ننکانہ میں انسانیت سوز سانحہ: قوم زندہ ہونے کی کوئی علامت تو سامنے لائے
ننکانہ صاحب کے ایک تھانے سے مشتعل ہجوم نے توہین مذہب کے الزام میں گرفتار ایک شخص کو زبردستی باہر نکالا اور پولیس کی موجودگی میں اسے ہلاک کر دیا۔ یوں اس قوم کے ’غیرت مند‘ جوانوں نے ایک بار پھر اپنی مذہبی حمیت کے جھنڈے گاڑ دیے ہیں جس کے وزیر خزانہ اور وزیر اعظم کو ابھی ایک روز پہلے عالمی مالیاتی فنڈ کا وفد ناک رگڑنے اور ’معافیاں‘ مانگنے پر مجبور کر کے گیا ہے۔ حتمی معافی پھر بھی عطا نہیں ہوئی کہ اس کی اجازت واشنگٹن سے ملے گی۔
غیرت مند پاکستانیوں کو شاید یہ علم نہ ہو کہ وہ قانون کو ہاتھ میں لے کر جس مذہب دوستی کا مظاہرہ آئے دن کرتے ہیں، کبھی احمدیوں کی عبادت گاہوں پر حملے کرتے ہیں، کبھی ہندو لڑکیوں کو راہ راست پر لاتے ہیں اور کبھی کسی بدزبان کا سر قلم کر کے اپنے ایمان کی تازگی اور خوش عقیدگی کا ثبوت دیتے ہیں۔ یہ سارے رویے دنیا میں پاکستان کے نام کے لئے تہمت بنتے جا رہے ہیں۔ کسی کو اس بات پر اعتراض نہیں ہے کہ کوئی شخص یا قوم کس مذہب پر کیسے عمل کرتی ہے۔ بلکہ دیکھا جائے تو ان تمام ممالک میں جنہیں اہل ایمان عرف عام میں ’دیار کفر‘ پکارتے ہیں، کوئی مسلمان ہو یا عیسائی، سکھ ہو یا ہندو، اسے اپنے طریقے سے عبادت کرنے، اپنی مرضی و منشا کے مطابق عبادت گاہ بنانے کا بنیادی حق حاصل ہے۔ اور ریاستی طاقت پورے حوصلے سے اس حق کی حفاظت کرتی ہے۔ لیکن دوسری طرف پاکستان ہے جہاں پولیس خود اپنے ہی تھانے کی حفاظت کرنے میں ناکام ہے۔ اس ناکامی کی ذمہ داری قبول کرنے کی بجائے انسپکٹر جنرل پولیس دو مقامی اہلکاروں کو معطل کر کے اپنی ذمہ داری سے عہدہ برا ہو جاتے ہیں۔ اور وزیر اعظم پرانے بوسیدہ بیان کو تر و تازہ کر کے جاری کرتے ہوئے وقوعہ کی رپورٹ طلب کر کے اپنا فرض پورا کر لیتے ہیں۔
پاکستان کیوں بنا تھا؟ آج اس موضوع پر درجن بھر رائے تو ہر وقت مارکیٹ میں دستیاب رہتی ہیں۔ اگر اس بحث کو نہ بھی چھیڑ اجائے تو بھی جاننا اہم ہے کہ کیا پاکستان میں آباد صرف مسلمانوں ہی کو زندہ رہنے، اپنے عقیدہ، جان و مال اور عزت و وقار کی حفاظت کا حق حاصل ہے اور مسلمانوں کے علاوہ جن دیگر عقائد کے لوگ بھی اس ملک میں رہتے ہیں، انہیں بہر طور دوسرے درجے کا شہری کہا جائے گا۔ اہل ایمان کی نگاہ میں تو یہ لوگ ’ذمی‘ ہیں اور انہیں ریاست کو ٹیکس ادا کرنا چاہیے تاکہ وہ حکومتی پناہ میں رہ سکیں۔ تاہم اقلیتی عقائد کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی روشنی میں مذہبی وفور میں روز افزوں اضافے کا مشاہدہ کیا جائے تو لگتا ہے کہ پاکستان کے اہل ایمان اسلام کے احکامات کو از سر نو تحریر کرنے پر بضد ہیں تاکہ مذہبی اقلیتوں کے کسی بھی رکن کے ساتھ ہر صاحب ایمان کو من پسند سلوک کرنے کا ’حق‘ حاصل ہو جائے۔
