جنگلات کا عالمی دن
پاکستان سمیت دنیا بھر میں اکیس مارچ کو جنگلات کا عالمی دن منایا جاتا ہے، جنگلات ماحولیاتی، معاشی اور زرعی اہمیت کا تعین کرتے ہوئے 2013 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جنگلات کا عالمی دن منانے کی قرارداد پیش کی گئی اس دن کے منانے کا مقصد جنگلات کو تقویت، جنگلات اور اس سے پیدا ہونے والے فوائد سے معاشرے میں شعور و آگاہی اجاگر کرنا ہے اور جنگلات کے کٹاؤ سے ہونے والے نقصانات کی آگاہی دینا۔
کہا جاتا ہے کہ پھول، پودے انسانی شخصیت اور نفسیات پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ سایہ دار درختوں کا وجود نہ صرف انسانی صحت کے لئے مفید اور فرحت بخش ہوتا ہے۔ بلکہ یہ موسمی تبدیلیوں سے بچاؤ کا بھی ذریعہ ہے۔ درخت لگا کر کرہ ارض پر ہونے والی موسمیاتی تبدیلی میں خوشگوار تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ پاکستان میں قدرتی جنگلات کے رقبے میں ہر سال 27 ہزار ہیکٹر کمی ہو رہی ہے۔ بین الاقوامی ادارے آئی سی یو این کے مطابق پاکستان کا شمار دنیا کے ان 10 ملکوں میں ہوتا ہے جو موسمی تبدیلیوں سے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں۔ پاکستان میں نہ صرف جنگلات کے کٹاؤ کو روکنے بلکہ عوام کے تعاون سے وسیع پیمانے پر شجرکاری کی اشد ضرورت ہے۔
دوسری جانب ہوس زدہ اور لاشعور لوگ تعمیرات کے سلسلے میں جنگلات کی کٹائی پر زور دیتے ہیں اس طرح جنگلات میں ایک خاصی تعداد میں کمی لاحق ہوتی ہے۔ جنگلات کی مسلسل کٹائی کے سبب قدرتی وسائل کی فراہمی میں کمی آتی ہے۔ جنگلی حیات اور خوبصورت پرندوں کے مسکن اجڑ جاتے ہیں اور جنگل میں کہرام مچ جاتا ہے۔ جنگلات کے کٹاؤ کے باعث نہ صرف قدرتی وسائل کی فراہمی رک جاتی ہے بلکہ انسانی نظام زندگی بھی درہم برہم ہو کر رہ جاتا ہے۔ آکسیجن کے بغیر انسان بالکل بھی زندہ نہیں رہ سکتا کیونکہ آکسیجن زندگی کا ایک اہم سنگ میل ہے آکسیجن مہیا کرنے والا سب سے بڑا ذریعہ جنگل ہے۔
موسموں میں تغیر و تبدل واقع ہو رہا ہے زیر زمین پانی انتہائی نیچے جا چکا ہے۔ ہر سال سیلابوں کے نتیجے میں جان و مال کا نقصان الگ ہو رہا ہے۔ تعمیرات اگر ناگزیر ہیں تو ضرور ہونی چاہیے سڑکیں، پل، پلازے اور نئی ہاؤسنگ سوسائٹیاں ضرور بنائیں۔ لیکن درختوں کا قتل عام نہ کریں کیونکہ درخت زندگی کے لئے نہ صرف ضروری ہیں بلکہ زمین کے توازن کو قائم رکھنے کے ساتھ ماحول کو خوشگوار بنانے کا سب سے سستا ذریعہ ہیں۔ ایک درخت چھتیس ننھے بچوں کو آکسیجن مہیا کرتا ہے، ایک درخت سالانہ چار اعشاریہ چھ ٹن آکسیجن پیدا اور چھ اعشاریہ تین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتا ہے۔ درختوں کے پتے زمین میں کھاد کا کام دیتے اور ایک درخت تیس ہزار لیٹر پانی جذب کرتا ہے۔ پنجاب میں ہر سال مون سون کے موسم میں شجر کاری مہم کا آغاز ہوتا ہے نمائشی طور پر پودے لگائے جاتے ہیں تصویریں بنوائی اور اخباروں میں شائع کروائی جاتی ہیں اور بس۔
