فوج کے سوچنے اور کرنے کے چند کام


تحریک انصاف کے لیڈروں کی طرف سے سیاست میں اسٹبلشمنٹ کی مسلسل مداخلت کے الزامات کو اگر ’سیاسی اسٹنٹ‘ قرار دے کر نظرانداز کر بھی دیا جائے تو بھی ملک کے موجودہ حالات، سیاست میں فوج کے کردار اور حکومت کے ساتھ اس کی ساجھے داری جیسے معاملات پر متعدد سوالات جواب طلب ہیں۔

اب یہ تسلیم کرنے میں مضائقہ نہیں ہونا چاہیے کہ ملک اب ہر طرف سے بے یقینی کی صورت حال کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس لئے مناسب ہو گا کہ فوج ملک کا سب سے طاقت ور، منظم اور باوسیلہ ادارہ ہونے کی حیثیت میں موجودہ صورت حال پر اپنی پوزیشن واضح کرے تاکہ دھندلی تصویر واضح طور سے دکھائی دے، الزامات سے پیدا ہونے والے شبہات دور ہوں اور یہ جانا جا سکے کہ فوج بھی ملک کو درپیش مسائل سے آگاہ ہے اور اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے مجاز اداروں کے ساتھ مناسب تعاون کر کے انہیں حل کرنے میں کردار ادا کرنا چاہتی ہے۔

یہ حقیقت بھی اب کوئی راز نہیں ہے کہ پاکستان کو اس وقت سب سے بڑا اندیشہ معاشی انحطاط، اقتصادی زوال پذیری اور پیداواری صلاحیت میں شدید کمی کی وجہ سے پیدا ہونے والے بحران سے لاحق ہے۔ ہر لمحہ ڈیفالٹ کا اندیشہ موجود ہے۔ ملک کے ڈیفالٹ کرنے کی باتوں کو اگرچہ سیاسی مقابلے بازی میں ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرنا شعار بنالیا گیا ہے لیکن معاشی ماہرین اس قسم کی ناکامی سے پیدا ہونے والے حالات کے بارے میں متنبہ کرتے رہتے ہیں۔ ان اندیشوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ بیان کرنا مبالغہ آرائی نہیں ہوگی کہ اگر ملک خدانخواستہ کسی مرحلہ پر ساورن ڈیفالٹ کی طرف بڑھتا ہے یعنی ریاست پاکستان خزانہ خالی ہونے کی وجہ سے واجب الادا قرض کی اقساط ادا کرنے میں ناکام رہتی ہے تو یہ سلسلہ کسی ایک ادائیگی کے مؤخر ہونے پر رک نہیں جائے گا بلکہ اس سے پیدا ہونے والے حالات کے اثرات پوری ملکی معیشت پر اثر انداز ہوں گے۔

گو کہ ان حالات میں غریبوں اور کم وسیلہ طبقات کی زندگی اجیرن ہو جائے گی، اشیائے صرف کی قلت پیدا ہوگی، ملکی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے اجناس کی درآمد بند ہو جائے گی اور ملک عمومی طور سے ایک بڑے معاشی اور سماجی بحران کا سامنا کرے گا۔ اس بحران کے صرف سیاسی اثرات ہی نہیں ہوں بلکہ پورا سماج ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گا اور ایسے حالات جنم لے سکتے ہیں جن پر قابو پانا کسی بھی انتظامیہ یا ادارے کے بس میں نہ رہے۔ انارکی و انتشار کے ایسے ہی حالات میں ممالک خانہ جنگی کا شکار ہوتے ہیں یا ان کی سالمیت کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔

فوج چونکہ اس ملک کا سب سے طاقت ور ادارہ ہے اور اسے مستحکم اور مضبوط رکھنے کے لئے قومی بجٹ کا بڑا حصہ صرف کیا جاتا ہے، اس لئے یہ قیاس کر لینا نامکمل اور ناقص تجزیہ ہو گا کہ ملکی معاشی مسائل میں اضافہ سے صرف عوام مشکلات کا سامنا کریں گے یا محض سیاست دانوں کو ہی اس کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کے نتیجہ میں بعض لیڈروں کی سیاست ختم ہو جائے گی اور بعض دوسرے لیڈروں کو اس بحران میں خود اپنی جگہ بنانے کا موقع مل جائے گا۔ ڈیفالٹ کی صورت حال تو انتہائی معاملہ ہے جس میں بہت کچھ تہ و بالا ہو سکتا ہے لیکن اس خطرناک مرحلہ سے بچنے کے لئے جو اقدامات کرنے کی ضرورت درپیش ہے، ان کے نتیجہ میں بھی عوام کے علاوہ سیاست دانوں، فوج جیسے اداروں اور ملک کے دولت مندوں کو بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔

گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ خواہ ڈیفالٹ کی صورت ہو یا آئی ایم ایف جیسے ادارے کی شرائط کو نافذ کرنے کا معاملہ ہو، اس کا براہ راست اثر پاک فوج پر بھی مرتب ہو گا۔ اس لئے ضروری ہو گا کہ فوجی قیادت ان معاملات پر نہ صرف اپنے اندرونی فورمز پر مباحث کرے اور کچھ نتائج اخذ کرے بلکہ انہیں عوام کی تفہیم کے لئے سامنے بھی لایا جائے تاکہ پاکستانی لوگوں اور قرض دینے والے اداروں و ممالک کو بھی اندازہ ہو سکے کہ پاکستانی فوج ملکی معیشت پر بوجھ نہیں بننا چاہتی بلکہ موجودہ معاشی بحران میں اس بوجھ کو بانٹنے کے لئے مثبت اور موثر کردار ادا کرنا چاہتی ہے۔

فوجی قیادت معاشی اصلاح کے عمل میں متعدد عملی اقدامات کر سکتی ہے۔ تاہم ان کا تذکرہ کرنے سے پہلے ان بنیادی اصولوں پر بات کرنا اہم ہو گا جن کی وجہ سے فوج کو پاکستانی معاشرے میں دیگر جمہوری ممالک کے مقابلے میں غیر معمولی حیثیت حاصل ہو چکی ہے۔ انہی عوامل کی وجہ سے نہ صرف اس کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوا ہے بلکہ اس پر ان معاملات کا غیر ضروری بوجھ بھی ڈال دیا گیا ہے یا فوج نے خود اسے قبول کر لیا ہے جو درحقیقت اس کے فرائض میں شامل نہیں ہے۔ یعنی کسی آئینی یا قانونی بنیاد پر کوئی سیاسی حکومت آرمی چیف سے یہ توقع نہیں کر سکتی کہ وہ غیر ملکی دوروں کے دوران عسکری معاملات کے علاوہ ملک کے معاشی مسائل کو بھی پیش کرے اور قومی خزانہ بھرنے کے لئے امداد مانگنے پر مجبور ہو۔ اب ایسا اکثر دیکھنے میں آتا ہے۔

یہ طریقہ کسی آرمی چیف کے مرتبہ و وقار کے منافی بھی ہے اور کسی بھی ملک کے نظام کی خرابی کا برملا اظہار بھی ہے۔ ان ادوار کو استثنیٰ دیا جاسکتا ہے جب فوجی جرنیلوں نے براہ راست ملک پر حکومت کی اور قومی سرحدوں کی حفاظت سے زیادہ سیاسی معاملات میں دخیل ہونے کو اپنے فرائض میں شامل کر لیا۔ تاہم نام نہاد جمہوری سیٹ اپ کے دوران یہ طریقہ کھلم کھلا اور تواتر سے سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے شروع کیا۔ وہ بیک وقت ملک کے آرمی چیف، وزیر خارجہ اور مالی امور کے نگران کے طور پر کام کرتے دکھائی دیتے تھے۔ متعدد ایسے مواقع دیکھنے میں آئے جب جنرل باجوہ کو سعودی عرب، امارات یا چین سے مالی سہولت لینے کے لئے خود کردار ادا کرنا پڑا۔

