خدا کے لئے قوم پر رحم کھائیں


پاکستان کے عوام آج جس کرب، مہنگائی اور ذہنی اذیت کا شکار ہیں یہ چند لوگوں کی انا، ذاتی پسند اور کسی کو مائنس کرنے کا نتیجہ ہے۔ جب چند لوگ عوامی رائے پر زبردستی اپنی رائے مسلط کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو دس کلو آٹے کے تھیلے کے لئے ایک ماں کو پورا دن لائن میں کھڑے رہنا پڑتا ہے۔ ماں اپنی بچوں کی بھوک مٹانے کی خاطر کبھی کبھی لائن میں کھڑے جان بھی دے دیتی ہے۔ ریاست جس کو ماں کا نام دیا جاتا ہے وہ ایک ماں کی آٹے کے چکر میں ہلاکت پر ٹس سے مس نہیں ہوتی۔

اب خون سفید ہو گئے ہیں اور دل پتھر کے ہو گئے ہیں۔ اس لیے نا ہمیں لاشیں نظر آتی، نہ ماں، نہ بچے اور نہ ان کی بھوک نظر آتی ہے۔ ہمیں بس اپنے بچے اور اپنا گھر نظر آتا ہے۔ پنجابی کی ایک مثال ہے ”غریب دی مرے ماں تے کوئی نہ لوے ناتے تکڑے دا مرے کتا سارا پنڈ ٹکا“ غریب کی ماں مر جائے تو کوئی نہیں پوچھتا اور امیر آدمی کا کتا مر جائے تو سر ملک میں ہلچل مچ جاتی ہے۔ حالیہ دنوں میں یہی کچھ چیچہ وطنی اور کراچی میں ہوا ہے۔

چیچہ وطنی کی ایک خاتون ڈپٹی کمشنر کی بلی گم گئی اس نے پورے پاکپتن میں وختا ڈال دیا جبکہ کراچی میں 8 مائیں صرف راشن کے چکر میں بھگدڑ مچنے سے مر گئی لیکن کسی کے کانوں تک جوں نہیں رینگی۔ آپ اندازہ لگائیں ہم کس قدر بے حس ہو چکے ہیں۔ چند دنوں سے پاکستان میں ایک مسئلہ چل رہا ہے کہ الیکشن کراؤ۔ کیا کسی عدالت نے پرویز الہی اور محمود خان سے پوچھا کہ آپ نے دو صوبوں کی اسمبلیاں کیوں تحلیل کیں؟ کیا آپ ڈکٹیٹر ہیں؟

پنجاب اور خیبر پختونخوا کے 14 کروڑ عوام گزشتہ سال اپریل سے عجیب قسم کی ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔ جس دن کی وفاق میں عمران خان کی حکومت ختم ہوئی ہے بظاہر دونوں صوبوں میں سیاسی محاذ آرائی چل رہی ہے۔ کسی کی انا کی بھینٹ دونوں صوبوں کی عوام چڑھ رہے ہیں۔ پہلے بلوچستان میں ہمیشہ پانچ سال میں دو سے تین وزیر اعلیٰ تبدیل ہوتے تھے اب یہ فلم پنجاب میں چل رہی ہے۔ پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار صرف پانچ سال میں چار وزیر اعلی آ گئے ہیں۔

پنجاب کی بیوروکریسی بھی سر پکڑ کے بیٹھ گئی کہ ہم نے کس کے ساتھ اپنی وفاداری شو کرنی ہے اور کس کا حکم ماننا ہے۔ پاکستان کے سیاسی، معاشی اور معاشرتی حالات کس طرف جا رہے ہیں کسی کو کوئی فکر نہیں ہے۔ حکومت الیکشن کروانے کے موڈ میں نہیں اور حکومت مخالف بار بار الیکشن کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ آج پاکستان جس نہج پر پہنچ گیا ہے اس کا حل الیکشن نہیں بلکہ اتحاد ہے جو دور دور تک کہی ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ ہر طرف سے محاذ آرائی چل رہی ہے۔

اس محاذ آرائی اور نورا کشتی میں پس پاکستان کے عوام رہے ہیں۔ لیکن مجال ہے کسی کو عوام کے فکر ہوں۔ موجودہ ملکی حالات کے ذمہ دار کوئی اور نہیں یہی عوام ہیں۔ جو ہر کسی کے جھانسے میں فوری آ جاتے ہیں۔ ان کو جو لائن دی جاتی ہے اس پر چلنا شروع کر دیتے ہیں پھر اس لائن پر ایسے سرپٹ دوڑتے ہیں جیسے ریس کلب میں گھوڑے دوڑ رہے ہیں۔ جو کسی طریقے سے لائن کے آخری سرے تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ ہمارا یہاں سب سے زیادہ مغرب کی مثالیں دی جاتی ہیں لیکن ہم مغرب کا طرز عمل یا طرز حکومت فالو کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

مغرب میں ویلے بیٹھ کر کھانا ملتا ہے نہ سونے کو جگہ ملتی ہے۔ ڈینگیں مارنے اور شیخیاں بگھارنے میں ہم شیر ہیں جبکہ عملی طور پر کام کرنے میں ہم گیدڑ سے بھی دو ہاتھ آگے ہیں۔ ہمارا ملک آج دوراہے پر کھڑا ہے ہمیں معلوم نہیں کل کیا ہو گا لیکن چند لوگ آج بھی اپنی انا کے چکر میں پورا ملک سولی پر چڑھانے کو تیار بیٹھے ہیں۔ زبردستی اپنے رائے دوسروں پر مسلط کرنے میں لگے ہیں۔ ہم پہلے ہی غلط فیصلے کر کے ملک کو دو دہائیاں پیچھے لے گئے ہیں لیکن ابھی تک ہمارا شوق پورا نہیں ہوا۔

مخصوص دورانیے کے لئے براجمان ہونے والے لوگ غلط فیصلے کر کے خود تو چلے جاتے ہیں لیکن اس کا نتیجہ بعد میں عوام بھگتے ہیں۔ پھر کہتے ہیں ہمارے مرنے کے بعد کتابیں شائع ہوں گی ۔ ہم کرسی پر براجمان ہو کر ایسے کام کیوں نہیں کرتے کہ ہمیں مرنے کا انتظار نہ کرنا پڑے بلکہ ہمارے زندہ ہوتے ہی لوگ ہمارے فیصلوں کی مثالیں دیں۔ ہمارے پاس اب بیچنے یا گروی رکھنے کو بھی کچھ نہیں بچا ہم اللہ توکل چل رہے ہیں۔ آپ نے تو عنقریب چلے جانا ہے لیکن آپ کے غلط فیصلوں کا خمیازہ یہ قوم بھگتے گی کیونکہ یہاں مستقل تو کوئی رہنے کے لئے نہیں آتا۔ خدا کے لئے قوم کے حال پر رحم کھائیں۔

Facebook Comments HS