عمران خان کا سیاسی مستقبل


گزشتہ ایک سال سے ملکی سیاست پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کے گرد گھوم رہی ہے بظاہر اقتدار سے محرومی کے بعد عمران خان مقبولیت کا گراف بلند ضرور ہے لیکن ایک سال کے دوران کوئی بڑا ”سیاسی فائدہ“ اٹھانا دور کی بات ہے انہیں بار اپنے ”فیصلوں اور اقدامات“ سے بیک آؤٹ کرنا پڑا انہوں نے اپنی سیاسی زندگی میں جتنے ”یو ٹرن“ لئے شاید ہی کسی اور سیاسی لیڈر نے بار بار اپنا موقف تبدیل کیا ہو 10 اپریل 2022 ء تک عمران خان کی مقبولیت کا گراف تیزی سے نیچے کی طرف آ رہا تھا یہی وجہ ہے ان کی جماعت کے 25 سے زائد نے مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ کی یقین دہانی پر ”بغاوت“ کر دی تھی لیکن ایک سال کے دوران مہنگائی میں اس حد تک اضافہ ہو گیا کہ اس نے عام آدمی کی چیخیں نکال دیں مہنگائی کی وجہ سے عام آدمی پی ڈی ایم کی حکومت سے نالاں ہے۔

معاشی صورت حال کی خرابی، مہنگائی اور ڈالر کی اڑان نے پی ڈی ایم بالخصوص مسلم لیگ (ن) کا ”پولیٹیکل کیپیٹل“ تباہ کر دیا مسلم لیگ (ن) کی سینئر نائب صدر مریم نواز پنجاب اور خیبر پختونخوا کے گلی کوچوں میں ”ناراض“ کارکنوں کو راضی کر کے اپنی پارٹی کے ”سیاسی سرمایہ“ کو اکٹھا کر رہی ہیں جب کہ عمران خان پچھلے چار ماہ سے اپنی ”زخمی ٹانگ“ کے ساتھ ”زمان پارک“ میں ”مورچہ زن“ ہیں ان کے خلاف 34 سے زائد مقدمات درج ہیں جب کہ عمران خان کا دعویٰ ہے کہ ان کے خلاف 74 مقدمات درج ہیں انہیں عدلیہ ضمانتیں دے کر ریلیف دے رہی ہے جس کے باعث وہ تاحال گرفتار نہیں ہو سکے عام تاثر یہ بھی ہے کہ فی الحال حکومت انہیں گرفتار نہیں کرنا چاہتی ان کو تھکا دینے اور ”جیل یاترا“ سے ڈرانے کی حکمت عملی اختیار کر رکھی ہے قبل ازیں عمران خان عدالت میں پیش نہ ہونے کے لئے ٹانگ زخمی ہونے کا جواز پیش کرتے تھے اب ان کے وکلاء کی جانب سے ان کے کچھ طبی مسائل اور جان کو خطرہ کو خطرے کا جواز بنا کر ”وڈیو لنک“ پر پیش ہونے کی استدعا کی جا رہی ہے وکلاء کی طرف سے کہا جا رہا ہے عمران خان کو عدالت میں پیشی کے وقت قتل کیا جا سکتا ہے اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کے نا قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری معطل کر کے 13 مارچ 2023 ء کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد کے سامنے پیش ہونے کا حکم جاری کیا ہے اس سے عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں پیش ہونے میں وقتی طور پر ریلیف مل گیا ہے لیکن انہیں بہر صورت عدالت میں پیش ہونا پڑے گا جہاں ان پر فرد جرم عائد کی جائے گی جس بچنے کے لئے وہ عدالت میں مسلسل پیش نہیں ہو رہے۔

دوسری طرف الیکشن کمیشن نے بھی عمران خان اور فواد چوہدری کے وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں ”چوہے بلی“ کا کھیل جاری ہے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خان نے بھی کہا ہے کہ ”جب ہم عمران خان کو گرفتار کرنا چاہیں گے تو کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہو گی ہم عمران خان کو تھکا دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں عمران خان کیمپ سے بھی شیخ رشید احمد اور فواد چوہدری عمران خان کی ممکنہ گرفتاری پر عوامی ردعمل سے حکومت کو ڈرانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں لیکن ایسا دکھائی دیتا ہے فی الحال حکومت عمران خان کی گرفتاری سے زیادہ ان کے خلاف مقدمات کی تیز رفتاری سے سماعت میں دلچسپی رکھتی ہے تاکہ مقدمات کے منطقی انجام کو پہنچنے کے بعد سیاسی منظر واضح ہو جائے سر دست پی ٹی آئی کے کارکن عمران خان کی “سروائیول” کے بارے میں پرامید دکھائی دیتے ہیں جس کی وجہ سے عمران خان کی مقبولیت کا گراف ایک مقام پر ٹھہرا ہوا ہے حکومت کی سب سے بڑی ناکامی ہے کہ ایک سال گزرنے کے باوجود عمران خان کو جیل بھجوا سکی اور نہ ہی ان کی مقبولیت میں کمی لا سکی جب پلوں کے نیچے سے بڑا پانی بہہ گیا تو مریم نواز ان کی مقبولیت کو چیلنج کرنے کے لئے میدان میں اتریں۔

