صائمہ ملک کی کتاب: گزرے تھے ہم جہاں سے


مجھے حکم ہوا کہ میں نے صائمہ ملک کی کتاب ”گزرے تھے ہم جہاں سے“ کی تقریب رونمائی میں حاضر ہونا ہے اور اظہار خیال بھی کرنا ہے۔ حاضری کی حد تک تو بات آسان تھی لیکن کتاب کے بارے میں رائے دینا میرے لئے مرحلہ دار و صلیب سے کم نہیں تھا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نہ تو نقاد ہوں نہ ادیب ہوں نہ کوئی عالم ہوں نہ خطیب ہوں نہ پیر ہوں نہ ملحد عقل آگاہ ہوں اور اس پر طرہ یہ کہ مجھے اپنے جہل کا ادراک بھی ہے اور اعتراف بھی لیکن مجبوری یہ ہے کہ صائمہ ملک سے ایک رشتہ ہے۔ درد کا رشتہ۔ وہ جو فیض صاحب نے کہا تھا۔

بڑا ہے درد کا رشتہ یہ دل غریب سہی
تمہارے نام پہ آئیں گے غم گسار چلے
سو ہم چلے آئے

درد کا وہ احساس جو ہم سب محسوس کرتے ہیں صائمہ ملک اس کو بڑے حوصلے کے ساتھ سپرد قلم کر دیتی ہیں۔ دل کے اندر جتنا زہر ہے اس کو بڑی بے باکی کے ساتھ کاغذ پر اگل دیتی ہیں۔ اس بات کا مکمل ادراک ہونے کے باوجود کہ ہماری بیمار ذہنیت اور منافقانہ معاشرت خنجر دشنام لیے ان پر چڑھ دوڑے گی لیکن یہ پھر بھی اپنی بات کہنے سے باز نہیں آتی اور دریائے زہر میں آب حیات ڈھونڈنے نکل پڑتی ہے۔

زندگی کے دشت بلا میں سچائی جب اپنے وقت عصر کو پہنچ جائے تو کون و مکان میں صرف ایک پکار باقی رہ جاتی ہے
! ہل من ناصر ینضرنا
! ہل من مغیث و مغیثنا
صائمہ ملک کے کرداروں میں یہ پکار ایک فغاں بن کر ابھرتی ہے. کبھی مشی کی صورت میں، کبھی ثنا کی صورت میں۔ ہر کردار کرب مسلسل کی آخری منزل پر پہنچ کر چیخ اٹھتا ہے۔
ہم راز یہ فسانہ آہ و فغاں نہ پوچھ
دو دن کی زندگی غم کا ایں وآں نہ پوچھ
کیا کیا حیات ارض کی ہیں تلخیاں نہ پوچھ
کس درجہ ہولناک ہے یہ داستان نہ پوچھ
تفصیل سے کہوں تو فلک کانپنے لگے
دوزخ بھی فرط شرم سے منہ ڈھانپنے لگے

ہرچند کہ شریعت نے صائمہ ملک کی گواہی کو آدھا تسلیم کیا ہے مگر مقتل وقت میں صائمہ ایک مکمل گواہ کی صورت میں فولاد کو پگھلا دینے والے عزم اور زلزلوں کی سانسیں اکھاڑ دینے والے ثبات کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے۔ اور ببانگ دھل یہ اعلان کرتی ہے۔
! موت کو جن کے تصور سے پسینہ آئے
زیست کے دوش پہ وہ بار گراں دیکھے ہیں
مدتوں اپنے دل زار کا ماتم کر کے
خود سے بڑھ کر بھی کئی سوختہ جاں دیکھے ہیں!
Oscar Wild نے کہا تھا
Women are to be loved not to be understood

معاشرے کی اسی منفی سوچ سے صائمہ ملک جنگ کرتی نظر آتی ہے اس کے کردار عزا خانوں کے تاریک کمروں میں پڑے ہوئے ماتمی علم اٹھا کر بازاروں میں لے آتے ہیں اور انہیں پرچم بغاوت بنا کر میدان کارزار میں اتر جاتے ہیں اور بپھرے ہوئے طوفانوں کو اپنے سفینے میں ڈبو دیتے ہیں۔ ہرچند کہ میں غم پرستی کا زیادہ قائل نہیں ہوں۔ پھر بھی صائمہ ملک کے کچھ کردار ایسے ہیں کہ محسوس ہوتا ہے کہ صائمہ نے ان کو دیوار گریہ کی مٹی کو میر تقی میر کے آنسوؤں میں گوندھ کر تخلیق کیا ہے اور سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ یہ کردار ہمارے لئے اجنبی نہیں ہے بلکہ شب و روز ہمارے ارد گرد سرگرداں نظر آتے ہیں۔

اب آخر میں صائمہ سے اس کی کتاب کی قبولیت کی دعا کے ساتھ اتنا کہنا چاہتا ہوں،
”اے دریائے زہر سے آب حیات پینے والی،
اے بپھرے طوفانوں کو اپنے سفینے میں ڈبونے والی،
اے ہمت نسواں کی اوتار،
اے ثبات و عزم کی پروردہ پکار،
سیف و قلم کا مجرا قبول کر۔ ”

Facebook Comments HS