اہل مغرب سے مکالمے کی ضرورت ہے


جمعہ کی نماز کے لیے مسجد میں داخل ہوا تو مرشدی الحاج سعید احمد تاج مسکراتے چہرے کے ساتھ بغلگیر ہوئے اور کہنے لگے راجہ صاحب! آپ کی مکالمے کی کوشش بہت اچھی ہے۔ اسے جاری رکھنا ہے اور کوشش کریں کہ اس میں مختلف طبقوں سے زیادہ سے زیادہ لوگ شامل ہوتے رہیں۔ پچھلے منگل ہم نے ایک مکالمہ ”گفتگو کے آداب“ کے عنوان سے رکھا تھا جس میں بہت سے اہل عقل و دانش نے سیر حاصل گفتگو کی اور یہ نقطہ واضح کیا کہ دین و دینا میں کامیابی کے لیے کسی بھی بندے کو اچھی گفتگو کرنی کتنی ضروری ہے۔

جہاں میں جمعہ پڑھتا ہوں وہاں ڈاکٹر محمد اکرم ورک جیسے جید عالم دین اور سکالر کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی خوبی ہے کہ ان کا ہر بیان ایک طرف دین اسلام کا احاطہ کیے ہوتا ہے تو ساتھ ہی آپ سیاست، معاشرت، معیشت اور زمانے کے بدلتے رنگوں پر بڑی دلیل سے بات کرتے ہیں۔ پچھلے کئی دنوں سے عالم اسلام کے دل اہل مغرب کی طرف سے قرآن جلائے جانے پر دکھی ہیں۔ ایک کے بعد دوسرا ملک اس فعل میں پیش پیش نظر آ رہا ہے۔

مغرب میں کہیں حکومتی سطح پر اور کہیں عوامی سطح پر دین اسلام کے خلاف ایسے کام ہوتے رہتے ہیں جس سے مسلمانوں کے جذبات مشتعل ہوتے ہیں۔ کئی بار ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی عام سا کلمہ گو مسلمان اٹھتا ہے اور نعرہ تکبیر بلند کرتا ہوا کسی کافر کو جہنم واصل کر دیتا ہے۔ مگر آزادی اظہار کے نام پر اہل مغرب میں یہ سلسلہ چل رہا ہے۔ مسلمانوں کی دل آزاری کے سوا ان کے ہاتھ کچھ بھی نہیں لگ رہا ہے لیکن وہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اس مشن پہ لگے ہوئے ہیں۔

اس جمعہ پاکستان بھر کی مساجد میں خطبہ جمعہ کے بیانات بھی اسی تناظر میں بیان کیے گئے۔ جمعہ کا بیان شروع ہوا تو ڈاکٹر اکرم ورک صاحب سب سے اہم نقطہ یہ بیان کیا کہ جس کے پاس دلیل ہو وہ مکالمہ کرتا ہے۔ اہل مغرب دین اسلام، قرآن پاک اور نبی پاکﷺ کی ناموس پہ جس طرح تواتر سے حملے کر رہے ہیں اس سے ایک بات صاف ہو گئی ہے کہ ان کے پاس قرآن اور حضرت محمد ﷺ کے خلاف بات کرنے کے لیے دلیل کوئی نہیں ہے۔ ان کے لکھاری ایک مدت سے قرآن کو حضرت محمد ﷺ کی لکھی ہوئی کتاب کہہ رہے ہیں۔

لیکن اب لگتا ہے ان کی یہ بات ان کے اپنے لوگ بھی نہیں مان رہے ہیں۔ اللہ کی حکمت تھی کہ حضور نبی مکرمﷺ اپنی زندگی کے کسی دور میں کسی مدرسے، سکول یا کسی بزرگ کے پاس کچھ سیکھنے نہ گئے۔ اگر ایسا ہوتا تو آج کے مستشرقین کہہ سکتے تھے کہ محمد ﷺ نے فلاں فلاں سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد یہ کتاب لکھی تھی۔ اللہ نے قرآن میں ارشاد فرمایا کہ ہم ہی اس کتاب کے نازل کرنے والے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ اللہ پاک نے قرآن کو ساری دنیا کے لیے ہدایت کہا اور نبی پاک ﷺ کو ساری دنیا کے لیے رحمت بنا کے بھیجا۔

جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے ویسے ویسے صاحبان عقل و دانش کو قرآن کے آسمانی کتاب ہونے اور حضرت محمدﷺ کے آخری نبی ہونے پر یقین آتا چلا جا رہا ہے۔ مغرب سے بہت سے لوگ جنہوں نے اسلام کے خلاف قلم اٹھایا جب انہوں نے قرآن و حدیث کا مطالعہ کیا اس پر غور کیا تو ان کے دل نور کی روشنی سے منور ہو گئے۔ لیکن کچھ ایسے بھی ہیں جنہوں نے قرآن اور نبی پاک ﷺ کی شان کم کرنے کے لیے کئی کئی کتب لکھ رکھی ہیں۔ آج سوچنے والی بات یہ ہے کہ ہر طرح کی مخالف کے باوجود مغرب میں اسلام سب سے زیادہ پھیلنے والا دین ہے۔

ہر سال ہزاروں لوگ دوسرے دین چھوڑ کے اسلام کا دامن تھام رہے ہیں اور ایسا کرنے والے لوگ اندھی تقلید نہیں بلکہ غور و فکر کے بعد اسلام قبول کر رہے ہیں۔ اعلی دماغ کے لوگ عصبیت سے دور ہوتے ہیں۔ وہ دلیل کے ساتھ بات کرتے ہیں دلیل سنتے ہیں۔ اور راہ حق پا لیتے ہیں لیکن چھوٹے دماغ لوگوں کا کام نقص تلاش کرنا اور توہین آمیزی کرنا ہوا کرتا ہے۔ اہل مغرب کے مفکرین ہار مان چکے ہیں کہ وہ ہر ممکن کوشش کے نتیجے میں اپنے لوگوں کو اسلام کے قبول کرنے سے نہیں روک پا رہے ہیں۔

ان کے مفکرین کی لکھی کتب سے نہ قرآن اور نہ حضرت محمد ﷺ کی شان کم ہو رہی ہے۔ آج سائنس کی انتہا کا دور ہے آج کسی نوجوان کو جھوٹ بول کے یا شعلہ بیانی سے گمراہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ آج اہل مغرب میں نوجوان دلیل سے بات کرنا سیکھ رہے ہیں۔ وہ قرآن و حدیث کا مطالعہ کرتے ہیں اور پھر کسی نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لیے وہاں کے شدت پسند یا اسلام دشمن اپنے لوگوں کو قرآن اور صاحب قرآن کے خلاف بھڑکانے کے لیے توہین آمیز حرکات کرتے ہیں۔

اب ہمارا کرنے کا کام یہ ہے کہ ہمارے دانشور، علما، فقہا اور لکھاری قرآن و حدیث کے تراجم انگریزی میں اور مغربی ملکوں میں رائج دیگر زبانوں میں کریں۔ وہاں جا کے عام لوگوں خاص طور پر نوجوانوں کے ساتھ نشستیں رکھیں اور ان کے سامنے قرآن و حدیث کا صحیح مفہوم بیان کریں۔ میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اہل مغرب کی نوجوان نسل سے اہل اسلام کے مفکرین و سکالرز کا مکالمہ بہت ضروری ہے۔ ایسے علما کا انتخاب کیا جائے جن کو نہ صرف دینی علوم پر عبور حاصل ہو بلکہ وہ اپنی بات دلیل سے سمجھانے کا ہنر بھی خوب جانتے ہوں۔

احتجاج کے نام پر اپنے ملک کی سڑکیں بند کرنے سے مغرب میں چلنے والا توہین آمیز سلسلہ نہیں رک سکتا ہے۔ یہ سلسلہ تب ہی رکے گا جب ہمارے حکمران، سیاست دان اور طاقتور طبقے کے لوگوں کو احساس ہو گا اور وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دین اسلام کی حرمت کے لیے بہادری اور دلیری کے ساتھ مغربی ملکوں کے حکمرانوں کے ساتھ بامقصد مکالمہ کی روش اختیار کریں گے۔ آج ملکی معیشت کو بہتر کرنے کے لیے ہمارے سیاست دانوں کو مکالمہ شروع کرنا ہو گا۔

Facebook Comments HS