تاحال نواز شریف کی وطن واپسی کے لئے“ گرین سگنل ”نہیں ملا جب تک نواز شریف کی“ باوقار واپسی ”کا راستہ نہیں کھلتا ان کی عزت و تو قیر بحال نہیں کی جاتی اور“ لیول پلئینگ گراؤنڈ ”فراہم نہیں کیا جاتا عمران خان کا پلڑا بھاری رہے گا اور عمران خان کا راستہ روکنا خاصا مشکل ہو گا جب تک مہنگائی کے بوجھ تلے دبے لوگوں کو کوئی بڑا ریلیف نہیں ملتا وہ حکومت میں شامل جماعتوں کی طرف نہیں دیکھیں گی۔ عمران خان نے پچھلے ایک سال میں جس قدر“ سیاسی بلنڈر ”کیے ہیں شاید ہی کسی اور لیڈر کو یہ“ اعزاز ”حاصل ہوا ہو میدان سیاست میں ان کے جرات سے عاری فیصلے اور اقدامات بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکے وہ تاحال نوجوان نسل کے مقبول لیڈر ہیں شہباز شریف نے نوجوان نسل کی توجہ حاصل کرنے کے لئے ان میں سب سے زیادہ لیب ٹاپ تقسیم کیے اور حقیقی معنوں ان کے دل جیتنے کے لئے اچھے اقدامات اٹھائے ہیں اس کے باوجود عمران خان کا سحر قائم ہے حکومت نے عمران خان کو بنی گالہ تک محدود رکھنے کی بجائے زمان پارک میں“ ڈیرے ”لگانے کا موقع فراہم کر کے ایک سیاسی غلطی کی ہے وہاں سارا دن سیاسی میلہ لگا رہتا ہے عمران خان جہاں اپنے سیاسی مخالفین سے چومکھی لڑائی لڑ رہے ہیں وہاں انہوں نے اسٹیبلشمنٹ سے بھی چھیڑ چھاڑ شروع کر رکھی ہے سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید تو پہلے ہی ان کے نشانہ پر ہیں اب انہوں تازہ ترین واردات کی ہے جس میں کہا ہے“ آرمی چیف انہیں اپنا دشمن سمجھتے ہیں وہ تو ان سے ملنا چاہتے ہیں لیکن وہ ان سے ملنے کے لئے تیار نہیں ”اگرچہ فواد چوہدری نے عمران خان کی طرف سے آرمی چیف سے ملاقات کی درخواست کرنے کی تردید کر دی ہے لیکن آرمی چیف اور وفاقی وزیر خزانہ سے تاجروں اور صنعت کاروں کے وفد کی ملاقات میں جنرل عاصم منیر نے بتایا ہے کہ“ عمران خان ان سے ملاقات کرنا چاہتے تھے لیکن انہوں نے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ ”سیاست دان اپنے معاملات خود طے کریں فوج کوئی مداخلت نہیں کرے گی“ ۔

اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے آج کی ”اسٹیبلشمنٹ اپنے دامن کو سیاست سے آلودہ نہیں کرنا چاہتی۔ عام تاثر یہ ہے کہ عمران خان“ معافی تلافی ”کی کوشش کر رہے ہیں ان کے نام پر“ کاٹا اور سرخ لکیر ”کو ختم کرانا چاہتے ہیں دلچسپ امر یہ ہے کہ ایک طرف وہ معافی دینے کی التجا کر رہے ہیں تو دوسری طرف وہ آنکھیں بھی دکھاتے ہیں کہ“ کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ گھٹنے ٹیک دیں گے کسی صورت ممکن نہیں ”پنجاب اسمبلی کے انتخابات کی تاریخ کا اعلان کر دیا گیا ہے خیبر پختونخوا اسمبلی کے انتخابات کی تاریخ کا بھی اعلان ہونے والا ہے لیکن قرائن بتاتے ہیں کہ 90 دن میں انتخابات ہوتے نظر نہیں آرہے شیخ رشید احمد نے بھی عمران خان کا پیغام دیا ہے“ حکومت قومی اسمبلی کے انتخابات کی تاریخ بارے ایک قدم آگے بڑھے ہم بھی ایک ہی روز انتخابات کرانے کے لئے صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کرانے کے لئے تیار ہیں ”۔

سر دست کوئی حتمی طور پر کوئی بات نہیں کہی جا سکتی رواں ماہ کے دوران انتخابی عمل بارے صورتحال واضح ہو جائے گی لیکن اس سے قبل عمران خان کے “سیاسی مستقبل” بارے فیصلہ ہونا باقی ہے یہ سوال بڑا اہم ہے کیا پاکستان کے عوام کو ان کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع دیا جائے گا یا پھر ان کے خلاف قائم مقدمات کے فیصلے ان کے سیاسی مستقبل کا تعین کریں گے۔

Facebook Comments HS