یہ میچ اس صدی کا میچ نہیں تھا، سمیع چوہدری کا کالم


میچ
یہ میچ اس صدی کا نہیں تھا۔ یہ پچ بھی اس صدی کی نہیں تھی۔ اور یہ بلے باز بھی اس صدی کی کرکٹ نہیں کھیل رہے تھے۔  

اگرچہ راولپنڈی پچ پر آئی سی سی کی انضباطی کارروائی کو پی سی بی کی جانب سے چیلنج کیا جا چکا ہے مگر پچز کی قسمت کے بارے میں سابق چئیرمین رمیز راجہ کی پیشگوئی تاحال حرف بہ حرف درست ثابت ہو رہی ہے جو اُنھوں نے راولپنڈی ٹیسٹ کے اختتام پر کی تھی؛ کہ نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز میں بھی پچز ایسی ہی ہوں گی، یعنی بے کیف، بے رنگ اور بے جان۔ 

اب خدشہ محض یہ رہ گیا ہے کہ سیریز کے فیصلہ کن میچ میں کسی بھی قیمت پر فتح بٹورنے کی کوشش میں کہیں پی سی بی اس سے بھی سست وکٹ کی تیاری پر گامزن نہ ہو جائے۔ 

فی الوقت ’ہوم ایڈوانٹیج‘ کے حصول میں پی سی بی بھی اسی اپروچ پر عمل پیرا نظر آ رہا ہے جو بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے ’ہوم ایڈوانٹیج‘ حاصل کرنے کو اپنا رکھی ہے۔ 

یہ وہ پچ تھی جو نہ صرف ولیمسن بلکہ بابر اعظم کے لیے بھی حیرت کا باعث رہی۔ ٹاس کے لمحے اس کی دمک ایسی تھی گویا غلطی سے کسی سیمنٹ پچ کو کراچی سٹیڈیم میں بچھا دیا گیا ہے جہاں رنز کی بھرمار ہو گی اور سٹیڈیمز سے روٹھے شائقین کو منانے کے لیے ماڈرن کرکٹ کا ایک میلہ سجے گا۔

مگر جونہی اس میک اپ زدہ ضعیف نے دو گھنٹے کا کھیل سہا، دمک ماند پڑنے لگی اور پھر گیند کو وہ ٹرن بھی ملا جو بسا اوقات پانچویں دن کی ٹیسٹ پچ پر نظر آتا ہے۔ میچ کے 30 ویں اوور سے جیسے باؤنس عنقا ہوا اور رنز بنانے کی رفتار دھیمی پڑی، وہ رجحان میچ کے آخری لمحے تک بڑھتا ہی چلا گیا۔

ایک بات تو طے ہے کہ ایسی بے ثمر وکٹ پر کتنی ہی جوکھم کی کرکٹ کیوں نہ کھیل لی جائے، ورلڈ کپ کی تیاری ایک سہانا سپنا ہی رہے گا۔ اسی وقت ورلڈ کپ میزبان انڈیا کے یہاں سری لنکا کے خلاف ایک سیریز جاری ہے اور کل کے میچ میں گوہاٹی کی پچ کراچی کی اس پچ کا عین متضاد تھی۔ 

میچ

پاکستانی اننگز بھی اس پچ کی مانند رکی رکی سی رہی۔ لیکن جب سلمان آغا کریز پر آئے، یکبارگی ایک ہیجان سا برپا ہو گیا۔ کیوی فیلڈنگ بوکھلانے لگی۔ بولرز اپنی لائن سے بھٹکنے لگے۔ سلمان نے کٹھور پچ سے کوئی آس باندھنے کے بجائے اپنے قدم چلانا شروع کیے اور ولیمسن کو الجھا ڈالا۔ 

اس وکٹ پر سپن کے خلاف بیٹنگ کا کامیاب فارمولہ قدموں کا استعمال ہی تھا۔ پچھلے قدم پر جم کے اونچا کھیلنے والوں کے لیے معافی کی گنجائش کم تھی کیونکہ یہ باؤنس کے معاملے میں بھی بے حد بخیل واقع ہوئی تھی۔ سلمان آغا نے اونچا کھیلنے کے بجائے قدموں کا استعمال کر کے کیوی فیلڈنگ کو مخمصے میں مبتلا کیے رکھا۔ 

اگرچہ بالآخر وہ اپنے ہی پیدا کردہ ہیجان کی نذر ہوئے مگر یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ سلمان ہی کی اننگز نے نہ صرف میچ میں پاکستان کے امکانات بحال کیے؛ بلکہ اپنی تکنیک سے ایک عملی درس بھی پیش کیا کہ جب زندگی دشوار تر ہوتی چلی جائے تو ہاتھ پیر ہلانا ضروری ہو رہتا ہے۔ 

بابر اعظم کی اننگز اگرچہ بیشتر وقت خیال گائیکی کی طرح نچلے سُروں میں ہی رہی اور ماڈرن کرکٹ کے اعتبار سے یہ کوئی خوش کُن اننگز نہیں تھی؛ مگر بابر کا فہم بہرطور لائقِ تحسین ہے کہ وہ اس وکٹ کے تقاضے بخوبی بھانپ چکے تھے اور میچ کو طول دینا چاہتے تھے۔ وہ آخری اوورز میں پیسرز کو ہدف بنا کر ایک یادگار فتح حاصل کرنا چاہتے تھے مگر دباؤ کے ہنگام پاکستانی بلے بازوں کی بوکھلاہٹ ان کے منصوبوں کے آڑے آ گئی۔ 

ولیمسن نے پہلے بیٹنگ کا فیصلہ اگرچہ اس مجموعے کی امید میں نہیں کیا تھا جو بالآخر ان کی ٹیم جوڑ پائی، لیکن اس فیصلے کی بدولت اُنھیں اپنے بولر میدان میں اتارنے سے پہلے ہی کنڈیشنز کو بھانپنے کا بھرپور موقع مل گیا۔ اور اسی فہم کو استعمال میں لاتے ہوئے اُنھوں نے نہ صرف پاکستانی ٹاپ آرڈر کے بخیے ادھیڑے بلکہ مڈل آرڈر کا بھی ناطقہ بند کیے رکھا۔

اگر یہ میچ اس صدی کا ہوتا اور پاکستانی بیٹنگ بھی اسی صدی کے تقاضے نبھا رہی ہوتی تو شاید نتیجہ کچھ اور ہو پاتا۔ مگر ولیمسن کا فہم بابر کی کلاسک اننگز کو مات کر گیا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 27680 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments