پاک فوج کے زرعی اراضی کا انتظام سنبھالنے پر کچھ سوالات
پاکستانی فوج کی جانب سے ’کارپوریٹ ایگریکلچر فارمنگ‘ کے مقصد کے لیے پنجاب، پاکستان کے تین اضلاع سے 45,267 ایکڑ اراضی کا انتظام سنبھالنے کا حالیہ فیصلہ قابل تشویش ہے۔ یہ اقدام فوج کے ارادوں اور سویلین معاملات میں اس کی مداخلت پر سوالات اٹھاتا ہے۔
یہ ایک تشویشناک امر ہے کہ پنجاب کی نگران حکومت، ایک غیر منتخب حیثیت رکھنے کے باوجود کارپوریٹ فارمنگ کے لیے اتنے بڑے رقبے کو فوج کے حوالے کرنے کے معاہدے پر دستخط کرنے کے ساتھ ساتھ اس پر عملدرآمد کروا رہی ہے۔ یہ اقدام لائیو سٹاک کے ان اداروں کے لیے تباہ کن ہے جن کی زمین فوج کے حوالے کی جا رہی ہے۔ اس بلاجواز فیصلے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ مذکورہ اراضی فوج کی ملکیت نہیں ہے پھر بھی اسے اس کا انتظام سنبھالنے کی اجازت دی گئی ہے اور جن ریسرچ اداروں کی ملکیت ہے ان کو جزوی انتظام کے لیے فوج کو ریسرچ پروپوزل جمع کروانے کا پابند کیا گیا ہے۔ فوج کے لینڈ ڈائریکٹوریٹ نے پنجاب حکومت کو سرکاری اراضی کی منتقلی کے لیے خط لکھا، جس کا مقصد فوج کے مفادات کے لیے نہیں بلکہ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کیا جانا ہے۔
مزید یہ کہ فوج نے اس منصوبے میں نجی فرموں کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔ اس سے فوج کے ارادوں پر سوالات اٹھتے ہیں اور کیا اس اقدام کا مقصد مقامی آبادی کے بجائے فوج کو فائدہ پہنچانا ہے۔ اگرچہ فوج کا دعویٰ ہے کہ اسے اس منصوبے سے کوئی منافع نہیں ملے گا، لیکن اس دعوے کے بارے میں شکوک و شبہات موجود ہیں۔ مقامی آبادیوں پر اس پراجیکٹ سے کیا اثر پڑے گا اور کیا وہ بھی اس سے کسی طور مستفید ہو پائیں گے، اس سوال کا بھی شافی جواب موجود نہیں ہے۔
یہ دعویٰ کہ زمین زیادہ تر بنجر، غیر قابل کاشت اور کم پیداواری ہے، اس کا استصواب بھی ضروری ہے۔ ممکن ہے کہ یہ زمین ناکافی طور پر استعمال ہو رہی ہو لیکن یہ پھر بھی پنجاب کے لوگوں کی ہے اور اسے فوج کے حوالے نہیں کیا جانا چاہیے۔ یہ زمین پہلے سے ریسرچ اداروں کا حصہ ہونے کے ساتھ ساتھ وہاں پلنے والے مقامی لائیو سٹاک نسلوں (breeds) کی نگہداشت اور چارے کی پیداوار کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ فارمز کی تباہی کی صورت میں پاکستان کی آنے والی نسلیں مقامی طور پر کارآمد جانوروں کی اعلیٰ نسلوں سے محروم ہو جائیں گے۔ پنجاب حکومت کے یہ دلائل کہ اس منصوبے سے زرعی پیداوار میں اضافہ ہو گا اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، فوج کو اتنے بڑے رقبے کا انصرام بخشنے کا جواز نہیں دیتے۔
منصوبے کے انتظام کے بارے میں بھی تحفظات موجود ہیں۔ اگر ریٹائرڈ فوجی افسران اس منصوبے کو سنبھالیں گے تو ان کی کون سی قابلیت ہے جو ان کو کارپوریٹ ایگریکلچر فارمز کا بہتر منتظم بناتی ہے۔ اس پراجیکٹ کا انتطام پیشہ ورانہ تربیت یافتہ لوگوں کو سونپنے کی بجائے سابقہ فوجی افسران ہی کو دینا پاک فوج کے ارادوں پر سوال اٹھاتا ہے کہ کیا اس اقدام کا مقصد اس کی سویلین اداروں میں مداخلت اور اپنی طاقت کو مستحکم کرنا ہے؟ اس پراجیکٹ سے سویلین معاملات میں فوج کی مداخلت سے جمہوری اقدار اور اداروں کو نقصان پہنچنے کا امکان بہرحال موجود ہے۔
پنجاب کے عوام کی قیمتی زرعی کو غیر معینہ مدت کے لئے فوج کے حوالے کرنے کا اقدام اس لیے بھی تشویشناک ہے کہ یہ مستقبل کے لئے ایک خطرناک مثال قائم کرتا ہے۔ اگر فوج کو کارپوریٹ فارمنگ کے لیے سرکاری اراضی پر قبضہ کرنے کی اجازت دی جاتی ہے تو اس سے شہری معاملات میں مداخلت مزید بڑھ سکتی ہے اور غیر منتخب اداروں کے اس انتہائی فیصلے سے جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کو نقصان پہنچے گا۔
کارپوریٹ فارمنگ کے لیے لائیو سٹاک کے اداروں سے زمین لینے کا پاک فوج کا بلاجواز فیصلہ تشویشناک ہے۔ اس اقدام سے فوج کے ارادوں اور سویلین معاملات میں اس کی مداخلت پر سوالات اٹھتے ہیں۔ یہ زمین پنجاب کے لوگوں کی ہے، اسے فوج کے حوالے نہ کیا جائے۔ غیر منتخب نگران حکومت قانون کی حکمرانی اور جمہوری اقدار کو برقرار رکھنے کے لیے ایسے انتہائی اقدام سے باز رہے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ سرکاری زمین کو عوام کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کیا جائے اور آنے والی نسلوں کے لیے بھی محفوظ رکھا جائے۔


