عمران خان کی جیل بھرو تحریک


سابق وزیر اعظم عمران خان نے انتخابات کرانے کے لئے موجودہ حکومت دباؤ ڈالنے کے لئے ’جیل بھرو تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ تاہم انہوں نے ابھی تک جیل بھرو تحریک کی تاریخ کا تعین نہیں کیا ہے البتہ اگلے روز انہوں نے جیل بھرو تحریک کو پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کے 90 روز میں انتخابات نہ کرانے سے مشروط کر دیا ہے۔ شنید ہے۔ اب انہوں نے جیل بھرو تحریک شروع کرنے کے لئے آئینی ماہرین کو مشاورت کے لئے بلا لیا ہے۔

انہوں نے پچھلے اڑھائی ماہ سے زمان پارک میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں اور ممکنہ گرفتاری کے خدشہ کے پیش نظر اپنی تمام تر سرگرمیاں زمان پارک تک محدود کر دی ہیں اور وہ وڈیو لنک سے اسی طمطراق سے روزانہ قوم سے خطاب کرتے ہیں۔ جیسے وہ اب بھی وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہوں ان کے دائیں بائیں جانب پاکستان اور پی ٹی آئی کے نصب پرچم ان کے اقتدار کے دبدبے کی عکاسی کرتے ہیں۔ عمران خان کو اقتدار سے محروم ہوئے 10 ماہ ہو گئے ہیں لیکن تاحال ان کے سر سے اقتدار کا نشہ نہیں اترا وہ اپنے آپ کو وزیر اعظم ہی سمجھتے ہیں۔

ان کے لب و لہجہ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی وہ اپنے سیاسی مخالفین کو اسی طرح دھمکیاں دیتے ہیں جس طرح وہ اقتدار کی کرسی پر بیٹھ کر دیتے تھے۔ جمہوری معاشروں میں مطالبات منوانے کے لئے جہاں پارلیمنٹ کے اندر آواز بلند کی جاتی ہے۔ وہاں سڑکوں پر بھی صدائے احتجاج بلند کی جاتی ہے۔

دنیا بھر میں احتجاج ہوتا ہے۔ ملین مارچ ہوتے ہیں۔ دھرنا دے کر سڑک بلاک کی جاتی ہے اور نہ ہی پارلیمنٹ کے درو دیوار پر گندے کپڑے لٹکائے جاتے ہیں بلکہ احتجاج اور دھرنے کے ساتھ کاروبار زندگی بھی جاری رہتا ہے۔ حکومت بھی مفلوج ہوتی ہے اور نہ ہی کار سرکار میں مداخلت کی جاتی ہے لیکن پاکستان میں گنتی کے چند افراد سڑک پر دھرنا دے کر بیٹھ جاتے ہیں اور ٹریفک کا نظام درہم برہم کر دیتے ہیں۔ اس نوعیت کے احتجاج کے باعث کئی جاں بلب مریض بروقت ہسپتالوں میں نہ پہنچ سکنے کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔

پاکستان میں اکثر و بیشتر سیاسی جماعتوں نے اس نوعیت کے احتجاج کو سیاسی کھیل تماشا کا حصہ بنا دیا ہے۔ اگست 2014 ء کے لانگ مارچ کی آڑ میں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے 15، 20 ہزار کارکن ریڈ زون میں بیٹھ گئے اور پارلیمنٹ کے سامنے 126 دن رونا دھونا جاری رکھا پوری پارلیمنٹ دھاوا بولنے والوں کے سامنے کھڑی ہو گئی بالآخر عمران خان کو 16 دسمبر 2014 ء کو سانحہ اے پی ایس پشاور کی آڑ میں اپنا بوریا بستر باندھ کر بے نیل مرام چلے گئے نواز شریف کی حکومت کے خاتمہ کے لئے عمران خان نے کبھی لاک ڈاؤن اور کبھی ملک گیر احتجاج کی کال دی لیکن انہیں کامیابی نہیں ہوئی 2018 ء کے متنازعہ انتخابات کے نتیجے میں بر سر اقتدا آنے کے بعد عمران خان نے اپوزیشن کو ایک دن بھی سکھ کا سانس نہیں لینے دیا بالآخر عمران خان کے طرز عمل نے کمزور اور ٹکڑوں میں منقسم اپوزیشن متحد کر دیا اور پھر اپوزیشن نے ایک ہی ہلے میں عمران خان کو ووٹ آؤٹ کر دیا ہے۔

پچھلے دس ماہ سے عمران خان قبل از وقت انتخابات کرانے کے لئے حکومت کے خلاف ایجی ٹیشن شروع کر رکھا ہے۔ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں قومی اسمبلی سے باجماعت استعفیٰ دے دیا لیکن جب یہ حربہ ناکام ہو گیا تو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر کے ایک اور ناکامی کا طوق اپنے گلے ڈال لیا پھر انہوں نے 26 نومبر 2022 ء کو پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا لیکن اگلے روز قبل از وقت عام انتخابات کرانے کے دباؤ کا حربہ استعمال کرنے کے لئے دونوں اسمبلیوں کی بلی دینے کا فیصلہ کر لیا جس پر عمل درآمد کرنے میں انہیں دو ماہ لگ گئے چوہدری پرویز الہی عمران خان کو صوبائی اسمبلی توڑنے کے خطرناک نتائج سے آگاہ کرتے رہے لیکن عمران خان نے ان کی ایک نہ سنی اور دونوں اسمبلیاں تڑوا کر زمان پارک میں گوشہ نشین ہو گئے ہیں مبادا کہ انہیں باہر نکلنے پر دھر لیا جائے انہوں نے ایک خطرناک بیان جاری کر دیا ہے جس میں انہوں نے آصف علی زرداری پر ان قتل کرنے کا الزام عائد کر دیا ہے۔

انہوں نے رہی سہی کسر اگلے روز نکال دی اور کہا کہ ان کو قتل کرنے کے لئے جنوبی وزیرستان کے دو افراد کو رقم بھی ادا کر دی گئی ہے۔ عمران خان کے الزام کو دہرانے پر شیخ رشید احمد اڈیالہ جیل جسے وہ اپنا سسرال کہتے کی ہوا کھا رہے ہیں۔ عمران خان نے اپنے ترکش سے آخری تیر جیل بھرو تحریک کا نکالا ہے انہوں نے وڈیو لنک پر کشمیریوں سے اظہار یک جہتی کے موقع پر اپنا جو پیغام ریکارڈ کرایا اس کی تان جیل بھرو تحریک پر ٹوٹی۔ معلوم نہیں عمران خان جیل بھرو تحریک کا اعلان کور کمیٹی کی مشاورت سے کیا ہے جس انہوں نے اچانک اعلان کر کے سرپرائز دیا ہے۔

ٹیکس، بجلی اور گیس کے بل نہ دینے کے اعلانات سول نافرمانی کے زمرے میں آتے ہیں۔ عمران 2014 ء کے دھرنے میں بھی اس نوعیت اعلانات کر چکے ہیں لیکن عوام کی طرف سے کوئی رسپانس نہیں ملا جیل بھرو تحریک سول نافرمانی کی انتہاء ہے۔ متحدہ ہندوستان میں کانگریسی لیڈروں نے آزادی کے لئے بار ہا جیل بھرو تحاریک چلائیں لیکن کسی تحریک کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوا البتہ ان تحاریک کو دباؤ کے حربے کے طور استعمال کیا جاتا ہے۔

پاکستان میں 50 کے عشرے میں جیل بھرو تحریک شروع کی گئی اسی طرح مارچ 1977 ء میں جیل بھرو تحریک میں 45 ہزار افراد نے گرفتاریاں پیش کیں اور پی این اے کے ساڑھے تین ہزار کارکنوں نے نظام مصطفیٰ ﷺ تحریک میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے لیکن یہ تحریک کامیاب نہیں ہوئی بلکہ اس کے نتیجے میں ملک پر مارشل لاء کی سیاہ رات مسلط کر دی گئی اس تحریک کے پیچھے مذہبی جذبات جس کے باعث اتنی بڑی تعداد میں کارکنوں نے قربانیاں دیں جنرل ضیا الحق کے دور میں ایم آر ڈی کی تحریک چلی جس میں لوگوں نے گرفتاریاں تو پیش نہ کیں البتہ مارشل لائی حکومت نے ہزاروں کی تعداد میں سیاسی رہنماؤں کو جیلوں ڈال دیا کوڑے کھائے ایسا دکھائی دیتا ہے۔

عمران خان نے ہوم ورک کیے بغیر جیل بھرو تحریک شروع کرنے کا بڑا اعلان کر دیا ہے اگرچہ انہوں نے اس بات کا عندیہ دیا کہ وہ جیل بھرو تحریک کی خود قیادت کریں گے۔ وہ پچھلے اڑھائی ماہ سے زمان پارک میں صاحب استراحت ہیں۔ دو ہفتے بعد صحت ہونے کی خوشخبری سنائی عمران نے اپنے سیاسی قد کاٹھ سے بڑا فیصلہ کیا۔ جیل بھرنے کا حوصلہ جماعت اسلامی اور جمعیت علما ء اسلام کارکنوں میں پایا جاتا ہے۔ ’چوری کھانے والے میاں مٹھو جیل نہیں کاٹ سکتے رانا ثنا اللہ نے پی ٹی آئی کے کارکنوں ڈرانے کے لئے کہہ دیا ہے جیل بڑی مشکل جگہ ہوتی ہے۔

عمران خان نے گرفتاریاں پیش کرنے والے کارکنوں کی رجسٹریشن شروع کر دی ہے۔ اگر عمران خان کی جیل بھرو تحریک میں ایک لاکھ کارکن گرفتاریاں پیش کر دیں پورے ملک میں عمران خان واہ واہ ہو جائے گی۔ اگر ترکش سے نکلا یہ تیر بھی نشانے پر نہ لگا تو عمرانی سیاست کو ناقابل تلافی پہنچے گا۔

Facebook Comments HS