بیاہ کے بعد علیحدہ گھر ہر لڑکی کا بنیادی حق ہے

یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے سوشل سیٹ اپ میں لڑکا تن تنہا نہیں ہوتا، وہ اکثر اوقات ایک لمبے چوڑے خاندان کے ساتھ جڑا ہوتا ہے جس میں والدین کے علاوہ بہنوں اور چھوٹے بھائیوں کا بھی ساتھ ہوتا ہے۔ وہ جس طرح خود اپنے خاندان کا تابعدار اور خدمت گزار ہوتا ہے اکثر اوقات اس کی بیوی ویسا نہیں کر پاتی۔ بیوی کا ایسا نہ کرنے کی بہت ساری وجوہات ہو سکتی ہیں جن کا سمجھنا از حد ضروری ہے۔ ایک وجہ تو یہ بھی ہوتی ہے کہ اس بیچاری کی تو اس طرح سے تربیت ہی نہیں ہوئی ہوتی، وہ اپنے گھر کی لاڈلی جب بیاہ کے ایک بڑے خاندان کا حصہ بنتی ہے تو اپنی ناتجربہ کاری اور عدم تربیت کی وجہ سے مسائل میں گھر جاتی ہے۔ اب اگر ساس اور نندیں اس کی خامیوں کی ٹوہ میں لگ جائیں تو لا محالہ انھیں بہت سی ایسی چیزیں مل جاتی ہیں۔
ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ وہ بڑے نیوٹرل مائنڈ سیٹ کے ساتھ بیاہ کر نئے گھر میں آئی ہو، کام اور خدمت کرنے کا کسی حد تک جذبہ ہو بھی تو سسرال میں موجود افراد کے منفی رویے کی وجہ سے پریشان ہو کر وہ ان سے پیچھے ہٹنا شروع ہو جائے۔ ایسی صورتحال میں لڑکا بہت گمبھیر صورتحال میں پھنس جاتا ہے۔ طرفین میں سے کسی ایک کی سائیڈ لینے یا کم ازکم کسی کو اس کی غلطی باور کروانے سے اس کی مشکلات بڑھنا شروع ہو جاتی ہیں۔
ہمیں اس ساری صورتحال میں بڑی متوازن طرز فکر اور طرز عمل کی ضرورت ہے۔ ان پیچیدہ صورتوں کا بغور مشاہدہ کرنے سے سے پتہ چلتا ہے کہ کسی بھی ایک مثال کو من و عن اٹھا کر دوسری جگہ فٹ نہیں کیا جاسکتا۔ کہیں پر تو بہو ظلم و زیادتی کا شکار ہو رہی ہوتی ہے اور کہیں پر بہو اچھے بھلے پر سکون گھر میں آ کر سب کا سکون برباد کر دیتی ہے۔ کہیں پر سسرال زیادتی کرتا دکھائی دیتا ہے اور کہیں شوہر سمیت پورے کا پورا سسرال بہو کے ناز نخرے اٹھانے میں لگا رہتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح یہ نئے گھر اور نئے ماحول میں ایڈجسٹ کر جائے مگر بہو کے مزاج ہیں کہ بگڑتے ہی چلے جاتے ہیں وہ اس شرافت کو کمزوری پر محمول کر بیٹھتی ہے۔
ایک پڑھے لکھے خاندان نے بیٹا بیاہا، بہو اچھی نیک سیرت اور خوبصورت تھی مگر شادی کے کچھ عرصے کے بعد وہ بیمار رہنے لگی، وہ اتنی بیمار ہوئی کہ بستر سے ہی جا لگی، اس کا شوہر اس کی اس حالت پہ پریشان تھا مگر وہ اس کے لیے اپنے وسائل میں رہتے ہوئے دوا دارو، علاج معالجہ کرواتا رہا۔ مگر اس کی ماں کو یہ گوارا نہ ہوا، اس نے بیٹے پر طلاق دینے کے لیے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔ بیٹے نے لاکھ کہا کہ ماں وہ ہماری فیملی کا حصہ ہے اور بیمار ہمارے گھر آ کر ہوئی ہے، ہم علاج کر وا رہے ہیں، ٹھیک ہو جائے گی مگر ماں نہ مانی۔ طلاق ہو کر رہی۔ لڑکی طلاق کے کچھ عرصے کے بعد داعی اجل کو لبیک کہہ گئی۔
اسی طرح ایک عالم دین با شرع لڑکے کے خاندان والوں کو اس کے لیے کسی عالمہ کا رشتہ درکار تھا۔ لڑکے کی ماں بھی عالمہ فاضلہ تھی۔ خوش قسمتی سے ایک موزوں رشتہ مل گیا۔ شادی کے بعد میاں اور بیوی دونوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے انس اور محبت کے فطری جذبات پیدا ہو گئے۔ اس پر وہ عالمہ فاضلہ ماں بجائے خوش ہونے کے سیخ پا ہونے لگی اور اپنے بیٹے کو بلا کر درشت لہجے میں بولی ”اس کو زیادہ سر پہ مت چڑھاؤ، ایک دفعہ سر چڑھ گئی تو اتارنا مشکل ہو جائے گا۔
ایک اور پڑھے لکھے گھرانے کا یہ حال ہے کہ ان کی بہو کو اپنے میکے جانے کی اجازت نہیں ہے۔ اگر کسی سخت مجبوری میں جانا ہو تو خود لڑکی کا باپ یا بھائی لے کر جاتے ہیں اور خود واپس چھوڑ کر جاتے ہیں۔ داماد شادی والے دن کے بعد اپنے سسرال نہیں گیا کیونکہ ماں کی اجازت نہیں ہے۔
ایک بہت بڑا مسئلہ جو اس ضمن میں دیکھنے میں آ رہا ہے وہ یہ کہ ہمارے دینے کے باٹ اور ہیں اور لینے کے باٹ اور۔ جب کسی کی بچی کو بیاہ کے اپنے گھر لائیں تو اس سے یہ توقع باندھ لیں کہ وہ آتے ہی سارا کام کاج سنبھال لے، ساس، سسر، دیور اور نندوں کی خاطر داری پہ مامور ہو جائے، کسی کو بھی ذرا سی شکایت کا موقع نہ دے۔ مگر جب اپنی بیٹی کو کسی کے ساتھ بیاہ کر رخصت کریں تو اس کی ذرا تربیت نہ کریں کریں بلکہ اس کی غلطیوں پر عذر تراشی کریں۔ جب بیٹی اپنے شوہر کو اشاروں پہ نچائے تو اس پر بیٹی کو شاباش دیں جب بہو ایسا کرنے کوشش کرے تو اس پہ قہر بن کے ٹوٹ پڑیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ جہاں بیٹیوں کو بیاہنے سے قبل ان کی مکمل اور بھرپور تربیت کی جائے وہیں بیٹوں کو بھی حقوق و فرائض کی مکمل آگہی بخشی جائے۔ اس سلسلے میں اسلام کے زریں اصولوں کو سیکھنے اور ان پر عمل کرنے سے بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ معاشرتی طور پر بھی بہت سی اچھی چیزیں ہیں جن کا اختیار کرنا فائدے سے خالی نہیں ہے، جیسے کہ کمبائنڈ فیملی سسٹم۔ یہ سسٹم بڑی پیچیدہ چیز کا نام ہے۔ بعض اوقات اس کے بہت سے فوائد نظر آرہے ہوتے ہیں۔ اگر یہ سسٹم اپنی تمام تر فیوض و برکات کے ساتھ چل رہا ہو تو اس میں رہتے رہنے میں کوئی ہرج نہیں ہے۔ لیکن اگر کمبائنڈ فیملی سسٹم میں رہنا دنگے فساد کا باعث بنے اور بچوں کی تربیت پر منفی اثرات چھوڑتا دکھائی دے تو اس سے چھٹکارا حاصل کرنے میں ہی عافیت ہے۔
ہر لڑکی کا بنیادی حق ہے کہ شادی کے بعد اس کی فیملی کا ایک بالکل علیحدہ گھر ہو، اگر ایسا ممکن نہیں تو کم ازکم علیحدہ پورشن ضرور ہو جس میں اس کی شادی شدہ زندگی کی پرائیویسی ہر حال قائم رہے۔

