کوہستان کی سیاست پر ایک نظر


دنیا میں بہت کم ایسے لوگ ہوتے ہیں جو کامل طرز حیات رکھتے ہیں۔ جن کا رہن سہن، ملنا جلنا، اٹھنا بیٹھنا، بات چیت، لب و لہجہ، اخلاق و تمیز الغرض شخصیت کا ہر زاویہ کامل اور بے مثال ہوتا ہے۔ جی ہاں میں اس شخصیت کی بات کر رہا ہوں جو صرف شخصیت ہی نہیں بلکہ ایک تحریک کا نام ہے۔ جو الفاظ کو صحیح معنوں میں کردار میں بدلتا ہے۔ جو پیکر عمل ہے جس کو دیکھ کر تحریک پیدا ہوتی ہے عملی دنیا کا خوبصورت کردار ہے وہ ایسا راہی ہے جس کو منزل خود پکارتا ہے۔

میری مراد جناب محمد علی صاحب ہیں۔ جو جماعت اسلامی کا ایک منظم رہنما ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عظیم لیڈر بھی ہیں۔ لیڈر وہ نہیں ہوتا جو ووٹ لینے کے بعد چار سال کے لیے اپنے حلقے سے غائب ہو جائے بلکہ لیڈر وہ ہوتا ہے جو اپنی عوام کے درمیان رہتے ہوئے ان کے مسائل حل کرے۔ جب ہم چھوٹے تھے تو سب کی یہی ارزو اور خواہش تھی کہ بڑا ہو کر محمد علی جیسے بننا ہے کیونکہ ان کی علاقے کے لیے خدمات، جذبہ جنون سب نے دیکھا تھا۔

دیر کوہستان پر جتنے بھی لوگ برسر اقتدار میں آئے ہیں سب نے کوہستان والوں کو سرسبز دکھانے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ اگر یہاں تھوڑی بہت ترقی ہوئی ہے تو وہ سابق ایم پی اے محمد علی کی بدولت ہیں۔ ایک چھوٹا سا مثال آپ کے سامنے رکھ دیتے ہیں پہلے جب بھی ہمارے مستقبل کے شاہین میٹرک پاس کرتے تھے اس کے بعد اٹھانوے فیصد بچے تعلیمی سلسلے کو اگے جاری نہیں رکھ سکتے تھے کیونکہ فرسٹ ائر کے لئے انہیں دیر ڈگری کالج یا شرینگل جانا ہوتا تھا اور ان کے پاس اتنے وسائل نہیں ہوتے تھے کہ وہ اپنے تعلیم کو آگے جاری رکھ سکیں۔

یوں ان کا خواب خواب ہی رہ جاتا تھا۔ اب الحمدللہ ہر گاؤں میں آٓپ کو سیکنڈری اسکول ملے گا۔ ان درس گاہوں میں ہماری نئی نسل اپنے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرسکیں گے۔ پہلے کوہستان کے لوگ قومی شناختی کارڈ بنوانے کے لئے شرینگل دیر تک کا سفر کرتے تھے۔ جو کہ وہاں کے علاقہ مکینوں کو ناگوار گزرتا تھا۔ اب گھر کی دہلیز پر سہولت میسر آ گئی ہے۔ اس کا کریڈیٹ بھی سابق ایم پی اے کو ہی جاتا ہے ، اہل کوہستان بنیادی حقوق تک سے محروم تھے یا یوں کہہ سکتے ہیں لوگوں میں اپنے حقوق کا شعور نہیں تھا۔

محمد علی وہی شخصیت ہیں جس نے کوہستان کے عوام کو ان تاریکیوں سے نکال کر حقوق کی آگاہی دی۔ انہیں ووٹ کی اصل قیمت بتا دی کی آپ کے ایک ووٹ کی کیا قیمت ہے۔ اگر کوہستان کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ حکمرانوں اور نمائندوں نے اپنے مفاد کی خاطر عوامی حقوق کو پاؤں تلے روندتے ہوئے شہریوں کو مکمل اندھیرے میں رکھا، کسی نے کوہستان کے مستقبل کے بارے میں نہیں سوچا، کیوں نہیں سوچا اس کا صرف ایک ہی جواب ہے، عوامی حقوق پر ڈاکا ڈالنا اور اپنے مفادات کے لیے سادہ لوح عوام کو استعمال کرنا۔

لیکن موجودہ دور میں آپ کو ہر جگہ سابق ایم پی اے محمد علی کے ترقیاتی کام دیکھنے کو ملے گا، مجھے ایک بات کا افسوس ہیں کہ کوہستان کے شہریوں نے محمد علی جیسے انسان کی قدر نہیں کرنے کی بجائے انہیں میدان کارساز سے باہر کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا لی۔ یوں کوہستان کے مسئلوں نے بھی وہی بریک لگا لی۔ جہاں پر محمد علی صاحب نے چھوڑے تھے۔ اب موجودہ حکمرانوں کے پاس ایک ہی بہانہ ہے کہ صوبائی حکومت کے پاس فنڈ نہیں۔

ترقیاتی کام نہیں کر سکتے۔ آخر کون سی بلا آ گئی ہے کہ فنڈ نہیں مل رہا۔ عوام جاننا چاہتی ہے کہ آخر اے ڈی پی کے پیسے کہاں جا رہے ہیں۔ عنایت اللہ اور ثنا ء اللہ کو فنڈ مل سکتے ہیں تو آپ کو کیوں نہیں۔ اب چونکہ نگران حکومت نے کے پی میں اکتوبر کو الیکشن کی تاریخ دے دی ہے۔ اس ضمن میں فیصلہ اہل کوہستان کے ہاتھوں میں ہیں۔ آپ نے فیصلہ کرنا ہے کہ آپ کو اندھیرا پسند ہے یا روشنی کی کرن کی طرف ہاتھ بڑھانا ہے۔ اب آپ نے فیصلہ کرنا ہے کہ کوہستان کے عوام کو دھوکے میں رکھنے والوں کو بھول جائیں۔

اس نمائندے کا انتخاب کریں جو آپ اور اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر کرتا ہو۔ اگر آپ متحد ہو کر محمد علی جیسے بیباک لیڈر کو کامیاب کرائیں گے تو یقین کر لیں آپ کے علاقے کی حالت بدلتے دیر نہیں لگے گی۔ بصورت دیگر آپ کا حلقہ انتخاب ایک بار پھر گومگو کا شکار رہا تو آپ کو روشنی کی جھلک بھی نہیں پڑے گی۔ اندھیرے سے نکلنے میں مزید پچاس سال درکار ہوں گے۔ اور اخر میں جاتے جاتے مجھے ظفر علی خان کا وہ مشہور شعر یاد آیا بقول شاعر!

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی!
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا !

Facebook Comments HS