ایک سول سرونٹ کا ’کُنجِ قفس‘
دنیا میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں، ایک وہ جو کتابیں لکھتے ہیں اور دوسرے وہ جو کچھ نہیں لکھتے۔ فواد حسن فواد کا شمار پہلی قسم کے لوگوں میں ہوتا ہے، آپ ایک سینئر سرکاری افسر ہیں۔ مگر ریٹائر ہوچکے ہیں لہذا آج اُن کی کتاب کے بارے میں جو کچھ کہوں گا سچ کہوں گا سچ کے علاوہ کچھ نہیں کہوں گا، ہاں اگر یہ حاضر سروس ہوتے تو دوسری بات تھی، اُس صورت میں بھی میں نے اِس تقریب میں مضمون پڑھنا تھا مگر یہ سوچ کر کہ آئندہ میری پوسٹنگ کا تمام دار و مدار اُس ’سچ‘ پر ہو گا جو میں نے مضمون میں بیان کرنا ہے۔ اور اگر کہیں اُس مضمون میں ایک آدھ فقرہ فواد صاحب کو گراں گزر جاتا تو میں کتاب کی تقریب رونمائی کے بعد اپنا بوریا بستر سمیٹتا اور کوئٹہ کے پوسٹنگ آرڈر ملنے کا انتظار کرتا، ویسے بھی فواد صاحب کو بلوچستان بہت پسند ہے۔
اب صورتحال ذرا مختلف ہے، فواد صاحب اِس وقت بطور افسر نہیں بلکہ بطور شاعر سٹیج پر موجود ہیں اور یہ اُن کی شاعری کی کتاب ’کُنجِ قفس‘ کی تقریب رونمائی ہے، اپنی کتاب کی تقریب میں بندہ ویسے بھی دلہا کی طرح ہوتا ہے، شرماتا زیادہ ہے، بولتا کم ہے، منیر نیازی کے الفاظ میں کہوں تو بے چین بہت پھرتا ہے، گھبرائے ہوئے رہتا ہے۔ لیکن سچ پوچھیں تو اِس وقت دلہا سے زیادہ میں گھبرایا ہوا ہوں اور اِس کی وجہ فواد صاحب کی شخصیت ہے۔ فواد حسن فواد ایک ’پرفیکشنسٹ‘ بندے کا نام ہے، وہ جو کام کرتے ہیں، بہترین انداز میں کرتے ہیں، اگر یہ موقع اُن کی ذات کی خوبیاں گنوانے یا بطور افسر اُن کی قابلیت پر بات کرنے کا ہوتا تو میں ضرور اُس پر بات کرتا اور اپنی رائے دیتا کہ میں نے فواد حسن فواد سے زیادہ قابل، ذہین اور شاندار افسر اپنے ستائیس برس کے کیرئیر میں نہیں دیکھا، اصولاً مجھے اپنے اِس بیان کی تشریح کر کے بتانا چاہیے کہ میں ایسا کیوں سمجھتا ہوں مگر جیسے کہ میں نے کہا آج کا موقع فواد صاحب کی شاعری پر بات کرنے کا ہے سو میں خود کو اُس حد تک ہی محدود رکھوں گا۔
شاعری کی کتاب اپنی گرل فرینڈ کو دینے کے لیے ایک اچھا تحفہ ہوتی ہے، میں یہ بات تجربے کی روشنی میں بیان کر رہا ہوں، نوجوان اِس معاملے میں مزید رہنمائی کے لیے مجھ سے تقریب کے بعد علیحدگی میں مل سکتے ہیں، میں انہیں بتاؤں گا کہ کیسے شاعری کی کتاب میں معنی خیز شعروں کو نشان لگا کر محبوبہ کو پیش کیا جاتا ہے، یہ تیر بہدف نسخہ ہے اور آج کے دور میں بھی اتنا ہی کارآمد ہے جتنا ہمارے دور میں تھا۔ تاہم کُنجِ قفس نام کی جو کتاب آپ کے ہاتھ میں ہے وہ گرل فرینڈ کو تحفے میں نہیں دی جا سکتی البتہ نیب کے تفتیش کاروں، پولیس افسران اور جج صاحبان کے لیے یہ ایک اچھا تحفہ ہے۔ ایک اچھی بات یہ ہے کہ اِن لوگوں کو کُنجِ قفس کا مطلب سمجھانے کی ضرورت پیش نہیں آئی گی کیونکہ یہ آئے روز لوگوں کو کُنج ِ قفس میں ڈالنے کا کام ہی کرتے ہیں۔
اِس تقریب میں آنے سے پہلے میں نے ایک پولیس افسر کو یہ کتاب دکھائی تو اُس نے کتاب کو ہاتھ میں پکڑ کر سونگھا اور پھر کہنے لگا اِس میں سے تو بغاوت کی بُو آ رہی ہے، اِس شاعر پر فوجداری مقدمہ ہونا چاہیے، میں نے جواب دیا کہ اگر بات شاعروں پر پرچہ کٹوانے تک آ گئی ہے تو پھر بے شک آپ صلح کر لیں۔ تفنن برطرف، یہ بات درست ہے کہ اِس کتاب سے بغاوت کی بُو آتی ہے، دراصل یہ شاعری کی کتاب نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کا نوحہ ہے، یہ ایک مقدمہ ہے جو فواد صاحب نے خود پر قائم جعلی مقدموں کے جواب میں اِس سماج پر قائم کیا ہے، بیوروکریسی کے الفاظ میں کہوں تو یہ ایک چارج شیٹ ہے جو فواد حسن فواد نے فریم کی ہے اور اِس چارج شیٹ کی خوبی یہ ہے کہ یہ استعاروں سے مزین ہے، شاعری کی روایت سے جُڑی ہے اور علم عروض کے بندھن میں جکڑی ہوئی ہے۔
جس طرح فرانز کافکا نے اپنے ناول ’دی ٹرائل‘ میں لا قانونیت اور بے انصافی کی لازوال تصویر کشی کی ہے اسی طرح فواد حسن فواد نے بھی کُنجِ قفس میں اپنی نظموں اور غزلوں کی مدد سے اِس نظام کو بجلی کے جھٹکے دیے ہیں۔ ایک غزل کے چند شعر ملاحظہ ہوں :
تمہارے عہد کو عہدِ عذاب لکھوں گا، میرا یہ عزم ہے عالی جناب، لکھوں گا
کہوں گا کلمہ حق، جو بھی اُس کی ہو قیمت، ہزار طرح سے آئیں عتاب، لکھوں گا
یہ ظلم و جبر کے موسم گزارنے کے لیے، مزاحمت کا نیا اِک نصاب لکھوں گا
ہزار صحنِ چمن میں بہار بکھری ہو، مرا نصیب ہیں کالے گلاب، لکھوں گا
سناؤں گا جو حکایت مرے ضمیر کی ہے، لے محتسب کا بھی کوئی حساب لکھوں گا
فواد صاحب کی شاعری تلخ ہے، یہ ایک ایسے شخص کی شاعری ہے جو سرپھرا ہے اور سرکشی پر آمادہ ہے اور ایسے سرپھرے اور سرکش لوگوں کے ساتھ اِس معاشرے میں وہی ہوتا ہے جو فواد حسن فواد کے ساتھ ہوا۔ اپنے نظریے پر کھڑے رہنے کی ایک قیمت ہے جو چکانی پڑتی ہے اور فواد حسن فواد نے وہ قیمت چکا دی اور آج وہ پورے قد کے ساتھ ہمارے درمیان کھڑے ہیں اور سرخرو ہوچکے ہیں۔
فواد صاحب ایک سکہ بند اور کہنہ مشق شاعر ہیں، انہوں نے باقاعدہ علم عروض تو نہیں سیکھا مگر وہ اردو شاعری کی روایت سے بخوبی واقف ہیں، اُن کی غزلیں اور نظمیں اُن کی شخصیت کی طرح ’پرفیکٹ‘ ہیں، ذاتی طور پر میں اُن کی نظموں کا مداح ہوں، اُن کی نظمیں کہیں تو جھرنوں کی طرح بہتی ہوئی لگتی ہیں اور کہیں یک دم سمندر کی لہروں کی مانند بپھر جاتی ہیں، البتہ رومانوی نظمیں کم ہیں بلکہ نہ ہونے کے برابر ہیں، ایک نظم جو انہوں نے کسی لڑکی کی یاد میں لکھی ہے اُس میں کسی حد تک رومانویت ضرور ہے مگر جو نظم انہوں نے اپنی بیگم کے نام لکھی ہے اُس میں رومانویت نہیں ہے کیونکہ وہ انہوں نے جیل میں بیٹھ کر لکھی تھی، ویسے اگر وہ جیل میں نہ بھی ہوتے تو بھی بیگم کے لیے رومانوی نظم لکھنا خاصا مشکل کام ہوتا بقول شخصے بیگم سے رومانوی باتیں کرنا ایسے ہی ہے جیسے بندہ خوامخواہ خارش کر رہا ہو۔
اُن کی ایک نظم ’بساط پھر سے بچھی ہوئی ہے‘ ہندوستانی شاعر جاوید اختر کی نظم ’نیا حکم نامہ‘ سے متاثر ہو کر لکھی ہوئی لگتی ہے لیکن مجھ سے اگر کوئی پوچھے کہ حاصل کتاب کیا ہے تو میرا جواب ہو گا کہ جو نظم انہوں نے اپنے بیٹے سلال کے نام لکھی ہے، وہ حاصل کتاب ہی نہیں بلکہ حاصل زندگی ہے۔ اِس نظم میں انہوں نے کچھ بنیادی سوالات اٹھائے ہیں اور ہمیں جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ وہ اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ اُن کے نقش قدم پر مت چلے، حق سچ کا ساتھ دینے کی غلطی نہ کرے، اعلیٰ اقدار اور اصولوں کی پاسداری مت کرے، زمانے کے فرعون کے سامنے کلمہ حق نہ بولے اور اُن تمام خوابوں کو بھول جائے جو ہم نے ساتھ مل کر تراشے تھے۔ یہ نظم دل چیر کر رکھ دیتی ہے۔
غالب کا شعر ہے ’نے تیر کماں میں ہے نہ صیاد کمیں میں، گوشے میں قفس کے مجھے آرام بہت ہے۔ ‘ فواد صاحب اگر غالب کے اِس مشورے پر عمل کرتے تو انہیں اپنی زندگی کے دو سال کُنجِ قفس میں نہ گزارنے پڑتے، مگر پھر وہ فواد حسن فواد نہ ہوتے، پھر وہ سول سروس کے انہی ہزاروں افسران میں سے ایک افسر ہوتے جو چالیس سال کی نوکری کے بعد جب ریٹائر ہوتا ہے تو اُس کی ہر بات اِس فقرے سے شروع ہوتی ہے کہ ’جب میں ڈپٹی کمشنر چکوال ہوا کرتا تھا تو توپ چلا دیا کرتا تھا‘ جبکہ حقیقت میں یہ افسران اپنے باس کا فون بھی رکوع کی حالت میں سنتے ہیں۔ جبکہ جس فواد حسن فواد کی ہم بات کر رہے ہیں اُس نے سولہ ماہ قید تنہائی میں رہنا تو قبول کیا مگر سر نہیں جھکایا، سول سروس اور اردو شاعری، دونوں کو فواد حسن فواد پر ناز کرنا چاہیے۔
نوٹ: یہ کالم پاکستان لٹریری فیسٹیول کے زیر اہتمام فواد حسن فواد کی کتاب ’کُنج ِ قفس‘ کی تقریبِ رونمائی کے موقع پر پڑھنے کے لیے لکھا گیا ہے۔


