سپریم کورٹ متحد تھی، کچھ معاملات میں اب بھی ہے : چیف جسٹس
سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت سے پہلے دن فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا کی تھی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ فل کورٹ والا معاملہ میرے ذہن میں تھا، آپ اس نکتے پر آپ دلائل ضرور دیں۔
انھوں نے کہا کہ عدالت کو بینچ بناتے وقت بہت کچھ ذہن میں رکھنا ہوتا ہے۔ ’ایک بات یہ ذہن میں ہوتی ہے کہ معمول کے مقدمات متاثر نہ ہوں۔ موجودہ دور میں روز نمٹائے گیے مقدمات کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ بعض اوقات تمام ججز دستیاب نہیں ہوتے۔
نو رکنی بینچ تشکیل دیتے وقت تمام ججز کے بارے میں سوچا۔ جسٹس اطہر من اللہ کو آئین سے ہم آہنگ پایا، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس منیب اختر آئین کے ماہر ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن بھی آئین کے ماہر ہیں۔ ’ان کا کہنا تھا کہ‘ آپ پوچھ سکتے ہیں جسٹس مظاہر نقوی کیوں شامل کیے گئے۔ انھیں شامل کرنا خاموش پیغام دینا تھا۔ ’
چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ تمام ججوں کو سنی سنائی باتوں پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، سپریم کورٹ متحد تھی، کچھ معاملات میں اب بھی ہے۔
انھوں نے کہا کہ عدلیہ کس طرح متاثر ہو رہی ہے، کوئی نہیں دیکھتا، اہم عہدوں پر تعینات لوگ کس طرح عدلیہ کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ انھیں کہا جا رہا ہے کہ ایک اور جج کو سزا دوں، جا کر پہلے ان شواہد کا جائزہ لیں۔ آڈیو لیک کی بنیاد پر کیسے نشانہ بنایا جائے۔ قانون پر بات کریں تو میں بطور جج سنوں گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میرے ججز کے بارے میں بات کریں گے تو میرا سامنا کرنا پڑے گا۔ میرا بھی دل ہے میرے بھی جذبات ہیں۔ جو کچھ کیا پوری ایمانداری سے اللہ کو حاضر ناظر جان کر کیا۔ جو کچھ آج تک کیا آئیں اور قانون کے مطابق کیا۔‘
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ ادھر ادھر کی باتوں سے میں جذباتی ہو گیا تھا۔
آپ درجہ حرارت کم کرنے والی بات کر رہے تھے۔ ہم تو تنقید کا جواب بھی نہیں دے سکتے : چیف جسٹس
سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے کہا کہ آج جسٹس مندوخیل کا نوٹ بھی پڑھا ہے، عدالت کا سرکیولر بھی پڑھا۔ دوسرا فیصلہ یکم مارچ کے فیصلے کے تناسب کا ہے۔ تیسرا نکتہ بھی یکم مارچ کے فیصلے کی بنیاد پر ہی ہے۔ موجودہ درخواست کی بنیاد یکم مارچ کا عدالتی حکم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نو رکنی بنچ کے دو اراکین نے بنچ سے رضاکارانہ بنچ سے علیحدگی اختیار کی تھی۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ سے کس نے کہا ہے کہ دو جج بنچ سے الگ ہوئے ہیں۔ عدالت کا 27 فروری کا حکم پڑھیں اس میں کہاں لکھا ہے یہ؟
چیف جسٹس نے کہا کہ معاملہ چیف جسٹس کو بینچ کی ازِ سر نو تشکیل کے لیے بھیجا گیا تھا۔ میں چاہتا تو تمام جج بھی تبدیل کر سکتا تھا۔ اگر آپ وہی کرنا چاہتے ہیں جس سے مسئلہ بنا تو یہ ہماری پرائیوسی میں مداخلت ہوگی۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ آپ نے کہا کہ ججز نے سماعت سے معذرت نہیں کی تھی۔ اس پر چیف جسٹس نے جواب دیا کہ انھوں نے اس حوالے سے کچھ نہیں کہا۔
جسٹس بندیال کا کہنا تھا کہ سماعت روکنے والا حکم ہم جج آپس میں زیر بحث لائیں گے۔
انھوں نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ درجہ حرارت کم کرنے والی بات کر رہے تھے۔ ہم تو تنقید کا جواب بھی نہیں دے سکتے۔ ججز کی اندرونی گفتگو عوام میں نہیں کرنی چاہیے۔ درجہ حرارت کم کرنے والی آپشن پر ہی رہیں، جلد ہی ان معاملات کو سلجھا دیں گے۔
عدالت مشکلات پیدا کرنے نہیں بیٹھی، التوا کی ٹھوس وجہ بتائیں یا ڈائیلاگ شروع کریں : جسٹس بندیال
الیکشن کے التوا کے معاملے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ صدرِ پاکستان نے پنجاب میں الیکشن کے لیے 90 دن کی مدت کے 15 دن بعد کی تاریخ دی۔ ان کے مطابق صدر کو الیکشن کمیشن نے حالات نہیں بتائے تھے اور اگر انھیں حالات سے آگاہ کیا جاتا تو شاید 30 اپریل تاریخ نہ آتی۔
جسٹس بندیال کا کہنا تھا کہ عدالت کے سامنے مسئلہ آٹھ اکتوبر کی تاریخ کا ہے۔
انھوں نے ریمارکس دیے کہ عدالت مشکلات پیدا کرنے نہیں بیٹھی، التوا کی ٹھوس وجہ بتائیں یا ڈائیلاگ شروع کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک فریق پارٹی چیئرمین کی ضمانت دے رہا ہے اور شاید حکومت کو بھی ماضی بھلانا پڑے گا۔
جسٹس بندیال نے کہا کہ اسمبلیوں کی مدت ویسے بھی اگست بھی مکمل ہو رہی ہے اور اگر حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات ہوں تو کچھ دن وقفہ کر لیں گے۔
انھوں نے متنبہ کیا کہ اگر حکومت اور اپوزیشن اس معاملے پر مذاکرات نہیں کرتے تو پھر عدالت آئینی کردار ادا کرے گی۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ عدالتی فیصلہ دیکھ کر آپ کہیں گے کہ با اختیار فیصلہ ہے اور ہر فریق کے ہر نکتے کا فیصلے میں ذکر کیا جائے گا۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ 20 ارب کے اخراجات پر پہلے عدالت کو بتائیں۔ ہم نے اخراجات کم کرنے کی تجویز دی تھی۔ دوسرا مسئلہ سکیورٹی کا ہے، نصف پولنگ سٹیشنز خاصے حساس یا حساس ہیں۔ صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ ملک میں دہشتگردی ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ افواج سرحد پر مصروف ہیں۔


