آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا حال اور ماضی

چند روز قبل مصنوعی ذہانت کے مستقبل پر لکھا تو کچھ دوستوں نے اعتراض کیا کہ پہلے اس کے ماضی اور حال پر لکھنا بنتا تھا اس کے بعد مستقبل پر۔ میں چونکہ قدیم یونانیوں کا بہت بڑا فین ہوں، جو کہ بڑے کمال کے لوگ تھے۔ آج دنیا میں جو بھی علوم ہیں، فن ہو سائنس ہو یا مذہب وغیرہ سب کی جڑیں آپ کو قدیم یونان میں ملیں گی۔ دنیا میں پہلی بار اہم دریافتیں کرنے، تخلیقی کام کرنے اور سائنسی تحقیقات کی بنیاد رکھنے والے یونان، میسوپوٹیمیا، مصر اور چین کے لوگ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب دوستوں کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے ماضی کا ذکر ہوا تو یونہی بے وجہ منہ سے نکلا کہ اس کے پیچھے بھی قدیم یونانیوں کی شرارت لگتی ہے! لہاذا مصنوعی ذہانت کا ماضی جاننے میں اب ایک تجسس کا عنصر بھی شامل ہو گیا تاکہ دیکھا جا سکے کہ ایسا کچھ امکان بھی ہے یا یہ محض کسی معتقد کی خواہش ہے۔
ہمارے ہاں زیادہ تر لوگوں کا مصنوعی ذہانت سے تعارف ”چیٹ جی پی ٹی“ کی آمد کے بعد ہوا۔ یہ پہلا موقع تھا جب مصنوعی ذہانت وسیع پیمانے پر موضوع بحث بنا۔ چیٹ جی پی ٹی ایک بہت بڑا لسانی ماڈل ہے جسے اوپن اے آئی نے تیار کیا ہے۔ یہ سوالوں کے جوابات دینے، بات چیت کرنے، اور متن کو اس طرح تخلیق کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جو انسانی مواصلات سے مطابقت رکھتا ہو۔ چیٹ جی پی ٹی میں کتابوں اور ویب سائٹس سمیت ٹیکسٹ ڈیٹا کے ایک وسیع مواد کا ذخیرہ موجود ہے، اور یہ انسانی زبان کے نمونوں اور ساخت کو سمجھنے کے لیے مشین لرننگ الگورتھم کا استعمال کرتا ہے۔ یہ متعدد ایپلی کیشنز میں استعمال ہوتا ہے، بشمول کسٹمر سروس چیٹ بوٹس، ورچوئل اسسٹنٹس، اور تعلیمی ٹولز۔
لیکن مصنوعی ذہانت محض جیٹ جی پی ٹی تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک ناقابل یقین حد تک متنوع فیلڈ ہے۔ جس کا مختلف صنعتوں میں وسیع پیمانے پر استعمال ہو رہا ہے۔ جیسے کہ ”نیچرل لینگویج پروسیسنگ“ کے ذریعے مشینوں کو انسانی زبان کو سمجھنا اور تجزیہ کرنا سکھایا جاتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی چیٹ بوٹس، وائس اسسٹنٹس، اور ترجمہ کرنے والے سافٹ ویئرز میں استعمال ہوتی ہے۔ ”کمپیوٹر ویژن“ کے ذریعے مشینوں کو تصاویر اور ویڈیوز کو سمجھنا اور تجزیہ کرنا سکھایا جاتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی سیلف ڈرائیونگ کاروں، چہرے کی شناخت کے نظام اور سیکیورٹی سسٹمز میں استعمال ہوتی ہے۔ ”روبوٹکس“ کے ذریعے ایسی مشینیں بنانا ممکن ہوتا ہے جو جسمانی کام خود مختار طریقے سے انجام دے سکیں۔ یہ ٹیکنالوجی مینوفیکچرنگ، ہیلتھ کیئر، اور لاجسٹکس میں استعمال ہوتی ہے۔ ”خود مختار نظام“ میں ایسی مشینیں بنائی جاتی ہیں جو انسانی مداخلت کے بغیر کام کر سکیں۔ یہ ٹیکنالوجی سیلف ڈرائیونگ کاروں، ڈرونز اور صنعتی آٹومیشن میں استعمال ہوتی ہے۔ ”جنریٹو ماڈلز“ کے ذریعے نیا مواد جیسے کہ تصاویر، ویڈیوز اور متن بنانے کے لیے مشینیں تیار ہوتی ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی تخلیقی ایپلی کیشنز، جیسے کہ آرٹ اور ڈیزائن میں استعمال ہوتی ہے۔
مجموعی طور پر، موجودہ دور کی مصنوعی ذہانت متعدد صنعتوں اور ایپلی کیشنز میں استعمال ہو رہی ہے اور اس میں نئی دریافتوں اور ترقی کے امکانات بہت وسیع ہیں۔ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت آگے بڑھ رہی ہے، اس کا معاشرے اور روزمرہ کی زندگی کے بہت سے پہلوؤں پر نمایاں اثر پڑے گا۔ آج بہت سی ویب سائٹس اور ایپس ہیں جو ویب ڈویلپمنٹ، کمپیوٹر پروگرامنگ، گیم ڈویلپمنٹ، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، اور ایپ ڈویلپمنٹ کے لیے مختلف طریقوں سے اے آئی کا استعمال کر رہی ہیں۔ جن میں گٹ ہب، کوڈوٹا، گرامرلی، ہگنگ فیس، یونٹی وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بھی کئی ویب سائٹس اور ایپس ہیں جو کہ براہ راست تو مصنوعی ذہانت کے پلیٹ فارمز نہیں ہیں لیکن ان میں بھی مصنوعی ذہانت کا استعمال ہوتا ہے۔
”نیٹ فلیکس“ اپنے صارفین کو ان کی ترجیحات کی بنیاد پر فلمیں اور ٹی وی شوز تجویز کرنے کے لیے اے آئی کا استعمال کرتا ہے۔ ”ایمازون“ صارفین کو ان کی تلاش اور پہلے کی گئی خریداری کی بنیاد پر مصنوعات کی سفارش کرنے کے لیے اے آئی الگورتھم استعمال کرتا ہے۔ ”گوگل“ اے آئی کا استعمال تلاش کے نتائج اور آواز کی شناخت کو بہتر بنانے کے لیے کرتا ہے۔ ایپل کا ورچوئل اسسٹنٹ ”سری“ آواز کے احکامات کو سمجھنے اور اس کا جواب دینے کے لیے اے آئی کا استعمال کرتا ہے۔ ”گرامرلی“ متن میں گرامر، ہجے، اور اوقاف کی غلطیوں کو پرکھنے کے لیے اے آئی کا استعمال کرتا ہے۔ ”ویز“ ٹریفک کے پیٹرنز کو سمجھ کر پیش گوئی کرنے اور ڈرائیور حضرات کو جلد منزل مقصود تک پہنچنے کے راستے تجویز کرنے کے لیے اے آئی کا استعمال کرتا ہے۔ ”اسپاٹی فائی“ ذاتی پلے لسٹ بنانے اور صارفین کو نئے گانے اور فنکار تجویز کرنے کے لیے اے آئی کا استعمال کرتا ہے۔ ”فیس ایپ“ ایک ایسی ایپ ہے جو سیلفیز اور دیگر تصاویر پر فلٹرز اور افیکٹس لگانے کے لیے اے آئی کا استعمال کرتی ہے۔ اور ان کے علاوہ بھی کئی ویب سائٹس اور ایپس ہیں جن میں کسی نہ کسی مقصد کے لیے اے آئی کا استعمال ہوتا ہے۔
مصنوعی ذہانت کے حال کے بعد اب ذرا اس کے ماضی کو بھی جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ اے آئی کا آغاز دراصل 1940 کی دہائی میں ہوتا ہے جب محققین نے ڈیجیٹل کمپیوٹرز تیار کرنا شروع کیے، اور ان میں سے کچھ نے یہ دریافت کرنا شروع کیا کہ مشینوں میں انسان جیسی ذہانت پیدا کرنے کے لیے کس طرح پروگرام کیا جا سکتا ہے۔ پہلی بار ”مصنوعی ذہانت“ کی اصطلاح 1956 میں ڈارٹ ماؤتھ کالج میں ایک کانفرنس میں وضع کی گئی۔ 1960 اور 1970 کی دہائیوں کے دوران، محققین نے اے آئی میں نمایاں پیش رفت کی، ایسے پروگرام تیار کیے جو گیمز کھیل سکیں، زبان کو سمجھ سکیں اور پیچیدہ مسائل کو حل کر سکیں۔ 1990 کی دہائی کے آخر اور 2000 کی دہائی کے اوائل میں، محققین نے زیادہ طاقتور مشین لرننگ الگورتھم تیار کرنا شروع کیے، جس کی وجہ سے مشینوں کو ڈیٹا سے سیکھنے اور وقت کے ساتھ ساتھ اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد ملی۔
ایک خیال یہ بھی ہے کہ قدیم یونانی فلسفیوں اور مفکرین نے پہلی بار مصنوعی مخلوقات کی تخلیق اور مکینیکل آٹومیشن کے تصور سے متعلق خیالات کو پیش کیا۔ ان کے افسانوں میں انسانوں کے بنائے ہوئے مجسموں کو زندگی دینے کی خواہش اس خیال کی عکاسی کرتی ہے کہ انسان طویل عرصے سے مصنوعی مخلوقات کی تخلیق کے بارے میں سوچتے رہے ہیں جو انسانی رویے کی نقل کر سکتے ہوں اور خودمختار ہوں۔ پگمالین کا ایک افسانہ اس کی ایک مثال ہے، جس میں ایک مجسمہ ساز اپنے مجسمے کو زندگی دینے کی خواہش رکھتا ہے اور اس مقصد کے حصول کی خاطر دیوی افروڈائٹ سے دعائیں کرتا رہتا ہے۔ ایک اور مثال اسکندریہ کے قدیم یونانی انجینئر اور ریاضی دان کی ہے جس نے اپنے کاموں میں متعدد مشینوں کا ذکر کیا، جن میں ایسی مشینیں شامل ہیں جو مندر کے دروازے کھول سکتی ہیں، شراب ڈال سکتی ہیں اور یہاں تک کہ موسیقی بھی بجا سکتی ہیں۔
اگرچہ یہ تصورات جدید اے آئی جیسے نہیں ہیں، لیکن وہ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ قدیم یونانیوں کو ذہین اور خودکار مشینیں بنانے میں دلچسپی تھی۔ اور یوں جدید مصنوعی ذہانت کو اس دیرینہ انسانی دلچسپی کی توسیع بھی کہا جاسکتا ہے۔

