اسلامیہ کالج گوجرانوالہ: درختوں کا قتل عام اور اساتذہ کا کردار
درختوں کی انسانی زند گی میں بہت زیادہ اہمیت ہے۔ درخت انسان کی بہت سی ضرورتوں کو پورا کرتے ہیں۔ جس طرح انسان ایک بچہ پیدا کرنے کے لیے تگ و دو کرتا اسی طرح جب کوئی ایک درخت لگاتا ہے تو اس درخت کی دیکھ بھال ایک بچے کی طرح ہی کرنا پڑتی ہے۔ یوں تو درخت اس دیکھ بھال کے بغیر بھی بڑھے ہو جاتے ہیں لیکن جب کوئی اپنے ہاتھ سے پودا لگاتا ہے تو اس کی دیکھ بھال کرنے کا احساس ہی الگ ہوتا ہے۔ درخت کو بڑا ہونے میں کئی سال لگتے ہیں۔
جب وہ درخت ایک تناور درخت بن جاتا ہے تو یک لخت خیال آتا ہے کہ یہ تو غلط جگہ پر لگ گیا تھا۔ لہذا اس کی قربانی دینا ہمارے لئے ضروری ہو جاتا ہے۔ ہم ایک لمحہ کے لئے بھی نہیں سوچتے ہیں کہ اس درخت کی دیکھ بھال۔ اس کی پرورش پر جانے کتنے لوگوں نے محنت کی ہو گی لیکن یہ سوچے بغیر اس کو فوری طور پر کاٹ دیا جاتا ہے اور کوئی ملال بھی نہیں ہوتا ہے۔
ہمارے جیسے ملک میں جہاں انسانوں کی کوئی قدر نہیں کی جاتی۔ کوئی بھی کسی انسان کو گاجر مولی کی طرح کاٹ سکتا ہے۔ یہ ہی حال پاکستان میں درختوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ ہم درختوں کا قتل عام کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے ہیں۔ بڑے بڑے درختوں کو دلی تسکین حاصل کرنے کے لیے ان کی قربانی دے دیتے ہیں۔ ذرا بھر ایک لمحے کے لیے بھی نہیں سوچتے ہیں کہ کن کن لوگوں کی یادیں اس درخت کے ساتھ جڑی ہوئی ہوں گی۔ خیر ایسی فضول باتیں سوچنے کے لئے ہمارے پاس اتنا وقت ہی کہاں ہے۔
کبھی کسی نے کتنے چاؤ سے اس درخت کو لگایا ہو گا۔ کبھی اس کو پانی بھی دیتا رہا ہو گا۔ کوئی مالی اس کی کانٹ چھا نٹ کرتا ہو گا۔ مالی کو تو ہر درخت اپنے بچوں جیسا ہی لگتا ہے۔ جس طرح وہ اپنے بچوں کو پالتا ہے، پیار کرتا ہے۔ ان کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ وہ ان درختوں کے ساتھ بھی ایسا ہی برتاؤ کرتا ہے۔ اس کا خیال رکھتا ہے۔ آتے جاتے اس کے ساتھ باتیں بھی کرتا ہے۔ کبھی کبھی وہ اس کے پاس سے گزرتے ہوئے کوئی گیت بھی گنگناتا ہو گا۔
وہ سب یہ اس امید کے سہارے کر رہا ہوتا ہے کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ ایک دن یہ درخت موسموں کی سختیوں، ہواؤں اور طوفانوں کا مقابلہ کرتا ہوا ایک تنا آور درخت بن جائے گا۔ پھر وہ ہر کسی کو خوشی خوشی یہ بتائے گا کہ یہ درخت میرے فلاں صاحب نے لگایا تھا۔ دیکھو آج یہ کس طرح لہلہا رہا ہے۔ کس طرح اچھل کود کر رہا ہے۔ کبھی کبھی سرنگوں بھی ہوتا ہے۔ ایسا لگ ر ہا ہوتا جیسے اپنے لگانے والے کا شکریہ ادا کرنے کے سجدہ ریز ہو رہا ہو کہ میرے لئے اس قدر احتیاط اور محبت سے اتنا کچھ کرنے کا شکریہ۔
پھر ہوتا کیا ہے؟ یکا یک ایک تبدیلی کی لہر آتی ہے۔ یہ لہر اپنے ساتھ سب کچھ بہا کر لے جاتی ہے۔ جن لوگوں کے اندر جمالیات کی کوئی حس نہیں ہوتی وہ ان درختوں کے دشمن ہو جاتے ہیں۔ ان کو کاٹنا شروع کر دیتے ہیں کہ یہ یہاں پر غلط لگا دیا گیا تھا۔ کسی نا کسی بہانے سے وہ ان کو جڑ سے اکھاڑنے کا بہانہ تلاش کرتے رہتے ہیں۔ یوں ہرے بھرے درخت جھوٹی انا کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔
اسلامیہ کالج میں کافی پرانے اور بڑے بڑے درخت تھے اور ہیں۔ جب اس کالج کو جوائن کیا تو مسجد والے بلاک میں کلاس رومز میں سے ایک کمرے میں میری کلاس ہوتی تھی۔ پرنسپل کا دفتر، سٹاف روم اور کلرکوں کا کمرہ بھی اسی جگہ پر تھا۔ پرنسپل کے دفتر کے سامنے ایک بہت بڑا ”سمبل“ کا درخت تھا۔ وہ درخت اس قدر بڑا تھا کہ کوئی چالیس سال پر انا تو ہو گا۔ اس کو بڑا کرنے یا اس کی دیکھ بھال میں کتنے لوگوں نے حصہ لیا ہو گا اس کا مجھے علم نہیں لیکن جب کالج میں درختوں کا قتل عام ہوا تو اس درخت کو بھی بلا وجہ بلی چڑھا دیا گیا۔
سرکاری دفاتر میں کسی درخت کو اس بے رحمی سے قتل کرنا یا کاٹنا ایک جرم ہے۔ اس جرم میں نہ صرف کالج انتظامیہ شامل تھی بلکہ بہت سے دوسرے اساتذہ بھی اس جرم میں شامل تھے جو اس قتل عام میں شامل تھے۔ یہ سب کچھ اس کالج میں سینئر اساتذہ کی موجودگی میں ہوا۔ کسی ایک نے بھی اس ظلم عظیم پر آواز نہیں اٹھائی۔ سب اپنی اپنی دھن میں مگن رہے۔ ہم ایسے کاموں کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھاتے کیوں کہ کہیں نا کہیں ہم اس نظام سے فائدہ اٹھا رہے ہوتے ہیں؟
اس طرح خاموش تماشائی بن کر یہ سب کچھ دیکھتے رہتے ہیں۔ ہماری تباہی کی بس اتنی سی کہانی ہے۔ پھر کرنا خدا کا یہ ہوا کہ ہمارے ایک سینئر استاد کو پرنسپل کا چارج مل گیا۔ نہایت شریف النفس انسان۔ ملنسار اور بردبار، حلیم الطبع۔ کبھی بھی کسی کا برا نا چاہا۔ جب کالج میں درختوں کا قتل عام ہوا تو اس وقت تو کسی کو یاد نا آیا کہ جس پرنسپل نے درختوں کا قتل عام کیا ہے اس کے خلاف کوئی کارروائی کی جائے یا کہیں کوئی درخواست دی جائے۔
کم از کم جب ایسا کام کالج میں ہو رہا تھا تو اس کی مزاحمت ہی کی جاتی۔ کسی ایک استاد نے بھی ایسا نا کیا۔ جوں ہی پرنسپل کا جارج ایک سینئر استاد کو ملا تو سب سے پہلا کام یہ کیا گیا کہ ان سے درختوں کا حساب کتاب مانگا گیا کیوں کہ اس قتل عام کے دوران کالج کے بہت سے درخت جو مختلف وجوہ کی بنا پر گر چکے تھے ان پر بھی کالج انتظامیہ نے ہاتھ صاف کیا۔ پھر بعد میں سارا ملبہ آ نے والے پرنسپل پر ڈال دیا گیا۔ خیر اللہ نے ان کی عزت رکھی اور مستقل پرنسپل آتے رہے جاتے رہے۔ کالج کی زبوں حا لی کا سفر ابھی تک جاری و ساری ہے۔ تاحال کالج اپنے زوال کی طرف بڑھ رہا ہے اور سب اپنی اپنی دھن میں مگن ہیں۔
اب حال ہی میں 2023 ء میں کالج میں پھر اس طرح کا کام کیا گیا کہ ایک غیر سرکاری شخص نے جس کا کالج سے بھی کوئی تعلق نہیں۔ اس نے کالج سے درخت کاٹے اور پھر ان کو بڑے ہی سکون سے باہر لے جا کر بیچ بھی دیا۔ کالج انتظامیہ کو اس کی خبر تک نا ہوئی کہ ایک غیر سرکاری بندہ کالج کے اندر آیا اور بڑے بڑے درخت کاٹ کر لے گیا۔ اس ضمن میں ابھی تک کالج انتظامیہ بالکل خاموش ہے۔ اس معاملے کی کوئی انکوائری نہیں کروائی گئی ہے کہ یہ سب کیسے ہوا اور کیوں ہوا؟
باقی یہ تو ایک کالج ہے دیکھا جائے تو ملک کا ملک ہی اس کرپشن میں ڈوبا ہوا ہے۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ ایک غیر سرکاری بندہ کالج کے اندر اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ کیسے آیا؟ اندر آنے کی اجازت کس نے دی؟ یہاں تک ہی نہیں وہ ایک آٹومیٹک مشین بھی ساتھ لائے جس سے درخت کاٹے گئے۔ پھر وہ درخت کاٹ کر جن گاڑیوں پر وہ لاد کر لے گئے وہ کیسے باہر گئیں؟ اس وقت کالج میں گیٹ پر کس چوکیدار کی ڈیوٹی تھی؟ کسی کے پاس کوئی جواب نہیں ہے؟ کوئی انکوائری کمیٹی نہیں بنائی گئی جو معاملے کی چھان بین کرے کہ یہ سب کیسے ہوا؟ راوی چین ہی چین لکھتا ہے بس۔ یاد رہے کہ یہ کالج گوجرانوالہ کا ایک تاریخی اور پرانا کالج ہے۔ یہ اپنی عمر کے ایک سو چار ( 104 ) سال پورے کر چکے ہے۔


