کیا گاندھی جی قائد اعظم کو ہندوستان کا وزیر اعظم بنانا چاہتے تھے؟
برصغیر کی آزادی کی تاریخ بھی ایک دلچسپ کہانی ہے۔ اور اس کہانی میں ہماری ملاقات ایسے کرداروں سے ہوتی ہے جن کی مثال دنیا کی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ کبھی لنگوٹی میں ملبوس نحیف جسم کے گاندھی جی کی قد آور شخصیت نظر آتی ہے، کبھی ہماری ملاقات رومانوی مزاج پنڈت نہرو اور کٹر ہندو قوم پرست سردار پٹیل سے ہوتی ہے۔ آزاد جیسے چوٹی کے عالم ہیں تو مسلم لیگ کی مخالفت پر کمر بستہ۔ پھر مسلمانوں کے مقبول سیاسی لیڈر جناح دکھائی دیتے ہیں۔
مغربی لباس، اور رہن سہن اور اکثر مسلمان علماء کی شدید مخالفت کے باوجود مسلمانوں میں وہ مقبولیت حاصل کی جو کہ کسی اور کے حصہ میں نہیں آئی۔ اور پھر علامہ اقبال اور لیاقت علی خان صاحب جیسی شخصیات، جن کے سیاسی نظریات کو سمجھنا شاید سب سے زیادہ مشکل ہے۔ اس افسانے میں بار بار ایسا دلچسپ موڑ آتا ہے جو کہ پڑھنے والے کو حیران کر دیتا ہے۔
اس کالم میں ایسے ہی ایک سنسنی خیز واقعہ کا جائزہ لیا جائے گا۔ 1947 کا سال شروع ہو چکا تھا۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے بطور وائسرائے نزول اجلال فرمایا تاکہ ہندوستان کو آزادی عطا کی جائے۔ کانگرس کی کوشش تھی کہ ہندوستان متحدہ ملک کی صورت میں آزاد ہو اور مسلم لیگ کا اصرار کہ ملک کو تقسیم کر کے ہمارا حصہ ہمارے حوالے کرو۔ فسادات کا عفریت مختلف شہروں میں سینکڑوں ہندوستانیوں کو نگل چکا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس مرحلہ پر گاندھی جی نے تجویز پیش کی تھی کہ عبوری حکومت کو اختیارات منتقل کیے جائیں۔
اور یہ دھماکہ بھی کیا تھا کہ مسٹر جناح کو متحدہ ہندوستان کا وزیر اعظم بنا دیا جائے اور انہیں یہ اختیار دے دیا جائے کہ وہ جس طرح پسند کریں اپنی مکمل کابینہ بنا لیں۔ گاندھی جی تو ہندوستان کو متحد رکھنے کے لئے یہ عظیم قربانی دینے کو تیار تھے لیکن پنڈت جواہر لال نہرو اس پر راضی نہیں ہوئے اور اس طرح یہ تجویز دم توڑ گئی۔ سٹینلے وولپورٹ نے اپنی مشہور کتاب جناح آف پاکستان کے صفحہ 316 پر اس واقعہ کا ذکر کیا ہے۔
اور گاندھی جی پر بننے والی مشہور فلموں میں بھی بہت جذباتی سین دکھائے گئے ہیں کہ گاندھی جی گلوگیر آواز میں کہہ رہے ہیں کہ ہندوستان کی دھرتی کو تقسیم نہ کرو، ہم جناح کو پورے ہندوستان کا وزیر اعظم بنا دیتے ہیں اور وہ اپنی مکمل کابینہ بنا لے۔ کسی فلم میں یہ دکھایا گیا ہے کہ پٹیل اور نہرو اس کو ماننے سے انکار کر رہے ہیں۔ اور کسی فلم میں یہ دکھایا گیا ہے کہ گاندھی جی کانگرس کو منا چکے تھے لیکن مسٹر جناح ٹس سے مس نہیں ہو رہے۔
اب فلموں اور جذباتی دنیا سے نکل کر حقائق کا جائزہ لیتے ہیں۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے نمایاں سیاسی لیڈروں سے ملنا شروع کیا تاکہ ان مسائل کا حل نکالا جائے اور ان ملاقاتوں کی رپورٹ ہندوستان کے امور کے وزیر صاحب کو ارسال کی جاتی تھی۔ یہ رپورٹیں برٹش لائبریری لندن میں محفوظ ہیں۔ بیٹھکوں کا یہ سلسلہ گاندھی جی سے شروع کیا گیا۔ ماؤنٹ بیٹن کا طریقہ کار یہ تھا کہ پہلی ایک دو ملاقاتوں میں سامنے بیٹھی شخصیت کو جاننے اور جانچنے کی کوشش کرتے اور پھر اس کے بعد سیاسی مسائل پر تبادلہ خیالات شروع ہوتا۔
ماؤنٹ بیٹن نے 9 اپریل کو لکھی گئی رپورٹ میں لکھا کہ میں 31 مارچ سے 4 اپریل تک گاندھی سے روزانہ دو دو گھنٹے ملاقات کرتا رہا ہوں۔ پہلی دو ملاقاتوں میں میں ان کو جاننے کی کوشش کرتا رہا اور ان کی زندگی کی کہانی سنی۔ جب تیسری مرتبہ ملنے کے لئے بیٹھے تو میں نے دریافت کیا کہ آپ کے نزدیک اس مسئلہ کا کیا حل ہے۔ اس پر انہوں نے فوری طور پر اپنا منصوبہ پیش کر دیا۔