دیکھا جائے تو ہفتہ کے روز ننکانہ کے تھانے پر حملہ کرنے والے ہجوم نے بھی اپنا یہی حق استعمال کیا تھا اور مذہب کی توہین کرنے والے ایک شخص کی جان لے کر درحقیقت ’انصاف‘ کا بول بالا کیا تھا۔ پھر آئی جی پولیس کیوں مقامی افسروں پر برہم ہیں اور وزیر اعظم کس بات کی رپورٹ طلب کر رہے ہیں۔ یہ وہی دوہرا معیار ہے جو پاکستانی زندگی کے ہر شعبے میں نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ سیاسی لیڈر مذہب کو ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے عوام کو گمراہ بھی کرنا چاہتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی وہ دنیا میں خود کو قانون پسند کہلوانے کے لئے کسی المناک سانحہ پر ہاہا کار مچا کر سرخرو بھی ہونا چاہتے ہیں۔ لیکن اب یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ اس دو غلے پن سے تادیر نہ تو اہل پاکستان کو بے وقوف بنایا جاسکتا ہے اور نہ ہی دنیا میں ملک کے وقار و اعتبار میں اضافہ ہو رہا ہے۔
پاکستان اور اس میں آباد لوگ اپنی بیشتر ضرورتوں کے لئے دنیا کے محتاج ہیں۔ یہ محتاجی صرف آئی ایم ایف کے ذریعے حاصل ہونے والے ’معاشی صحت کارڈ‘ کی صورت میں ہی عیاں نہیں ہے اور نہ ہی دیگر عالمی اداروں اور دوست ممالک سے امداد لے کر اس کی تکمیل ہوجاتی ہے۔ پاکستان کو تو گندم اور بنیادی ضرورت کی دیگر اجناس منگوانے سے لے کر اپنی پیداوار کی منڈیاں تلاش کرنے تک دنیا کے ہر ملک کے تعاون اور ساتھ کی ضرورت ہے۔ جو ملک یہ بھی طے نہ کرسکے کہ اس میں آباد شہریوں کو کس بنیاد پر احترام فراہم ہو گا، اس کے بارے میں دوست دشمن یکساں طور سے سوال اٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ پاکستانی مباحث اور سیاسی بیان بازی یا علمائے کرام کے فرامین کو سنا جائے تو بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ برتے جانے والے بہیمانہ سلوک کو انسانیت سے گرا ہوا قرار دے کر اقوام عالم کو شرم دلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لیکن کبھی یہی آوازیں اتنی ہی شدت سے اس مذہبی منافرت و درندگی کے خلاف سننے میں نہیں آتیں جو پاکستان میں نام نہاد مسلمانوں نے ہجوم کی شکل میں اختلاف رکھنے والے لوگوں کے خلاف روا رکھ کر اختیار کیا جاتا ہے۔
ننکانہ صاب کے سانحہ پر وزیر اعظم کے معاون خصوصی مولانا طاہر اشرفی کا ایک مذمتی بیان ضرور سامنے آیا ہے لیکن اس کے علاوہ کسی مدرسے، مسجد یا آستانے سے کوئی صدا سنائی نہیں دی۔ ایک انسان کو اپنا موقف بیان کیے بغیر، کسی قانونی عدالت کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کیے بغیر بے دردی سے تھانے کی ’محفوظ‘ چہار دیواری سے باہر لاکر ہلاک کر دیا گیا۔ نہ کوئی مقدمہ، نہ کوئی دلیل نہ کوئی قانون۔ لیکن نعروں کی گونج میں ایمان کی سربلندی کا عزم صاف سنا جاسکتا ہے۔ کوئی نہیں بتا سکتا کہ کیا اسی طرح کسی عقیدے کی سربلندی ثابت کی جائے گی؟ اگر اہل پاکستان دنیا میں ایک علیحدہ جزیرے کے طور پر زندہ رہنا چاہتے ہیں۔ تمام عالمی اصولوں کو مسترد کر کے خود کوئی ایسا طریقہ وضع کرنا چاہتے ہیں جسے کوئی دوسرا تسلیم کرے یا نہ کرے لیکن وہی ہمارے ایمان کی کسوٹی بنے گی، تو شاید دنیا کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔ لیکن پھر دنیا کے لوگ بھی ایسے کسی جزیرہ نما ملک کے ساتھ کوئی رابطہ و تعلق قائم کرنے اور اس کی ضرورتوں میں شراکت دار بننے پر آمادہ نہیں ہوں گے۔ اگر اہل پاکستان اپنے نو بہ نو تازہ ہونے والے ایمان کی یہ قیمت دینے پر آمادہ ہیں تو پھر انہیں کون روک سکتا ہے۔ لیکن سوچ لیا جائے کہ یہ راستہ تباہی کا سفر ہے، تہذیب و انسانیت سے گریز کا طریقہ ہے یا ایک گمراہ کن خوش گمانی ہے جس کی کوئی مذہبی سند فراہم نہیں کی جا سکتی۔
