کپتان اور چوہدری پرویز الہی پھر سے کولیگ بن گئے


چوہدری پرویز الہی ایک ماہر سیاست دان ہیں۔ وہ کبھی ہاریں گے نہیں کیونکہ ان کی ہار پاک فوج کی ہار ہو گی اور تاریخ گواہ ہے کہ ہمارے جرنیل ہوم گراؤنڈ پر کبھی نہیں ہارے۔ سرحدوں کا معاملہ مختلف ہو سکتا ہے لیکن وزیر اعظم ہاؤس اور پارلیمنٹ کو فتح کرنے میں جنگی حکمت عملی کی کامیابی، حوصلے کی بلندی اور ملک کی بربادی پر کوئی مائی کا لال انگلی نہیں اٹھا سکتا۔

مارشل لاء کا دور جاتا رہا اس لیے چوہدری صاحب کی نظر بھی اب الیکشن پر ہی ہے۔ الیکشن کی حفاظت چوہدری صاحب کے آقا نے خود ہی کرنی ہوتی ہے۔ ہماری انفنٹری نے کاروبار اور کاروبار حکومت چلانا اور آر ٹی ایس روکنا سیکھ لیا ہے۔ آقا پر ہی بھروسا بنتا ہے۔

یہ بات اب غلط ہو چکی کہ چوہدری صاحب پنجاب کے سب سے بڑے ڈاکو ہیں۔ کیونکہ وہ اب ق لیگ نہیں پی ٹی آئی کے صدر ہیں اور کپتان کا فوج سے راضی نامہ کرانے میں اب وہی ایک امید ہیں۔

اندر کی بات یہ ہے کہ چوہدری صاحب یہ راضی نامہ کبھی ہونے نہیں دیں گے۔ یہ راضی نامہ کروا کے وہ اپنے پاؤں پر کلہاڑی نہیں ماریں گے۔

چوہدری پرویز الہی ایک قابل اعتبار سیاسی لیڈر ہیں۔ اب جب کہ وہ پی ٹی آئی کے ساتھ آ گئے ہیں تو سب کو اعتماد ہے کہ چوہدری صاحب اس وقت تک پی ٹی آئی کو نہیں چھوڑیں گے جب تک پاکستان میں اسلامی انقلاب نہیں آ جاتا یا پھر فوج انہیں پی ٹی آئی چھوڑنے کا اشارہ نہیں دے دیتی۔

عمران کو بھی علم ہے کہ چوہدری پرویز الہی نے آج تک اپنی پارٹی نہیں بدلی۔ ان کی آبائی پارٹی بہت نظریاتی ہے اور وہ پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت پر مامور ہے۔ جغرافیائی سرحدیں اب بالکل محفوظ ہیں۔ پاکستان اپنی معاشی ترقی، طالبان کی واپسی اور ٹی ایل پی کی موجودگی کی وجہ سے اتنا محفوظ ہو گیا ہے کہ اب تو ہماری اپنی فوج بھی مارشل لاء لگانے سے ڈرتی ہے۔ دشمنوں کی افواج کا تو خیر ہماری جانب نظر بھر کر دیکھنے کا بھی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ اور پھر دشمنوں کی ضرورت بھی کیا ہے۔

پی ٹی آئی کے نوجوان چوہدری پرویز الہی کے پارٹی صدر بننے سے بالکل گھبرائے نہیں ہیں۔ انہیں پتہ ہے کہ جنات، بابے اور عثمان بزدار اگر پارٹی کا کچھ نہیں بگاڑ سکے تو چوہدری پرویز الہی کیا بیچتا ہے۔ اوپر خود چیئرمین جب اوپر بیٹھا ہے تو نیچے کس کی مجال ڈاکا ڈالے۔ ہر کام میرٹ پر ہی ہو گا۔ کپتان نے پہلے بھی نو دنوں میں کرپشن ختم کر کے ریاست مدینہ ثانی قائم کر دی تھی۔ ہم سب نے دیکھا کہ پاکستانی ریاست اتنی فلاحی ہو گئی تھی کہ کپتان کا کتا ہیلی کاپٹر میں سفر کرتا تھا اور وزیراعظم ہاؤس میں اس کے ایک ایک آنسو کا حساب ہوتا تھا۔

مونس الہی کچھ عرصے سے ایک مجاہد ہے اور کپتان کے ساتھ بیٹھتا ہے۔ اس سے قبل وہ دروازے پر بیٹھتا تھا۔ وہ خان کے دل اور فواد چوہدری کی گالیوں میں رہتا ہے۔ مونس الہی چوہدری ہونے کے باوجود خان کا کاما ہونے پر فخر کرتا ہے۔ پی ٹی آئی کی منڈی میں اس نے اپنا بھاؤ بڑی محنت، فرمانبرداری اور خوشامد سے بڑھایا ہے۔ یہ وہ واحد الیکٹ ایبل ہے جس کے پی ٹی آئی جوائن کرانے میں جنرل پاشا کا کوئی ہاتھ نہیں۔

شیخ رشید، چوہدری پرویز الہی اور شہباز شریف تینوں ہی جنرل باجوہ کے اچھے دور کے کلاس فیلو تھے۔ ایک کو وزیر داخلہ، دوسرے کو پنجاب کا وزیر اعلی اور تیسرے کو وزیر اعظم بنایا۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ جنرل باجوہ خوشامد فراموش نہیں ہیں۔ شیخ رشید اس سے پہلے جامعہ بنوریہ کراچی میں جنرل مشرف کے کلاس فیلو بھی رہ چکے تھے۔

چوہدری پرویز الہی گجرات سے ہیں، جو کہ چج دوآبہ ہے۔ وہ آرمی چیف کی خوشامد میں ہمیشہ جہلم اور جناب جتنا دل رکھتے ہیں لیکن جب چیف ریٹائر ہو جاتا ہے تو پھر سکڑ پہلے راوی اور آہستہ آہستہ گندے نالے جتنا ہو جاتا ہے۔

چوہدری پرویز الہی کی شخصیت کا احاطہ مولانا طارق جمیل کے خواب، فواد چوہدری کے آداب اور محمد خان بھٹی کی ترقی کے گرداب کے بغیر مکمل نہیں۔ ان میں محمد خان بھٹی کی ترقی اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ اس میں قصہ مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ قصہ تمام کرنے کی طاقت اور امکان بھی ہے۔

چوہدری صاحب پی ٹی آئی کے صدر ہیں اس لحاظ سے وہ کپتان کے کولیگ ہو گئے۔ تجربہ بتاتا ہے کہ دونوں کولیگز کے درمیان معاملات بہت اچھے چلیں گے۔ یہ دونوں پہلے بھی کولیگ رہ چکے ہیں۔ دونوں مل کر ہی جرنل مشرف اور جنرل باجوہ کے سینے پر سجائے گئے بہادری کے دھاتی تمغوں کی ڈیکوریشن سے اٹھتے ہوئے جمہوریت کے الاؤ سے ہمیں آگاہ رکھتے تھے۔ اب بھی تلاش اسی الاؤ کی ہے۔

Facebook Comments HS

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 366 posts and counting.See all posts by salim-malik