کیا پاکستان ”ڈیفالٹ“ ہونے والا ہے؟ پارٹ 1۔


جب سے ”رجیم چینج“ ہوا ہے۔ پاکستان میں گھر گھر یہ موضوع گفتگو بنا ہوا ہے۔ کیا پاکستان ”ڈیفالٹ“ ہونے والا ہے؟ بہت کم لوگوں کو ”ڈیفالٹ“ کے حقیقی معنوں کا علم ہے۔ زیادہ تر کو بس اتنا معلوم ہے کہ ڈیفالٹ کا مطلب دیوالیہ ہونا ہے لیکن اس بات کا علم نہیں کہ جب کوئی ملک ڈیفالٹ ہو جاتا ہے تو اس کے اس ملک پر کیا منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں؟ جن ملکوں نے ”ڈیفالٹ“ کیا ہے۔ ان کی حالت ایک ایسے شخص کی ہوجاتی جس سے کوئی ادارہ ادھار میں لین دین نہیں کرتا۔ ”ڈیفالٹ“ کو کوئی بین الاقوامی مالیاتی ادارہ تعمیر و ترقی کے لئے کوئی قرض نہیں دیتا اس ملک کی حالت اس حد تک ناگفتہ ہو جاتی ہے جسے الفاظ کا جامہ نہیں پہنایا جا سکتا۔ بہر حال ایف بی آر کے سابق چیئرمین شبر زیدی کا اصرار ہے کہ پاکستان ٹیکنیکل طور ”ڈیفالٹ“ ہو چکا ہے۔ صرف مصنوعی طریقوں سے اس کا ”ڈیفالٹ“ ہو نا موخر کیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف ان کا یہ کہنا بھی ہے کہ روس اور یوکرائن ڈیفالٹ کر گئے تو ان کا کیا بگڑا بلکہ ان کی معیشت بہتر ہوئی ہے۔ ان کی رائے میں قرضوں کے بوجھ تلے دبے پاکستان کے ”ڈیفالٹ“ ہو جانے سے پاکستان اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جائے گا۔

جب سے وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اسحق ڈار ”خود ساختہ جلاوطنی“ ختم کر کے پاکستان کی معیشت سدھارنے لئے آئے تو سر پکڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔ آوے کا آوا ہی بگڑا پایا۔ انہیں اس بات کا اندازہ ہی نہیں تھا۔ پاکستان کی معیشت تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے۔ جو وزیر خزانہ ایک ڈالر کے مقابلے میں 8 روپے کی کمی کرنے کے لئے تیار نہ ہوتا تھا۔ دوبئی میں آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات ادھورے چھوڑ کر چلے آنے والا وزیر خزانہ ایک ہی روز ایک ڈالر کے مقابلے میں 30، 35 روپے کم کرنے پر کیسے تیار ہوا؟

آئی ایم ایف کے سامنے ڈٹ جانے والا وزیر چار ماہ میں کیونکر ڈھیر ہوا اس کی بھی دلخراش داستان ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں پچھلی حکومت نے ایک بلین ڈالر امداد حاصل کرنے کے لئے پہلے آئی ایم ایف کے تمام مطالبات منظور کیے اور پھر سیاسی مقاصد کے لئے آئی ایم ایف کی شرائط کی خلاف ورزی کر کے اسے ایسا ناراض کیا کہ پاکستان کو ناک رگڑ کر آئی ایم ایف کو امداد دینے پر منا نا پڑا آئی ایم ایف سے معاہدہ اس لئے ناگزیر ہو گیا پاکستان امداد دینے والے دوسرے دوست ممالک بے بھی یہ شرط عائد کر دی کہ ہم آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے بعد اپنی کمٹمنٹس پوری کریں گے۔

اس لئے پاکستان کو ”ڈیفالٹ“ سے بچانے کے لئے حکومت آئی ایم ایف کے تمام مطالبات تسلیم کرنے کے لیے آمادہ ہو گئی۔ پٹرول، بجلی و گیس کی قیمتوں میں اضافے نے جہاں عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ وہاں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی جس طرح بے توقیری کی گئی اس کی مثال نہیں ملتی خطے کے ممالک میں جس قدر پاکستانی معیشت کی بری حالت ہے۔ کسی اور کی نہیں۔

بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان سے ہر روز 50 لاکھ ڈالر افغانستان اسمگل ہو کر جا رہے ہوں تو وہاں ایسا لگے گا پاکستان نے ملک افغانستان کی تمام ضروریات پوری کرنے کا ٹھیکہ لے لیا ہے۔ حتیٰ کہ اس کے زرمبادلہ کی کمی پاکستان سے ڈالر اسمگل کر کے پوری کی جا رہی ہے۔ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ افغانستان کی مفلوک الحالی ہے۔ اس کی تمام ضروریات پاکستان پوری کرتا ہے۔ خیبر پختونخوا کے لیے جانے والا آٹا افغانستان اور روس سے آزاد ہونے والی ریاستوں تک اسمگل ہو کر جاتا ہے۔

اب تو ڈالر کی اسمگلنگ نے منفعت بخش کاروبار کی شکل اختیار کر لی ہے۔ ڈالر کی اسمگلنگ نے پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر کو ملک کی سب سے کم سطح پر لا کھڑا کیا جن اداروں نے اسمگلنگ کو روکنا ہے۔ وہ اس غیر قانونی کاروبار کا حصہ بن گئے ہیں۔ عام آدمی کو بھی معلوم ہے۔ پاکستان میں ”حوالے“ کا کاروبار کہاں ہوتا ہے؟

ایف آئی اے، نیب اور ایف بی آر ان پر ہاتھ ڈالنے کے لئے تیار نہیں۔ جب پاکستان آزاد ہوا اس کے پاس پیپر پن تک نہیں تھی لیکن ایک پائی کا مقروض نہیں تھا لیکن پچھلے 75 سال کے دوران ہمارے حکمرانوں نے (عمران خان کی حکومت کے خاتمہ تک ) پاکستان پر 51 ہزار ارب کے قرضہ کے بوجھ تلے دبا دیا ہے۔ 1947 سے لے کر 2018 ء تک پاکستان پر قرضوں کا بوجھ اور لائبلیٹی 29 ہزار 800 ارب روپے تھا جس میں عمران خان کی حکومت میں 36 ماہ میں 24 ہزار ارب روپے کا اضافہ کر دیا گیا اس طرح کل قرض 45 ہزار ارب روپے ہو گیا عمران خان کی حکومت ختم ہوئی یہ قرض اور لائبلیٹی 51 ہزار ارب روپے تک پہنچ گئی اس وقت پاکستان قرضوں کے بوجھ تلے سسک رہا ہے۔

ہماری برآمدات کم اور درآمدات زیادہ ہونے کی وجہ سے ادائیگیوں کا توازن بگڑ گیا ہے۔ ہمیں توانائی کے حصول کے لئے بار بار مشرق وسطی ٰ کے دوست ممالک سے ادائیگی موخر کرانا پڑتی ہے۔ ہمیں قرضوں کی ادائیگی کے لئے مزید قرضے لینے پڑتے ہیں۔ سینیٹر محمد اسحق ڈار جو آئی ایم ایف کے سامنے سر اٹھا کر بات کرتے تھے۔ آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن کو خاطر میں نہیں لاتے تھے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا انہوں نے آئی ایم ایف پرو گرام کو ”خدا حافظ“ کہہ دیا تھا لیکن پاکستان کی معاشی بدحالی اور ڈالر کی اڑان نے انہیں آئی ایم ایف کے سامنے سرنڈر کرنے پر مجبور کر دیا پاکستان کو ڈیفالٹ کے خطر سے بچانے کے آئی ایم ایف کے حکم پر پاکستان کے عوام پر کو 170 ارب کے نئے ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبا دیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان کے بیرونی قرض میں کمی جبکہ اندرونی قرض میں اضافہ ہوا ہے جب کہ پاکستان پر قرضوں کا مجموعی بوجھ 51 ہزار ارب روپے تک جا پہنچا۔

پاکستان پر ایک ماہ میں بیرونی قرضہ 94 ارب روپے کم ہو گیا۔ نومبر 2022 میں پاکستان پر بیرونی قرض 17 ہزار 974 ارب روپے تھا جو دسمبر 2022 میں کم ہو کر 17 ہزار 880 ارب ہو گیا اعداد و شمار کے مطابق پاکستان پر ایک ماہ میں اندرونی قرض میں 186 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ نومبر میں پاکستان کا اندورنی قرض 32 ہزار 930 ارب سے بڑھ کر دسمبر 2022 ء میں 33 ہزار 116 ارب روپے ہو گئے۔ نومبر میں 50 ہزار 996 ارب کے مجموعی ملکی قرضے دسمبر 2022 میں 51 ہزار ارب روپے ہو گئے۔

اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کا ہر شہری سوا دو لاکھ روپے کا مقروض ہے۔ پاکستان کی برآمدات اور درآمدات میں توازن نہ ہونے کے باعث ہر سال پاکستان کو اپنی ادائیگیوں کے دوست ممالک کے پاس کشکول اٹھا کر جانا پڑتا ہے۔ ”عمران رجیم“ میں تو کشکول اس حد تک بے توقیر ہو گیا کہ پاکستان کے وزیر اعظم کے دوروں کو بھیک مانگنے سے تعبیر کیا جانے لگا پاکستان کو ہر سال انرجی کی درآمدات پر 29 بلین ڈالر خرچ کرنا پڑتے ہیں۔ حکومت توانائی کی مد میں بچت کرنا چاہتی ہے جس کی راہ میں دکاندار اور آڑھتی آڑے آ گئے ہیں۔

دکاندار حکومت کے مقرر کردہ وقت پر دکانیں اور اپنا کاروبار بند کرنے کے لئے تیار نہیں جس کی وجہ سے موسم سرما میں بھی پہلی بار بجلی کی لوڈ شیڈنگ کرنا پڑی اگر توانائی کی مد میں پاکستان 4، 5 ارب ڈالر کی بچت کر لے اور اسی طرح پاکستان خوردنی تیل کی پیداوار میں خود کفیل ہو کر خوردنی تیل کی درآمد پر اربوں ڈالر کی بچت کر سکتا ہے۔ (جاری ہے۔ ) ۔

Facebook Comments HS