مرشد باکمال تھا، کیا تھا!


سید ابوالاعلیٰ مودودی کی زندگی کا سب سے اعلیٰ نصب العین انسانوں کے اندر قرآن حکیم کا فہم بیدار کرنا اور اسلام کو ایک تحریک کی حیثیت سے پیش کرنا تھا۔ ان سے اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب کی تشریح و تفسیر تیس برسوں میں تکمیل پذیر ہوئی جو اہل ایمان کے لیے بہت خوشی کا مقام تھا، چنانچہ اہل نظر کی طرف سے اصرار کیا جانے لگا کہ ”تکمیل تفہیم القرآن“ کی تقریب منعقد کی جائے۔ مولانا ایسی تقریبات میں جانے سے گریز کرتے تھے جن میں تعریف و توصیف کے ڈونگرے برسانے کا اہتمام کیا جاتا ہو۔ وہ پس و پیش سے کام لیتے رہے، لیکن مخلص ساتھیوں کے ہاتھوں مجبور ہو گئے۔

ادارہ ترجمان القرآن نے 30 جون 1972ء کو فلیٹیز ہوٹل لاہور میں اعلیٰ پائے کی تقریب کا اہتمام کیا۔ پورے کمپاؤنڈ میں کرسیاں لگا دی گئیں اور اسٹیج دس فٹ اونچی بنائی گئی تھی تاکہ دور بیٹھے ہوئے حاضرین بھی مولانا کو دیکھ سکیں۔ حاضرین میں نوجوان بھی تھے اور شہر کے دینی ذہن رکھنے والے عمائدین بھی۔ چلچلاتی دھوپ میں لوگ جوق در جوق چلے آ رہے تھے۔ چند ہی روز پہلے اس خاکسار، ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی اور عزیزی مجیب الرحمٰن شامی کی قید سے رہائی ہوئی تھی جنہیں بغاوت کے مقدمے میں 5 اپریل 1972ء کی رات گرفتار کیا گیا تھا۔ اس طرح مجھے تقریب میں شرکت کا موقع مل گیا۔

مولانا کی صحت کچھ اچھی نہیں تھی، وہ تشریف لائے اور نوجوانوں نے انہیں کندھوں پر اٹھا کر اسٹیج تک پہنچایا۔ ان کی دائیں جانب کراچی یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی اور عالمی شہرت کے قانون دان جناب اے کے بروہی بیٹھے تھے اور بائیں جانب مولانا انور شاہ کشمیری کے شاگرد خاص جناب مولانا محمد چراغ اور مولانا حسین احمد مدنی کے فیض یافتہ، جناب مفتی صباح الدین تشریف رکھتے تھے۔ تقریب شروع ہوئی، تو ہلکی ہلکی بوندا باندی ہونے لگی اور موسم خوشگوار ہو گیا۔

تلاوت قرآن حکیم کے بعد مولانا محمد چراغ نے سید ابوالاعلیٰ مودودی کی خدمت میں ہدیۂ تبریک پیش کرتے ہوئے اس یقین کا اظہار کیا کہ ’تفہیم القرآن‘ کی چھ جلدیں اسلام کی نشاۃ ثانیہ میں اہم کردار ادا کریں گی۔ مفتی صباح الدین نے بڑے پرجوش انداز میں کہا کہ مولانا کی زندگی قرآن کی ایک جیتی جاگتی تفسیر ہے۔ ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی نے بتایا کہ میں نے جوان مودودی کو دیکھا ہے، اس وقت بھی ان کا ایک واضح مقصد حیات تھا اور وہ مطالعے میں مصروف رہے۔ آج ایک دنیا ان کے علم اور ان کی قرآنی بصیرت کی مداح ہے۔ بروہی صاحب نے شاعرانہ انداز میں مولانا کو خراج تحسین پیش کیا اور شہادت دی کہ ان کی تحریروں نے مجھے ایک اچھا مسلمان بنا دیا ہے اور پورے عہد کو متاثر کیا ہے۔

