غریب عوام کے مہنگے شوق

ہماری خواتین ماشاء اللہ سے کافی با شعور ہو چکی ہیں، سستی چیز اور شوہر دونوں پہ بھروسا نہیں کرتیں۔ انھیں روٹی پکانے کو کہا جائے تو روٹی کھانے کے بعد پزے کی فرمائش ضرور کرتی ہیں۔ اللہ اللہ کیا سہانے دن تھے جب شوہر کو رومال پہ پھول کاڑھ کے دیا کرتی تھیں۔ اون سلائیاں پکڑے آس پڑوس میں شادی بھی بھگتا آتیں تھیں۔ اب فارغ بیٹھے خود پھول کر کپا ہو جاتی ہیں لیکن پھول کاڑھتی ہیں نہ سلائیاں پکڑتی ہیں نہ کچھ اور کام کرنا پسند کرتی ہیں۔ انھیں سب کچھ اب ریڈی میڈ چاہیے۔ اب خاتون نے شادی میں جانا ہو تو بھگتنا شوہر کو پڑتا ہے۔ ہر صورت مہنگی بوتیک کا سوٹ چاہیے، سستے پہ تو نظر بھی نہیں رکھتیں۔
خواتین جب تک گھریلو دستکاری میں ماہر تھیں شوہر حضرات کی موجیں تھیں۔ ہر شے سمجھیئے مفت ہوتی تھی۔ پھر شوہر کا سکون اور مفت کی چیزیں بری لگنے لگیں۔ عالم یہ ہے کہ سب کچھ مشین میں جھونک کر برینڈز کی مہنگی اور ”ہینڈ میڈ“ مصنوعات متوجہ کرتی ہیں اور انھیں یہ ہر صورت خریدنی ہیں۔ اس کے لیے چاہے گھر میں مہینوں لڑائی ڈالے رکھیں۔ جب تک سلک، جارجٹ کے سوٹ پہ خود کڑھائی کرتی تھیں تو اس سوٹ کو ادھر ادھر پھینک دیتی تھی۔ ہمسائی کو پہننے کو دیتیں تو واپس لینا بھول جاتیں۔ لیکن جب سے برینڈز نے ”ہینڈ میڈ“ متعارف کروایا ہے، اس کے پیچھے دیوانی ہوئی پھرتی ہیں۔ سادی شیفون کا سوٹ جس کے گلے پہ باریک سی ہاتھ کی کڑھائی ہوئی ہو، خرید لیں تو کسی کو پہننے کے لیے نہیں دیتیں۔ خود بھی صرف ہمسائی کا دل جلانے کے لیے پہنتی ہیں کہ دیکھو بیس ہزار کا لیا ہے۔
گوجرانوالہ میں بنے برتن تو نظر ہی میں نہیں سماتے۔ اچھا ڈنر سیٹ اگر سستے داموں مل جائے تو اس کی کوالٹی پر شبہ ہی نہیں یقین ہوتا ہے کہ یہ ٹوٹے ہی ٹوٹے۔ وہ برتن جس پہ میڈ ان پاکستان کا نام درج ہے وہ برتن بھلے عمر بھر ساتھ نبھا دیں لیکن دو سال کے بچوں کو ڈھول بجانے کے لیے تھما دیتے ہیں۔ ڈھم ڈھما ڈھم۔ اس دوران اگر پلیٹ ٹوٹ جائے تو پلیٹ غیر معیاری تھی۔ جبکہ ویسا ہی ڈنر سیٹ اگر کسی اونچی دکان سے مہنگے داموں خرید لیں تو اسے پھونک پھونک کر استعمال کیا جاتا ہے۔ چیچہ وطنی کے بنے کچے گھڑے اتنی جلدی نہیں ٹوٹتے جتنی جلدی فرانس سے آئے کانچ کے گلاس۔ لیکن اس پہ چونکہ دوسرے ملک کی مہر لگی ہے اس لیے کچھ بھی کہنا بیکار ہے۔
قیمت میں انتہائی سستی فیصل آبادی کاٹن کی بیڈ شیٹ سالوں بچھانے پر بھی خراب نہیں ہوتی۔ لیکن اس کی تعریف ہوگی نہ احتیاط۔ سالوں ساتھ نبھانے والی دھل دھل کے ادھ موئی ہوئی اس بیڈ شیٹ کے بارے جو تحقیر آمیز الفاظ استعمال کیے جائیں گے اس پر تو بیڈ شیٹ کو بھی رونا آ جاتا ہو گا کہ اتنی ناقدری، آخر کیوں تھی ایسی میری قسمت؟ پلش منک کا قیمتی بیڈ سیٹ قوت خرید سے باہر ہے لیکن خریدنا ضرور ہے۔
میرے ایک عزیز کا استری بنانے کا کارخانہ ہے۔ میں ادھر سے استری خرید کر کسی کو شادی میں گفٹ کی تو استری دیکھ کر ان کا منہ ہی بن گیا۔ اگلے ہی دن وہ استری مجھے واپس بھیج دی گئی کہ ہم ایسی گھٹیا اور غیر معیاری چیزیں استعمال نہیں کرتے۔ حالانکہ یہ وہ استری تھی جو سیالکوٹ میں تیار ہو کر ڈبوں میں بند ہونے کے لیے کراچی جاتی ہے او وہاں سے خود پر غیر ملکی ہونے کی مہر ثبت کروانے کے لیے ملک بدر کی جاتی ہے۔ اور پھر کسی بدھو کی طرح لوٹ کے جب واپس گھر کو آتی ہے تو پندرہ سو میں پڑنے والی اسی استری کی قدرو قیمت میں بے انتہا اضافہ ہو چکا ہوتا ہے۔ اس لیے کہ اب اس پر میڈ ان۔ ۔ ۔ لکھ دیا گیا ہے۔
” امپورٹڈ مال کی کوئی گارنٹی نہیں“ ہر دکاندار نے لکھا ہوا ہے۔ لیکن مارکیٹ میں نام تو بہر حال امپورٹڈ کا ہی چلتا ہے۔ اور دل کو تسلی بھی ہوتی ہے کہ یہ امپورٹڈ ہے۔ امپورٹڈ اور برینڈڈ یہ دو لفظ ہماری سادگی کو کھا گئے ہیں۔ ان دونوں کا جنون ایسا سوار ہوا ہے کہ ان کے علاوہ کچھ قبول ہی نہیں۔ دیسی کھانے دیسی چیزیں ہوں یا دیسی انسان لوگ ان سب سے بدکنے لگے ہیں۔ دیسی، غریب لوگ بدیسی اور مہنگی چیزوں کی خواہش رکھتے ہیں، اور اسی طرف لپکتے ہیں۔ دیسی چیز کہیں زیادہ اچھی اور سستی ہوتی ہے لیکن کچھ بھی ہو میڈ ان پاکستان نامنظور ہے۔ اپنوں اور اپنوں کی بنائی سستی پڑنے والی مصنوعات پہ اعتبار نہیں رہا۔ دہشت گرد سمجھ کر صنعت سازی کو ملک سے ختم کیا جا رہا ہے۔
جب اپنی بنائی مصنوعات خود کو گوارا نہیں، تو عالمی منڈی کیونکر قبول کرے گی۔ اور اپنی بنائی مصنوعات کی بے توقیری پہ کیا رونا یہاں تو اپنا پیسہ بھی قبول نہیں، وہ بھی ”امپورٹڈ“ چاہیے۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر غربت کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔ ہر شخص ذاتی گاڑی کو ترجیح دیتا ہے۔ پٹرول مہنگا ہونے کے باوجود غریب بھی سائیکل چلانا شان کے خلاف سمجھتا ہے۔ غبارے بیچ کے گزارہ کرنے والا بھی موٹر سائیکل کے بغیر کام پہ نہیں جاتا۔ عوام غربت میں اور ملک قرضوں میں ڈوبا ہے لیکن اللہ کے فضل اور ”خیرخواہوں“ کے تعاون سے شاہ خرچیاں سب کی قائم ہیں۔ کیا ہے کہ غریب ملک کے رہنے والوں کے شوق خاصے مہنگے ہیں۔ مہنگے قرضوں کے بل بوتے پہ چلنے والی اس قوم کی عزت چاہے دنیا میں دو کوڑی کی نہ رہے لیکن ظاہری نمود کسی کو چھوڑنا گوارا نہیں۔

