پرویز الہی پر پنجاب اسمبلی کا اظہارِ اعتماد: ’آدھی رات کی عدالتوں سے آدھی رات کے اسمبلی اجلاس تک‘


پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں گذشتہ ایک سال کے دوران بہت سے کام رات کے اندھیرے میں ہوئے ہیں جس کی تازہ مثال گذشتہ رات گئے پرویز الہی کا پنجاب اسمبلی کے اراکین سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا ہے۔

یاد رہے کہ اپریل 2022 میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کے ووٹ کی کامیابی کے روز عدالت عظمیٰ کے دروازے رات گئے کُھلے تھے۔ رات کو ہونے والی ان اہم پیشرفتوں کے باعث سوشل میڈیا صارفین ان واقعات میں مماثلتیں ڈھونڈ رہے ہیں۔

پنجاب اسمبلی کے سپیکر کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب 186 ووٹ لے کر ایوان کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں تاہم پنجاب میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ ن نے اسمبلی کا کارروائی کو ’غیر آئینی‘ قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

https://twitter.com/RanaSanaullahPK/status/1613270107337138195

وفاق میں پی ڈی ایم کی حکومت کے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے ٹوئٹر پر پیغام میں کہا کہ گورنر پنجاب نے پرویز الہی کو عدم اعتماد کا ووٹ نہ لینے پر برطرف کیا تھا اور یہ معاملہ عدامت میں زیرِ سماعت تھا مگر ’رات کے 12 بجے جعل سازی شروع کر دی گئی۔ پولنگ ایجنٹس مقرر نہیں کیے گئے، رولز کو بلڈوز کیا گیا۔ غیر قانونی اجلاس کو تسلیم نہیں کرتے۔‘

انھوں نے کہا کہ اس اعتماد کے ووٹ کے خلاف ’عدالت میں ثبوت پیش کریں گے۔ صبح عدالت ’اعتماد کے ووٹ‘ سے متعلق دن مقرر کرے گی۔‘

ادھر وزیر اعلیٰ پرویز الہی نے کہا ہے کہ ’آج ن لیگ کو صحیح طور پر سرپرائز ملا ہے۔ ان کو اندازہ نہیں تھا آج کیا ہونا ہے۔‘

انھوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’یہ بارات لے کر آئے تھے۔ ان کی ڈولی اور جھولی خالی ہو گئی ہے۔‘

دلچسپ بات یہ ہے کہ گذشتہ ماہ یعنی دسمبر کے اواخر میں گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے بھی پرویز الہی کو اعتماد کا ووٹ نہ لینے پر رات 12 بجے کے قریب ہی وزارت اعلیٰ کے عہدے سے ڈی نوٹیفائی کیا تھا اور اُن کی کابینہ تحلیل کر دی تھی۔

جب صحافی سرل المیڈا نے تبصرہ کیا کہ ’یہ وقت تو پرویز الہی کے سونے کا ہو گا؟‘ تو ان کے بیٹے مونس الہی نے جواب دیا: ’جی، لیکن آج رات انھیں اس سے استثنیٰ ہے۔ ان کا دن نماز فجر کے بعد شروع ہوتا ہے۔‘

https://twitter.com/MoonisElahi6/status/1613279568995008513

’یہ پنجاب میں پی ڈی ایم کی پہلی شکست نہیں‘

ممکنہ طور پر یہ معاملہ دوبارہ عدالتوں کی زینت بنے گا اور آج گورنر پنجاب کے نوٹیفیکیشن کے حوالے سے لاہور ہائیکورٹ میں سماعت بھی جاری ہے۔

تاہم بہت سے صارفین کی دلچسپی اس بات پر ہے کہ وفاق میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے اتحاد پی ڈی ایم کی حکومت کو پنجاب میں ایک اور ’ناکامی‘ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اگرچہ پی ڈی ایم نے اعتماد کی ووٹ کی کارروائی کو قانونی بنیادوں پر چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے تاہم پرویز الہی کے اتحادی اور پنجاب اسمبلی میں اکثریت رکھنے والی جماعت تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری نے یہ عندیہ دیا ہے کہ جلد پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیاں تحلیل کر دی جائیں گی اور نئے عام انتخابات کی طرف بڑھا جائے گا، جو کہ ان کے مطابق سابق وزیر اعظم عمران خان کا اصل مقصد ہے۔

اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے صحافی مظہر عباس کہتے ہیں کہ ’پی ٹی آئی راک، پی ڈی ایم شاک۔‘
’یہ پنجاب میں پی ڈی ایم اور مسلم لیگ ن کی پہلی شکست نہیں۔ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کے ووٹ کے بعد یہ یہاں ان کی تیسری شکست ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’پی ڈی ایم کا ہر مِس ایڈونچر عمران خان کے حق میں جا رہا ہے۔ انھیں جتنی جلدی اس کا احساس ہو جائے اتنا بہتر ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

’مفتاح بھائی ویڈیو شیئر کرنے کا شکریہ‘ اسحاق ڈار سے متعلق بیان پر مفتاح اسماعیل کو ’پچھتاوا‘

صدر عارف علوی کا بی بی سی کو انٹرویو: ’سیاسی میدان میں آج ہر کوئی بدلہ ہی لے رہا ہے‘


https://twitter.com/MazharAbbasGEO/status/1613370984160976898

تجزیہ کار رضا رومی سوال کرتے ہیں کہ ’اس سارے ڈرامے میں اپوزیشن لیڈر کہاں تھے؟‘ یہ وہ سوال ہے جو مسلم لیگ کے ارکان صوبائی اسمبلی کو اپنے رہنماؤں سے پوچھنا چاہیے۔

’جماعت میں افراتفری ہے اور اسٹیبلشمنٹ انھیں رعایت نہیں دے گی۔‘

https://twitter.com/Razarumi/status/1613277674411118597

سرل المیڈا نے ٹوئٹر پر پوچھا کہ ’اس مایوس کن تجربے کو شروع کرنے سے اب تک کیا مسلم لیگ ن نے کوئی معرکہ جیتا ہے؟‘ اس پر مونس الہی نے انھیں جواب دیا ’جی۔ وہ اپنی قیادت، جو معنی رکھتی ہے، پاکستان سے باہر لے گئے۔ کیسز ختم کیے گئے وغیرہ۔‘

بعض لوگوں نے تو اسے پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان کراچی میں کھیلے گئے دوسرے ون ڈے سے جوڑ دیا۔ جیسے سپورٹس صحافی عبدالرشید شکور لکھتے ہیں کہ ’کراچی میں سکور 182 رہا لیکن لاہور میں 186 ہو گیا۔‘

https://twitter.com/rasheedshakoor/status/1613344658729361409

آدھی رات کو ہونے والے اسمبلی اجلاس نے بہت سے صارفین کی توجہ حاصل کی ہے۔ جیسے نعمان خان کہتے ہیں کہ آدھی رات کی عدالتوں سے آدھی رات کے اسمبلی اجلاس تک۔

جبکہ مقدس فاروق نے کہا ’رجیم چینج والی کارروائی بھی راتوں رات ڈالی گئی تھی‘ جبکہ پی ٹی آئی کے حامی بعض اکاؤنٹس نے یہ بھی کہا کہ ’رات کا بدلہ رات کو‘ لیا گیا ہے۔

پنجاب اسمبلی کے ’سوپ ڈرامے‘ پر اُم کلثوم کہتی ہیں کہ ’سسپنس، سرپرائز، سنسنی اور سازش سے بھرپور۔۔۔ آدھی رات کو بھی اجلاس چلتے ہیں اور 5، 5 مہینے کے لیے وزارت اعلیٰ کی باریا‌ں لگی ہوئی ہیں۔‘

https://twitter.com/Umm_e_Kulsoom/status/1613254284476399618

https://twitter.com/GFarooqi/status/1613271910346792973

ادھر غریدہ فاروقی پوچھتی ہیں کہ ’لیکن پرویز الہی کو اگلا مرحلہ اسمبلی تحلیل کا پار کرنا ہے۔ تو پھر پرویز الہی کب اسمبلی تحلیل کر رہے ہیں؟ اصل سوال یہی ہے۔‘

تاہم صحافی عاصمہ شیرازی تبصرہ کرتی ہیں کہ ’جس طرح پارلیمانی نظام چلایا جا رہا ہے، کہیں جمہوریت ہی سرپرائز نہ ہو جائے۔‘

https://twitter.com/asmashirazi/status/1613248618823049224


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 27653 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments