اعتماد کے ووٹ کے بعد کیا سیاسی انتشار ختم ہو گا؟


پرویز الہیٰ نے جن حالات میں پنجاب اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لیا اور پس پردہ جو لین دین کیا گیا، اس سے قطع نظر رات گئے ہونے والے اجلاس میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے بالآخر اعتماد کا ووٹ حاصل کیا۔ پرویز الہیٰ کو 186 ارکان نے ووٹ دیا جو پنجاب اسمبلی کے ارکان کی تعداد کے لحاظ سے اکثریت کے لئے کم از کم تعداد ہے۔ تاہم قانونی اور پارلیمانی لحاظ سے اس ’اکثریت‘ کو غلط نہیں کہا جا سکتا۔ البتہ مسلم لیگ (ن) نے نہ صرف اجلاس کا بائیکاٹ کیا بلکہ کھسیانی بلی کی طرح اب اعتماد کے اس ووٹ کو ’غیر آئینی‘ قرار دیتے ہوئے عدالت جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس دوران لاہور ہائی کورٹ نے اعتماد کے ووٹ کے بعد سیاسی پارٹیوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سیاسی معاملات خود طے کریں۔ البتہ اگر کوئی قانونی الجھن ہو تو عدالت رہنمائی کر سکتی ہے۔ تاہم گزشتہ کچھ عرصہ سے دیکھنے میں آ رہا ہے کہ سیاسی پارٹیوں نے باہمی اعتماد کو اس حد تک نقصان پہنچایا ہے کہ وہ پارلیمانی امور کو مسلسل عدالتوں میں لے جاتے ہیں۔ اس طرح جو معاملات عوام کے منتخب نمائندوں کو مشاورت اور اکثریت کی بنیاد پر طے کرنے چاہئیں، انہیں غیر منتخب فورمز پر طے کروانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

اگرچہ عدالتوں سے قانون و آئین کی بنیاد پر ہی رجوع کیا جاتا ہے لیکن سیاسی لیڈروں کو یہ جواب بھی دینا چاہیے کہ اگر قوانین اور آئینی شقات اتنی ہی مبہم اور غیر واضح ہیں تو یہ بھی منتخب اداروں یعنی اسمبلیوں کا ہی کام ہے کہ ان قوانین و قواعد کی صراحت کریں تاکہ ہمیشہ کے لئے غلط تشریحات کا سلسلہ ختم ہو جائے۔

اپریل میں تحریک انصاف کی حکومت ختم ہونے کے بعد سے جو سیاسی صورت حال دیکھنے میں آئی ہے، اس میں یہ محسوس کیا جاسکتا ہے کہ یہ معاملہ آئین و قانون کی کمزوری یا خرابی کا نہیں ہے بلکہ سیاسی لیڈروں کی ہٹ دھرمی اور انا سے متعلق ہے جو ہر قانون اور آئینی شق کو اپنی سیاسی ضرورت کے مطابق نافذ کرنے پر زور دیتے ہیں۔ یا آئین کا نام لیتے ہوئے نامناسب اور غلط سیاسی فیصلے ٹھونسنے کی ناروا کوشش کرتے ہیں۔ اس کی نمایاں مثال پنجاب اسمبلی کی صورت حال سے ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔

پہلے تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ق) کے اتحاد نے اسمبلی کا اجلاس غیر معمولی مدت تک جاری رکھا تاکہ وزیر اعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کی کوئی کوشش نہ کی جا سکے۔ اس کے باوجود جب عمران خان نے اپنی سیاسی انا کی تسکین کے لئے پنجاب و خیبر پختون خوا اسمبلیاں توڑ کر وفاقی حکومت پر جلد انتخاب کروانے کا دباؤ بڑھانے کا فیصلہ کیا تو ایک طرف پرویز الہیٰ کے علاوہ اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحاریک پیش کردی گئیں تو دوسری طرف مسلم لیگ (ن) سے وابستہ گورنر بلیغ الرحمان نے پرویز الہیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے کا مشورہ دیا۔ اس مشورہ پر عمل نہ ہونے پر پرویز الہیٰ کو وزیر اعلیٰ کے طور پر معزول کر دیا گیا۔ گورنر کے اس حکم کو بعد میں لاہور ہائی کورٹ نے معطل کر دیا۔

دیکھا جائے تو پنجاب اسمبلی توڑنے کے بارے میں تو پرویز الہیٰ اور عمران خان کے درمیان پہلے سے ہی سیاسی دنگل ہو رہا تھا۔ سیاسی دانشمندی کا تقاضا تو یہی تھا کہ مخالف سیاسی پارٹیاں اس اختلاف میں فریق بننے کی بجائے تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ق) کو آپس میں طے کرنے دیتیں کہ وہ اسمبلی توڑنے کے بارے میں کیا فیصلہ کرتی ہیں۔ اس کے بعد جو بھی صورت حال پیدا ہوتی، اس کا سیاسی طور سے مقابلہ کیا جاتا۔ لیکن عدم اعتماد اور گورنر کی ہدایت کی صورت میں مسلم لیگ (ن) نے کسی بھی طرح اسمبلی توڑنے کو ’ناممکن‘ بنانے کی سعی کی اور درپردہ یہ کوششیں بھی ہوتی رہیں کہ کسی طرح کچھ ارکان کو پرویز الہیٰ کو ووٹ دینے سے روکا جا سکے تاکہ وہ اعتماد کا ووٹ نہ لے سکیں اور پنجاب اسمبلی کسی طرح ٹوٹ نہ پائے۔

یعنی جو جھگڑا درحقیقت عمران خان اور پرویز الہیٰ کے درمیان تھا، اس میں ٹانگ اڑا کر اپوزیشن نے پنجاب کے حکمران اتحاد کو کسی حد تک سیاسی ریلیف فراہم کر دیا۔ اور اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ مسلم لیگ (ن) کسی بھی قیمت پر فوری انتخابات سے بھاگ رہی ہے۔ اسلام آباد میں ضمنی انتخابات رکوانے کے لئے کی جانے والی زور زبردستی کی قانون سازی بھی مسلم لیگ (ن) کی اسی بدحواسی کا مظہر ہے۔

سیاسی لحاظ سے اگرچہ یہ بات قابل فہم ہے کہ مشکل معاشی فیصلے کرتے ہوئے اور مہنگائی کی موجودہ صورت حال میں جبکہ وفاق کی اتحادی حکومت عوام کو کوئی خاص ریلیف دینے میں کامیاب نہیں ہے، اس کے لئے انتخابات میں عوام کا سامنا کرنے کے لئے کوئی سیاسی بنیاد موجود نہیں ہے۔ پاکستان کے سیاسی انتظام میں گروہ بندی کے علاوہ پروپیگنڈا اور انفرادی حملوں کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اس صورت حال میں کسی بھی سیاسی پارٹی کے لئے ووٹروں کو یہ سمجھانا ممکن نہیں ہوتا کہ اسے کن حالات میں اور کیوں مشکل فیصلے کرنا پڑے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کی طرف سے کسی بھی سطح پر انتخاب سے گریز کی یہی بنیادی وجہ ہے۔ لیکن اسے نہ تو قانونی طور سے درست کہا جاسکتا ہے اور نہ ہی پارٹی کو اس سے کوئی سیاسی فائدہ پہنچ رہا ہے۔ خاص طور سے پنجاب میں جو سیاسی دنگل برپا کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اس دوران اپوزیشن لیڈر اور وزیر اعظم کے صاحبزادے حمزہ شہباز بیرون ملک موجود رہے۔ اسی طرح قومی سطح پر عمران خان کو سیاسی چیلنج کرنے کے لئے مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت یعنی مریم نواز اور نواز شریف بدستور ’جلاوطنی‘ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ یہ سیاسی طریقے درحقیقت مسلم لیگ (ن) کی سیاسی حیثیت کو کمزور کر رہے ہیں اور مستقبل قریب میں ہونے والے کسی بھی انتخاب میں اسے دوسرے درجے کی پارٹی بنانے میں کردار ادا کریں گے۔

پنجاب میں رچائے گئے سیاسی تماشا کے بعد اب پرویز الہیٰ اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب رہے ہیں۔ اس موقع پر اپوزیشن کی طرف سے اسمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ کرنا یا بعد میں اسے غیر آئینی قرار دے کر عدالت جانے کا اعلان درحقیقت سیاسی بدحواسی کا بدترین نمونہ ہے۔ قومی سطح کی پارٹی کے طور پر مسلم لیگ (ن) کو سیاسی ہزیمت کو تسلیم کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے اس حق کو تسلیم کرنا چاہیے کہ وہ پنجاب اسمبلی توڑنے کا آئینی استحقاق رکھتے ہیں۔

