لیجنڈ آف مولا جٹ، فلم تو اچھی تھی مگر کہانی نہیں


کیسی تھی فلم؟ گھر آتے ہی وائفی نے شرارتی لہجے میں پوچھا؟
کہانی کے علاوہ سب اچھا تھا۔ میں نے بھی ہوشیاری سے جواب دیا

کیا مطلب کہانی کے علاوہ سب اچھا تھا، کیا کوئی ایسی فلم بھی ہوتی جس میں کہانی نا ہو مگر وہ پھر بھی اچھی ہو؟

بالکل ہوتی ہے، کیوں نہیں ہوتی۔ میں نے جواب دیا۔ یقین نا آئے تو لیجنڈ آف مولا جٹ دیکھ لو۔

ایسا نہیں کہ فلم پر تقریر کرنے کے لئے میرے پاس مواد کی کمی تھی مگر چار فیملیز، سولہ لوگوں کے ساتھ سینما اور لاہوری سٹائل کڑاہی گوشت کے مزے رات گئے کسی دقیق اور عمیق انداز کی تنقیدی گفتگو سے بچ کر رہنے پر مصر تھے۔ لہذا اس وقت تو بات آئی گئی ہو گئی مگر اگلے دن جب اس موضوع پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا تو کچھ دلچسپ نکات سامنے آئے۔

مولا جٹ کے اس نئے ورژن کا ہیرو کون ہے۔ یقیناً اس کا سادہ جواب ہے مولا جٹ یعنی فواد خان مگر مولا اگر اس فلم کا ہیرو ہے تو ولن کون ہے؟ کیا نوری نت؟

اگر نوری نت ولن ہے تو پھر ہیرو کون ہے کیونکہ بہن کو زندہ درگور ہونے سے بچانے کے لئے نوری کا اقدام تو اسے لازوال اور دیومالائی کردار بنا دیتا ہے۔ اپنی مرضی سے قید کی صعبتیں برداشت کرنے والا نوری تو پنجاب کے بدترین مجرموں کا منصف تھا۔ جیل میں ہوا ہر قتل برائی کے خاتمے اور بروں کے عبرتناک انجام کی مثال تھا۔ ڈھائی پونے تین گھنٹے کی اس فلم میں نوری ہی تو وہ کردار تھا جس نے پیسے کے لئے، شہرت کے لئے یا دولت کے لئے کسی کو قتل نہیں کیا تو پھر نوری فلم کا ولن کیسے ہوا؟

اگر نوری فلم کا ولن نہیں تھا تو ولن کون تھا؟ کیا لیجنڈ آف مولا جٹ کی کہانی ولن کے بغیر تھی؟

کہانی کے اختتام پر جس الزام میں مولے نے نوری کو مارا اصل میں تو وہ الزام ہی جھوٹا تھا، دارو کی موت کے ذمہ دار ہوشیاری سے بچ نکلے اور موائے کے گنڈاسے نے ایک بے گناہ کو قتل کر دیا۔ کیا ہیرو ایسے ہوتے ہیں جو بے گناہوں کو قتل کریں؟

ماکھا اپنی خود کشی سے پہلے تک ولن تھا مگر جس دلیری سے اس نے موت کو چنا، کیا یہ دلیری کسی ولن کو زیب دیتی ہے؟ سکرین پر اپنی انٹری سے لے کر ایگزٹ تک، ماکھے کا کردار، ڈائیلاگ اور اداکاری اپنا نقش چھوڑ گئی اور اپنی مرضی سے موت کو گلے لگا کر اس نے ہر داغ کو دھو ڈالا، تو اگر ماکھا ولن نہیں تھا تو پھر ولن کون تھا؟

سستی شراب کے نشے میں دھت رہنے والا، پیسوں کی خاطر پہلوانوں کو مارنے والا، مولا جٹ۔ جو پہلے سین سے لے کر آخری سین تک عقل سے عاری ایک ان گائیڈڈ میزائل تھا جسے کچھ سمجھ نہیں تھی کہ وہ جو کر رہا کیوں کر رہا۔ اگر وہ اکھاڑے میں مار کھاتا تھا تب بھی بغیر کسی وجہ اور کسی کو مارتا تھا تب بھی بغیر کسی وجہ۔ اور اگر کوئی ایک وجہ تھی بھی تو وہ تھا پیسہ۔ کیا پیسے کے لئے مرنے مارنے والے کو ہیرو کہا جا سکتا؟ فلم کے اختتام پر مولے نے نوری کو مار دیا وہ بھی بغیر کسی وجہ۔ دارو کے قاتل اس کی ناک تلے سے نکل گئے اور یہ چغد بس دیکھتا رہ گیا۔ کیا ہیرو ایسے ہوتے ہیں؟

مان لیتے ہیں کہ فلم حقیقت اور تخیل کے درمیان لٹکتی ایک ایسی باریک لائن ہے جو فلم بین کو نا صرف اپنے ساتھ جوڑے رکھتی ہے بلکہ اس کی حسرتوں، وحشتوں اور خواہشوں کے درمیان ایک توازن بھی قائم کرتی ہے۔ لیجنڈ آف مولا جٹ کی ڈائریکشن، ایڈیٹنگ اور ساونڈ اتنی جاندار ہے کہ فلم بین کو ہلنے نہیں دیتی مگر سینما سے نکلنے کے بعد یہ سوال جو ذہن میں آتا کہ اس ساری قتل و غارت گری کا مقصد اور پیغام کیا تھا سارا مزا کرکرا کر دیتا ہے۔

فلم کے وہ ڈائیلاگ جن پر لوگوں نے تالیاں بجائیں چالیس سال پہلے کی مولا جٹ کے تھے۔ فلم میں کوئی ہیروئن ہی نہیں تھا۔ موکھو جٹنی کا کوئی کردار ہی نہیں تھا۔ سونے پہ سہاگہ اس کا لہجہ جو کسی بھی طرح پنجابی نہیں تھا۔ دوسری طرف دارو جو تھی تو نوری کی بہن اور نوری ایک ولن، مگر نوری تو ولن تھا ہی نہیں تو پھر دارو کون تھی؟

اچھی فلم کی ایک نشانی یہ بھی ہوتی کہ وہ آپ کے ذہن کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے، سوال اٹھانے پر مائل کرتی ہے اور یقیناً اس معیار پر لیجنڈ آف مولا جٹ ایک اچھی فلم ہے مگر فلم تو اچھی تھی، اس کی کہانی ہر گز نہیں۔ کیونکہ ذہن میں آنے والے سوالوں کا تعلق سماج، پنجاب، تشدد، انصاف اور ظلم کے اردگرد نہیں گھومتا بلکہ ایک ہی نکتے کے ارد گرد گھومتا ہے، اور وہ یہ کہ فلم کی کہانی تھی کیا؟


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments