پنجاب میں وزیرِاعلٰی پر اعتماد کے ووٹ میں پی ٹی آئی کی کامیابی: ٹال مٹول سے اعتماد کے ووٹ کے درمیان کیا بدلا؟


پرویز الہی
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں پاکستان تحریکِ انصاف اور پاکستان مسلم لیگ ق کا اتحاد اپنے وزیرِاعلٰی کے لیے اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب ہوگیا۔ وزیرِاعلٰی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کو 186 ووٹ درکار تھے، انھیں پورے 186 ووٹ ہی ملے۔

ایک ووٹ بھی کم ہوتا تو وہ اعتماد کے ووٹ میں ناکام ہوجاتے۔

اس حدف کو حاصل کرنے کے لیے پی ٹی آئی کے ایک رکن پنجاب اسمبلی حافظ عمار یاسر کو رات گئے شدید دھند میں چکوال سے سفر کر کے لاہور پہنچنا پڑا۔ یہ بھی کافی نہ ہوتا اگر ایک آزاد امیدوار اپنی حمایت پاکستان تحریکِ انصاف کے پلڑے میں نہ ڈالتے۔

تاہم صرف یہ دو نشستیں ہی نہیں، پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی پر مشتمل حزبِ اختلاف کا خیال تھا کہ حکومتی اتحاد کے اس سے زیادہ ممبران وزیرِاعلٰی کو اعتماد کا ووٹ نہیں دیں گے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ گذشتہ چند روز سے ایوان کے اندر احتجاج کرتے ہوئے بار بار وزیرِاعلٰی پنجاب کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ رہے تھے۔ بدھ کے روز بھی ایوان کی کارروائی کے آغاز ہی سے ان کا اسرار تھا کہ اعتماد کا ووٹ لیا جائے۔ 

پہلے سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان ٹالتے رہے۔ کئی مرتبہ حزبِ اختلاف کے احتجاج کے دوران بات دھکم پیل اور شدید نعرے بازی تک بھی آئی۔ تاہم اچانک رات کے ایک پہر پاکستان تحریکِ انصاف کے ممبران نے تیور بدلے اور یوں لگا کہ وہ اعتماد کا ووٹ لینے کی تیاری کر رہے ہیں۔

سپیکر پنجاب اسمبلی نے اجلاس کا وقت ایک گھنٹہ بڑھا دیا۔ حافظ عمار یاسر کے پہنچنے کا انتظار ہونے لگا۔ بدھ کی رات ختم ہونے پر بارہ بجے نیا اجلاس طلب کر کے کارروائی آگے بڑھائی گئی۔ وزیرِاعلٰی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی خود اسمبلی پہنچ گئے۔ 

اب واضح ہو چکا تھا کہ وہ اعتماد کا ووٹ لیں گے، مگر کیا ان کے نمبرز پورے تھے۔ پاکستان مسلم لیگ ن تو کہہ رہی تھی کہ پورے نہیں تھے۔ تو پرویز الٰہی اس قدر اعتماد کے ساتھ اعتماد کا ووٹ لینے کیوں پہنچ گئے؟ 

کچھ ہی دیر میں اجلاس بیٹھا، صوبائی وزرا نے اعتماد کا ووٹ لینے کی قرارداد پیش کی اور سپیکر نے ووٹ کی گنتی کے باقاعدہ آغاز کا اعلان کر دیا۔ اس بار ن لیگ کے ارکان ایک مرتبہ پھر سپیکر کے ڈیسک کا گھیراؤ کر چکے تھے۔

اب وہ کہہ رہے تھے کہ وزیراعلٰی اس وقت اعتماد کا ووٹ کیوں لے رہے ہیں۔ وہ یہ بھی مطالبہ کر رہے تھے کہ ووٹوں کی گنتی ایوان ہی کے اندر ان کے سامنے کی جائے۔ جب سپیکر نے ان کے مطالبات ماننے سے انکار کر دیا تو وہ اجلاس کی کارروائی کا بائیکاٹ کرتے ہوئے باہر چلے گئے۔

اعتماد کے ووٹ پر گنتی ہوئی، پرویز الٰہی کو 186 ممبران کا اعتماد حاصل ہوگیا۔ تاہم سوال یہ ہے کہ محض چند ہی گھنٹوں میں ایسا کیا ہوا کہ بظاہر ٹال مٹول سے کام لیتی ہوئی حکمراں جماعت اچانک اعتماد کا ووٹ لینے پر مصر ہو گئی اور اس کے لیے راتوں رات انتظامات کر لیے گئے؟ 

اور دوسری جانب ن لیگ اور حزبِ اختلاف کی جماعتوں کو اپنی ہی چال میں ناکامی کا سامنا کیوں کرنا پڑ گیا؟ جو گذشتہ چند روز سے وزیرِاعلٰی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ رہے تھے، ووٹ ہونے پر بائیکاٹ کیوں کر گئے؟

بدھ کا دن مختلف کیوں تھا؟

بدھ کے روز لاہور ہائی کورٹ میں چوہدری پرویز الٰہی کی درخواست پر سماعت ہونا تھی، جس میں انھوں نے گورنر پنجاب کی طرف سے انھیں اعتماد کا ووٹ نہ لینے پر برطرف کرنے کے خلاف اپیل کر رکھی تھی۔ 

اس روز تک چوہدری پرویز الٰہی نے اعتماد کا ووٹ نہیں لیا تھا۔ بدھ کی عدالتی کارروائی کے دوران عدالت کا مزاج اس نوعیت کا لگ رہا تھا کہ وہ پرویز الٰہی کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ سکتی ہے۔

عدالت نے وزیرِاعلٰی کے وکیل علی ظفر کو دلائل کے لیے مزید وقت دیتے ہوئے جمعرات کے روز تک کارروائی موخر کر دی تھی۔ دوسری طرف پنجاب اسمبلی کا اجلاس تاخیر کا شکار تھا۔ حزبِ اختلاف بھی شاید عدالت کے مزاج کو بھانپ چکی تھی۔ 

کئی گھنٹوں کی تاخیر سے جب اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی کا آغاز ہوا تو حزبِ اختلاف نے پوری قوت سے حکومتی صفوں پر اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے دباؤ ڈال دیا۔ مقامی صحافی رانا یاصف پریس گیلری میں موجود یہ سب دیکھ رہے تھے۔ 

وہ مقامی جریدے دی ایکسپریس ٹریبیون کے لیے پنجاب اسمبلی پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’حزبِ اختلاف گذشتہ چند روز سے ایسا ہی کر رہی تھی۔ ان کی حکمتِ عملی کچھ ایسی نظر آتی تھی کہ وہ زیادہ سے زیادہ اجلاس کی کارروائی میں خلل ڈال کر جتنا ہو سکے اس کو طویل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔‘

’سب چھوڑو، پہلے اعتماد کا ووٹ لو‘

پرویز الہی

بدھ کے روز اجلاس کی کارروائی کا آغاز ہوا تو سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے ایوان کی معمول کی کارروائی چلانے کی کوشش کی۔ تاہم وقفہ سوالات کے دوران ن لیگی اراکین نے بولنے سے مسلسل انکار کیا۔ ان کی ضد تھی کہ پہلے وزیرِاعلٰی اعتماد کا ووٹ لیں۔

حزبِ اختلاف کے رکن عثمان مخدوم نے سپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’اپوزیشن اکژیت اور حکومت اقلیت میں ہو تو سوالات جوابات کا مزہ نہیں آتا۔ حکومت سے کہیں پہلے اعتماد کا ووٹ لیں پھر کارروائی آگے بڑھے گی۔‘

اس کے ساتھ ہی حزبِ اختلاف کے بینچوں سے ’اعتماد کا ووٹ لو‘ کی تعرہ بازی شروع ہو گئی۔ چند اختلافی اراکین سپیکر کے ڈیسک کے سامنے بھی پہنچ گئے۔ ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر ہوا میں اڑائی گئیں۔ سپیکر کو انھیں کارروائی کی دھمکی دینا پڑی۔ وہ بار بار انھیں واپس نشستوں پر بیٹھنے کا کہتے رہے۔ 

ن لیگ کی ممبر راحیلہ خادم حسین نے بھی وقفہ سوال میں بات کرنے سے انکار کر دیا۔ ’گورنر وزیراعلٰی پر عدم اعتماد کر چکے ہیں، سب کچھ چھوڑیں اور گزارش ہے کہ پہلے اعتماد کا ووٹ لیں۔‘ 

اس تمام کارروائی کے دوران ن لیگ کے سینیئر رہنما اور وفاقی وزیرِ داخلہ رانا ثنا اللہ گیلری میں بیٹھے یہ تمام کارروائی دیکھ رہے تھے۔

اس وقت تک سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان حزبِ اختلاف کے اراکین کو محض سمجھا بجھا کر مطمئن کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ’اگر عدالت نے کہا تو حکومت اعتماد کا ووٹ ضرور لے گی۔ ووٹ لے گی تو ہی چلے گی، آپ وہم نہ کریں۔ فی الحال وزیرِاعلٰی بھی ہے اور کابینہ بھی تو کام ٹھیک چل رہا ہے۔‘

تب تک انھوں نے یہ عندیہ نہیں دیا تھا کہ اسی روز حکومت اعتماد کا ووٹ لینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ حزبِ اختلاف کو بھی شاید لگ رہا تھا کہ ایسا نہیں ہو گا۔

پہلے ’اعتماد کا ووٹ لو‘ کی ضد

مقامی صحافی رانا یاصف بتاتے ہیں کہ اسی تمام نعرے بازی، دھکم پیل اور ایک دوسرے کے خلاف جارحانہ بیانات کے درمیان انھوں نے حکومتی صفوں میں ایک تبدیلی دیکھی۔ 

’وہ اچانک بہت منظّم سے نظر آنے شروع ہو گئے۔ ان کی خواتین اراکین بھی ہال میں آ کر بیٹھ گئیں، کچھ لوگ اپنے ہر ممبر کی حرکات و سکنات کو دیکھنا شروع ہو گئے، انھیں کہہ رہے تھے آپ کہاں جا رہے ہیں، یہاں بیٹھیں۔ وہ اپنے موبائل فونز پر تمام ممبران کی ویڈیو بنا رہے تھے۔‘

رانا یاصف کہتے ہیں کہ اس سے انھیں اندازہ ہوا کہ حکومتی اراکین وزیرِاعلٰی کے ووٹ کے انتظامات کر رہے تھے۔ ان کے خیال میں اس وقت ن لیگ کی صفوں میں بھی کچھ بے چینی نظر آئی۔ تاہم انھیں اس وقت یقین ہو گیا جب رات گیارہ بجے سے قبل وزیرِاعلٰی چوہدری پرویز الٰہی خود اسمبلی پہنچ گئے۔

رانا یاصف کے مطابق اب کوئی شک نہیں رہ گیا تھا کہ حکومت وزیراعلٰی کے لیے اعتماد کے ووٹ کا انتظام کر رہی تھی۔ ان کے مطابق اس وقت تک ن لیگ انھیں پر زور طریقے سے ’اعتماد کا ووٹ لو‘ کا کہہ رہی تھی۔

کچھ ہی دیر گزرنے پر پرویز الٰہی نے ق لیگ اور پی ٹی آئی کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت کی۔ سپیکر نے اجلاس کا پہلے وقت بڑھایا اور پھر بارہ بجنے پر پرانا اجلاس ختم کر کے نیا اجلاس بلا لیا۔ 

صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال نے وزیراعلٰی کو اعتماد کا ووٹ لینے کی قرارداد پیش کی اور پھر وہی ہوا جس کا حزبِ اختلاف مسلسل مطالبہ کر رہی تھی یعنی اعتماد کا ووٹ لینے کی کارروائی کا آغاز ہوا۔ 

لیکن اس مرتبہ حزبِ اختلاف اس کو رکوانے کے لیے متحرک ہو گئی۔ انھوں نے سپیکر کی طرف سے ووٹ کے طریقہ کار پر اعتراض کی کوشش کی۔ سپیکر نے کہا یہی قواعد کے مطابق ہے، یعنی ووٹ دینے والے ممبران گیلریوں میں جائیں گے۔ 

رانا یاصف بتاتے ہیں کہ چند لیگی کارکنان اس وقت سپیکر کے ڈائیس کے سامنے پہنچ گئے ’اور انھوں نے سرکاری کاغذات کو اٹھا اٹھا کر پھینکنا شروع کر دیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ووٹنگ ہال کے اندر ہو۔ وہ یہ بھی کہہ رہے تھے کہ اب بہت رات ہو چکی ہے۔ نیا اجلاس کیوں بلایا گیا۔ تاہم بظاہر سب کچھ قواعد کے عین مطابق ہوا۔‘ 

اعتماد کا ووٹ کامیاب ہونے پر الزامات

جب حزبِ اختلاف کو نظر آیا کہ سپیکر ان کی بات سننے کو تیار نہیں تھے اور کارروائی کو آگے بڑھا رہے تھے تو انھوں نے کارروائی کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا۔ ن لیگ اور حزبِ اختلاف کے تمام اراکین اٹھ کر نعرے بازی کرتے ہوئے ایوان سے باہر چلے گئے۔ 

اسمبلی ہال کے باہر مقامی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر رانا ثنا اللہ، وفاقی مشیرِ داخلہ عطا تارڑ، لیگی رہنما ملک احمد خان اور دیگر نے الزام عائد کیا کہ ’جس طریقے سے اعتماد کا ووٹ لیا گیا وہ غیر آئینی تھا۔ حکومت کے پاس نمبر پورے نہیں ہیں، وہ دھاندلی سے 186 پورے کر رہی ہے۔‘

تاہم وہ یہ ثابت نہیں کر پائے کہ یہ مبینہ دھاندلی کیسے کی گئی۔ ساتھ ہی ن لیگ کے رہنماؤں نے یہ توجیح بھی پیش کی کہ ’لاہور ہائی کورٹ کی طرف گورنر کا وہ حکم نامہ جس کے تحت وزیرِاعلٰی کو اعتماد کا ووٹ لینا تھا، وہ معطل ہے تو ایسے میں وزیرِاعلٰی اعتماد کا ووٹ کیسے لے سکتے ہیں۔‘

ن لیگ کے رہنماؤں کی طرف سے یہ دعوٰی بھی کیا گیا کہ وہ جمعرات کے روز اس ’غیر آئینی‘ طریقے سے ووٹ کے خلاف عدالت کو آگاہ کریں گے اور یہ کہ مبینہ دھاندلی ثابت کرنے کے لیے ان کے پاس ثبوت ہیں۔

تاہم جمعرات کے روز جب لاہور ہائی کورٹ نے درخواست نمٹا دی تو اس سے پہلے تک ن لیگ کی طرف سے عدالت سے رجوع نہیں کیا گیا۔ جبکہ عدالت نے درخواست کو اسی وقت نمٹایا جب گورنر نے باظابطہ طور پر عدالت کو اپنا نوٹیفیکیشن واپس لینے کا بتایا۔ 

پرویز الہی

ٹال مٹول سے اعتماد کے ووٹ کے درمیان کیا بدلا؟

صحافی رانا یاصف کا خیال ہے کہ ان کی اطلاعات کے مطابق ’پی ٹی آئی کے وکلا بدھ کے روز کی کارروائی کے بعد انھیں بتا چکے تھے کہ کسی نہ کسی موقعے پر عدالت وزیرِاعلٰی کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہے گی اس لیے بہتر ہے کہ جلد از جلد ایسا کر لیا جائے۔‘

وہ سمجھتے ہیں کہ یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی نے راتوں رات ووٹ لینے کا فیصلہ کیا۔ ’ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اسی روز ان کے پاس 186 کا نمبر پورا ہو رہا تھا۔ بس انھیں انتظار تھا کہ حافظ عمار یاسر پہنچ جائیں جن کے لیے موٹروے دھند کے باوجود کھلوائی گئی۔‘

یاد رہے کہ اس سے قبل پی ٹی آئی کی ایک خاتون رکن مومنہ وحید برملا کہہ چکی تھیں کہ وہ وزیرِاعلٰی کو اعتماد کا ووٹ نہیں دیں گی۔ پی ٹی آئی کی جانب سے خواتین کے لیے مختص سیٹ پر ایک رکن کے بارے میں بھی شکوک و شبہات تھے کہ آیا وہ ووٹ دیں گی۔ 

اس سے قبل پی ٹی آئی کے رکن اور سابق ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری پہلے ہی وفاداری تبدیل کر چکے تھے۔ جبکہ حزبِ اختلاف کا دعوٰی تھا کہ پی ٹی آئی اور ق لیگ کے کئی اور اراکین بھی ان سے ناخوش تھے۔ 

تاہم رانا یاصف بتاتے ہیں کہ جب ایک آزاد امیدوار اور خواتین کی مخصوس نشست پر ایم پی اے نے بھی ووٹ دینے کا یقین دلایا تو پی ٹی آئی کے پاس 186 کا نمبر پورا ہو رہا تھا۔ ’اس لیے انھوں نے اسی روز اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ کیا۔‘

حزبِ اختلاف کو کئی ممبران کے ’عدم اعتماد‘ کا یقین کیوں تھا؟

صحافی اور تجزیہ کار سلمان غنی سمجھتے ہیں کہ وزیرِاعلٰی ک واعتماد کا ووٹ لینے میں کامیابی ’ایک طرح سے ن لیگ اور حزبِ اختلاف کی شکست ہے۔‘ تاہم وہ کہتے ہیں کہ ن لیگ کو یہ اطلاعات تھیں کہ ق لیگ اور پی ٹی آئی کے چند اراکین اپنی جماعتوں سے خوش نہیں تھے۔ 

ان کے خیال میں اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کی جماعت پنجاب اسمبلی تحلیل کرے۔ تو پھر انھوں نے وزیرِاعلٰی کو اعتماد کا ووٹ دینے کی یقین دہانی کیوں کروائی؟

اس کے جواب میں سلمان غنی سمجھتے ہیں کہ ’اس کی وجہ یہ نظر آتی ہے کہ وہ اس قانون سے خوفزدہ تھے جس کے تحت اگر وہ پارٹی پالیسی کے مخالف ووٹ کرتے تو نااہل ہو سکتے تھے۔ وہ اس سے ڈر گئے۔‘

تاہم سلمان غنی کے مطابق دوسری طرف ن لیگ کا مقصد بھی وزیرِاعلٰی چوہدری پرویز الٰہی کو ہٹانا نہیں رہا۔ وہ محض اسمبلی کی تحلیل کو روکنا چاہتے تھے۔ تاہم کیا اب وہ ان کو اسمبلی تحلیل کرنے سے روک پائیں گے؟

سلمان غنی سمجھتے ہیں کہ چوہدری پرویز الٰہی کہہ ضرور رہے ہیں تاہم وہ اسمبلی فوری طور پر تحلیل نہیں کریں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ پرویز الٰہی ’مضبوط حلقوں کے امیدوار ہیں، وہ کبھی بھی سابق وزیرِاعظم عمران خان کے امیدوار نہیں تھے اور وہ ان کی مرضی کے مطابق اسمبلی تحلیل نہیں کریں گے۔‘ 

سلمان غنی سمجھتے ہیں کہ ’جو چوہدری پرویز الٰہی کو وزیرِاعلٰی لے کر آئے، انھوں نے ہی بچایا بھی ہے۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 27652 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments