انتظار بہترین محنت ہے


خودداری، دیانت، بصیرت اور علمیت سب کی لحاظ سے مولانا وحیدالدین خان موجودہ علمی تاریخ میں وحید و فقید تھے۔ پیرو مرشد شازار جیلانی جب بھی پختون قبائلی تاریخ پر گفتگو کرتے ہیں تو کہتے ہیں یوسفزئی قبیلہ پشتونوں کی کریم، جینئس اور ارسٹوکریٹس تھے اور ہیں۔ اس پر مجھے یوسفزئی ڈی این اے سے نکلنے والے تخلیقی جینئس مشتاق احمد یوسفی اور علمی جینئس مولانا وحید الدین خان یاد آتے ہیں۔ دونوں انڈیا کے وہ یوسفزئی تھے جو اپنے تاریخی قبیلائی تعلق پر بجا فخر کرتے تھے۔

مولانا وحیدالدین خان کی ہر کتاب ایک ماسٹر پیس ہے، تاہم ان میں ”راز حیات“ اول تا آخر آب زر سے لکھنے کی قابل ہے۔ جب بھی کوئی مایوس، شکستہ دل و مفلوک الحال جوان، زندگی، زمانے اور حالات کی فریاد لے کر یا کہیں سفارش کروانے میرے پاس آتا ہے میں اس کتھا سننے کی بعد مولانا کی راز حیات کی ایک کاپی اسے تحفے میں دے کر کہتا ہوں کہ جا اسے حرف بحرف غور سے پڑھ کر ایک ہفتہ بعد واپس آنا، پھر تمہارے مسئلے کا کچھ حل نکالتے ہیں۔ یقین کریں، ہفتے بعد وہ فریاد یا امداد نہیں، بلکہ شکریہ کے لئے رابطہ کرتا ہے۔

مولانا وحیدالدین خان کی راز حیات میں نے سینکڑوں کی حساب سے خریدی اور جوانوں میں تقسیم کی ہے، میری نظر میں راز حیات کامیاب زندگی کی بائبل اور جادو کی چھڑی سے کم نہیں۔ اس کتاب میں مولانا نے انتظار اور صبر کے حوالے سے دو نکات بہت کمال کے لکھے ہیں۔ فرماتے ہیں، ”آپ کا اکتیس دسمبر کو کوئی اہم کام تھا اور آج یکم جنوری کا ایک بج گیا ہے، آپ اکتیس دسمبر پر واپس نہیں جا سکتے، آپ گھڑی یا کیلنڈر واپس نہیں پھیر سکتے، ایک سال انتظار کریں، یہ قانون فطرت ہے۔

ہر کام، کامیابی، کارنامے کے لئے ایک وقت مقرر ہے۔ زندگی آپ کو موقع دے گی اور ضرور دے گی۔ آپ اس مقررہ وقت کا انتظار کریں لیکن بیدار رہ کر انتظار کرنا ایسا نہیں کہ زندگی اپنے انعام و اکرام لے کر آپ کے دروازے پر آ جائے، دروازہ کھٹکھٹائے اور آپ ستو پی کر سو گئے ہو۔ یہ بھی یاد رکھیں! یہ بات غلط ہے کہ مقدر ایک بار دروازے پر دستک دیتی ہے۔ نہیں، مقدر ہزار بار دستک دینے آتی ہے، ہاں حساب لگائیں کہیں آپ چوبیس میں بائیس گھنٹے سوتے تو نہیں!

دوسرا نکتہ یا قول زریں یہ کہ حالات و مشکلات آپ کو موقع نہیں دیتیں، آپ کی محنت، مشقت، مسلسل جدوجہد، کام کوشش و تلاش یعنی سب سعی رائیگاں ہیں، فضول ہیں۔ آپ کی ناکامیاں آپ کو یہاں تک پہنچاتی ہیں کہ آپ کو اپنا وجود عبث لگتا ہے، ایسے میں مایوس نہ ہو بلکہ اپنی محنت جدوجہد اور کوشش سب سے اعلیٰ درجے پر لے جائیں اور یہ انتظار کی لیول ہے، انتظار کریں۔ انتظار بذات خود ایک عمل ہے۔ محنت و مشقت، پیہم کوشش اور تلاش کی سب سے اعلیٰ، مشکل مگر پر وقار شکل انتظار ہے۔

مولانا کے ان خوبصورت نکات کو سابق امریکی صدر رچرڈ نکسن نے اپنی ماسٹر پیس
In The Arena
میں ایک اور انداز میں بیان کیا ہے۔ راز حیات کی بعد یہ دوسری کتاب ہے جس کی پاکستانی ایڈیشن، میں قریب آنے والے اکثر جوانوں کو تحفہ دیتا آیا ہوں۔

واٹر گیٹ سیکنڈل کے ما بعد ایام نکسن کے لئے واقعی بہت تلخ تھے۔ بدنامی و ناکامی کے ان ایام کو نکسن نے ایک تخلیقی چیلنج کے طور پر لیا اور
Withdrawal Syndrome
کے نام سے ایک تصور پیش کیا، لکھتے ہیں کہ انسانی تاریخ میں ہر عظیم شخص پر برے اور اذیت ناک دن آتے ہیں۔ دنیا، اپنے پرائے، سب ساتھ چھوڑ جاتے ہیں، آپ کو بے دردی سے مسترد کر جاتے ہیں، آپ کی تذلیل میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے، اپنے دل کے علاوہ انسان کا کوئی رفیق نہیں رہ جاتا۔

ایسے میں ہر عظیم شخص دنیا جہان سے پیچھے چلا جاتا ہے، ایک فاصلہ پیدا کرتا ہے : اپنے قلب و دماغ کے علاوہ ہر ذی روح کے ساتھ دس گز، نہیں دس ہزار گز کا فاصلہ۔ تعلقات لا یعنی ہو جاتے ہیں ہیں، جہاں و کار جہاں، سب ہیچ، سب لا یعنی ہو جاتے ہیں، جیسے آپ کے لئے کچھ بھی کوئی وجود نہیں رکھتا۔ انسان بازار حیات سے ہاتھ کھینچ لیتا ہے اور اگر انسان وسط عمر میں ہو تو بار حیات ایک خوفناک اژدہے کی شکل اختیار کر جاتی ہے۔

انسان کی زندگی کا سب سے خوفناک وقت چالیس سے پچاس سال کے درمیان کا عرصہ ہوتا ہے۔ یہ ایک نفسیاتی بحران کا دور ہے جسے امریکی ماہر نفسیات ابراہام ماسلو جیسے نابغے نے
Middle Age Crisis
یعنی وسط عمر کے بحران کا نام دیا ہے۔ یہ دور ہر شخص کے لئے ایک ہمت آزما، وجود آزما اور روح آزما چیلنج ہوتا ہے، یہ اذیت کی بدترین شکل ہوتی ہے، اس کی کوئی خارجی سبب نہیں ہوتی، یہ رفتار زندگی کا ایک فطری تقاضا ہوتا ہے، جوانی پشت پر، پختگی اور بڑھاپا سامنے۔

اسی مڈل ایج کرائسس سے کامیابی سے نکلنے والے لوگ گہرے، پختہ اور خوبصورت انسان بن جاتے ہیں، جن کو روئے زمین کی نمک کہا جاتا ہے۔ اسی خوفناک وادی سے کامیابی کے ساتھ گزرنے والے ہی عظیم شخصیات کہلاتی ہیں۔ اسی سے گزر کر ہی فرید الدین عطار کی سیمرغ کوہ قاف پہنچ جاتا ہے اور یہی سے تخلیق اور کارناموں کا عہد زرین شروع ہوتا ہے، تب آپ خود کو دنیا سے تسلیم کراتے ہیں اور تاریخ میں امر بن جاتے ہیں۔ لیکن مڈل ایج کی پل صراط سے گزرنا لازمی اور واقعی دہشتناک و خوفناک ہوتا ہے اور اس کو کامیابی سے طے کرنا بڑا دل گردے کا کام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں خودکشی کرنے والوں کی اکثریت کی تعداد جوانی و بڑھاپے سے نہیں وسط عمر سے تعلق رکھتی ہے۔ اسی مڈل ایج کرائسس کے ساتھ جب خارجی مشکلات بھی ایکا کر لے تو اذیت آپ کی ذات اور وجود کے لئے مزید دہشتناک و المناک اور قیامت خیز جہنم کی شکل اختیار کر جاتی ہے۔

نکسن نے اس کا بہترین حل یہی ودڈرال سینڈروم لکھا ہے اور وضاحتی مثالوں کے طور پر پیغمبر اسلام کی مکی زندگی، اور مہاتما بدھا سے لے کر چرچل و ڈیگال تک کی زندگی کے اسی موڑ کا تجزیہ کیا ہے۔ رچرڈ نکسن لکھتا ہے کہ جب ان شخصیات کی کردار اور کارناموں کے باوجود دنیا نے ان سے رسم و راہ کاٹ دیے تو یہ زمانے اور سماج سے کچھ عرصے کے لئے ودڈرا کر گئے، وہ مایوس نہیں ہوئے، زندگی زمانے اور دنیا سے بدظن نہ ہوئے، انہوں زمانے، مقدر، خدا اور خلق خدا سے بیزاری کا نہیں سوچا، انہوں انتظار کے عمل کو چنا اور انتظار کی بھٹی میں رہ کر اپنا تجزیہ اور سول سرچنگ کی، نئی اسٹریٹجی وضع کی، اور پھر ایک نئی طاقت، ایک نئی وژن، ایک جوان ہمت اور ایک تازہ ولولے سے مکمل شان و شوکت اور آن بان کے ساتھ واپس میدان میں اتر آئے اور عالم کہن کو زیر و زبر کر کے ایک عالم نو قائم کیا۔

یاد رکھیں : انتظار کا عمل اور فن ایک ایسا عمل اور فن ہے جو کسی کو، کبھی بھی، کبھی بھی مایوس نہیں کرتا کیونکہ عظمت ان کے قدم چومنے آتی ہے جو انتظار کا ہنر جانتے ہو۔

Facebook Comments HS

رشید یوسفزئی

حافظ رشید یوسفزئی مصنف، دانشور، قرآن و حدیث اور انگریزی زبان و ادب کے ماہر اپنے وسیع مطالعہ اور منفرد طرز تحریر کی وجہ سے پاکستان کے اکیڈیمیا، یونیورسٹیز و مدارس میں یکساں مقبول ہیں۔ اقوام متحدہ و یورپی یونین پارلیمنٹ کے سٹیجز پر مدعو ہو چکے ہیں۔ آج کل کیبک، کینیڈا کی شربروک یونیورسٹی میں فرنچ زبان و ادب پڑھنے میں مصروف ہیں

rashid-yousafzai has 3 posts and counting.See all posts by rashid-yousafzai