اگر مسلم لیگ (ن) اس سیاسی تضاد کی اس صورت حال سے باہر نکل سکے تو پرویز الہیٰ کو اسمبلی کے مستقبل کے حوالے سے عمران خان اسے اپنے میرٹ پر بات کرنا ہوگی اور اس کی سیاسی قیمت بھی ادا کرنا پڑے گی۔ اس کے برعکس اگر مسلم لیگ (ن) سیاسی کھیل میں کامیابی کے امکانات نہ ہونے کے بعد اسے بگاڑنے کی کوشش کرتی رہے گی تو اس سے مسلم لیگ (ن) کی رہی سہی سیاسی ساکھ بھی داؤ پر لگے گی۔ دوسری طرف ایک چھوٹے سے گروپ کی بنیاد پر پرویز الہیٰ بڑی سیاسی پارٹیوں کو ’بلیک میل‘ کر کے زیادہ سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش میں کامیاب رہیں گے۔

اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد پرویز الہیٰ کو عمران خان کی خواہش کے مطابق فوری طور سے اسمبلی توڑنی چاہیے۔ یہی اب عمران خان کی سیاست کا امتحان بھی ہو گا۔ یہ مقصد حاصل کرنے کے لئے تحریک انصاف کو شاید پرویز الہیٰ کو ان کی سیاسی قدر و قیمت سے کہیں زیادہ قیمت ادا کرنا پڑے۔ آئندہ انتخابات میں ان کے ساتھ متعدد نشستوں پر سیاسی ایڈجسٹمنٹ کرنی پڑے۔ یعنی تحریک انصاف کے ووٹ بنک کو مسلم لیگ (ق) کے امید وار کامیاب کروانے کے لئے استعمال کرنے کا وعدہ کرنا پڑے۔

اس طریقہ سے ایک طرف تحریک انصاف میں بے چینی پیدا ہوگی اور مختلف حلقوں میں جو امیدوار طویل عرصے سے پارٹی ٹکٹ کی امید لگائے بیٹھے ہیں، وہ مایوس ہوں گے تو دوسری طرف اگر آئندہ اسمبلیوں میں مسلم لیگ (ق) اپنے جثہ سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو تحریک انصاف اکثریت کے باوجود پرویز الہیٰ جیسے لیڈروں کی انگلیوں پر تھرکنے پر مجبور ہوگی۔

اب عمران خان پر منحصر ہے کہ وہ قومی سیاست میں انتشار کی بجائے سکون و اعتماد کا ماحول پیدا کر کے خود اپنے اور سیاسی لیڈروں کے وقار میں اضافہ کے لئے کردار ادا کرتے ہیں یا مسلسل اسمبلیاں توڑنے کے علاوہ اپنی پارٹی کے صدر مملکت کے ذریعے شہباز شریف کو اعتماد کا ووٹ لینے پر مجبور کر کے ایک نیا سیاسی بحران پیدا کرنے کے لئے پر تولتے ہیں۔ اسی طرح مسلم لیگ کو بھی اپنی سیاسی حکمت عملی تبدیل کرنی چاہیے۔ آج ہی الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی انتخابات نہ کروانے پر پارٹی کو وارننگ دی ہے۔ بہتر ہو گا کہ مسلم لیگ (ن) جوڑ توڑ اور سازشوں کی سیاست کی بجائے پارٹی منظم کرنے اور عوامی رابطہ مہم کے ذریعے اپنا سیاسی پیغام عوام تک پہنچانے کی کوشش کرے۔ ملک میں سیاسی استحکام اور عوامی حکمرانی مروج کروانے کا اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔

سیاسی پارٹیاں اسی وقت احترام و وقار کی علامت بنیں گی جب ان کی سیاست اقتدار کی بجائے مسائل حل کرنے کی طرف مرکوز ہوگی۔ عوامی حمایت رکھنے والا کوئی بھی لیڈر براہ راست اقتدار حاصل کیے بغیر بھی قومی مسائل حل کرنے میں معاونت کر سکتا ہے۔ تاہم اس کے لئے سیاسی پارٹیوں کو اپنی ترجیحات اور تنظیمی ڈھانچے بھی جمہوری بنیادوں پر استوار کرنا ہوں گے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 2380 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments