تصور توحید اور جذبہ حریت
نسل در نسل غلامی انسان کو جذبہ حریت سے نا آشنا کر دیتی ہے۔ پنجروں میں پرورش پانے والے پنچھی کے لیے آزاد فضا کی وسعت پرکیف صحیح لیکن آفاق کی وسعتوں میں پوشیدہ خطرات اس کے حوصلے پست کیے رکھتے ہیں۔ خوف اگر جذبہ آزادی پر غالب آ جائے تو پنجرے کی گھٹن زدہ لیکن بے خطر زندگی بھی عافیت لگنے لگتی ہے۔ بالکل اسی طرح نسل در نسل غلامی انسانی سرشت سے جذبہ حریت کو ختم کر دیتی ہے۔ جب افراد ذہنی طور پر غلامی کو قبول کر لیں تو قوت مزاحمت سے عاری ہو جاتے ہیں۔ وہ غلامی کی ذلت و رسوائی تو سہ سکتے ہیں لیکن جہد آزادی کے خطرات مول لینے کی ہمت نہیں رکھتے۔ سر کٹ جانے کا خوف انہیں سر جھکائے رکھنے پر مجبور رکھتا ہے۔ اس کے برعکس آزاد منش لوگوں کا جذبہ آزادی انہیں ہر خوف سے بے نیاز رکھتا ہے۔
اگر ہم غور کریں تو یہ راز کھلتا ہے کہ کلمہ توحید جذبہ حریت کی بہترین تسکین کرتا ہے جبکہ غلامانہ طبیعت پر یہ بہت گراں گزرتا ہے۔ ایک حریت پسند قوم ہی تصور توحید کی نمو کے لیے بہترین زمین ہو سکتی ہے۔ اگر ہم بنی اسرائیل اور اہل عرب کا موازنہ کریں تو بات آسانی سے سمجھ آ سکتی ہے۔ بنی اسرائیل مصر میں قبطیوں کی غلامی میں زندگی بسر کر رہے تھے۔ ان کی کئی نسلیں غلامی کی آغوش میں پروان چڑھیں۔ مصری ان پر بے بہا ظلم ڈھاتے لیکن وہ ذلت و رسوائی سے سمجھوتہ کیے رہے۔
غلامی کو وہ ذہنی طور پر قبول کر چکے تھے۔ اس برس ہا برس کی غلامی نے ان کی قوت مزاحمت صلب کر لی تھی۔ اور جب موسٰیؑ کلیم اللہ غلامی میں ڈوبی اس قوم کو فرعون مصر کے مظالم سے نجات دلا کر نیل کے اس پار آزاد زمین پر لے آئے تو آزاد زندگی کے رنگ ڈھنگ جن میں جگہ جگہ خطرات پوشیدہ تھے ان کو راس نہ آئے۔ کبھی وہ خوراک کی قلت کا شکوہ کرتے تو کبھی موسمی مشکلات کا ۔ موسٰیؑ کی ذات بابرکات سے ان کو کیسے کیسے فیوض حاصل ہوئے تھے۔
فرعون کے مظالم سے ہمیشہ کی نجات ملی۔ صحرائے سینا میں من و سلوٰی کا نزول ہوا۔ لیکن اسی پیغمبر خدا نے جب کلمہ توحید بلند کیا تو غلامی میں ڈوبی وہ قوم اس کو ہضم نہ کر سکی۔ جب موسٰیؑ نے کہا کہ اے میری قوم وہ جو سامنے ایک شہر ہے اس میں تمہارے لئے نعمتیں ہیں راحتیں ہیں۔ ہمت کرو اور ٹوٹ پڑو ظالمان شہر پر کہ خدا کی نصرت تمہارے ساتھ ہے۔ تو کھلے معجزوں والے اس پیغمبر کی یقین دہانیاں بھی ان کے دلوں میں جذبہ جہاد کو بیدار نہ کر سکیں۔ کیونکہ ان کی سرشت سے جذبہ حریت کب کا فوت ہو چکا تھا۔ تاریخی جواب دیا بنی اسرائیل نے کہ اے موسٰی جاؤ تم اور تمہارا خدا۔ لڑو جاکر اس قوم سے اور جب غالب آ جاؤ تو ہمیں آواز دے لینا۔ بنی اسرائیل کا یہ جواب ہر اس قوم کا جواب کہ غلامی جن کے لہو میں رچ بس چکی ہو۔
اب ذرا ایک نظر اہل عرب پر کہ دور جہالت میں بھی وہ کسی کا غلام ہونا پسند نہ کرتے تھے۔ اتنے آزادی پسند کہ اپنے میں سے ہی کسی کو اپنا حکمران تسلیم نہ کرتے تھے۔ یہ حریت پسند بدوؤں کا صحرا تصور توحید کی نمو کے لیے انتہائی موزوں تھا۔ اور جب اللہ کے آخری نبیﷺ نے کلمہ توحید بلند کیا تو جس کو سمجھ آتی گئی ساتھ ہو لیا۔ نہ اس نے جان کی پرواہ کی نہ مال کی۔ ایک تنگ گھاٹی میں محصور ہو کر پیٹ پر پتھر باندھے۔ حبشہ کی طرف کٹھن سفر کیا۔
گھر بار چھوڑا مال و زر چھوڑا۔ ایک ان دیکھے خدا کی خاطر زندگیاں لٹا دیں۔ لیکن کبھی زبان پر شکوہ نہ لائے۔ کیونکہ ان کے اندر جذبہ حریت جوان تھا۔ جب اللہ کے رسولﷺ نے کہا کہ اے لوگو خدا صرف ایک ہے اسی نے سب کو پیدا کیا ہے۔ اس کی مخلوق میں سب برابر ہیں۔ کوئی آقا نہیں کوئی غلام نہیں۔ کوئی بندہ نہیں کوئی بندہ نواز نہیں۔ بندگی ہے تو ایک رب کائنات کی جو بے مثل ہے بے مثال ہے۔ جب انہوں نے دیکھا ایک خدا کے سامنے سر بسجود ہونے سے انسان ہر طاقت سے بے نیاز ہو سکتا ہے تو ان کا حریت پسند مزاج فوراً قائل ہو گیا اور پھر آسمان نے دیکھا کہ حق و باطل کی جنگ میں ہزاروں کی مسلح جمیعت کے سامنے تین سو تیرہ کا یہ قلیل گروہ اس شان سے صف آرا تھا کہ نہ کوئی خوف زدہ تھا نہ کوئی پریشان۔ وہ اپنے محسن رہنما کے شانہ شانہ بشانہ دیوانہ وار لڑ رہے تھے اور خدا ایسے دیوانوں کو کبھی بے یار و مددگار نہیں چھوڑتا۔
بے شک موسٰیؑ بھی اللہ کا سچا نبی تھا اور محمدﷺ بھی۔ ان دونوں کا منشور بھی کلمہ حق تھا۔ لیکن جن قوموں سے ان کو واسطہ تھا ان کا مزاج مختلف تھا۔ کہ برس ہا برس غلامی کی گود میں بلی تھی تو دوسری آزاد صحرا کی سختیاں جھیل کر جوان ہوئی تھی۔ ایک معجزوں کی طلبگار تھی اور دوسری معجزے کر دکھانے کے لیے بے تاب۔ پھر چند برسوں میں اہل عرب نے وہ معجزہ کر دکھایا جو بنی اسرائیل صدیوں میں نہ کر سکے۔ کیونکہ تصور توحید اہالیان حریت کو ہی راس آ سکتا ہے۔
غلام قومیں تو کلمہ توحید پڑھ کر بھی تصور توحید سے نا آشنا رہتی ہیں اور یوں توحید کی برکات سے بھی محروم رہتی ہیں۔ آج زمانہ بدل چکا اور اس کے رنگ ڈھنگ بھی۔ اب نہ تو شمشیر و سناں کا دور ہے اور نہ ہی جنگی جنون کسی کامیابی کی ضمانت ہے۔ آج کا جہاد علم و آگہی اور سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں مطلوب ہے۔ لیکن میدان کوئی بھی ہو جذبہ حریت ہی کسی بھی قوم کو سر اٹھا کر کھڑا ہونے کی قوت مہیا کرتا ہے۔



ماشاءاللہ بہت خوب ۔۔۔۔ آپ کی تحریر دلوں کو جھنجھوڑنے کی طرف ایک عمدہ کاوش ہے۔۔۔ فطرت انسان کے جس پہلو کو آپ نے جگانے کی کوشش کی ہے آج کے پاکستان کو ایک آئینہ دکھایا ہے۔۔۔ ہم امید رکھتے ہیں آپ آئیندہ بھی اپنے علم سےہماری مزید رہنمائی میں کردار ادا کرتے رہیں گے۔۔۔
ہم آپکی آئیندہ تحریر کا انتظار کریں گے
آپ کی تحریر ان مسلمانوں کے لیے جو توحید پر ایمان لانے کے باوجود اس کے اصل تقاضوں کو سمجھنے سے ابھی تک قاصر ہیں اور اسی لیے توحید کے فوائدوبرکات سے محروم ہیں ان کے لیے ایک عمدہ تحریر ہے۔
لیکن۔
بنی اسرائیل کو اللہ کا نبی عقیدہ توحید کے بارے میں بار بار نہ صرف بتاتا رہا بلکہ اپنے معجزوں سے سے انہیں اللہ کی وحدانیت اور توحید کی برکات کا یقین بھی دلاتا رہا لیکن جس غلام قوم کی نس نس میں اور سوچوں تک میں غلامی رچ بس گئی تھی وہ جذبہ توحید کو نہ اپنا سکی۔ تو اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایسی قوموں پر اللہ ہی رحم کرسکتا ہے ورنہ شاید ہی وہ کسی کے جھنجھوڑنے پر بیدار ہوں۔
بہرحال کوششش کرنا فرض ہے جو آپ نے اس تحریر کی صورت میں اچھی طرح ادا کیا ہے۔