آئینی سرکس اور ہوش کی باتیں
دو صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد الیکشن شیڈول جاری کیے جانے میں پس و پیش سے پیدا ہونے والی صورتحال کے بارے میں جاری سیاسی، قانونی، اور آئینی موشگافیوں سے قطع نظر نوے دنوں میں انتخابات کا انعقاد ایک آئینی تقاضا ہے۔ اس تقاضے سے گریز میں امن و امان کی صورتحال، بجٹ کی کمیابی، سیاسی مصلحت یا کوئی بھی دوسرا جواز کسی صورت بھی جمہوریت پسند رویہ نہیں کہلا سکتا۔
عدلیہ، الیکشن کمیشن، گورنر ہاؤسز اور ملکی میڈیا میں جاری سرکس سے ہٹ کر موجودہ صورتحال کو ایک بڑے کینوس پر پرکھنے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لئے پاکستان میں انتخابات سے متعلقہ آئینی تقاضوں کو ان کے ارتقائی پس منظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان کا آئین، بیشتر پارلیمانی جمہوری ممالک کی طرح اسمبلیوں کی مدت کا تعین کرتا ہے، اور مدت پوری ہونے پر اگلے انتخابات کا شیڈول اور طریقہ کار بتاتا ہے۔ اسی طرح قبل از وقت اسمبلیوں کی تحلیل کا طریقہ کار اور اس کے نتیجے میں انتخابات کا شیڈول اور طریقہ کار بھی وضع کرتا ہے۔
ابتدائی طور پر پاکستان میں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات قومی اسمبلی کے انتخابات سے چند دن بعد منعقد ہوا کرتے تھے۔ نوے کی دہائی میں اس انتظام پر یہ اعتراض ہوا کہ قومی اسمبلی کے انتخابات کا نتیجہ صوبائی اسمبلیوں کے ووٹنگ پیٹرن پر اثرانداز ہوتا ہے، چنانچہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ہی دن کروائے جانے کا فیصلہ ہوا۔
اسی طرح سیاسی حکومتوں کی جانب سے انتخابات کے عمل میں دخل اندازی کے الزامات کے سد باب کے لئے اسمبلیوں کی مدت پوری ہونے کے بعد ساٹھ دنوں کے لئے اور قبل از وقت اسمبلیاں تحلیل ہونے کی صورت میں نوے دن کے لئے نگران حکومتوں کا سیٹ اپ لانے کا بندو بست اپنایا گیا۔ اس کے علاوہ نوے کی دہائی میں ضیا الحق اور دو ہزار کی دہائی میں مشرف کی باقیات کے طور پر مشہور زمانہ ”اٹھونجہ ٹو بی“ کے تحت صدر اور گورنروں کو بھی علی الترتیب قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل کے صوابدیدی اختیارات حاصل رہے، جو بعد ازاں آئینی ترامیم کے ذریعے ختم ہوئے۔
یہ سارے اقدامات مختلف مواقع پر انتخابی عمل میں دخل اندازیوں کی روک تھام اور انتخابات کی شفافیت پر اٹھنے والے اعتراضات کے سد باب کے طور پر ملک کے آئینی ارتقا کا حصہ ہیں۔
دوسری جانب زمینی حقائق کچھ یوں ہیں کہ آج تک آئینی پابندی نہ ہونے کے باوجود ہمیشہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات بیک وقت ہی منعقد ہوتے آئے ہیں۔ نوے کی دہائی میں چاہے اٹھاون ٹو بی کا استعمال ہو یا وزیر اعظم اور وزرائے اعلیٰ کی ایڈوائس کے تحت اسمبلیوں کی تحلیل، اسٹیبلشمنٹ اتنی طاقتور تھی کہ یہ اقدامات ہمیشہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں بیک وقت تکمیل کو پہنچے۔ 1993 میں صدر اسحاق خان نے ابتدائی طور پر صرف قومی اسمبلی تحلیل کی لیکن بعد از خرابی بسیار پانچوں اسمبلیاں اکٹھی قربان ہوئیں۔
اس آئینی اور زمینی حقائق کے پس منظر میں آئیے اب موجودہ صورتحال کا تجزیہ کرتے ہیں۔ اس وقت دو صوبائی اسمبلیاں تحلیل ہو چکی ہیں اور ان صوبوں میں نگران سیٹ اپ موجود ہے۔ لیکن وفاق میں ایک سیاسی حکومت موجود ہے۔ تو نوے دن کے دوران الیکشنز ہونے کی صورت میں دو باتیں ہوں گی، اول وفاق میں سیاسی حکومت کی موجودگی میں ہونے والے ان دو صوبائی اسمبلیوں کے الیکشنز متنازعہ قرار پائیں گے۔ دوم اکتوبر میں ہونے والے قومی اسمبلی کے الیکشنز بھی متنازعہ ٹھہریں گے، کیونکہ تب ان دو صوبوں میں سیاسی حکومتیں ہوں گی۔ اس سے بھی زیادہ اہم اور دلچسپ بات یہ ہے کہ صورتحال صرف 2023 میں منعقدہ الیکشنز تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ ممکنہ طور پر آئندہ ہر پانچ سال بعد یہی مخمصہ کھڑا ہو جایا کرے گا کیونکہ پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیاں پہلے پانچ سال مکمل کیا کریں گی اور باقی دو صوبائی اور قومی اسمبلیاں کوئی چھ ماہ بعد ۔
اس کے علاوہ ایک اور آئینی بحران صدر کے آئندہ الیکشن کے حوالے سے بھی موجود ہے جس کی طرف اب تک کسی کا دھیان نہیں گیا۔ صورتحال کچھ یوں ہے کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی پانچ سال کی مدت اور اس کے بعد دو ماہ کے نگران سیٹ اپ کے فارمولے اور پھر حکومت سازی میں لگنے والے تقریباً ایک ماہ کی مدت کے باعث عام انتخابات دراصل پانچ سال بعد ہونے کی بجائے پانچ سال تین ماہ بعد ہوتے ہیں۔ جیسے 2008 کے انتخابات فروری میں ہوئے، 2013 کے مئی میں اور 2018 کے جولائی میں اور اب 2023 میں قومی اور باقی دو صوبائی اسمبلیاں اگست میں اپنی مدت پوری کریں گی، جبکہ انتخابات کہیں اکتوبر میں اور حکومت سازی غالباً نومبر میں مکمل ہو گی۔
لیکن صدر کا انتخاب صدر کی پانچ سال کی مدت پوری ہونے سے پہلے ہو جاتا ہے اور نیا صدر عین پانچ سال بعد آفس سنبھال لیتا ہے۔ چنانچہ 2008 میں مشرف صاحب کے مستعفی ہونے کے بعد سے ہر نو منتخب صدر نو ستمبر کو آفس سنبھال لیتا ہے۔ لیکن اس دفعہ اگست کے مہینے میں اسمبلیاں اپنی مدت پوری کر کے تحلیل ہو چکی ہوں گی اور صدر کا الیکٹورل کالج مکمل نہیں ہو گا، تو ستمبر میں صدر کا الیکشن کیسے ہو گا؟ میرے علم کے مطابق آئین میں اس بارے میں کوئی وضاحت نہیں ہے۔ غالباً انتخابی عمل کی شفافیت یقینی بنانے کے ارتقائی عمل میں بتدریج ہونے والی آئینی ترامیم کے خالق اس عملی صورتحال کا پیش از وقت ادراک نہیں کر سکے۔
ان آئینی پیچیدگیوں پر کوئی سنجیدہ پیش رفت شاید نا کسی کی ترجیحات میں شامل ہے نہ ملک میں جاری سیاسی کشاکش اور دھماچوکڑی کی کیفیت ایسی پیش رفت کے لئے سازگار ماحول فراہم کر سکتی ہے۔ البتہ حقیقت یہ ہے کہ یہ کوئی ایسے لاینحل مسائل نہیں ہیں۔ ایک ممکنہ حل کچھ یوں بھی ہو سکتا ہے
قبل از وقت ایک یا چند ایک اسمبلیوں کی تحلیل کی صورت میں تحلیل ہونے والی اسمبلیوں میں انتخابات کے نتیجے میں بننے والی اسمبلی کی مدت پورے پانچ سال ہونے کی بجائے تحلیل ہونے والی اسمبلی کی بقیہ مدت تک محدود ہو۔ اس طرح ہر پانچ سال بعد ساری اسمبلیوں کے بیک وقت انتخابات بہر صورت ہوا کریں گے اور اس وقت پورے ملک میں قومی اور صوبائی سطح پر نگران سیٹ اپ ہی موجود ہو گا۔ درمیانی مدت میں اگر کوئی ایک یا زیادہ اسمبلیاں تحلیل ہوتی ہیں تو صرف وہیں نگران سیٹ اپ ہو، ان انتخابات کی کریڈیبلٹی باقی ملک میں سیاسی حکومت ہونے کے باعث کچھ کم تو ہوگی لیکن ان کی حیثیت ضمنی الیکشنز جیسی ہونے کی وجہ سے اس بات کی اہمیت کافی کم ہو جائے گی۔
صدر کے انتخاب کا معاملہ یوں حل ہو سکتا ہے کہ قومی اور صوبائی سطح پر نگران سیٹ اپ کے دو ماہ کی مدت موجودہ حکومت کے پانچ سال کی مدت کے اندر ہی شامل ہو۔ اس طرح عام قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ہر پانچ سال بعد ایک ہی ماہ میں آیا کریں گے ( کسی حد تک امریکی صدر کے انتخاب کی طرز پر) اور صدر کا انتخاب نئی حکومت کی تشکیل کے ساتھ ہی اگلے ایک دو ماہ میں ہو جائے۔ اس انتظام میں ایک یہ فائدہ بھی رہے گا کہ صدر نئی حکومت کی تشکیل کے ساتھ ہی اسے اپنا صدر چننے کا موقع بھی میسر ہو گا، جس سے سیاسی استحکام میں بہتری کی امید رکی جا سکتی ہے۔
سوچنے کی بات ہے کہ اگر یہ ہوش کی باتیں میرے جیسے ایک عام شخص کے ذہن میں آ سکتی ہیں تو ملک کے اعلیٰ ترین آئین ساز دماغوں میں کیوں نہیں آ سکتیں، آخر ہم کیوں کسی طالع آزما کے انتظار میں ہیں جو آ کر کہے ”میرے عزیز ہم وطنو! ، خوچا مٹاؤ! ام پھر سے شروع کرتا اے۔“


