پلوامہ حملے کے بعد انڈیا اور پاکستان میں جوہری جنگ کا خطرہ تھا جو امریکی مداخلت کے باعث ٹلا: مائیک پومپیو


پاکستان
سابق امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے اپنی نئی کتاب میں دعویٰ کیا ہے کہ 2019 میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان جوہری جنگ کا خطرہ موجود تھا جسے امریکی مداخلت کی مدد سے ختم کیا گیا۔

خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق مائیک پومپیو، جو 2018 سے 2021 تک امریکی سیکریٹری خارجہ رہے، نے اپنی کتاب ’نیور گیو این انچ‘ میں لکھا ہے کہ ’میرے خیال میں دنیا ٹھیک سے نہیں جانتی کہ فروری 2019 میں انڈیا اور پاکستان کی دشمنی جوہری جنگ کا روپ دھارنے کے کتنا قریب آ چکی تھی۔‘

واضح رہے کہ 14 فروری 2019 میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے جنوبی ضلع پلوامہ میں لیت پورہ ہائی وے پر دھماکہ خیز مواد سے لدی ایک کار انڈین نیم فوجی دستے ’سی آر پی ایف‘ کے اہلکاروں سے بھری ایک بس سے جا ٹکرائی تھی جس میں انڈین فوج کے 40 سے زیادہ اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔

اس حملے کے بعد انڈیا نے اس کی منصوبہ سازی کے لیے براہ راست پاکستان پر الزام عائد کیا تھا اور بعدازاں انڈین فضائیہ کے جنگی طیاروں نے پاکستان کے علاقے بالاکوٹ میں ’سرجیکل سٹرائیک‘ کر کے کالعدم تنظیم ’جیش محمد‘ کی ’تربیت گاہ‘ کو تباہ کرنے اور درجنوں عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

پاکستان کی جانب سے جوابی کارروائی کی گئی جس میں انڈین ایئر فورس کا ایک طیارہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حدود میں گر کر تباہ ہو گیا جس کے پائلٹ ابھینندن کو پاکستانی حکام نے اپنی تحویل میں لیا تاہم چند ہی گھنٹوں پر انھیں انڈیا کے حوالے کر دیا گیا۔

’کوئی اور ملک اس رات وہ سب نہیں کر سکتا تھا جو ہم نے کیا‘

خبررساں اداروں ’اے ایف پی‘ اور ’پریس ٹرسٹ آف انڈیا‘ کے مطابق مائیک پومپیو نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ وہ اس وقت ویت نام کے دارالحکومت ہنوئی میں موجود تھے جہاں اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جانگ اُن کے درمیان ملاقات طے تھی۔

ان کے مطابق رات کو انھیں سوتے سے اٹھایا گیا جب ایک سینیئر انڈین سرکاری افسر کی ارجنٹ فون کال آئی۔

اے ایف پی کے مطابق مائیک پومپیو نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ان کو فون کرنے والے سینیئر انڈین عہدے دار کا ماننا تھا کہ پاکستان نے حملے کے لیے جوہری ہتھیار تیار کرنے شروع کر دیے ہیں اور انڈیا نے بھی اپنے ردعمل پر غور شروع کر دیا ہے۔

مائیک پومپیو کے مطابق ’میں نے انھیں کہا کہ ابھی کچھ مت کریں اور ہمیں معاملہ حل کرنے کے لیے وقت دیں۔‘

پومپیو کے مطابق امریکی سفارت کاروں نے انڈیا اور پاکستان کو یقین دلایا کہ دونوں میں سے کوئی بھی جوہری جنگ کی تیاری نہ کرے۔

پاکستان

پومپیو نے اپنی کتاب میں لکھا کہ ’کوئی اور ملک اس رات وہ سب نہیں کر سکتا تھا جو ہم (امریکہ) نے کیا۔‘

اے ایف پی کے مطابق مائیک پومپیو نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ انھوں نے اس کے بعد پاکستان کے ’حقیقی رہنما‘، یعنی (اس وقت کے آرمی چیف) جنرل قمر جاوید باجوہ سے بات کی۔

واضح رہے کہ پلوامہ حملے کے بعد مائیک پومپیو نے انڈیا کی جانب سے بالاکوٹ فضائی حملوں کے عمل کا دفاع کیا تھا۔

اپنی کتاب میں پومپیو نے انڈیا کی تعریف کی ہے اور چین کے خلاف انڈیا کا ساتھ دینے کی خواہش کا اظہار بھی کرتے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

بالاکوٹ فضائی حملہ: وہ سوال جن کے جواب پاکستان اور انڈیا ابھی تک نہیں دے سکے

ابھینندن ورتھمان کا طیارہ گرنے کے بعد کیا ہوا تھا؟

خفیہ مذاکرات، ملاقاتیں اور ثالثی: متحدہ عرب امارات انڈیا اور پاکستان کے تعلقات میں بہتری لانے میں کامیاب ہو گا؟

’مسٹر چیئرمین، میں ابھی بھی آپ کو مارنے کی کوشش کر رہا ہوں‘

امریکہ

مائیک پومپیو نے اپنی کتاب میں شمالی کوریا کے رہنما کم جانگ اُن سے سفارت کاری پر بھی تفصیل سے لکھا ہے۔

یاد رہے کہ مائیک پومپیو سیکریٹری خارجہ تعینات ہونے سے قبل امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے ڈائریکٹر تھے۔

انھوں نے اپنی کتاب میں کم جانگ اُن سے بطور سی آئی اے ڈائریکٹر اپنی پہلی خفیہ ملاقات میں ہونے والی گفتگو کا تذکرہ بھی کیا ہے جس میں ان کے مطابق کم جانگ نے ان سے کہا کہ ’میرا خیال تھا کہ تم نہیں آؤ گے۔ میں جانتا ہوں کہ تم مجھے مارنے کی کوشش کرتے رہے ہو۔‘

مائیک پومپیو لکھتے ہیں کہ ’میں نے مذاق میں کہا کہ مسٹر چیئرمین، میں ابھی بھی آپ کو مارنے کی کوشش کر رہا ہوں۔‘

تاہم مائیک پومپیو کے مطابق جب ٹرمپ انتظامیہ نے تناؤ کو کم کرنے کے لیے کوششوں کا آغاز کیا تو شمالی کوریا کے رہنما کے ساتھ تعلقات میں بہتری آئی۔

مائیک پومپیو نے اپنی کتاب میں کم جانگ اُن کی تمباکو نوشی کی عادت کے بارے میں لکھا ہے کہ ’میں نے کم جانگ ان کو امریکہ میں میامی کے ساحل پر دنیا کے سب سے اعلی کیوبا کے سگار پلانے کی پیشکش کی تو انھوں نے جواب دیا کہ میرا کاستروز کے ساتھ پہلے ہی بہت اچھا تعلق ہے۔‘

مائیک پومپیو کے مطابق کم جانگ ان نے چین سے متعلق خدشات کا بھی اظہار کیا جسے عام طور پر شمالی کوریا کا اتحادی مانا جاتا ہے۔

مائیک پومپیو کے مطابق جب انھوں نے کم جانگ اُن کو بتایا کہ چین کا ماننا ہے کہ شمالی کوریا جنوبی کوریا سے امریکی فوج کا انخلا چاہتا ہے تو کم جانگ اُن نے قہقہہ لگایا اور میز پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا کہ ’چینی جھوٹے ہیں۔‘

مائیک پومپیو کے مطابق کم جانگ اُن نے کہا کہ ’ان کو جنوبی کوریا میں امریکیوں کی موجودگی کی ضرورت ہے تاکہ وہ چین کی کمیونسٹ پارٹی سے محفوظ رہ سکیں اور دراصل چین چاہتا ہے کہ امریکی فوجیوں کا انخلا ہو تاکہ وہ کوریا کو بھی تبت کی طرح اپنے زیر اثر رکھ سکیں۔‘

مائیک پومپیو نے لکھا ہے کہ ان کے چین مخالف نظریات کی وجہ سے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کو بتایا کہ چین کے صدر ’شی جن پنگ ان سے نفرت کرتے ہیں۔‘

پومپیو کے مطابق صدر ٹرمپ نے ان سے اس وقت خاموشی اختیار کرنے کا مطالبہ کیا جب امریکہ کو چین سے طبی سامان منگوانے کی ضرورت پڑی


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 27787 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments