سیاسی انا اور سیاسی بقا کے درمیان پھنسی پاکستانی قوم
پاکستان میں رونما ہونے والے سیاسی حالات نہ تو ملکی سیاست و جمہوریت کے لئے اچھے ہیں اور نہ ہی بدنظمی اور بے یقینی کی موجودہ صورت حال میں معیشت کے لئے بہتری کا کوئی راستہ تلاش کیا جاسکتا ہے۔ ملکی سیاسی قیادت ہوشمند ہوتی تو احتجاج، انتخابات، استعفے دینے اور اسمبلیاں توڑنے جیسے ہتھکنڈے اختیار کرنے کی بجائے مل جل کر قومی دانش کا کوئی ایسا راستہ تلاش کیا جاتا جو سب سے پہلے ملک کو غیر معمولی معاشی دباؤ سے نجات دلا سکتا اور اس کے بعد عوام کے لئے سہولت کا کوئی انتظام ممکن ہوتا۔
البتہ اس وقت ایک طرف سیاسی انا کا معاملہ ہے تو دوسری طرف سیاسی بقا کا مرحلہ درپیش ہے۔ عمران خان کو شدید غلط فہمی ہے کہ وہ فوری انتخابات کی صورت میں ملک کو ’فتح‘ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جبکہ شہباز حکومت کو اسی حد تک یقین ہے کہ اگر موجودہ مہنگائی اور عوام کی مایوسی کے ماحول میں انہوں نے انتخابات کا سامنا کیا تو رہی سہی ’عزت سادات‘ بھی خاک میں مل جائے گی۔ لیکن اس کے ساتھ ہی شہباز شریف سے یہ سوال تو کیا جاسکتا ہے کہ جب انہیں نہ تو اپنی ہی پارٹی پر اختیار ہے اور نہ وہ حکومتی معاملات میں فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں تو وہ کس برتے پر قوم و ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کا راستہ تلاش کر کے آئندہ چند ماہ کے بعد مسلم لیگ (ن) کو سرخرو کرسکیں گے اور انتخابات جیت کر عمران خان پر ثابت کر سکیں گے کہ ان ہی کی پارٹی درحقیقت ملک پر حکومت کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔
یہ ایک سادہ اور عام فہم کا معاملہ ہے کہ اگر کسی گھر میں معاشی حالات خراب ہوں۔ باہر سے لیا ہوا قرضہ بہت زیادہ ہو اور وعدے کے مطابق اس کی ادائیگی کا بند و بست کرنے کا اہتمام کرنا مشکل ہو رہا ہو۔ اس کے علاوہ گونا گوں مصائب کی وجہ سے جن میں بیروزگاری، کاروبار میں خسارہ، خراب فصل یا گھرمیں علالت جیسی کوئی بھی صورت حال موجود ہو تو اس گھر کا سربراہ اور سارے ذمہ دار کیا کریں گے؟ کیا وہ ایک دوسرے کو ان مسائل کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریبان ہوں گے اور محلے والے ان احمقوں کا تماشا دیکھ کر ٹھٹھا اڑائیں گے۔ یا پھر وہ ایک خاندان کا فرد ہونے کے ناتے مل بیٹھ کر یہ سوچنے کی کوشش کریں گے کہ اس مشکل سے کیسے نکلا جائے؟
ظاہر ہے کہ کوئی بھی معقول خاندان ایسے موقع پر باہمی اختلافات بھلا کر سر جوڑ کر بیٹھے گا۔ ایسے موقع پر یہ تکرار کرنے کی کوشش نہیں کی جائے گی کہ کون نالائق ہے؟ جسے نوکری نہیں ملتی، یا کس کی حماقت کی وجہ سے کاروبار میں خسارہ ہو گیا یا فصل تباہ ہوئی بلکہ وہ ان باتوں کو فراموش کر کے یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ ان حالات سے کیسے باہر نکلا جاسکتا ہے۔ یعنی اتفاق رائے سے پیدا کیا گیا باہمی اتفاق اور خیر سگالی مشکل میں گھرے ہوئے کسی بھی خاندان کے لئے اہم ترین بنیاد ہوگی۔
اس کے بعد یہ جائزہ لیا جائے گا کہ قرض خواہوں کی ادائیگی کرنے کے لئے کن دوستوں یا ہمسایوں سے مدد مانگی جا سکتی ہے۔ ظاہر ہے کہ کسی محلے یا بستی میں آباد کوئی خاندان اس سماج کا حصہ ہوتا ہے اور وہاں اگر ان کے بدخواہ ہوتے ہیں تو خیر خواہوں کی بھی کمی نہیں ہوتی۔ البتہ یہ خیر خواہ بھی اسی وقت امداد کرنے کے لئے قدم آگے بڑھاتے ہیں جب مشکل میں گھرا کوئی خاندان سر پھٹول میں مشغول ہونے کی بجائے ایک سربراہ کی سرکردگی میں متفقہ طور سے کوئی حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔
قرض کی ادائیگی کا انتظام کرنے کے بعد دوسرا کام یہ ہو گا کہ گھر کے مصارف کیسے پورے کیے جائیں گے۔ ایسے میں ایک تو سب اہل خاندان اپنی جمع پونجی اس مشکل وقت کے لئے سامنے لائیں گے پھر یہ دیکھا جائے گا کہ طرز زندگی کو تبدیل کرنے اور پیٹ بھرنے کے لئے کم از کم مصارف پر گزارا کرنے کی ترکیب کی جائے۔ مثال کے طور پر اگر ہفتہ میں دو بار گوشت پکایا جاتا تھا تو اسے ایک بار کر دیا جائے، اگر سبزیاں مہنگی ہیں تو دال پر گزارا کر لیا جائے، اگر تین وقت کھانے کا رواج ہے تو دو وقت روٹی کھانا معمول بنایا جائے اور اس دوران تمام لوگ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے خاندان کی آمدنی میں اضافہ کی کوشش کریں۔ یوں قرض چکانے کے علاوہ معیار زندگی کو واپس پرانی سطح پر لانے کا اہتمام کیا جائے۔
اب اس سادہ سی عام فہم مثال کی روشنی میں پاکستان کو ایک خاندان سمجھتے ہوئے صورت حال سمجھنے کی کوشش کی جائے تو عام عقل کا انسان بھی یہ سمجھ سکتا ہے کہ اپنے سب سے بڑے دشمن ہم خود ہی ہیں۔ سب ایک دوسرے کو احمق، بے ایمان، ناعاقبت اندیش اور ملک کا دشمن قرار دے کر یہ دعویٰ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس قوم کو مشکل سے نکالنے کا راستہ بس اسی کے پاس ہے۔ اور یہ ’میں‘ کو مسلط کرنے کے لئے کون سا راستہ اختیار کیا جا رہا ہے؟ ایک تو یہ کہ اسمبلیاں توڑ دی جائیں اور فوج و عدلیہ سے کہا جائے، اب آگے بڑھو اور حق و سچائی کو پہچانو اور ہماری مدد کرو کیوں کہ یہی درحقیقت قوم کو معراج تک پہنچانے کا راستہ ہے۔
ملک کے حالات پر غور کرتے ہوئے اگر اسمبلیاں توڑنے یا استعفے دے کر ضمنی انتخابات کی عیاشی پر اصرار جیسے معاملات پر معمولی عقل و شعور سے غور کرنے کی کوشش کی جائے اور اس کا مقابلہ مشکلات میں گھرے خاندان کی مثال سے کیا جائے تو یہ طریقے بالکل ویسے ہی ہیں کہ پورا خاندان دیوالیہ ہونے کے قریب ہو، روٹی پکانے کے لئے گھر میں آٹا نہ ہو اور گھر کے دو اہم فرد اس بات پر ایک دوسرے کا گریبان پکڑے کھڑے ہوں کہ یہ مسئلے تب ہی حل ہوں گے جب اس کی شادی کردی جائے۔ پھر دیکھنا گھر میں کیسی برکت آئے گی؟ ذرا سوچئے کہ ایسی بحث کرنے والے خاندان کی مدد کے لئے کوئی بھی ہمسایہ یا دوست آگے بڑھے گا یا ان احمقوں کی عقل پر ماتم کر کے اپنے گھر کی راہ لے گا؟
دوسری طرف قومی ضرورتوں کو سیاسی مجبوریوں پر ترجیح دینے والی حکومت کا یہ حال ہے کہ اس کے ماہر وزیر خزانہ کو ابھی تک یہی معلوم نہیں ہوسکا کہ ملکی معیشت میں مسلسل کیوں گراوٹ ہے۔ دنیا اور دوست ممالک معاشی استحکام کے لئے جو ضمانتیں چاہتے ہیں، وہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کے ذریعے ہی پوری ہو سکتی ہیں لیکن ایک طرف اسی آئی ایم ایف کو ’ولن‘ بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور دوسری طرف خود کسی سپر مین کا کاسٹیوم پہن کر عوام کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ٹارزن میدان میں اتر آیا ہے، اب نہ تو آئی ایم ایف اور نہ ہی دوسرے ادارے اس کے مقابلے میں چوں کرنے کا حوصلہ کر سکتے ہیں۔ جانا جاسکتا ہے کہ ایسی حرکتوں سے خود کو بے وقوف بنانے کے علاوہ کوئی مقصد حاصل نہیں کیا جاسکتا۔
وزیر خزانہ نے ایک بار پھر پیٹرولیم کی مصنوعات میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور روپے کو مارکیٹ ریٹ کے مطابق قیمت تعین کرنے کے لئے آزاد چھوڑنے سے گریز کیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف آئی ایم ایف انہی دو اقدامات پر زور دے رہا ہے۔ اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ کیا عالمی مالیاتی ادارے کو پاکستانی عوام سے کوئی خاص دشمنی ہے؟ نہیں اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ پاکستان کی قومی آمدنی اس کے معلوم اخراجات سے بہت زیادہ ہے۔ آئی ایم ایف اگر ملک کو سرمایہ دے گا تو وہ معاشی اصلاحات کا مطالبہ بھی کرے گا۔ دیکھا جائے تو طویل المدت تناظر میں یہ فیصلے معیشت کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرتے ہیں۔ بالکل ویسے ہی جیسے مشکل میں گھرا ہوا ایک خاندان فوری مسائل سے نمٹنے کے لئے سخت فیصلے کرتا ہے، پھر سب اہل خانہ مل کر گھر کی آمدنی بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ پاکستانی حکام اور اپوزیشن یہ سادہ سا اصول بھی سمجھنے پر تیار نہیں ہے۔
عمران خان کو حکومت نالائق دکھائی دیتی ہے کیوں کہ وہ آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے میں ناکام ہو رہی ہے۔ اسحاق ڈار کو مشکل فیصلے کرنے میں اپنی موت دکھائی دیتی ہے کہ پنجاب میں انتخابات کی صورت میں مشکل سیاسی فیصلوں سے عام گھر داری کا بجٹ زیر بار ہو گا اور وہ اس کا غصہ حکومت پر نکالیں گے۔ شہباز حکومت کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ وہ قومی مفادات کے لئے سیاسی مقبولیت کو داؤ پر لگا رہی ہے۔ حکومت کے فیصلے اس کے برعکس ہیں لیکن نامکمل ہیں۔ اس لئے نہ تو عوام کا مالی بوجھ کم ہوتا ہے اور نہ ہی قومی خزانہ میں ڈالروں کی آمد شروع ہو رہی ہے۔ حکومت یا اپوزیشن دونوں میں سے عوام کو یہ کوئی نہیں بتائے گا کہ انتخابات کے بعد جو بھی اقتدار میں آئے گا، اسے یہی مشکل فیصلے کرنے پڑیں گے۔
سارا قضیہ انتخاب اور اس میں برتری حاصل کرنے کا ہے۔ ایسے میں قومی مفاد اور عوام دوستی کے سب دعوے گمراہ کن اور جھوٹے ہیں۔ اگر یہ سیاست دان ملک سے مخلص ہوتے تو ایک دوسرے کا گریبان پکڑنے کی بجائے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر مسائل سے نکلنے کی کوشش کرتے۔