منصوبہ یہ تھا کہ مسٹر جناح کو متحدہ ہندوستان کا وزیر اعظم بنا دیا جائے اور انہیں یہ اختیار دے دیا جائے کہ وہ اپنی مکمل کابینہ بنائیں۔ خواہ یہ کابینہ صرف مسلمان وزراء یا صرف غیر مسلم وزراء پر مشتمل ہو۔ اگرچہ قانون ساز اسمبلی میں کانگرس کی اکثریت ہے لیکن کانگرس اس کابینہ کی تجاویز کو روکنے کی کوشش نہیں کرے گی۔ سوائے اس کے کہ کوئی تجویز ہندوستان کے مفاد میں نہ ہو۔ اب اس بات کا فیصلہ کون کرے گا کہ کیا ہندوستان کے مفاد میں ہے اور کیا ہندوستان کے مفاد کے خلاف ہے؟
اس بارے میں گاندھی جی کی تجویز تھی کہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو امپائر بنا دیا جائے کہ وہ یہ فیصلہ صادر فرمائیں کہ ہندوستان کا مفاد کیا ہے؟ اگر مسٹر جناح پسند کریں تو اس عبوری دور میں پاکستان کے قیام کی تجویز پیش کر سکتے ہیں لیکن وہ اس تجویز کو دلیل سے منوائیں۔ [اب یہ فیصلہ کون کرے گا کہ دلیل دے دی گئی ہے؟ ] اور اگر مسٹر جناح یہ پیشکش مسترد کریں تو یہی پیشکش کانگرس کو دی جائے کہ وہ اپنی کابینہ بنا لے۔ گاندھی جی نے کہا کہ وہ خود کانگرس کو اس پر آمادہ کریں گے اور پورے ہندوستان کا دورہ کر کے اس تجویز کے لئے حمایت حاصل کریں گے۔
لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے اتنی کچی گولیاں نہیں کھیلی تھیں کہ فوری طور پر اس کو منظور کر لیتے۔ انہوں نے گاندھی جی سے کہا کہ جب تک وہ اس پر نہرو صاحب اور کانگرس کو آمادہ نہیں کر لیتے اس تجویز سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہو گا۔ ماؤنٹ بیٹن نے لکھا کہ تین روز تک گاندھی جی بہت شد و مد سے اس تجویز پر اصرار کرتے رہے لیکن یہ ذکر نہیں کیا کہ میں نے اس سلسلہ میں پنڈت نہرو اور کانگرس کے دوسرے لیڈروں سے بات کی ہے کہ نہیں۔
جب ماؤنٹ بیٹن نے کہا کہ وہ اسمے کے ساتھ بیٹھ کر ان سکیم کے خدو خال کو تحریری صورت میں لے آئیں تو اس پر گاندھی جی نے خفا ہو کر دو خط لکھے کہ ان ملاقاتوں کا مقصد صرف کسی یاد داشت کو تحریر کرنا نہیں تھا بلکہ اس پر باقاعدہ گاندھی ماؤنٹ بیٹن معاہدہ کی صورت میں دستخط ہونے چاہیے تھے۔
بہر حال ماؤنٹ بیٹن نے 17 اپریل کی رپورٹ میں لکھا کہ 11 اپریل کو گاندھی جی نے انہیں خط لکھا کہ وہ اس سکیم کے لئے کانگرس کے ذمہ دار عہدیداروں کی حمایت حاصل نہیں کر سکے اس لئے اس تجویز کو واپس لے رہے ہیں۔ جب اگلی ملاقات میں ماؤنٹ بیٹن نے دریافت کیا کہ اب ان کی کیا رائے ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ اب یہی صورت ہے کہ 14 ماہ تو عبوری حکومت کو مضبوط کیا جائے اور پھر اس حکومت کو مکمل اقتدار منتقل کر دیا جائے۔ اس پر ماؤنٹ بیٹن نے کہا کہ اس کا مطلب تو یہ ہو گا کہ اکثریتی جماعت یعنی کانگرس کو پورے ہندوستان کا اقتدار منتقل کر دیا جائے اور مسلم لیگ اس کی پوری مخالفت کرے گی۔
اس طرح ایک ہفتہ کے اندر اندر یہ سکیم جواں مرگی کا شکار ہو گئی۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اتنے روز گاندھی جی ماؤنٹ بیٹن کو آمادہ کرتے رہے، کیا انہوں نے ایک مرتبہ بھی کانگرس میں اپنے ساتھیوں سے اس بارہ میں مشورہ نہیں کیا؟ بظاہر یہ ممکن معلوم نہیں ہوتا۔ تو پھر اس کو پیش کرنے کا مقصد کیا تھا؟
اگر قائد اعظم اس سکیم کو قبول کرنے سے انکار کرتے تو کانگرس نے پورے ہندوستان میں پراپیگنڈا کرنا تھا کہ ہم تو ہندوستان کو ایک رکھنے کے لئے تمام اقتدار مسلمانوں کے لیڈر کے سپرد کر رہے تھے لیکن مسٹر جناح نے انکار کر دیا۔ اس سکیم کو قبول کرنے کا سوال تو اس لئے پیدا نہیں ہوتا تھا کیونکہ اسمبلی میں کانگرس کی اکثریت تھی۔ کوئی بھی وزیر اعظم کانگرس کی مرضی کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھا سکتا تھا۔ اور یہ پیشکش صرف عبوری حکومت کے لئے دی جا رہی تھی۔ اگر بالفرض قائد اعظم اس تجویز کو منظور کر لیتے تو گاندھی جی یہ عذر کر سکتے تھے کہ یہ تو میری ذاتی تجویز تھی، کانگرس کے لیڈر اس پر راضی نہیں ہو رہے۔ جس طرح جلد یہ تجویز واپس لے لی گئی، اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی سنجیدہ پیشکش نہیں بلکہ صرف ایک سیاسی چال تھی۔


