پاکستان اور اقتصادی حالت


پاکستان کی بگڑتی اقتصادی حالات کے کئی عوامل ہیں جن میں کمزور گورنس، سیاسی انتشار، بیروزگاری، انصاف کا مہیا نہ ہونا اور رشوت شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بیرونی قرضوں کا حجم، ملکی کرنسی کا اپنی وقت کھونا اور اس پر مزید سٹیٹ بینک میں بیرونی کرنسی کے ذخائر میں کمی بھی شامل ہیں۔ مزید درآمدات کا بڑھ جانا جن میں تیل، گیس اور دوسری اشیاء ضرورت نیز ملکی تاریخ میں سیلابوں سے تباہی بھی بڑے عوامل میں شامل ہے۔ جس سے اربوں روپے کے نقصان کے علاوہ تقریباً پندرہ ہزار اموات اور فصلوں کی تباہی ملکی فنانس پر دباؤ ڈالے ہوئے ہے۔

سب سے گمبھیر مسئلہ درآمدات اور توانائی کی ادائیگی ہے اس کے علاوہ بیرونی قرضہ جات کی قسطوں کی ادائیگی بھی ہے۔ جس سے اندرونی اشیاء کی قیمتوں پر شدید دباؤ ہے۔ سیلاب سے قبل سٹیٹ بنک کے مطابق ہمیں بیرونی ادائیگی کے لئے تقریباً ساڑھے 33 ملین ڈالرز کی ضرورت تھی۔ یہ بیرونی ادائیگی تمام اہداف کو مد نظر رکھتے ہوئے اور دوست ممالک کے قرضوں کو اگلی مدت کے لئے رول اور کرنے کے بعد ممکن تھا لیکن سیلاب نے سینکڑوں مربع میل پر پھیلی فصل کو تباہ کر دیا اور خوراک کا بحران پیدا ہو نا ایک لازمی امر ٹھہرا۔

اس کی وجہ سے تمام اقتصادی اہداف حاصل کرنا ممکن نہ رہا۔ ہمارے فارن ایکسچینج سٹیٹ بینک کے مطابق گزشتہ سال اگست میں 8 بلین اور کمرشل بینکوں کے پاس 7.5 بلین ڈالرز تھے۔ جو کہ صرف ایک ماہ کی ادائیگی کے لئے ہی تھے۔ پاکستانی روپیہ 20 فیصد شرح کے حساب سے اس سال کے شروع میں گر گیا جو کہ ایک ریکارڈ ہے جس کی وجہ سے درآمدات کی قیمتوں میں اضافہ و قرضوں کی ادائیگی نے ہماری مہنگائی کو 27.3 فیصد کے ساتھ ایک ریکارڈ سطح پر پہنچا دیا۔

جس سے نبرد آزما ہونا ایک چیلنج ہے اور وہی قومیں سرخرو ہوتی ہیں جن کا نصب العین اور منزل ایک ہوتی ہے اور سب اکٹھے ہو کر ایسے چیلنجز کا مقابلہ کرتے ہیں۔ ہم پولرائزڈ معاشرہ ہو چکے ہیں ہر ایک اپنی اپنی ہانک رہا ہے۔ ملکی مفاد پس پشت اور ذاتی مفاد مقدم ہو چکے ہیں۔ پاکستان کو اپنے سیلاب کی تباہ کاریوں سے نبٹنے کے لئے 30 بلین ڈالرز کی ضرورت ہے اور اقوام متحدہ کے مطابق اسے اپنے بیرونی قرضوں کی ادائیگی کو موخر کر دینا چاہیے۔

ملک میں سیاسی استحکام کا نہ ہونا اور سرمایہ داروں کا سرمایہ کاری نہ کرنا بھی بڑے عوامل میں شامل ہے۔ ہمارے برادر ملک سعودی عرب، عرب امارات اور قطر سے ہمیں 5 بلین ڈالرز کی سرمایہ کاری کی توقع ہے جو کہ ہمارے فنانس اور اعتماد کو ابھارنے میں مدد گار ثابت ہو گا۔ پاکستان اپنے دو طرفہ تعلقات والے ممالک و پیرس کلب کے ممبران سے اپنے قرضوں کو ریسٹرکچر کرنے کی بات چیت کر رہا ہے۔ ان میں ہمارے دوست چین کا کافی رول نظر آنا چاہیے جس کے بنکوں اور حکومت سے ہم نے تقریباً 30 بلین ڈالر کا قرضہ لیا ہوا ہے۔

جب سب قرضوں اور ادائیگی کو دیکھا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کیا پاکستان بیرونی قرضوں کی ادائیگی میں ڈیفالٹ کر جائے گا۔ لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ ملکی تاریخ میں ایسا ہوا نہیں ہے۔ اسی کے ساتھ یہ سوال پیدا ہوتا ہے ہم کس طرح ایسی حالت کو پہنچے ہیں۔ سب سے پہلے سیاسی انتشار، بری مینجمنٹ، بین اقوامی منڈیوں میں ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ اور اس کے اوپر توانائی کی مد میں ادائیگی وغیرہ ان میں شامل ہے۔ بحیثیت قوم ہمیں اپنی بری عادات کو سنوارنا ہو گا۔ ہم دو نمبری میں سب سے آگے ہیں۔ ہر شے میں ملاوٹ، جھوٹ و مکرو فریب ہماری سرشت میں شامل ہو چکا۔ خدارا سنبھل جائیں ورنہ داستاں نہ ہو گی داستانوں میں۔

 

Facebook Comments HS