صاحب تفہیم القرآن سید ابوالاعلیٰ مودودی نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ انہوں نے قرآن کی تفسیر کا کام 1942ء میں شروع کیا تھا اور اس کی تکمیل میں تیس برس گزر گئے ہیں۔ میں نے قرآن اور نبی آخرالزماں حضرت محمد ﷺ کی سیرت کے مطالعے سے یہ سمجھا ہے کہ اسلام ایک تحریک ہے جسے انسانیت کی فلاح کے لیے پوری دنیا میں بپا کرنا ہماری ذمے داری ہے۔ اس کے بغیر اللہ کا دین، اللہ کی سرزمین پر نافذ نہیں کیا جا سکے گا۔ انہوں نے اس کارخیر کی تکمیل پر رب کائنات کا شکر ادا کیا اور دعا کی کہ اگر مجھ سے قرآن کی تفسیر میں کوئی غلطی ہو گئی ہے، تو اس کی اصلاح کی توفیق عطا فرمائے اور تفہیم القرآن کو زیادہ سے زیادہ انسانوں کے لیے مفید بنا دے!

مولانا نے اپنی دعا میں یہ بھی کہا کہ بار الٰہ! تیرے نبی کی امت میں جو خیر باقی ہے، اسے کام کرنے کا موقع عطا فرما۔ انہوں نے بڑی رندھی ہوئی آواز میں کہا کہ اس موقع پر مجھے ڈاکٹر نذیر شہید بہت یاد آتے ہیں اور میرے بہت سارے دوستوں اور ساتھیوں کو بھی یاد آتے ہیں جنہیں انتہائی ظلم کے ساتھ اور کسی قصور کے بغیر شہید کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور ان کی شہادت قبول فرمائے۔ وہ اسلامی تحریک کے مایہ ناز ساتھی تھے۔

’تکمیل تفہیم القرآن‘ کی اس تقریب نے اللہ کے کلام کو سربلند کرنے اور اس کے لیے سر دھڑ کی بازی لگانے کی تحریک میں ایک نیا جوش پیدا کر دیا تھا۔

سید ابوالاعلیٰ مودودی اس تقریب کے سات سال بعد اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ اس موقع پر چند اشعار موزوں ہو گئے جو قارئین کی نذر ہیں۔ اس سے قبل اس غلطی کی اصلاح ضروری ہے جو گزشتہ کالم میں نجانے میں سرزد ہو گئی۔ آسٹریلیا کی بین الاقوامی کانفرنس میں چیف جسٹس جناب اے آر کارنیلیس نے شرکت کی تھی۔ ان کی جگہ مولانا چھپ گیا ہے۔ اب یادوں کا سلسلہ اختتام پذیر ہوتا ہے۔ ؂

حق تھا، حق کی مثال تھا، کیا تھا!
سید خوش خصال تھا، کیا تھا!
رس بھری گفتگو میں اک خوشبو
مرد شیریں مقال تھا، کیا تھا!
آگہی جس کے خاک پا کی گرد
نقد علم و کمال تھا، کیا تھا!
سہ گیا اپنی ذات پر کیا کچھ
وہ کہ عالم کی ڈھال تھا، کیا تھا!
عالم عالم مثال کا عالم
عالم بے مثال تھا، کیا تھا!
جس کا اک سانس، اک صدی کا شعور
حاصل ماہ و سال تھا، کیا تھا!
وہ جو اپنا تھا، اب بھی اپنا ہے
دولت لازوال تھا، کیا تھا!
تخت تھا، تاج تھا نہ لشکر تھا
فاتح بے مثال تھا، کیا تھا!
دل بھی بدلا، خرد کی دنیا بھی
مرشد باکمال تھا، کیا تھا!
جس کا ہر غم بہار مستقبل
اس کا الطافؔ! حال تھا، کیا تھا!

Facebook Comments HS