بینکاری کیوں ناکام ہوتی ہے


دنیا بھر معیشت کا دار و مدار بینک چلاتے ہیں۔ اور ہر کچھ عرصہ بعد سننے کو ملتا ہے کہ وہاں بینک خراب کارکردگی کی بنا پر بند ہو گیا یا اس کا دیوالیہ نکل گیا اور اکثر سننے میں آتا ہے کہ بینک منجمند ہو گیا اس وجہ سے اس ملک کی معیشت کو جھٹکا لگ جاتا ہے اور اس کے اثرات پوری دنیا میں محسوس کیے جاتے ہیں۔ امریکی بینک اپنی ایک الگ پہچان رکھتے ہیں اور دنیائے عالم میں ان کا ایک ممتاز مقام ہے وہاں حال ہی میں ایک بینک کریڈٹ سوئس ناکام ہوا۔

اس سے پہلے 2008 میں ایک بڑی خبر تھی کہ امریکی بینکنگ نظام تقریباً مکمل طور پہ زمیں بوس ہو گیا تھا اور سو سال قبل 1907 میں بھی ایسی ہی صورتحال درپیش تھی۔ بینک کے بارے میں عموماً یہی رائے پائی جاتی ہے کہ لوگ اپنی جمع پونجی رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان کا سرمایہ محفوظ ہے۔ اب بینک والے اس پیسے کو کرنسی کی صورت میں اپنے خزانے میں نہیں رکھتے بلکہ بڑے بڑے کاروباری شخصیات اور اداروں کو قرض کی صورت میں دیتے ہیں اور خود بھی نفع بخش کاروبار میں سرمایہ کاری کرتے ہیں اس کے نتیجے میں وہ بہت سی جائیدادیں بھی بنا لیتے ہیں۔

بینک سماجی اور معاشی سرگرمیوں میں مصروف کار رہتے ہیں مگر کبھی کبھی ان کے ہاں ایسی غفلت اور کوتاہی ممکن ہوتی ہے کہ بینک کا بھٹہ بیٹھ جاتا ہے اور لوگوں کا اعتماد اٹھ سا جاتا ہے۔ اب جس بینک کا تازہ ترین واقعہ میں بھٹہ بیٹھا ہے اس کو خریدنے کے لیے اس کا مخالف بینک خرید رہا ہے تاکہ عوام کو اس کی ناکامی کا کم از کم نقصان ہو اور عوامی اعتماد میں اضافہ ہو۔ 1893 میں ایک بہت بڑا واقعہ ہوا تھا جب 340 بینکوں کو اپنا کاروبار لاس اینجلس اور شکاگو میں ترک کرنا پڑا تھا کیونکہ بینکنگ سسٹم کو بہت سے پہلوؤں کو مدنظر رکھنا پڑتا ہے کیونکہ بہت سے لوگ قرضے واپس نہیں کرتے، ان کے اثاثوں خاطر خواہ کمی، انتظامی کمزوریوں، افواہ سازی، اور تکنیکی غلطیوں کے باعث ایسے واقعات کا رونما ہونا یکسر قرین قیاس نہیں ہوتا۔

آج کل کے جدید دور میں ایسی بے تابی زیادہ تیزی سے ممکن ہے جب لوگ اپنے گھر بیٹھے ہوئے بینکاری کر سکتے ہیں اور کسی ذرا سی لغزش سے فوری طور پر ایک ایسی کیفیت برپا کر سکتے ہیں کہ لاکھوں لوگ اپنا سرمایہ اپنے بینک کی کمپیوٹر ایپ کے ذریعے نکال کر کہیں اور رکھ دیں تو بینک فوری طور پہ زمیں بوس ہوسکتے ہیں۔ کیونکہ پیسے لینے دینے کے لئے اب کوئی قطار بندی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ انٹرنیٹ کے ذریعے یہ کام اب تیزی سے ہوتا ہے کہ ایک سرگوشی سے سب مطلع ہو جاتے ہیں۔

وارن بفٹ کے قول کے مطابق کسی کی برہنگی کا پتہ تو تب چلتا ہے کہ کون کتنے پانی میں ہے جب لہر کی شدت کم ہوتی ہے۔ جب شرع سود کم ہوتی ہے تو سرمایہ کاری میں تیزی رونما ہوجاتی ہے ایسے میں بینکوں میں بھی قرض دینے کی ایک دوڑ لگی ہوتی ہے تو سب دھڑا دھڑ قرضے دینا شروع کر دیتے ہیں جبکہ شرع سود جب بڑھ جائے تو معیشت پر اس کے منفی اثرات مرتب ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ 1930 کی دہائی میں آنے والے معاشی بحران کا حوالہ ہمیشہ مدنظر رہا ہے جب ایک عظیم بحران پیدا ہوا تھا۔

جو قوانین بینکوں کو چلانے اور درست سمت رکھنے والے بنانے جاتے ہیں وہ مکمل طور پہ ایسے نہیں ہوتے کہ بینک کبھی ناکام نہیں ہوں گے بلکہ اس کو رسک فیکٹر کو مدنظر رکھا جاتا ہے کہ مثلاً ایک شخص کسی کمپنی یا مالیاتی اداروں میں سرمایہ کاری کرتا ہے تو نفع و نقصان میں وہ شریک ہوتا ہے پھر اگر احتمال نقصان کا ہو تو وہ برداشت بھی کرتا ہے۔ بینک کبھی گھریلو سرمایہ کرتے تھے اور بعض اوقات ناکام بھی ہو جاتے ہیں مگر آج کل سٹارٹ اپ بزنس کے لیے زیادہ قرضے دیے جا رہے ہیں تو قرین قیاس ہے کہ اس کی وجوہات سے بھی بینکاری نظام پہ گہری چوٹ لگ سکتی ہے۔

Facebook Comments HS