ابن صفی اور کنفیوشس


ابن صفی کی عمران سیریز جسے ہمارے ہاں شرلاک ہومز اور سائمن ٹیملپر اور جیمز بانڈ جیسا درجہ حاصل ہے اس کا مرکزی کردار علی عمران گاہے بگاہے کنفیوشس کے فرمودات کا حوالہ اپنے مکالموں میں دیتا نظر آتا ہے۔ کیا یہ اتفاق تھا یا عظیم ابن صفی کی کنفیوشس کے نظریات سے ذہنی قربت، یہ کہنا آسان نہیں۔ بات دراصل یہ کہ کنفیوشس اور دیگر مصلحین میں ایک نہایت واضح بنیادی فرق تھا۔ کنفیوشس ڈرامے باز نہیں تھا۔ اس نے اپنی بات میں وزن ڈالنے کے لیے کبھی خدا کا سہارا نہیں لیا۔

یاد رہے کہ وہ فلسفی نہیں تھا۔ اس نے زندگی، خدا، مادیت اور آسمانی اور انسانی آفرینش کا کوئی فلسفہ یا نظریہ نہیں پیش کیا۔ وہ سیدھا سادہ ٹیچر اور مصلح تھا جو لوگوں کو سماج میں امن سے رہنے کے گر بتایا کرتا تھا۔ اپنے عہد کے خاصے کے برعکس اس نے نہ کوئی کمانڈمنٹس پیش کیں اور نہ ہی کسی آسمانی ”صحیفت“ کا سہارا لیا۔ میں یہ تو نہیں کہتا کہ کنفیوشسں اسی بنا پر ابن صفی کا فیورٹ رہا اور نہ ہی فیورٹ ہونے کو رد کر سکتا ہوں۔ اگر آپ غیر جانبدار بھی رہنا چاہیں تو پھر یہ بتائیے کنفیوشس ہی کیوں؟

بحوالہ روح عصر از جناب علی عباس جلالپوری، کنفیوشس حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے 550 سال قبل پیدا ہوا تھا۔  وہ پیغمبری کا دعویدار نہیں تھا، صرف ایک سا معقول اور رحم دل انسان تھا اور محض اپنی روح کی تسکین کے لئے نیک خیالات اور نیک اعمال کا قائل تھا اس کا عقیدہ تھا کہ ضبط نفس سب سے بڑی نیکی ہے اور قابل قدر ہے وہ انسان جو کبھی غصہ نہ کریں۔

اس کا فلسفہ معقولیت پسندی کا ہے زندگی کے مسائل کو حقیقت پسندانہ نقطہٴ نظر سے سلجھانے کی دعوت دی اور اس بات پر زور دیتا تھا کہ انسان کو ہر معاملے میں عقل و دانش سے کام لینا چاہیے۔ اس کے مذہب میں دوزخ و بہشت کے تصورات ہیں نہ تکوین و تخلیق اور روح فانی کے اساطیر کا، اس کی تعلیم ہر قسم کی اوہام سے پاک تھی۔ وہ خود عالم تھا اور اہل علم کا مداح تھا۔ کنفیوشس کے تعلیمات کا حاصل یہ ہے کہ ذہانت کی نشوونما کے ساتھ اعلیٰ کردار کی تعمیر کی جائے پھر ان دونوں کو معاشرے کی بہتری کے لئے وقف کر دیا جائے۔

Facebook Comments HS