کہا جاتا ہے کسی بھی ملک کے مجموعی رقبے کے پچیس فیصد حصے پر جنگلات ہونا ضروری ہیں۔ قیام پاکستان کے وقت 1947 ء میں اس ملک کے 23 فیصد حصے یعنی ایک تہائی علاقے پر گھنے اور سرسبز درختوں سے ہر طرف ہریالی نظر آتی تھی جو کم ہو کر اس وقت پاکستان میں یہ تناسب پانچ فیصد سے بھی رہ گئی ہے جو ماحولیاتی ضرورت سے کہیں کم ہے۔ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور اس آبادی کی بڑھتی ہوئی خوراک کی ضروریات کے ساتھ زرعی اراضی کے رقبے میں تیزی سے کمی ہوتی جا رہی ہے بلکہ تشویش ناک حد تک پہنچ چکی ہے۔
درخت آکسیجن کی فراہمی کے ساتھ ساتھ آلودگی کم کرتے اور ماحول کو خوبصورت بناتے ہیں جبکہ لکڑی دیدہ زیب فرنیچر بنانے کے کام آتی ہے۔ شجر کاری مہم میں حصہ لے کر ہر شہری خوبصورت ماحول اور صحت مند معاشرے کی تشکیل میں انفرادی طور پر اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔ درخت ہمیں آکسیجن اور صاف ماحول مہیا کرتے ہیں ان کی حفاظت اور نشو و نما کی ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے۔
سوچ و بچار کرنے والے تو انتباہ کرتے ہوئے یہاں تک کہتے ہیں کہ اگر صرف پانچ سیکنڈز کے لیے زمین سے آکسیجن غائب ہو جائے تو ساحل سمندر پر لیٹے لوگوں کی جلد فوراً جل جائے گی۔ کیوں کہ ہوا میں موجود مالیکیولر آکسیجن ہی ہمیں الٹرا وائلٹ روشنی سے بچاتی ہے۔ دن کے وقت آسمان کالا سیاہ ہو جائے گا اندھیرا پھیل جائے گا۔ کچھ دکھائی نہیں دے گا۔ دھات سے بنی تمام وہ چیزیں جو الگ الگ ہیں فوراً سے پہلے ایک دوسرے کے ساتھ جڑ جائیں گی۔
کیوں کہ ہوا میں موجود آکسیجن کی تہہ ہی انھیں آپس میں جڑنے سے روکے رکھتی ہے۔ زمین کا پینتالیس فیصد حصہ آکسیجن سے بنا ہے۔ جیسے ہی آکسیجن غائب ہوئی ساری زمین کھردری ہو جائے گی، اتھل پتھل ہو جائے گی اس پر قدم رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ ہم ہوا کا اکیس فیصد دباؤ کھو دیں گے لہذا ہمارے کان کے پردے فوراً پھٹ جائیں گے۔ کنکریٹ کو زمین پر جمے رہنے میں آکسیجن مدد دیتی ہے۔ آکسیجن کے غائب ہوتے ہی کنکریٹ سے بنی تمام عمارتیں سیکنڈز میں ہی زمین بوس ہو جائیں گی۔
آکسیجن پانی کا ایک تہائی حصہ ہے۔ جیسے ہی آکسیجن غائب ہوئی دنیا کے تمام سمندروں کا پانی ہائیڈروجن گیس بن جائے گا اس کا والیم بڑھ جائے گا یہ تمام گیس اڑ کر فضا میں چلی جائے گی۔ چلیں اب سوچتے ہیں کہ اگر آکسیجن گیس اپنی مقدار سے دوگنی ہو جائے یعنی جتنی ہم اب حاصل کر رہے ہیں اس کا دوگنا ہو جائے محض پانچ سیکنڈز کو تو ہمارے کاغذ کے جہاز زیادہ دیر اڑیں گے۔ گاڑیوں میں موجود پٹرول زیادہ لیٹر تک چلے گا۔ ہم زیادہ خوش اور زیادہ چالاک ہوں گے۔
