اللہ پاک کی طرف سے پاکستانیوں کو این آر او


اسحاق ڈار کے آنے اور سر باجوہ کے جانے کے بعد جب خلق خدا کا رونا دھونا حد سے بڑھا تو شور آسمانوں تک پہنچ گیا، اللہ تعالی نے اپنے کار خاص کو بلایا اس کو ایک فائل پکڑائی جس میں حکم لکھا ہوا تھا ”پاکستان کا دورہ کرو اور مجھے ان کے حالات بارے جلد از جلد رپورٹ پیش کرو“ ۔ پہلے ہی سنا ہوا تھا کہ اللہ تعالی کا پروگرام کاموں میں کیڑے نکالنا یا سفارشیں مانگنا نہیں ہوتا اس لیے وہ فائلوں کو بیس تیس ٹیبلوں پر گھمانے کے بجائے ڈائریکٹ آرڈر فرما دیتا ہے۔

حکم وصولی کے فوراً بعد کار خاص پاک سر زمین پہنچ گیا۔ اس نے دیکھا کہ گیس، بجلی بند، ایک لیٹر تیل لینے کے لیے پمپوں پر لمبی لائنیں اور لوگ اوور بلنگ کے خلاف ہاتھوں میں بل لہرا لہرا کر احتجاج فرما رہے تھے۔ بہت شور کی وجہ سے کار خاص کو کچھ کچھ ہی سمجھ آئی اور بہت کچھ کی نہ آئی، جو سمجھ آئی وہ ایسے تھا کہ احتجاجی بڑے بڑے فوجیوں، بیوروکریٹوں، ڈاروں، سرمایہ داروں، جاگیرداروں کے نام لے لے کر بتا رہے تھے کہ کس طرح انہوں نے این۔ آر۔ او لے لے اور دے دے کر ملک کو دیوالیے کے کنارے لا کھڑا کیا ہے۔ ان میں سے کسی کی بیوی ارب پتی ہو گئی ہے اور کسی کے بھائی، کئیوں کے ٹاؤن اربوں کے ہیں اور کئیوں کے جزیرے انمول ہیں۔

سیاست دان ساہوکار سے پیسے عوام کی بھلائی کے نام پر لیتے ہیں اور اپنے ہم نوالوں و پیالوں میں سے کچھ کے گلوں اور کچھ کے پیالوں میں انڈیل دیتے ہیں۔

ہمارے بچوں کو سردی میں بغیر جرابوں اور جرسیوں کے سکول جاتے دیکھ کر ان شریفوں کے جو حکومت میں نہیں عام طور پر آنسو بہہ نکلتے ہیں مگر حکومت والے شریفوں کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگتی۔ اپنے جلسوں میں انہی بچوں کا مرثیہ سنا سنا کر این آر او دینے اور لینے والے کوشش کرتے ہیں کہ ہمیں حکومت میں لایا جائے تاکہ ہم غریب کے بچوں کو سردی گرمی اور بارش سے بچانے کا بندوبست کر سکیں۔ ہر حکومت میں آنے والا اس جذبے کو پیش کر کے ووٹ مانگتا ہے اور حکومت میں آنے کے بعد اپنے وعدے بھول کر اپنے اور اپنے ہم نواؤں کو این آر او لینے دینے کے چکروں میں پڑ جاتا ہے، عوام کے بچے اگلے سال پھر سردیوں میں بغیر جرابوں جرسیوں اور بوٹوں کے سکول جانے لگ جاتے ہیں۔

کار خاص نے احتجاجی مقررین میں سے کسی کو یہ کہتے ہوئے بھی سنا کہ ”حاکموں نے ہمیں شاہ دولہ کے چوہے بنایا ہوا ہے، جب چاہتے ہیں ہمیں سبز کپڑے پہنوا کر ساہوکار کے سامنے پیش کر کے ملنے والے پیسے اپنی جیب میں ڈالتے ہیں“ ۔

دورے کے بعد کار خاص نے فائل پر مختصر نوٹ لکھا ”چوبیس کروڑ چوہوں کا کہنا ہے کہ ہمارے مالک آپس میں این۔ آر۔ او۔ لیتے دیتے ہیں اور ہمیں کوئی نہیں پوچھتے“ ۔

کار خاص نے فائل جمع کروا دی۔

ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے، اللہ نے فائل پر لکھا نوٹ پڑھا، پاکستانی عوام کے لیے سیاست دانوں کی بے رحمی دیکھتے ہوئے اللہ تعالی نے سوچا کہ میں پاکستانیوں کو این۔ آر۔ او۔ خود دوں گا، اللہ تعالی نے اپنے کار خاص کو بلایا حکم دیا کہ کل بمطابق زمینی وقت رات ایک بجے جنت دوزخ کے کارندوں کو تیسرے عرش پر اکٹھا کر لو میں ان کو پاکستانی مردوں کے لیے نئے احکامات دینا چاہتا ہوں۔

کار خاص نے کہا ”کیا احکامات ہیں“ ؟
اللہ نے کہا تمہیں اس سے کیا غرض؟ جو کہا ہے، وہ کرو۔

کار خاص نے کہا جب آپ انسان کو بنا رہے تھے تب بھی آپ نے ہماری نہیں سنی تھی پھر ان میں سے ہی ایک نے شکوہ لکھ دیا تھا۔

وہ کون سا؟
وہ اقبال! جس کو پاکستان والے علامہ اقبال کہتے ہیں، پھر آپ کو بہت غصہ آیا۔

مجھے نہیں یاد، میں اس طرح کے واقعات یاد رکھتا ہوں اور نہ ہی غصہ کرتا ہوں، کل تیسرے عرش پر رات ایک بجے یاد رکھو اور جاؤ۔

تیسرے عرش پر جنت دوزخ کے معاملات چلانے والوں کو جمع کر کے اللہ تعالی کو بتا دیا گیا، ایک بہت بڑا تخت ساتویں آسمان سے روانہ ہوا اور لمبا فاصلہ پلوں میں مکمل کر کے تیسرے عرش پر پہنچ گیا، سب بے حس و حرکت کھڑے ہو گئے۔

اللہ تعالی نے بات شروع کرتے ہوئے کہا کہ آج کے سارے کے سارے احکامات پاکستانی مردوں کے لیے ہیں، ان میں بہت مایوسی پائی جاتی ہے، ان کے بقول ان کے حاکم ڈالر نہ ہونے کے باوجود مہنگی گاڑیاں منگواتے ہیں، عیاشیاں کرتے، کمیشن کھاتے، ایکس ٹینشنیں لیتے اور جس کام کی آڑ میں ایکس ٹینشن لیتے ہیں اس کو مزید بگاڑتے ہیں، کوئی حساب کتاب دیے بغیر پنشن سمیٹتے ہیں اور گھروں کو روانہ ہو جاتے ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ ہم اگر شکایت کریں تو ہمیں بتاتے ہیں کہ سکون قبر میں ہے۔

میں نے ان کو این۔ آر۔ او۔ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ آج سے ان کی سب سزائیں معاف اور راشن ڈبل۔

المختصر پاکستانی حاکم ٹولے کو جو سہولیات پاکستان میں حاصل ہیں وہ ساری کی ساری پاکستانی مردوں کو فراہم کر دی جائیں۔

جاؤ!

Facebook Comments HS