چند نہیں ’ہم‘ صرف ہم
دو دوست ایک ڈھابے پہ بیٹھے چائے پی رہے تھے ایک نے کہا میرے پاس بہت بری خبر ہے، دوسرے نے پوچھا کون سی، اس نے کہا یہ ملک اب نہیں چل سکتا، دوسرے نے پہلو بدلتے ہوئے کہا میرے پاس اس سے بھی زیادہ بری خبر ہے پہلے نے حیران ہو کے پوچھا کون سی !
اس نے قہقہہ لگایا اور کہا، یہ ایسے ہی چلتا رہے گا۔
اگر 75 سالہ تاریخ پہ نظر دوڑائی جائے تو ہر دن ایسا ہی تھا کہ یہ اب نہیں چل سکتا لیکن تب سے لے کر آج تک ایسے ہی چل رہا ہے۔ لیکن آخر کیوں اور کب تک!
ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے وہ حد جب کراس ہو جائے تو پھر ان ہونی کو کوئی نہیں ٹال سکتا۔ یہاں تک کے معجزے بھی نہیں معجزوں کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں اور اب ہم ان اصولوں کے دائرے سے کافی باہر آ چکے ہیں۔ ہمیں من و عن ماننا ہو گا کہ قومیں اپنی حالت خود بدلتی ہیں۔ اور اک ہم ہیں کہ اپنی حالت چند لوگوں کے حوالے کیے بیٹھے ہیں۔ دراصل یہی چند لوگ ہی تو تباہی کی جڑ ہیں۔ ان چند لوگوں کی ضد، انا اور حماقت ہمیں بند گلی میں لے کے جا رہی ہے۔ جہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں۔
پھر ہم کیوں پاگل بنے ہوئے ہیں، ہمیں کہیں اس کی عادت تو نہیں ہو گئی ایک ایسی عادت جو موروث سے ملی ہو۔ موروث سے ملے اس اثاثہ سے ہمیں بہت جلد جان چھڑانی ہو گی۔ دیر ہو گئی تو بعد میں آنے والی نسلوں کو بھی یہی بھگتنا پڑے گا جیسے ہم بھگت رہے ہیں۔
یہ ذلالت انہیں بھی سہنی پڑے گی جو پچھتر سالوں سے ہم سہتے آ رہے ہیں۔ اس لیے ہمیں جاگنا ہو گا موروث کی اس مہربانی سے اپنی بقا کی خاطر جان چھڑا کے آگے بڑھنا ہو گا۔ یہ چند لوگ تو صرف اپنے مفاد کی جنگ لڑے رہے ہیں، اور ہم اس جنگ کے سپاہی ہیں باقی کچھ نہیں۔ اگر ہم بیدار نہ ہوئے تو آنے والے بھی یہی بھگتیں گے۔
وہ بھی ان نا اہلوں کے لیے ایک سپاہی کی طرح لڑتے لڑتے خود کو بھینٹ چڑھا دیں گی۔ اور ان چند کو کبھی کمی نہیں آنی کیونکہ ہم نے سسٹم ہی ایسا بنا دیا ہے کہ ہم قربانیاں دیتے رہیں گے اور یہ نا اہل لوگ اپنے الو سیدھے کرتے رہیں گے۔
کہانی یہی رہے گی کردار بدلتے رہنے ہیں، اس لیے ہمیں کہانی بدلنی ہے، ہمیں بتانا ہے ان چند مفاد کے بیوپاریوں کو کہ اصل طاقت عوام ہوتی ہے۔ یہی بے حس لوگ ہمارے بل بوتے پہ آگے نکلتے ہیں، ہمارے ہی کاندھوں کو سیڑھیاں بنا کے اقتدار کی بلندیوں کو چھوتے ہیں، اور ان کا ہی یہ ہنر ہے یہ جتنا بلندی پہ جاتے ہیں ہم اتنا ہی پستی میں۔
ہماری پستی ہی تو ان کی جیت ہے اگر ہم جاگ گئے تو مفاد پرستوں کا یہ ٹولہ کدھر جائے گا۔ لیکن ہمیں جاگنا ہو گا ہمیں انہیں شکست دے کے جاگنا ہو گا۔ اپنے لیے نہیں تو اس ملک کے لیے جاگنا ہو گا جس کی بنیادوں میں بیس لاکھ جانوں کا نذرانہ ہے اور نہ جانے کتنی آہیں اور سسکیاں ہیں۔
کیا ان لوگوں سے کبھی کسی نے پوچھا ہے کہ پچھتر سالوں میں ایک ایسا سسٹم کیوں نہیں بنایا جا سکا جو امیر اور غریب کو برابر کی سپورٹ کرتا۔ متوسط طبقہ اس وقت سے لے کر آج تک چولھا جلانے کی فکر سے باہر نہیں آ سکا اور ان چند لوگوں کی جائیدادیں سو گنا سے زیادہ بڑھ گئیں۔ کیوں؟ کیونکہ یہ اپنے لیے جیتے رہے۔ اور ہم؟ ہم بھی ان کے لیے۔
ہم ان چند کو تو مجرم ٹھہرا سکتے ہیں لیکن خود بھی بری الزمہ نہیں ہو سکتے ہم بھی ان کے جرم میں برابر کے شریک ہیں۔ ہماری سوچ بھی چند اشخاص تک محدود ہے۔ قوموں کے سامنے اشخاص نہیں مقاصد ہوتے ہیں، کیا ہم نے کبھی آواز اٹھائی ہے کہ ہمیں بھی برابر کا قانون چاہیے، برابر کا عدل چاہیے، ایک ایسا نظام تعلیم چاہیے کہ جہاں آپ کے اور ہمارے بچے مل کے پڑھ سکیں، ایک ایسا نظام صحت ہو جہاں آپ اور ہم مل کے اعلاج کروا سکیں۔
ہم ان چند کے پیچھے کھڑے ہو کر ملک بھی جام کر دیتے ہیں پورا سسٹم مفلوج کر دیتے ہیں، قیمتی جانیں بھی دے دیتے ہیں۔ کیا ہم اپنے حقوق یا ایک عام آدمی کے حق کے لیے یوں اکٹھے ہو سکتے ہیں۔ کیا ہم ایک ایسے نظام کے لیے اتنی پاور شو کر سکتے ہیں کہ یہ اقتدار کے بھوکے لوگ مجبور ہو کر ہمارے سامنے سرنڈر کر دیں۔
ایسا نظام دیں ہم کو ایک دیہاڑی دار اور ان کا بچہ اکٹھا بیٹھ کے پڑھ سکے۔ ایک ایسا نظام جہاں روٹی کی تڑپ ان چند کے ضمیروں کو بھی جھنجھوڑے۔ ان کو بھی احساس ہو کہ ”روٹی بندا کھا جاندی اے“ ۔
ہاں ہم یہ سب کر سکتے ہیں لیکن کریں گے نہیں کیونکہ ہمیں بھی اس ملک اور نسلوں کی خاطر نہیں بلکہ ان چند لوگوں کی خاطر جینا ہے جو کبھی اس چمن کو ہرا نہیں ہونے دیں گے۔ ہمیں بدلنا ہو گا ہم ہی اس سسٹم کو بدل سکتے ہیں، اب اندھے ہو کے ان چند لوگوں کے لیے نہیں بلکہ اس ملک، آنے والی نسلوں اور اپنے لیے جینا ہو گا صرف اور صرف اپنے لیے آواز اٹھانی ہو گی۔ اگر ہم ان کے پیچھے آنکھیں بند کر کے چلتے رہے تو یہ ہمیں کسی گہری کھائی میں جا کے چھوڑیں گے اور ہم اسی طرف بڑھ رہے ہیں، ہمیں واپس لوٹنا ہو گا، ہم لوٹ سکتے ہیں کیونکہ اصل طاقت ہم ہی ہیں۔
انہیں احساس دلانا ہو گا اور ہمیں خود اس کا ادراک کرنا ہو گا کہ ہمارے بغیر یہ چند لوگ کچھ نہیں کر سکتے۔
ہمیں ان کا نہیں ان کے مفاد کا نہیں بلکہ اس پرچم کا ساتھ دینا ہو گا۔ جس کا مطلب لا الہ الا اللہ ہے۔ اگر ہم ان چند کے مفاد کی خاطر جیتے رہے تو یہ احمق لوگ پوری کشتی ہی ڈبو دیں گے پھر نہ بانس رہے گا اور نہ نیرو کے بجانے کے لیے بانسری بچے گی۔


