خدا کی مدد” از زوبی ظفر شیخ


سڑک پر کھڑے فقیروں اور پیشہ ور گداگروں سے ہمارا روزانہ واسطہ پڑتا ہے۔ اپنا کشکول سامنے پھیلائے وہ اللہ کے نام پر ہم سے مانگ رہے ہوتے ہیں۔ ان کا کٹورا دیکھ کر اور دل دوز صدائیں سن کر آگے بڑھ جانا بعض اوقات نہایت مشکل ہوتا ہے۔ ان کے غربت و افلاس سے سجے مدقوق چہرے کئی داستانیں اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ ہم میں سے ہر ایک ان کی بساط بھر مدد کرتا ہے کئی دفعہ یوں بھی ہوتا ہے کہ ان کی صدا سن کر مانگ پوری کیے بغیر آگے بڑھ جانا پڑتا ہے

ایسے میں وہ کشکول مجھے بہت ڈراتا ہے کہ جیسے میں آج ان کو نظر انداز کر کے گزر رہی ہوں کل اگر میری کسی حاجت کے جواب میں رب بھی یوں ہی خاموش رہا تو؟ اگر اس نے میرا سوال بھی یوں ہی نظر انداز کر دیا تو؟ میں اکثر سوچتی ہوں اللہ مجھے اتنے پیسے دے کہ میں سڑک سے گزرتے ہوئے ہر فقیر کی جھولی میں کچھ نہ کچھ ڈال سکوں۔ بظاہر یہ بات ایک دیوانے کا خواب لگتی ہے مگر سوچوں پر کس کا اختیار ہے۔ اور یہ کوئی ناممکن بات بھی نہیں لوگوں کے پاس بہت سا پیسہ ہے اور بہت سے لوگ ہر ممکن حد تک لوگوں کی مدد بھی کرتے ہیں۔ مگر ناممکن بات یہ ہے کہ پیسہ ہونے کے باوجود آپ یا میں دنیا کے تمام انسانوں کی مدد نہیں کر سکتے۔

ہم صرف ان لوگوں کی مدد کر سکتے ہیں جن کی مدد کی توفیق اللہ دے۔ ہر کسی کا کشکول بھرنا، ہر کسی کی پکار پر لبیک کہنا ہمارے بس کی بات نہیں۔ یہ صفت اسی ذات باری تعالی کی ہے جو السمیع ہے۔ ہمیں اس بات پر پریشان نہیں ہونا چاہیے کہ اگر ہم اس کے بندوں کی مدد نہیں کر پا رہے تو ہو سکتا ہے وہ کل کو ہماری مدد نہ کرے کیونکہ وہ ہم سے بدلہ نہیں لیتا۔ جو ہم کر سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ دعا کریں اپنے لیے اور دوسروں کے لیے۔

 

Facebook Comments HS