الیکشن بحران اور آئینی سقم کا درست حل
آئین کوئی مذہبی کتاب نہیں جس کے لیے ہمیشہ کی ضروریات پوری کرنے کا دعویٰ کیا جاتا ہو۔ ہمارے آئین میں یہ سقم موجود ہے کہ اگر صوبائی اسمبلیاں جنرل الیکشن سے چھ ماہ یا ایک سال پہلے توڑ دی جائیں تو ان کا الیکشن اگلی پوری ٹرم یعنی پانچ سال کے لئے ہو گا۔
لیکن ساتھ ہی آئین جنرل الیکشن صرف نگران حکومت کروائے گی کا حکم دیتا ہے۔ اگر آج پنجاب اور پختونخوا میں صوبائی اسمبلیوں کا الیکشن ہو کر نئی صوبائی حکومتیں قائم ہو جاتی ہیں۔ تو جنرل الیکشن کے لیے ان حکومتوں کو کس آرٹیکل کے تحت معطل یا غیر فعال کیا جائے گا۔ اور عبوری طور پر تین مہینے کی مدت کے لیے معطل ہونے والی حکومت دراصل اختیارات کا ایک مستقل سلسلہ ہوگی۔ افسروں پر دباؤ موجود ہو گا کہ تین مہینے کے بعد یہی لوگ حکومت میں ہوں گے لہذا ان کا حکم نہ ٹالا جائے۔
درحقیقت آئین بنانے والوں میں عمران خان کی ذہنیت کو سمجھنے والا کوئی شخص موجود ہی نہیں تھا۔ ان بیچارے سے سیدھے سادے لوگوں کو ٹیڑھی کھیر سے نمٹنا تصور میں ہی نہیں آیا۔
عمران خان کی اس حرکت سے پہلے سیاستدان کبھی اس طرح کی حرکت کرنے کے بارے میں تصور بھی نہیں کرسکے تھے۔ اس مسئلہ کا حل قومی اسمبلی نکال سکتی تھی۔ قومی اسمبلی آئین میں یہ ترمیم کر سکتی تھی کہ صوبائی اسمبلی توڑ کے جانے کے بعد جو بھی ضمنی الیکشن ہو گا وہ محض بقیہ مدت کے لیے ہو گا لیکن اس عمل کو عمران خان اور ججوں نے مل کر روک دیا اور قومی اسمبلی کی نشستوں پر الیکشن کے خلاف حکم امتناعی جاری کر دیا۔
آج جو نام نہاد آئینی ماہرین پی ٹی آئی کو دستیاب ہیں ان میں سے کوئی بھی سپریم کورٹ کی اس غیر آئینی اور غیر پارلیمانی اقدام کے بارے میں کچھ نہیں کہہ رہا۔ قومی اسمبلی وہ واحد فورم تھا جو اس مسئلہ کا حل نکال سکتا تھا لیکن اسے جان بوجھ کر دو تہائی اکثریت سے محروم کر دیا گیا۔
تصور کیجئے کہ تمام پی ٹی آئی کے حامی قانون دان یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ سپیکر کے منظور شدہ استعفے پر سپریم کورٹ کوئی فیصلہ کر سکتی ہے لیکن وہ اور سپریم کورٹ اس بارے میں متفق ہیں کہ سینٹ میں پریزائیڈنگ افسر کے غلط مسترد کردہ ووٹوں کے بارے میں سپریم کورٹ کوئی فیصلہ نہیں کر سکتی۔
اعلیٰ عدلیہ کی بظاہر بددیانتی کی حد کو پہنچی رائے کتنی واضح ہے اور سب لوگ اس بات کو محسوس کر سکتے ہیں کہ ناجائز طور پر مسلط کردہ چیئرمین سینٹ آج بھی اپنی نشست پر موجود ہے حالانکہ اسے کبھی اکثریت حاصل نہیں ہوئی تھی۔
آئین سازی اور پارلیمانی کارروائی کے بارے میں صرف قومی اسمبلی اور سینیٹ ہی فیصلہ کن اتھارٹی ہیں اور وہی فیصلہ کر سکتے ہیں کہ کسی بھی پیش آمدہ مسئلہ کے بارے میں میں کیا حل ممکن ہے۔
سپریم کورٹ کو فوری طور پر قومی اسمبلی کی بقیہ نشستوں پر حکم امتناعی واپس لے کر الیکشن کا موقع دینا چاہیے تاکہ اگر پی ٹی آئی کو اکثریت حاصل ہے تو وہ دوبارہ قومی اسمبلی میں اپنا فعال کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں آ جائے اور صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن کے بارے میں پارلیمان بہتر فیصلہ کر سکے۔
یہاں پر ایک سوال اٹھایا جاتا ہیں کہ انڈیا میں بھی تو ریاستی صوبائی الیکشن جنرل الیکشن سے الگ ہوتے رہتے ہیں تو پاکستان میں ایسا کیا جائے گا تو کیا مسئلہ ہو گا۔ یہ بات کہنے کے لیے ایک بڑی دلیل ہو سکتی ہے لیکن جس نے بھی یہ بات کہی ہے اس نے دراصل پاکستان کا آئین پڑھا ہی نہیں ہوا۔ آئین پاکستان میں موجود حکومت الیکشن نہیں کروا سکتی۔ اس کے لئے ایک عبوری اور نگران حکومت بنائی جاتی ہے جو الیکشن کروانے کے بعد ختم ہو جاتی ہے اور نئی حکومت کو اقتدار منتقل کر دیتی ہے۔
اگر صوبائی الیکشن قومی اسمبلی کے الیکشن سے الگ ہو گا تو نگران حکومت کے تقرر کا کیا طریقہ کار ہو گا اس بابت آئین خاموش ہے۔ لہذا جو رائے انڈیا اور دیگر ممالک کی روایات کو دیکھ کر دی جا رہی ہے وہ آئین پاکستان کے لیے قطعاً غیر اہم اور آئین پاکستان کی واضح شق سے متصادم ہے۔



بہت زبردست