زیادہ آکسیجن سے ہمارے جسم کے پٹھے مضبوط ہو جائیں گے اور ہم بہترین جمناسٹک کا مظاہرہ کر سکیں گے۔ ہماری جسمانی کارکردگی میں اضافہ ہو گا۔ لیکن زمین پر دیوقامت حشرات الارض گھومیں گے۔ کاکروچ، لال بیگ، بچھو، چھپکلیاں سب کی جسامت اتنی زیادہ ہو جائے گی کہ ہمیں خوف آنا شروع ہو جائے گا۔ کیوں کہ حشرات الارض کی جسامت کا سائز فضا میں موجود آکسیجن کی مقدار پر منحصر ہوتا ہے ”توازن“ ہی کائنات کا سچ ہے جس کا برقرار رہنا انسانی بقاء کے لئے بھی ضروری ہے۔
ایک نئی تحقیق کے مطابق جنگلات کے کاٹے جانے سے دریاؤں اور جھیلوں میں گرنے والے پتوں کی تعداد میں کمی آ رہی ہے جس کے نتیجے میں مچھلیوں کو کم خوراک میسر ہے۔ محققین کے اندازے میں خوراک کی کمی کی وجہ سے چھوٹی مچھلیوں کا حجم متاثر ہو رہا ہے اور مچھلیوں کی عمروں میں بھی کمی واقع ہو رہی ہے۔ تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ پانی کے ذخائر کے قریب مقام کے تحفظ اور تازہ پانی کی صحت مند مچھلیوں کی تعداد میں براہ راست تعلق ہے۔
یہ تحقیق کچھ عرصہ پیشتر نیچر کمیونیکیشنز نامی جریدے میں شائع ہوئی تھی۔ یونیورسٹی آف کیمبرج میں محکمہ پلانٹ سائنسز سے منسلک اور اس تحقیق کے رہنما مصنف اینڈریو کے مطابق ’ہمیں معلوم ہوا ہے کہ مچھلیوں میں کاربن پر مشتمل بائیو ماس کا تقریباً 70 فیصد درختوں اور پتوں سے آتا ہے، نہ کہ زیر آب خوراک کے ذرائع سے۔ ‘ ’جہاں پر درختوں سے گرنے والا مواد زیادہ پایا جاتا ہے، پانی کے ان ذخائر میں زیادہ بیکٹیریا پایا جاتا ہے جس سے پلینکٹن میں اضافہ ہوتا ہے۔ ‘
پلینکٹن ان حیاتیات کو کہا جا تا ہے جو کہ ایسے چھوٹے چھوٹے جانور ہیں جو کہ پانی کے رخ کے خلاف تیر نہیں سکتے اور زیر آب بڑے جانوروں کے لیے خوراک کا اہم ذریعے ہیں۔ اینڈریو کا کہنا ہے کہ ’جن علاقوں میں زیادہ پلینکٹن ہوتے ہیں، وہاں کی مچھلیاں سب سے موٹی اور بڑی ہوتی ہیں۔ ‘ ایک اندازے کے مطابق تازہ پانی کی مچھلیاں انسانوں کی خوراک میں جانوروں سے حاصل ہونے والے پروٹین کا چھ فیصد حصہ ہیں۔ بقول منو بھائی مرحوم سنگاپور میں ہر بچے کی پیدائش پر اس کے نام کا ایک درخت اگایا یا لگایا جاتا ہے جس کی حفاظت اس بچے کی پرورش جتنی اہمیت رکھتی ہے اگر خدانخواستہ بچہ مر جائے تو سمجھا جاتا ہے کہ وہ اس درخت کی صورت میں زندہ ہے۔
اس رواج نے اس ملک کو سرسبز اور شاداب بنا رکھا ہے۔ مصر کی وادی نیل کی قدیم تہذیب کی روایات کے مطابق جب بھی کسی گھر میں کوئی بچی پیدا ہوتی تھی اس کے والدین اور گھرانا اس بچی کے نام کے ساتھ درخت اگاتے تھے جو اس بچی کے ساتھ ہی جوان ہوتے تھے اور اس بچی کی شادی کے موقع پر بطور جہیز کاٹ کر اس کے حوالے کیے جاتے تھے کہ وہ انہیں اپنے استعمال میں لائے۔ پاکستان کو سرسبز و شاداب بنانے کے لئے ہمیں قیام پاکستان کے وقت جتنی درختوں تعداد کرنی ہو گی جس کے لئے ایک شعوری مہم کی اشد ضرورت ہے۔


