اختیارات کی جنگ کا فیصلہ کن موڑ
پی ٹی آئی قومی اسمبلی سے استعفوں اور بعد ازاں پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کی قبل از وقت تحلیل کے باوجود سیاسی عمل میں رخنہ ڈالنے میں کامیاب نہیں ہوئی لیکن عدالتی فعالیت نے صرف چند ہفتوں میں سیاسی کشمکش کو نقطہ ابال تک پہنچا کر آئینی و سیاسی بحران کو زیادہ گنجلک بنا دیا۔ تاہم ججز کی مبینہ آڈیو لیکس سے پیدا ہونے والی غیرمعمولی صورت حال سے فائدہ اٹھانے کی خاطر حکمراں نواز لیگ اب عدالتی فعالیت کے خلاف پوزیشن لے کر ووٹ کو ”عزت دو “ کے بیانیہ سے شرمناک پسپائی کے نتیجہ میں ہونے والے سیاسی نقصان کے ازالہ میں سرگرداں ہے۔
عمران خان تو مقبولیت کے گھوڑے پہ سوار ہو کر اپنے کھوئے ہوئے اقتدار کی بازیابی کی خاطر ایک ایسے جنون استرداد میں مبتلا ہیں، جس کی کوئی سمت دکھائی نہیں دیتی لیکن نواز لیگ کی پختہ کار لیڈر شپ اس کشمکش کو تقسیم اختیار کے آئینی فارمولا کے ازسرنو تعین کا خوبصورت موقعہ سمجھ کے پوری منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھنے کی کوشش کرے گی، لاریب، چومکھی لڑائی میں مملکت کے تمام ادارے اپنے دائرہ اختیار کی حدود بڑھانے کے خبط میں ریاستی ڈھانچہ کو بنیادی تبدیلیوں کے دہانے تک کھینچ لائے ہیں اور یہی ناگوار اتھل پتھل، سیاسی بدنظمی، معاشی بحران اور امن و امان کی حالت کو مزید بگاڑنے کا سبب بنے گی۔
کیا اقتدار کی کشمکش نے اس سیاسی بندوبست کے تارپود بکھیر دیے جسے طاقتوروں نے عالمی سیاست کے تقاضوں کے مطابق ڈیزائین کیا تھا؟ بظاہر تو یہی لگتا ہے کہ ہوشرباء مہنگائی اور دوبارہ ابھرنے والی دہشت گردی نے بائیس کروڑ آبادی والے اسٹریٹجک اہمیت کے حامل عظیم ملک کو فنا و بقا کے خط امتیاز پہ لا کھڑا کیا، جس میں سنگین اندرونی تنازعات کو جواز بنا کر عالمی طاقتیں ہمارے جوہری ہتھیاروں کے تحفظ پہ سوال اٹھا سکتی ہیں، اسی تناظر میں حال ہی میں جاری کردہ امریکی صدر جو بائیڈن کے بیان کو جوہری ہتھیاروں کی نگرانی کرنے والی آئی اے ای اے کی ٹیموں کے خاموش دورے سے ملا کر دیکھا جائے تو بات سمجھ میں آ جائے گی۔
اگر توانائی کی قلت کی وجہ سے صنعتی پہیہ رک گیا اور معاشی بدحالی کے نتیجہ میں شہری سڑکوں پہ نکل آئے تو ٹی ٹی پی سمیت دیگر دہشت گرد گروہوں کی طرف سے پولیس پہ حملوں کی لہر کو عالمی طاقتیں ریاست کی نمایاں کمزوری اور قانون کے نفاذ کی عدم صلاحیت سے تعبیر کرتے ہوئے ہمارے ایٹمی اثاثوں کی حفاظت کی استعداد پر سوال اٹھا کے مملکت کی مشکلات بڑھا دیں گے۔ بلاشبہ اقتصادی مشکلات اور دہشتگردی نے دائمی بدانتظامی کے ساتھ مل کر ہمارے سیاسی نظام کے لئے ممکنہ طور پر جان لیوا خطرات پیدا کر دیے۔
تقدیر نے ظاہرہ طور پہ غیر مربوط واقعات کی مدد سے اس وقت جن تین قسم کے بحرانوں کو ہمارے سر پہ لا کھڑا کیا، ان میں اقتصادی اور سیاسی بحران کی نسبت وہ سیکورٹی بحران زیادہ سنگین ہے، جو کابل سے امریکی انخلاء کے بعد پیدا ہوا اور جسے قومی قیادت کے ذہنی تضادات نے مزید پیچیدہ بنا دیا۔ دہشتگردی کے خلاف جو جنگ وسیع پیمانہ پر افلاس پھیلانے کا سبب بنی اور جس کی کوکھ سے جنم لینے والے مہیب تشدد کی حرکیات نے پاکستانیوں کی روح کو تاریک کر دیا، جب یہ جنگ ختم ہوئی تو معلوم ہوا کہ فاتح و مفتوح، دونوں، نے وہ تمام چیزیں کھو دیں جس کی خاطر وہ لڑ رہے تھے لیکن اسی جنگ کی بدولت آمریت کے بحران بڑھے تو لوگوں نے سیاستدان کی کوتاہیوں کو بھلا کر ایک بار پھر جمہوریت کو مدد کے لئے پکارا یوں پچھلے بیس سالوں کے دوران آمریتوں سے نجات کی خواہش کرنے والوں کی تعداد بڑھتی گئی بلکہ اس وقت سوشل میڈیا پہ کئی ایسے نیٹ ورک فعال ہیں جو بالکل اسی طرح دفاعی اداروں کے خلاف مہمات چلانے میں مشغول ہیں، جیسے 1971 میں بنگلہ دیش کی علیحدگی کی تحریک کے دوران مغربی میڈیا نے چلائیں تھی۔
اس وقت مغربی حصہ میں پیپلز پارٹی جیسی مقبول جماعت سمیت فوج کی حمایت کرنے والی کئی سیاسی قوتیں موجود تھیں لیکن اس وقت سوشل میڈیا پہ مائیکرو لیول پہ چلائی جانے والی ان مہلک مہمات میں ہماری مقتدرہ کا دفاع کرنے والا عنصر کمزور اور ایسے حالات سے نمٹنے کی خاطر حکمراں اتحاد میں ذہنی ہم آہنگ مفقود ہے۔ نواز لیگ، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی کے مابین کئی بنیادی امور پہ اختلاف رائے کی وجہ سے گورنمنٹ کی ڈلیوری کی صلاحیت گھٹ رہی ہے، مملکت کے وجود پہ حملے کرنے والی ٹی ٹی پی کے علاوہ افغان طالبان سے نمٹنے جیسے پالیسی امور پہ پیپلز پارٹی، نواز لیگ اور جے یو آئی کی سوچ میں تضاد ہے، حتی کہ عمران خان کی گرفتاری کے معاملہ پہ بھی حکمراں اتحاد میں اتفاق رائے پایا نہیں جاتا، نواز لیگ اور جے یو آئی گرفتاری کے حامی جبکہ آصف علی زرداری خان کو گرفتار کرنے کی مخالف ہیں۔
ملک کو اقتصادی بحران سے نکالنے کے لئے حوالہ سے اسٹبلشمنٹ اور گورنمنٹ کے نقط نظر میں بھی اختلافات موجود ہیں، مقتدرہ کو اپنی ادارہ جاتی بقا اور سیاستدانوں کو عوام میں اپنی ساکھ بچانے کا مسئلہ درپیش ہے۔ فی الوقت زر مبادلہ کے ذخائر کم ہو کر محض 3.7 بلین ڈالر رہ گئے، جو شہروں اور کاروبار کو چلانے کے لیے توانائی کی درآمدات کے چند ہفتوں کے لئے بمشکل کافی ہوں گے جبکہ عوامی قرضہ 270 بلین ڈالر تک پہنچ گیا۔ قرضوں کے بڑھتے ہوئے حجم نے وزیر اعظم شہباز شریف کو آئی ایم ایف کے سامنے سر نگوں ہونے پہ مجبور کر دیا، وہ اس مالیاتی بیل آؤٹ پیکج کو دوبارہ بحال کرانا چاہتے ہیں جسے عمران گورنمنٹ نے سیاسی مفادات کے پیش نظر گزشتہ سال کے اوائل میں روک دیا تھا۔
انٹرنیشنل مانیٹرنگ فنڈ کے تکلیف دہ مطالبات کی شدت کو کم کرنے کے لئے بات چیت کا اذیت ناک دور طویل تر ہو رہا ہے، پی ڈی ایم گورنمنٹ کے لئے اس سال کے آخر میں ہونے والے عام انتخابات سے پہلے ملک کو معاشی مشکلات سے نکالنا اہم ہدف ہے۔ ایسے اشارے موجود ہیں کہ معاشی دباؤ عام پاکستانیوں کی بنیادی ضروریات کو متاثر کرے گا، جیسے شہریوں کو جنوری کے آخر میں ملک بھر میں غیر معمولی بلیک آؤٹ کا سامنا کرنا پڑا، اگرچہ بندش کی وجہ واضح نہیں لیکن یہ طویل بریک ڈاؤن مستقبل کے حوادث کی نشاندہی ضرور کرتا ہے۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بجلی پیدا کرنے کا نظام کافی حد تک ایندھن کی درآمد پر منحصر ہے، اگر توانائی کی پیداوار کے متبادل ذریعے تلاش نہ کیے گئے تو ہمارا امپورٹ بل بتدریج بڑھتا جائے گا، بالآخر ہمیں بجلی کی طویل بریک ڈاؤن اور بندش یا یہاں تک کہ نقل و حمل کے لئے ایندھن کی قلت جیسے بحرانوں کا سامنا کرنا پڑے۔ پیچیدہ معاشی بحران، خاص طور پر قرضوں میں ڈوبی معیشت، جسے خود غرض اشرافیہ، کے سوا سنبھالنے والی کوئی غیر متنازعہ سیاسی قیادت موجود نہیں۔
ایک ایسے وقت میں جب ملک 40 فیصد مہنگائی سے نمٹ رہا ہو اس وقت ہمیں ایک مضبوط حکومت ہی معاشی نظم و ضبط اور سماجی امن فراہم کر سکتی تھی لیکن بدقسمتی سے قومی قیادت انتشار کی ایسی دلدل میں پھنسی گئی، جس سے اسے نکالنے والا کوئی نہیں۔ ارسطو نے کہا تھا ”سیاست معاشرے کو متشکل کرنے والے طبقات کے درمیان مفاہمت کا آرٹ ہے“ تاہم ہمارے ہاں سیاسی مفاہمت کے امکانات بدستور بعید تر ہوتے جا رہے ہیں۔ بدقسمتی سے پچھلی چند دہائیوں میں جہاں جنوبی ایشیا کا بیشتر حصہ بتدریج امیر اور مستحکم ہوا وہاں عالمی قوتوں کی پراکسیوں کی وجہ سے پاکستان غربت، افراتفری اور عدم استحکام کا شکار ہوتا رہا۔
1990 کی دہائی میں گلوبلائزیشن اور تجارت کے آزادانہ ہونے کے دوران ملک مقتدرہ اور سویلین اشرافیہ کے درمیان طاقت کا کھیل کھیلنے میں الجھا رہا۔ جس کے نتیجہ میں قومی معیشت ایسی پالیسیوں میں پھنستی چلی گئی جن کا محور مملکت کی اس اکثریتی آبادی، جو زراعت اور صنعتوں کے پیداواری عمل سے وابستہ تھی، کی جائز ضروریات پوری کرنے پہ توجہ دینے کے برعکس سویلین اور فوجی اشرافیہ کو سبسڈی فراہم کی جاتی تھی لیکن اب جب اشرافیہ کے شاہانہ طرز زندگی کو زرخیز رکھنے والے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر خشک ہوئے تو پھر انہی غریب لوگوں سے قربانی لینے کی پالیسی اختیار کر لی گئی، جو سات دہائیوں سے اس استحصالی سوچ کا شکار بنے۔
آئی ایم ایف نے دو سو کے لگ بھگ گالف گراؤنڈز ختم کرنے، فوجی اہلکاروں کی پنشن کو سویلین بجٹ سے نکالنے، ترقیاتی اور غیر ترقیاتی اخراجات کم کرنے کے علاوہ سرکاری افسران کے ملکی و غیرملکی اثاثے ظاہر کرنے کی شرط عائد کی جسے غچہ دینے کی کوششیں جاری ہیں۔ سعودی عرب، جو پاکستان کو طویل عرصے سے عطیہ دینے والا ملک تھا، نے گزشتہ ماہ اعلان کیا کہ بیرونی ممالک کے لئے مستقبل کے امدادی پیکجز کا انحصار اندرونی معاشی اصلاحات سے مشروط ہو گا، یہ اعلان مصر اور پاکستان جیسے دائمی وصول کنندگان کے لئے انتباہ تھا۔
متحدہ عرب امارات نے بھی حال ہی میں ہمیں کچھ مالی امداد فراہم کرنے کا وعدہ کیا لیکن یہ معمولی رقم ہماری ضروریات کے لئے ناکافی تھی، اس سے محض چند ہفتوں تک اہم اشیاء کی درآمدات کر سکتے ہیں۔ چین نے بھی اب تک سی پیک پہ دوبارہ مذاکرات پہ آمادگی ظاہر نہیں کی، امریکی افغانستان سے رسوا کن انخلاء کے بعد ہمیں سبق سکھانے کی پالیسی پہ عمل پیرا ہیں۔