اپنے نبیﷺ کو رحمت اللعالمین بتانے پر اصرار کرنے والوں کو اس بات کا جواب دینا چاہیے کہ کسی بے کس و بے بس انسان کو بہیمانہ طریقے سے ہلاک کرنے میں رسول ﷺ کی رحمت و عنایت کی کون سی جھلک تلاش کی جا سکتی ہے۔ آج ریاست پاکستان تحریک طالبان پاکستان کے خلاف اس لئے پوری شدت سے برسر پیکار ہے کہ وہ اپنے من گھڑت عقیدے کو طاقت، دہشت گردی اور ریشہ دوانی کے ذریعے پورے ملک پر نافذ کرنا چاہتے ہیں جبکہ مملکت کا آئین اگرچہ اسلامی نظام کے نفاذ کی بات کرتا ہے لیکن وہ اس کے لئے احترام قانون کو بنیادی شرط کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ اگر اس ملک کے شہری کسی بھی عذر پر مختلف العقیدہ لوگوں کی زندگی تنگ کرنے اور نام نہاد توہین مذہب کے نام پر انسانیت سوز جرم میں ملوث ہوں تو پوچھنا چاہیے کہ ٹی ٹی پی اور ان لوگوں کے مزاج اور طریقے میں کیا فرق ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ملک میں جب بھی دہشت گردی کی بات ہوتی ہے تو عرض کیا جاتا ہے کہ اسے مذہبی شدت پسندی اور بے ہودگی کو مسترد کیے بغیر ختم کرنا ممکن نہیں ہے۔ ٹی ٹی پی ملکی آئین و قانون کو نہیں مانتی، ریاست اس کے خلاف برسر جنگ ہے۔ ’سر تن سے جدا‘ والے بھی ملکی آئین و قانون کو نہیں مانتے لیکن ریاست ان کی چیرہ دستی کے سامنے سرنگوں ہوجاتی ہے۔ پاکستان میں اس کی جیسے چاہے وضاحت کر لیں لیکن دنیا میں کوئی اس دوہرے معیار کو قبول کرنے پر تیار نہیں ہو گا۔ مذہبی جذبات کا سہارا لے کر قانون شکنی اور انسان دشمنی اگر پاکستان میں جائز ہے تو اسے بھارت یا اسرائیل میں کیسے ناجائز کہا جائے گا؟
پاکستان کے حوالے سے البتہ ملک کے دگرگوں معاشی حالات اور بدتر ہوتی مذہبی شدت پسندی ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہیں۔ ان میں براہ راست کوئی تعلق نہ بھی تلاش کیا جا سکے تو بھی اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ مذہب کو غیر انسانی طریقوں کے لئے آڑ بنانے والی کوئی قوم کسی عالمی فورم پر نہ تو احترام کے قابل رہتی ہے اور نہ ہی اس کے لئے ہمدردی کے جذبات نمایاں ہوتے ہیں۔ پاکستان کو ’جینے‘ کے لئے اس وقت دنیا کی طرف سے احترام، اعتبار اور ہمدردی کی اشد ضرورت ہے۔ ورنہ بجلی گھر و گاڑیاں چلانے کے لئے تیل تو دور کی بات ہے، پیٹ بھرنے کے لئے اناج تک ملنا دشوار ہو جائے گا۔
ننکانہ کا واقعہ توہین آدمیت کا افسوسناک سانحہ ہے۔ قوم کو اسے بیک آواز مسترد کر کے، یہ ثابت کرنا ہو گا کہ یہ رویہ اجتماعی نہیں بلکہ انفرادی گمراہی کا نتیجہ ہے۔ کیا توقع کی جائے کہ آنے والے جمعہ کے روز ملک کی تمام مساجد کے آئمہ اس واقعہ کی مذمت میں خطبات ارشاد فرمائیں گے اور پارلیمنٹ کے اجلاس میں اس سانحہ کو ملکی قانون کے علاوہ قومی روایت و حمیت کے منافی قرار دیا جائے گا؟ پاکستانی خود کو زندہ قوم کہلا نے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ زندہ ہونے کی کوئی علامت سامنے لائی جائے۔


