سارے جہاں کا درد


جہاں دنیا کے شب و روز کو دیکھ کر، اسے سمجھنے کے لئے انسان نے مختلف پیمانے بنائے ہیں ان میں ایک کا اضافہ اور سہی۔ جانداروں میں سے ایک وہ ہیں جن کی زندگی مجموعی طور سے خوش نظر آتی ہے، دوسرے جو خوشی سے بڑی حد تک محروم ہیں۔ جو زندگی سے مطمئن ہیں ان کی بھی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ جنہیں محروموں کی کوئی بھی محرومیت نظر نہیں آتی، انہیں متاثر نہیں کرتی۔ یا ایسوں کی صورت کیا، ان کا زندہ رہنا بھی اپنی خوشی میں کھنڈت ڈالتا محسوس ہوتا ہے۔ ان کا بس چلے تو معذوروں، محتاجوں مرگلوں کو موت کے گھاٹ اتار دیں۔

وہ جو زندگی سے مطمئن ہیں ان میں ایک اچھی خاصی آبادی ان کی بھی ہے جو کوڑھی کو گلے لگا کر اسے یاد دلائیں :تم کوئی دھت دھت کیے جانے کی مخلوق نہیں ہو، میری طرح کے ایک انسان ہو۔ جو نالی کے کنارے پڑے تڑپتے پرندے کو گھر لے جاتے ہیں کہ اس کی ابھی جتنی بھی زندگی باقی ہے تکلیف میں نہ گزرے۔ انہیں نہ مفلوج بچہ قابل بے اعتنائی نظر آتا ہے، نہ خون کی الٹی کرتی ہوئی کوئی عورت، نہ تھیلیڈو مائیڈ (Thalidomide) بے ہاتھوں کے بچے جنہیں فٹ پاتھ پر اس لیے لٹایا گیا ہے کہ ان پر رحم کھا کر راہ چلتے چند سکے یا کوئی چھوٹا نوٹ ان کے پاس پھینک جائیں گے۔

ہر آنکھ کی روشنی سے محروم ہستی ان کے ذہن میں یہ خیال جگاتی ہے کہ اگر یہی میرے ساتھ ہوا ہوتا تو! اور اگر ایسا اس ہستی کے ساتھ ہوا ہے تو کیا مجھ پر قدرت نے ذمہ داری نہیں ڈالی ہے کہ میں اپنی آنکھ کی روشنی سے ملنے والے تمام عطیات میں سے کچھ اس کے ساتھ برتوں! میرے کام کرتے ہوئے ہاتھوں پیروں میں کیا اس کا حصہ نہیں ہے؟ جسے قدرت کے یہ تحفے نہیں ملے یا ملے تھے اور جیتے جی ہی ساتھ چھوڑ گئے، آنکھیں دغا دے گئیں، ہاتھ پیر نے کام کرنا بند کر دیا اور دماغ وہ تو کب کا رخصت ہوا۔

میں / میری شریک زندگی، زندگی کی بدسلوکی سے معذور ہو گیا /ہو گئی تو کیا میں کسی اور کو اپنی زندگی میں اس کی جگہ لا بٹھاؤں اور اسے بے سہارا چھوڑ دوں؟ یا اس کا کام بھی سنبھال لوں؟ گزارہ پیدا کرنا، گھر چلانا، بچوں اور بوڑھے ماں باپ کی دیکھ بھال، بازار، باورچی خانہ سب کچھ اور یہ نہ کہوں کہ ایک اکیلا جی، کیا کیا کروں؟ کیونکہ ہوتا وہ ہے جو ہمیشہ سے ذمہ داریوں کو سنبھال لینے والے / والی کے ساتھ ہوتا آیا ہے۔ تب پتہ چلتا ہے یہ سب کچھ تھکا دینے والا نہیں، طمانیت بخش ہے۔ اور اس لائق کہ اس کے تحمل اور خدمت گزاری کو دوسروں کے لیے مشعل ہدایت بنایا جاتا ہے۔ اور ایسے خوشیوں سے محروم بچوں، بڑوں، بوڑھوں سے احساس کا رشتہ قائم ہو جانے پر اس زندگی سے مطمئن ہستی میں اگر غور کیا جائے تو وہ ”سرابی جذبہ“ پیدا نہیں ہوتا جسے ترس کھانا کہا جاتا ہے۔

ترس کسی مصرف کی چیز نہیں، عارضی جذبہ ہے۔ اگر حقیقت ہے تو غمزدہ کی زندگی کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا۔ ایسی جاگی ہوئی ہستیاں چیلنج زدہ زندگیوں سے کس طرح نپٹتی ہیں۔ چند ڈاکٹر، نرس، دائی، وارڈ بوائے بن کر ان کی زندگی کو اپنی زندگی کا دائمی جزو بنا لیتے ہیں، کچھ ان محروموں سے رابطہ رکھ کر ان کی تکلیفوں کو کم کرتے ہیں۔ انہیں ہسپتال لے جانا، دوائیں لا کر دینا، خوراک بہم پہنچانا، ایک دو بار نہیں پابندی سے اس وقت تک جب کوئی ان کی دیکھ بھال کا مستقل انتظام ہو جائے۔ یہ سب بھلا کیا ہے؟ ہاتھ پکڑ کر زندگی کی کٹھن سڑک کو پار کرانا۔ اور مرنے پر جسے نہلانے والا کوئی نہ ہو اسے آخری غسل دے کر اطمینان کا سانس لینا۔

اور اسی گروپ کے تیسرے فرد وہ ہیں جو دوسروں کو جگاتے ہیں کہ غور کرو تمہارے پڑوس میں جو عورت رات کھانس کھانس کر گزارتی ہے جس کا شوہر تو کیا کوئی دور کا رشتہ دار تک نہیں، تپ دق کی مریضہ ہے۔ اسے تمہارے مرض لگنے کی احتیاط سے کوئی واسطہ نہیں۔ واسطہ ہے تو اس کی زندگی اور اس کے مرض کا کوئی انتظام کرنا ہے۔ جو بوڑھا ہر وقت اپنی بیوی اور بہو کو چلا کر برا بھلا کہتا ہے۔ غور کرو وہ کبھی خود کو بھی نہیں کوسنے لگتا ہے کہ جوان بیٹے سے کیوں اٹھتے بیٹھتے کہتا تھا۔ نوکری ڈھونڈ۔ مفت کی کھاتا ہے۔ نہ کہتا تو وہ خود کو الیکٹرک ٹرانسفارمر کے پول پر چڑھ کر خود کو ختم نہ کر دیتا۔

جاگو تو سہی، کتنی لڑکیوں، جوان عورتوں کو زمانے نے بازار میں لے جا بٹھایا ہے۔ آنکھ کھول کر دیکھو ہر طرف معذوری ہے۔ کہیں جسمانی کہیں دماغی، کہیں حالات کے جال میں پھنس جانے کی، کہیں اخلاق کے پست کیے جانے کی۔ میرا سابقہ چند ہی سفیروں سے پڑا ہے اور شاید ہی کبھی خوشگوار تھا۔ سب ہی اپنی اپنی دنیا میں مگن تھے۔ پوش (اونچے طبقے والوں کے ) علاقے کے مکین تھے۔ اور سمجھتے تھے کہ مقامی اور غیر مقامی جو وہاں تھے ہر طرح سے کشل منگل (خیریت سے اور خوش و خرم) تھے۔

ان کی فکریں تھیں۔ امریکی آٹھ سیلنڈر، کاریں، جدید الیکٹرانکس ساز و سامان اور کیا کچھ ڈیوٹی فری اپنے ملک لے جایا جا سکتا ہے۔ سب موقع کی تاک میں رہتے تھے کہ کہیں تو کچھ ہو جو نام کمایا جا سکے۔ کہیں بہت بڑا ”ہالا چالا“ آئے، سیلاب آئے یا قحط پڑے اور اپنے ملک سے چندہ جمع کر کے بھیجیں۔ وہاں کے حکمرانوں کے خط آئیں جو ”یور ایکسیلنسی“ سے شروع ہوں اور ان کے ساتھ اپنی تصویر چھپے مگر سب ہی مقامی اور اپنے کم اہم ہم وطنوں سے ذرا خود کو دور رکھتے تھے۔

کسی کو خبر نہیں تھی کہ جس ملک میں سفیر تھے وہاں (schistosomiasis ) سے اندھے ہو جانے والوں کی تعداد کتنی تھی، کتنے بچے پولیو زدہ تھے۔ خودکشی کتنے فیصد تھی اور چنڈو اور شراب کے شکار کتنے تھے؟ اور اس سے بھی بڑھ کر کہ ان ملکوں میں ان بے چارہ ہستیوں کے لیے کیا کیا جا رہا ہے۔ تاکہ اس کے بارے میں اپنے یہاں والوں کو لکھ کر اور زبان سے آگاہ کیا جائے کہ مسائل کہاں نہیں ہیں اور ان سے کس طرح نپٹا جا رہا ہے۔

ان کے بعد جو ملاقات ہوئی وہ ہوئی اجالوں کے سفیر سے اور وہ مجھے بہت بھائی۔ بلکہ یہ کہنا درست ہو گا کہ اجالوں کی ایک سفیر نے ملاقات کرائی اجالوں کے بہت سے سفیروں سے جو معذوروں، محتاجوں کی اندھیری نگری میں اجالا لا رہے ہیں۔ ان کے کام کی وسعت، سچائی اور لگن کو جان کر میرا کہاں بس کہ اس کی تعریف صحیح معنوں میں کر سکوں اور اتنی ہی وسعت سے جس کا وہ پوری زندگی پر پھیلا ہوا کام طلبگار ہے۔ مگر اکثر ایسا ہوا ہے، جہاں میری زبان ساتھ نہ دے وہاں وہ مرزا غالب کی زبان بن جاتی ہے۔ جنہوں نے کچھ ایسی ہی بات کہی ہے کہ میرا دل اپنی سرشت میں ایسا نازک ہے کہ آبلہ کیا ہو گا اور وہ بھی پیر کا، کیونکہ میں تو وہ ہوں جو پیر بھی زمین پر آہستہ رکھتا

ہے کہ کانٹوں کی نوک نازک ہے کہیں ٹوٹ نہ جائے
دارم دلے ز آبلہ نازک نہادتر آہستہ پا نہم کہ سر خار نازک است

جانتا ہوں کہ گوہر کو یہ دل اور اس کی تمنائیں اپنی ماں سے ورثے میں ملی ہیں۔ جو اس میں کمی رہ گئی تھی وہ انہوں نے ( انسان دوست ہستیوں سے پیہم ملاقات کی کاشت کرنے میں ) دور کر لی۔ لیکن میرا خیال ہے بہت کچھ خود ان کا اپنے میں کاشت کیا ہوا ہے۔ معذوروں سے ملنا، جن پر معذوروں کی چوبیس گھنٹے کی دیکھ بھال کرنا ہے ان کی دلجوئی کرنا۔ نفسیاتی اور اعصابی مریض کے گرد بنے ہوئے جال کو کہ کچھ نہیں ہے۔ بنتا ہے / بنتی ہے۔

She is malingering۔ (feigning) کو توڑنا تاکہ اس کا ماحول خصمانہ کی بجائے ہمدردانہ بن جائے۔ مریض کے خود اپنی بیماری کو تسلیم نہ کرنا (denial) اور موت کے منہ میں جاتے جانا، کو پہچاننے اور اسے اس بھنور سے نکالنا کہ یہ بیماری ہے، اور اس کا علاج ممکن ہے۔ کون کہاں تنہا اپنے مسائل سے لڑ رہا ہے اور منہ سے نہ سہی دل میں طے کر چکا ہے کہ اس کا علاج صرف خود کو ختم کرنا ہے۔ وہ بھی ان اجالوں کے سفیروں کو خاموش دعوت دے رہا ہوتا ہے کہ آؤ مجھے پہچانو اور جذبات کی اس مردگی سے بچاؤ۔

گوہر تاج اس برادری سے تعلق رکھتی ہیں جو نہ صرف ان بے چاروں سے ہمدردی رکھتے ہیں۔ ان کا اور ان کے گھر والوں کا دکھ بٹاتے ہیں، بلکہ پابندی سے ان کے مرض اور ان کی بپتا کے بارے میں اخبار میں لکھ کر سوسائٹی کو یاد دلاتے ہیں کہ تم میں سب ہی صحت مند، سب ہی خرسند، سب ہی احتیاج سے بالا نہیں ہیں۔ ضرورت ہے کہ اپنی صحت، اپنی کمائی، اپنے وقت میں انہیں بھی ساجھی بناؤ۔

یہ کام بڑی اہمیت کا ہے۔ امریکہ اور یورپ میں کم سہی، ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے والے ملکوں میں کہیں زیادہ، جہاں نہ صرف یہ کہ سوسائٹی کی ان دکھوں سے آگاہی نہ ہونے کے برابر ہے بلکہ جتنی ہے وہ بھی غلط۔ بینائی سے محروم اور دماغی مریض کے لئے بس جی کو جلانے والے لفظ ہیں :اندھا، کانا، کھترا، ڈھینٹرا، ٹنٹا، لنگڑا، پاگل اور کچھ نہیں جس سے وہ پکارے جاتے ہیں۔ مرگی کو ہسٹیریا سمجھا جاتا ہے اور ہسٹیریا کو آسیب زدگی۔

گوہر تاج ان معذوروں اور ان کے گھر والوں سے جا کر ملتی ہے۔ وعظ نہیں سناتیں ان کی مدد کرتی ہیں، احساس دلاتی ہیں کہ کیا کیا جا سکتا ہے، کس ادارے سے رجوع کرنا چاہیے پھر ان کے حالات کو کاغذ پر منتقل کر کے چھپواتی ہیں تاکہ دوسرے بھی آگاہ ہوں کہ دکھ کیا چیز ہے اور تھوڑی بہت رقم جو اس صحافت سے ہاتھ آئے، اسے ایک ہمدرد دوست ڈاکٹر شیرشاہ سید کے غریبوں کے ہسپتال پر خرچ کر دیتی ہیں۔ شاباش ہے گوہر تاج کو، ان کے ساتھیوں شیر شاہ سید اور ڈاکٹر خالد سہیل کو جنہوں نے دکھی زندگی کو اپنی زندگی کا مقصد بنا رکھا ہے۔

اجالوں کے سفیر کے لیے دعا ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچے اور اپنے مقصد میں کامیاب ہو۔
حسن منظر، کراچی
21 نومبر 2017 ؁

Facebook Comments HS