حالات کی جو تصویر اس وقت ہمارے سامنے ہے، اس سے یہ واضح ہو چکا ہے کہ فوجی قیادت پرویز مشرف کی حکومت کے وقت سے ملک کی دونوں بڑی سیاسی پارٹیوں یعنی مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سے نالاں تھی۔ پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالتے ہوئے جن عزائم کا اظہار کیا تھا ان میں سر فہرست مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی سیاست کو ختم کرنا تھا۔ ان پارٹیوں کی اعلیٰ قیادت کو جلاوطن ہونے پر مجبور کیا گیا اور ان کی جگہ لینے لئے مسلم لیگ (ق) اور متحدہ قومی موومنٹ جیسی پارٹیوں کو طاقت اور اثر و رسوخ دے کر سیاست کو پسندیدہ عناصر کے حوالے کرنے کی کوشش کی گئی۔ پرویز مشرف کے زوال کے ساتھ ہی یہ انتظام بھی زمین بوس ہو گیا لیکن اس دوران تیسری سیاست قوت کے طور پر عمران خان کی سرپرستی میں تحریک انصاف کو عسکری سرپرستی میں بڑی پارٹی بنانے کا اہتمام کیا گیا۔ اس عمل میں عمران خان کے قومی ہیرو کے اسٹیٹس اور فلاحی خدمات کو بنیاد بنا کر انہیں دیانت و عظمت کا مینارہ نور بنا کر پیش کیا گیا۔ چونکہ اس مینارہ میں روشنی زیادہ نہیں تھی، اس لئے اسٹبلشمنٹ کے دیرینہ ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے دوسرے سیاسی لیڈروں کو ’چور لٹیرے‘ ثابت کرنے کی منظم اور سوچی سمجھی کوششوں کا سلسلہ شروع کیا گیا۔

یہ سب باتیں اب ماضی کا حصہ ہیں اور بچے بچے کو ازبر ہیں تاہم ماضی قریب کے ان سانحات کا حوالہ دینے کا مقصد یہ ہے کہ قومی سیاسی معاملات میں فوج کی براہ راست دخل اندازی کا جو سلسلہ شروع کیا گیا تھا اس نے ملکی سیاست، سماج اور عدالتی نظام کو شدید نقصان پہنچایا اور توڑ پھوڑ کا شکار کیا۔ جنرل باجوہ نے ریٹائرمنٹ سے پہلے فوج کے ’غیر سیاسی‘ ہونے کا اعلان کرتے ہوئے عمران خان کے زوال کی راہ ضرور ہموار کی اور یہ دعوے بھی کیے کہ وہ فوج کے غیر سیاسی ہونے کا جو اصول پیش کر رہے ہیں، اس پر آنے والی فوجی قیادت بھی عمل کرے گی۔ جنرل عاصم منیر کی قیادت میں فوج نے ابھی تک اس موقف کی توثیق نہیں کی ہے۔ جس کی وجہ سے ملکی سیاست دان، میڈیا، سول سوسائٹی حتی کہ عالمی ادارے بھی فوج کو ملک میں طاقت کا اصل مرکز تسلیم کرتے ہیں اور اہم تبدیلیوں یا فیصلوں کے لئے اسی کی طرف دیکھتے ہیں۔ عمران خان شاید اسے ہی فوج میں باجوہ حکمت عملی کا تسلسل قرار دیتے ہیں۔

فوج کو ’غیرسیاسی‘ کرنے کا اعلان سابق آرمی چیف کا کوئی احسان نہیں تھا بلکہ درحقیقت اس جرم کا اعتراف تھا کہ ان کی سربراہی میں فوج کو ’پولیٹیکل انسٹرومنٹ‘ کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا تھا تاہم آخری مہینوں میں انہوں نے اس سے تائب ہونے کا فیصلہ کیا۔ نئے آرمی چیف پر خاص طور سے یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف سابقہ آرمی چیف کی حکمت عملی کو مسترد کریں بلکہ فوج میں ایسا میکنزم بھی استوار کریں تاکہ اپنی آئینی ذمہ داریوں اور حلف سے روگردانی کرنے والے فوجی افسروں کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔ سابقہ ادوار میں ملاحظہ کیا گیا کہ کس طرح فوجی قیادت نے پرویز مشرف کی آئین شکنی کے باوجود انہیں عزت و احترام دیا اور ملک سے فرار ہونے میں مدد دی تاکہ نظام عدل ان کے جرائم کی سزا نہ دے سکے۔ جنرل عاصم منیر پر سب سے پہلی یہی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ فوج کے غیر سیاسی ہونے کو انفرادی فیصلہ قرار دینے کی بجائے وہ اسے اصول کے طور پر تسلیم کریں اور فوجی نظام میں نافذ کرنے کے موثر اقدامات کریں۔ فوج کے کردار کو سختی سے سرحدوں کی حفاظت کے عملی اقدام تک محدود کیا جائے۔ حکومت وقت اور پارلیمنٹ کو فیصلے کرنے کا موقع دیا جائے تاکہ بہر صورت انہیں پر اس کی ذمہ داری بھی عائد ہو۔

آئینی شقات کے مطابق فوج کے کردار کی تشریح نو کے بغیر فوجی قیادت کو مسلسل سیاست اور بالواسطہ طور سے معاشی و سماجی مسائل میں ملوث کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اس بنیادی اور اصولی فیصلے کے بغیر فوج ملکی معیشت میں وہ کردار ادا کرنے پر بھی آمادہ و تیار نہیں ہوگی جس کی اس مشکل وقت میں اس سے توقع کی جا رہی ہے۔

فوج کے آئینی کردار کی وضاحت اور اس پر کاربند ہونے کے بعد فوجی قیادت کو سوچنا چاہیے کہ جب ملکی معیشت مسلسل زوال پذیر ہے تو وہ کب تک موجودہ دفاعی اخراجات پورے کرسکے گی۔ اس سے پہلے کہ یہ بھرم ختم ہو اور فوج سمیت قوم کو کسی ناگہانی صورت حال کا سامنا کرنا پڑے، ضروری ہو گا کہ فوج یہ طے کرے کہ وہ کن امور سے دست بردار ہو کر قومی معیشت کو مستحکم کرنے میں کردار ادا کر سکتی ہے۔ یہ کام فوج کی موجودہ تعداد یا عسکری صلاحیت کم کیے بغیر بھی ممکن ہے۔ درج زیل اقدامات فوری طور سے کیے جا سکتے ہیں :

اول: فوج ان تمام تجارتی و صنعتی منصوبوں سے دستبردار ہو جائے جو ’فوجیوں و شہیدوں کی بہبود‘ کے نام پر چلائے جا رہے ہیں اور بے پناہ مالی وسائل پر دسترس کے باوجود انہیں قومی محاصل سے استثنا حاصل ہے۔ اب یہ تمام ادارے سول انتظام میں دینے کی ضرورت ہے تاکہ یہ ادارے اپنی آمدنی کے مطابق ٹیکس ادا کر کے قومی معاشی بحالی کا سبب بنیں اور فوج کو غیر ضروری طور سے ملکی معیشت میں بالواسطہ حصہ دار بنانے کا طریقہ ختم ہو سکے۔

دوئم: فوجی اداروں کے نام پر ہاؤسنگ اسکیمیں بنانے کے لئے زرعی رقبے سستے داموں خرید کر مہنگے داموں فروخت کر کے اس دولت کو ایک خاص طبقہ تک محدود کرنے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ فوج، بحریہ یا فضائیہ کے نام سے جو رہائشی منصوبے قائم ہوچکے ہیں، انہیں بھی سول انتظام میں لانا ضروری ہے تاکہ ان منصوبوں پر مناسب محاصل اور ٹیکس عائد ہوں اور یہ قومی خزانے پر بوجھ بننے کی بجائے اس میں حصہ دار بنیں۔

سوئم :فوجی افسروں کو دوران سروس اور ریٹائرمنٹ پر رعایتی نرخوں پر رہائشی پلاٹ اور زرعی رقبے دینے کا طریقہ فی الفور بند کیا جائے۔ قومی وسائل اب یہ غیر ضروری رعایت دینے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ جن افسروں کو زرعی رقبے دیے جا چکے ہیں، انہیں ان پر دی جانے والی مالی مراعات اور محاصل سے چھوٹ کا سلسلہ فوری طور سے بند کیا جائے تاکہ وہ بھی عام شہریوں کی طرح قومی معیشت کا حصہ بن جائیں اور ایک ڈوبتی معیشت میں اپنا علیحدہ جزیرہ بنا کر نہ بیٹھے رہیں۔

چہارم: تمام ریٹائرڈ فوجی افسروں کو سول اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ سفارتی پوزیشنز پر سابقہ فوجی افسروں کے کوٹہ کو منسوخ کیا جائے۔ البتہ اگر کوئی ریٹائرڈ فوجی اپنی صلاحیت کی بنیاد پر کوئی پوزیشن حاصل کرتا ہے تو یہ اس کا حق ہے۔ تاہم ایسی صورت میں اسے فوج سے ملنے والی پنشن و دیگر مراعات معطل رہنی چاہئیں۔

پنجم: فوجی افسروں کو دوران سروس اور ریٹائرمنٹ کے بعد ملنے والی ان تمام خصوصی مراعات و سہولتوں پر نظر ثانی کی جائے جو اس رینک کے سول افسروں کو حاصل نہیں ہوتیں۔ یہ اصلاح نافذ ہو جائے تو ریٹائر فوجیوں کی پنشن و مراعات کے مصارف کو باآسانی دفاعی بجٹ کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس طرح قرض دینے والے عالمی اداروں کا یہ اعتراض بھی ختم ہو جائے گا کہ سول بجٹ سے فوجی تنخواہیں اور پنشن ادا کر کے درحقیقت دفاعی اخراجات میں غیر معمولی اضافہ کر دیا گیا ہے۔

ششم: دفاعی اخراجات میں شفافیت کے لئے عسکری مصارف کا سول آڈٹ لازمی قرار دیا جائے۔ اگر چند پہلوؤں کو قومی سلامتی کے نقطہ نظر سے خفیہ رکھنا مطلوب ہو تو بھی ان کلاسیفائیڈ معلومات تک مجاز پارلیمانی کمیٹی کی رسائی ہونی چاہیے تاکہ سول اور عسکری اخراجات میں شفافیت کا یکساں اصول نافذ ہو اور تخصیص کا طریقہ ختم کیا جا سکے۔

ان چند بنیادی اصلاحات کے بغیر نہ فوج ملکی دفاع پر پوری توجہ دے سکے گی اور نہ ہی قومی معیشت تادیر موجودہ دفاعی اخراجات کا بوجھ برداشت کر سکے گی۔ طوفانوں کی زد میں رہنے والے علاقوں کے لوگ کسی بڑے طوفان سے پہلے اپنے گھروں کی حفاظت کا انتظام کرتے ہیں۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر پر اس وقت اسی قسم کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ وہ اس میں سرخرو ہوئے تو ملکی تاریخ میں ان کا نام بلاشبہ سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔ ورنہ کتنے آرمی چیف آئے اور چلے گئے۔ خودستائی کے علاوہ امتیاز کا کوئی نشان ان کے سینوں پر دکھائی نہیں دیتا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 2389 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments