سابق آرمی چیف کا ٹیکس ریکارڈ لیک ہونے کا معاملہ: صحافی شاہد اسلم دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے


سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ان کے اہلِخانہ کے ٹیکس ریکارڈز کی معلومات لیک کرنے کے الزام میں گرفتار صحافی شاہد اسلم کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

ایف آئی اے نے صحافی شاہد اسلم کو ایف بی آر سے سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ان کے اہلخانہ سے متعلق ٹیکس معلومات حاصل کر کے اسے تحقیقاتی جریدے فیکٹ فوکس سے منسلک صحافی احمد نورانی کو بھیجنے کے الزام میں گذشتہ روز گرفتار کیا تھا۔

خیال رہے کہ فیکٹ فوکس کے صحافی احمد نورانی کی رپورٹ میں جنرل قمر جاوید باجوہ اور ان کے اہلِخانہ کے اثاثوں میں مبینہ اضافے کی معلومات پر تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ شائع کی گئی تھی۔ آئی ایس پی نے بعدازاں فیکٹ فوکس میں شائع ہونے والے اعداد وشمار کی تردید کی تھی۔

شاہد اسلم کو جب آج اسلام آباد میں جج عمر شبیر کی عدالت میں پیش کیا گیا تو اس سے قبل صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ڈیٹا تو ہر صحافی کے پاس ہوتا ہے، اس کے بغیر صحافت نہیں ہو سکتی لیکن میں نے یہ کسی کو منتقل نہیں کیا۔‘

اس کیس کی سماعت کے دوران پراسیکیوٹر نے دعویٰ کیا کہ شاہد اسلم کو ایف بی آر سے معلومات مل رہی تھیں جو وہ صحافی احمد نورانی کو دے رہے تھے۔

پراسیکیوشن کی جانب سے مزید تفتیش کے لیے صحافی شاہد اسلم کے سات روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی ہے جس پر عدالت نے انھیں دو روزہ ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ ایف آئی اے کی جانب سے اس حوالے سے اس سے قبل ایف بی آر کے چند اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی اور ان اہلکاروں سے تفتیش کی جا رہی ہے جبکہ اسی ضمن میں صحافی شاہد اسلم کو شاملِ تفتیش کیا گیا ہے۔

ایف بی آر کے ان اہلکاروں میں لاہور کے ریجنل ٹیکس آفس کے سپروائزر ارشد علی قریشی، سپروائزر کارپوریٹ ٹیکس آفس شہزاد نیاز اور یو ڈی سی آر ٹی او لاہور محمد عدیل اشرف شامل ہیں جن پر یہ الزام ہے کہ انھوں نے یہ تفصیلات ’غیر متعلقہ افراد کو منتقل کی تھیں۔‘

ایف آئی آر میں یہ تفصیل بھی درج کی گئی ہے کہ شہزاد نیاز نے جنرل قمر جاوید باجوہ اور ان کی اہلیہ کے ٹیکس ریکارڈ تک رسائی حاصل کی اور پھر اسے ارشد علی قریشی سے شیئر کیا۔ جبکہ عدیل اشرف نے سابق آرمی چیف کی بہو ماہ نور صابر کے ٹیکس ریکارڈ تک رسائی حاصل کی اور اسے ارشد علی قریشی کے ذریعے شہزاد نیاز سے شیئر کیا اور پھر اسے غیر متعلقہ افراد سے بھی شیئر کیا۔

تاہم پراسیکیوشن کی جانب سے آج عدالت کے سامنے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ موصول ہونے والی یہ معلومات صحافی شاہد اسلم کو فراہم کی گئی تھیں۔

bajwa and wife

سماعت کے دوران کیا ہوا؟

صحافی شاہد اسلم بول نیوز کے ساتھ منسلک ہیں لیکن وہ کئی سالوں سے بطور رپورٹر کام کر رہے ہیں۔ ان کی کئی تحقیقاتی رپورٹس بی بی سی اردو پر بھی شائع ہو چکی ہیں۔

شاہد اسلم نے عدالت کو بتایا کہ ’میں ایف بی آر کئی عرصے سے کوور کر رہا ہوں اور میں صحافی ہوں، اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری جانتا ہوں۔‘

انھوں نے عدالت کو بتایا کہ ’میرے خلاف کوئی ثبوت نہیں اور نہ ہی میں نے کوئی غیر قانونی کام کیا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں نے کوئی ڈیٹا سابق چیف آف آرمی سٹاف کے بارے میں کسی کو ٹرانسفر نہیں کیا۔‘

دوسری جانب اس مقدمے کے پراسیکوٹر نے دورانِ سماعت بات کرتے ہوئے سوال کیا کہ ’شاہد اسلم اپنے لیپ ٹاپ اور موبائل کا پاسورڈ کیوں نہیں دے رہے؟‘

جس پر اس مقدمے کی سماعت کرنے والے جج نے ریمارکس دیے کہ بطور صحافی انفارمیشن لینا غلط تو نہیں۔

پراسیکوٹر  نے دعویٰ کیا کہ ’ایف بی آر کی انفارمیشن لیک کرنے والے ملزمان نے شاہد اسلم کا بار بار نام لیا ہے۔‘

دوسری جانب ملزم کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’سب سے  پہلے عدالت اس بات کا تعین کرے کہ شاہد اسلم کو گرفتار ٹھیک طریقے کار سے کیا بھی گیا ہے یا نہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اگر شاہد اسلم کو غلط گرفتار کیا گیا تو یہ اغوا کا کیس ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہنا تھا کہ کیا ’کیس میں ملزمان کے بیان کو مصدقہ قرار دیا جا سکتا ہے؟ ملزم کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’شاہد اسلم کو محض بیان کی بنیاد پر گرفتار کرنا بالکل غلط ہے۔‘

شاہد اسلم کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’اگر ایف آئی اے کے پاس کوئی ثبوت ہے تو عدالت کے سامنے پیش کرے۔‘ انھوں کے کہا کہ ’شاہد اسلم پر لگائی گئی چاروں دفعات نہیں بنتیں، شک کی بنیاد پر گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔‘

معاملہ شروع کہاں سے ہوا تھا؟

گذشتہ برس نومبر میں تحقیقاتی جریدے فیکٹ فوکس کی جانب سے اس وقت کے حاضر سروس آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے خاندان کی اثاثوں میں مبینہ اضافے کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ شائع کی تھی۔

اس تحریر میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے آرمی چیف کے عہدے پر تعینات ہونے کے بعد سے ان کی اہلیہ اور بہو کے اثاثوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا تھا۔

صحافی احمد نورانی کی اس تحریر کے شائع ہونے کے بعد وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اس کا نوٹس لیتے ہوئے 24 گھنٹوں میں ذمہ داروں کا تعین کرنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ ٹیکس ریکارڈ لیک ہونا ٹیکس قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔

اس کے بعد آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ’آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ان کے خاندان کے اثاثوں سے متعلق سوشل میڈیا پر گمراہ کن اعداد و شمار شیئر کیے گئے۔

آئی ایس پی آر کے بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ایک خاص گروپ نے نہایت چالاکی و بد دیانتی سےاثاثوں کو منسوب کیا ہے، یہ سراسر غلط تاثر دیا جا رہا ہے کہ یہ اثاثے آرمی چیف کے چھ سالہ دور میں ان کے سمدھی کی فیملی نے بنائے۔‘

اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ’جنرل باجوہ، ان کی اہلیہ اور خاندان کا ہر اثاثہ ایف بی آر میں باقاعدہ ڈکلیئرڈ ہے۔

bajwa

کیا موبائل، لیپ ٹاپ کا پاسورڈ مانگنا قانونی عمل ہے؟

آج عدالت میں پراسیکیوشن کی جانب سے شاہد اسلم سے پاسورڈ لینے کی استدعا بار بار کی جاتی رہی جس کے بعد دیگر صحافیوں نے عدالت کو بتایا کہ کسی صحافی کا پاسورڈ یا معلومات حاصل کرنا اصولی طور پر غلط عمل ہے کیونکہ صحافی ایک وقت میں متعدد سٹوریز پر کام کر رہا ہوتا ہے اور پاسورڈ شیئر کرنے سے بہت سے افراد اور رپورٹرز کے ذرائع کو خطرہ پہنچ سکتا ہے۔

سائبر ایکٹ کے تحت درج مقدمات کی پیروی کرنے والے وکیل عادل عزیز کا کہنا ہے کہ پیکا ایکٹ کے تحت اگر کسی شخص کو گرفتار کیا جاتا ہے تو وہ تفتیش کے دوران تفتیشی افسر سے تعاون کرنے اور ملزم کے زیر استعمال ڈیوائسیز جن میں موبائل اور لیپ ٹاپ بھی شامل ہے کی معلومات دینے کا پابند ہے۔

انھوں نے کہا کہ حقائق تک پہنچنے کے لیے تفتیشی افسر کو ملزم کے زیر استعمال ڈیوائسز میں اس مواد تک پہنچنے کے لیے پاس ورڈ درکار ہو گا جس کے تحت کسی شخص پر الزام عائد کیا گیا ہے۔

عادل عزیز کا کہنا تھا کہ ’صحافی شاہد اسلم کی گرفتاری آزادی صحافت پر حملہ ضرور ہے لیکن معاملے کی تحقیقات کے لیے ملزم کو تفتیش میں تعاون کرنا ہو گا۔‘

انھوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق حکمران جماعت ہاکستان تحریک انصاف کی طرف سے پیکا ایکٹ میں ترمیم کو کالعدم قرار دیا تھا اور اگر ایسا نہ ہوتا تو آج ہر خبر پر جس سے حکومت وقت ناراض ہوتی ہو صحافیوں پر مقدمات کی بھرمار ہوتی۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 27680 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments