔ لیکن کبھی کسی نے یہ بھی سوچا کہ یہ جانے والے ریٹائرمنٹ سے کچھ پہلے یا فوری بعد بزعم خود انقلابی انقلابی سے نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ قوم کو بتائیں گے کہ دیانت و امانت کیا ہے؟ اس ملک کے حالات کیسے ٹھیک ہو سکتے ہیں؟ غریب عوام کی قسمت کا ستارا کیسے چمک سکتا ہے؟ اس کے علاوہ

Read more

قرآن، شعائر اسلام کا بنیادی درس اور ہم

ہم سب ہی قرآن اور اسلام کے درس پر زور دیتے ہیں، لیکن صرف زور دینے، سوشل میڈیا پر پوسٹیں شیئر کرنے کے علاوہ بھی کچھ ہو رہا ہے؟ ہم سب اس بات ہر متفق ہیں کہ حکومت اس کے لئے اقدامات کرے۔ سکول، کالج اور یونیورسٹی میں درجہ با درجہ اس کو نافذ کیا جائے وغیرہ وغیرہ۔ کبھی کسی نے اس بات پر غور کیا ہے کہ ہم ذاتی طور پر اس میں کتنا حصہ ڈال رہے ہیں؟ اس

Read more

اقتدار کی حرص

سابق وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد سے لے کر آج تک اس ملک کی نہ کسی کو فکر ہے نہ خوف ہے۔ عوام کی بات ہی کیا کرنا بقول جالب اس شہر خرابی میں غم عشق کے مارے زندہ ہیں یہی بات بڑی بات ہے پیارے عدم اعتماد کے نجیب الطرفین کھلواڑ سے لے کر پنجاب کی حکومتیں بنانے گرانے تک بس ایک ہی تکرار ہے اقتدار ہمارا ہے۔ ملکی معیشت بھاڑ میں جانے کے قریب ہے، تازہ بہ

Read more

ڈیلوں کی سیاست

اگر دیکھا جائے تو اصلی مسلم لیگ قائدؒ کی رحلت کے ساتھ ہی ختم ہو گئی اور جو کچھ تھوڑا سا بھرم رہ گیا تھا وہ لیاقت علی خان کی شہادت نے ختم کر دیا۔ اس کے بعد سے آج تک مسلم لیگ ایک پروردہ جماعت ہے، جسے آمریت نے خوب استعمال کیا۔ چاہے اس کا نام کچھ بھی رکھ لیں ”لیگ“ سے جان نہیں چھوٹی، کنونشن لیگ تو کبھی عوامی لیگ، ہر دفعہ لیگی رہنما آمریت سے ڈیل کر

Read more

خدا کی قسم درد ہوتا ہے!

آج کل یہ جملہ بہت ہٹ اور اس کو بونے والا ہٹ لسٹ پر ہے۔ یہ کون سا درد ہے؟ اور کیوں ہو رہا ہے؟ جب آپ اندھا دھند طریقے سے کسی کی تقلید کرتے ہیں اس کے پیروکار بن جاتے ہیں اور اس تقلید کی بنیاد کسی اور کے کندھے کے سہارے بنائی جاتی ہے تو اس وقت اس جانثاری کا میٹھا میٹھا درد ہوتا ہے جو انسان کو مسحور و مخمور رکھتا ہے۔ ہمارے یہ درد والے صاحب

Read more

گجرات کے چوہدری!

میرا اپنا تعلق بھی اسی ضلع سے ہیں اس لئے ایسا کچھ لکھنا گھر جیسی کہانی لگتی ہے۔ بہرحال وقت کے دھارے نے چوہدریوں کی قدیم کشتی میں جو سوراخ کیے ہیں شاید ہی وہ کبھی بھر پائیں، کیونکہ نئی نسل اس مشترکہ املاک سے تنگ نظر آ رہی ہے۔ چوہدری ظہور الہی نے جس روادارانہ سیاست کی بنیاد رکھی تھی وہ تیسری نسل تک پہنچتے پہنچتے مفادات کی نذر ہو رہی ہے۔ خاموش طبع منظور الہی کے پوتے نے

Read more

دیوتا کا نیا جنم!

پہلے ایک بلاگ میں لکھا تھا کہ دیوتا کی آمد ہو گئی، لیکن جادو کی چھڑی اس کی زنبیل سے نہیں ملی جس وہ ہمارے سارے دلدر جنتر منتر کے ذریعے فوری دور کر سکتا۔ بہرحال جیسے تیسے حکومتی ڈھول بجتا رہا، ایک پیج والی محبت پروان چڑھتی رہی اور ایسا لگتا تھا کہ یک جان دو قالب نہیں ایک ہی پرتو کا عکس ہے جو ہر طرف دھوم مچائے منعکس ہو رہا ہے۔ اس کی روشنی میں رنگ و

Read more

آذر بائیجان میں عمران خان کی مقبولیت

آج میرے ساتھ کام کرنے والے کچھ آذر بائیجان کے ساتھیوں نے عمران خان کے استعفے اور اسمبلی توڑنے پر استفسار کیا تو یقین کیجئے بہت خوشی ہوئی کہ خان صاحب نے اور کچھ کیا ہو یا نہ کیا ہو عالمی منظر نامے میں اپنی ایک مخصوص جگہ بنا لی ہے۔ اور یہ حضرات خان صاحب کی عالمی سطح پر کی گئی تقریروں اور انٹرویوز کے بھی فین تھے۔ اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق ان کو پاکستان کا موجودہ منظر

Read more

آزاد کشمیر اور بھان متی کا کنبہ!

مرشد سید طلعت حسین کی تلملاہٹ عروج پر تھی کہ جنہوں نے مقتدرہ اور خان سے ٹکر لینا تھی وہ آزاد کشمیر میں آپس میں گتھم گتھا ہو رہے ہیں۔ چلئے مان لیتے ہیں کہ مرشد سول بالادستی کی جنگ لڑ رہے ہیں مگر ان کے یہ نام نہاد ہراول دستے اور میسرے میمنے پورس کے ہاتھی ثابت ہوئے ہیں۔ ہراول کے کمانڈر مولانا تو عرصہ دراز سے مقتدرہ کے چہیتے ہیں اور باقی دونوں کی جڑوں میں مقتدرہ کا

Read more

نیا دیوتا، احتساب کا فریب اور تیسری نسل

1947 میں ہم آزاد ہوئے، ہمارے بڑے انہی برسوں کے اردگرد اس دنیا میں تشریف لائے۔ جب انہوں نے ہوش سنبھالا دور ایوبی تھا اور تازہ بہ تازہ زمینی فتح اور میز پر شکست کا شور و غوغا تھا۔ نوجوان بھٹو کے دیوانے تھے۔ ’اسلام ہمارا دین اور سوشلزم ہماری معیشت ہے‘ کا نعرہ مستانہ عروج پر تھا۔ روٹی کپڑا مکان والی ٹرک کی بتی روشن تھی جو سب کے لئے مشعل راہ تھی۔ اس نسل نے بھٹو کو منزل

Read more